TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(8) CHAPTER. “O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you…?” (V.66:1) - اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ” اے پیغمبر ! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے “ ۔ - The book of divorce. - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 6 of The book of divorce. in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 43 · 7 Hadith
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ ، سَمِعَ الرَّبِيعَ بْنَ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِذَا حَرَّمَ امْرَأَتَهُ لَيْسَ بِشَيْءٍ ، وَقَالَ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 .
Narrated Sa`id bin Jubair: that he heard Ibn `Abbas saying, If a man makes his wife unlawful for him, it does not mean that she is divorced. He added, Indeed in the Apostle of Allah , you have a good example to follow.
مجھ سے حسن بن الصباح نے بیان کیا، انہوں نے ربیع بن نافع سے سنا کہ ہم سے معاویہ بن سلام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے یعلیٰ بن حکیم نے، ان سے سعید بن جبیر نے، انہوں نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کہا تو یہ کوئی چیز نہیں اور فرمایا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی عمدہ پیروی ہے۔
5266
Sahih
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا ، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا ، فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : لَا ، بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ ، فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 1 - 4 لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ ، وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ سورة التحريم آية 3 لِقَوْلِهِ : بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا .
Narrated `Ubaid bin `Umar: I heard `Aisha saying, The Prophet used to stay for a long while with Zanab bint Jahsh and drink honey at her house. So Hafsa and I decided that if the Prophet came to anyone of us, she should say him, I detect the smell of Maghafir (a nasty smelling gum) in you. Have you eaten Maghafir?' So the Prophet visited one of them and she said to him similarly. The Prophet said, Never mind, I have taken some honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I shall never drink of it anymore. So there was revealed: 'O Prophet ! Why do you ban (for you) that which Allah has made lawful for you . . . If you two (wives of Prophet) turn in repentance to Allah,' (66.1-4) addressing Aisha and Hafsa. 'When the Prophet disclosed a matter in confidence to some of his wives.' (66.3) namely his saying: But I have taken some honey.
مجھ سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے، ان سے ابن جریج نے کہ عطاء بن ابی رباح نے یقین کے ساتھ کہا کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹھہرتے تھے اور ان کے یہاں شہد پیا کرتے تھے۔ چنانچہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے مل کر صلاح کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے جس کے یہاں بھی تشریف لائیں تو آپ سے یہ کہا جائے کہ آپ کے منہ سے مغافیر ( ایک خاص قسم کے بدبودار گوند ) کی مہک آتی ہے، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد ہم میں سے ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے ہاں شہد پیا ہے، اب دوبارہ نہیں پیوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك‏» کہ ”اے نبی! آپ وہ چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے۔“ سے «‏‏‏‏إن تتوبا إلى الله‏» تک۔ یہ عائشہ رضی اللہ عنہما اور حفصہ رضی اللہ عنہما کی طرف خطاب ہے «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه‏» ۔ حدیث سے آپ کا یہی فرمانا مراد ہے کہ میں نے مغافیر نہیں کھایا بلکہ شہد پیا ہے۔
5267
Sahih
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْعَسَلَ وَالْحَلْوَاءَ ، وَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَاحْتَبَسَ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَحْتَبِسُ ، فَغِرْتُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقِيلَ لِي : أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ ، فَسَقَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً ، فَقُلْتُ : أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ ، فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ : إِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ ، فَإِذَا دَنَا مِنْكِ فَقُولِي : أَكَلْتَ مَغَافِيرَ ؟ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ : لَا ، فَقُولِي لَهُ : مَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ : سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ ، فَقُولِي لَهُ : جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ ذَلِكِ ، وَقُولِي أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ ذَاكِ ، قَالَتْ : تَقُولُ سَوْدَةُ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أُبَادِيَهُ بِمَا أَمَرْتِنِي بِهِ فَرَقًا مِنْكِ ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهَا ، قَالَتْ لَهُ سَوْدَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَتْ : فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ ، قَالَ : سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ ، فَقَالَتْ : جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ ، فَلَمَّا دَارَ إِلَيَّ قُلْتُ لَهُ نَحْوَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا دَارَ إِلَى صَفِيَّةَ ، قَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا دَارَ إِلَى حَفْصَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ ؟ قَالَ : لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ، قَالَتْ : تَقُولُ سَوْدَةُ : وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ ، قُلْتُ لَهَا : اسْكُتِي .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle was fond of honey and sweet edible things and (it was his habit) that after finishing the `Asr prayer he would visit his wives and stay with one of them at that time. Once he went to Hafsa, the daughter of `Umar and stayed with her more than usual. I got jealous and asked the reason for that. I was told that a lady of her folk had given her a skin filled with honey as a present, and that she made a syrup from it and gave it to the Prophet to drink (and that was the reason for the delay). I said, By Allah we will play a trick on him (to prevent him from doing so). So I said to Sa`da bint Zam`a The Prophet will approach you, and when he comes near you, say: 'Have you taken Maghafir (a bad-smelling gum)?' He will say, 'No.' Then say to him: 'Then what is this bad smell which i smell from you?' He will say to you, 'Hafsa made me drink honey syrup.' Then say: Perhaps the bees of that honey had sucked the juice of the tree of Al-`Urfut.' I shall also say the same. O you, Safiyya, say the same. Later Sa`da said, By Allah, as soon as he (the Prophet ) stood at the door, I was about to say to him what you had ordered me to say because I was afraid of you. So when the Prophet came near Sa`da, she said to him, O Allah's Apostle! Have you taken Maghafir? He said, No. She said. Then what is this bad smell which I detect on you? He said, Hafsa made me drink honey syrup. She said, Perhaps its bees had sucked the juice of Al-`Urfut tree. When he came to me, I also said the same, and when he went to Safiyya, she also said the same. And when the Prophet again went to Hafsa, she said, 'O Allah's Apostle! Shall I give you more of that drink? He said, I am not in need of it. Sa`da said, By Allah, we deprived him (of it). I said to her, Keep quiet. '
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہو کر جب واپس آتے تو اپنی ازواج کے پاس واپس تشریف لے جاتے اور بعض سے قریب بھی ہوتے تھے۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے۔ مجھے اس پر غیرت آئی اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ان کی قوم کی کسی خاتون نے انہیں شہد کا ایک ڈبہ دیا ہے اور انہوں نے اسی کا شربت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا ہے۔ میں نے اپنے جی میں کہا: اللہ کی قسم! میں تو ایک حیلہ کروں گی، پھر میں نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آئیں گے اور جب آئیں تو کہنا کہ معلوم ہوتا ہے آپ نے مغافیر کھا رکھا ہے؟ ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں انکار کریں گے۔ اس وقت کہنا کہ پھر یہ بو کیسی ہے جو آپ کے منہ سے معلوم کر رہی ہوں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں گے کہ حفصہ نے شہد کا شربت مجھے پلایا ہے۔ تم کہنا کہ غالباً اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہوں گی اور صفیہ تم بھی یہی کہنا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سودہ رضی اللہ عنہ کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جونہی دروازے پر آ کر کھڑے ہوئے تو تمہارے خوف سے میں نے ارادہ کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات کہوں جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔ چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سودہ رضی اللہ عنہا کے قریب تشریف لے گئے تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا، پھر یہ بو کیسی ہے جو آپ کے منہ سے محسوس کرتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ اس پر سودہ رضی اللہ عنہ بولیں اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے بھی یہی بات کہی اس کے بعد جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی اسی کو دہرایا۔ اس کے بعد جب پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ شہد پھر نوش فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس پر سودہ بولیں، واللہ! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکنے میں کامیاب ہو گئے، میں نے ان سے کہا کہ ابھی چپ رہو۔
5268
Sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ . قَالَ قَتَادَةُ : إِذَا طَلَّقَ فِي نَفْسِهِ ، فَلَيْسَ بِشَيْءٍ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Allah has forgiven my followers the evil thoughts that occur to their minds, as long as such thoughts are not put into action or uttered. And Qatada said, If someone divorces his wife just in his mind, such an unuttered divorce has no effect.:
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے زرارہ بن اوفی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خیالات فاسدہ کی حد تک معاف کیا ہے، جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے یا اسے زبان سے ادا نہ کرے۔ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر کسی نے اپنے دل میں طلاق دے دی تو اس کا اعتبار نہیں ہو گا جب تک زبان سے نہ کہے۔
5269
Sahih
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ زَنَى ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَتَنَحَّى لِشِقِّهِ الَّذِي أَعْرَضَ ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : هَلْ بِكَ جُنُونٌ ؟ هَلْ أَحْصَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أُدْرِكَ بِالْحَرَّةِ ، فَقُتِلَ .
Narrated Jabir: A man from the tribe of Bani Aslam came to the Prophet while he was in the mosque and said, I have committed illegal sexual intercourse. The Prophet turned his face to the other side. The man turned towards the side towards which the Prophet had turned his face, and gave four witnesses against himself. On that the Prophet called him and said, Are you insane? (He added), Are you married? The man said, 'Yes. On that the Prophet ordered him to be stoned to the death in the Musalla (a praying place). When the stones hit him with their sharp edges and he fled, but he was caught at Al- Harra and then killed
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گئے ( اور زنا کا اقرار کیا ) پھر انہوں نے اپنے اوپر چار مرتبہ شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم پاگل تو نہیں ہو، کیا واقعی تم نے زنا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، پھر آپ نے پوچھا کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا کہ جی ہاں ہو چکی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عیدگاہ پر رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب انہیں پتھر لگا تو وہ بھاگنے لگے لیکن انہیں حرہ کے پاس پکڑا گیا اور جان سے مار دیا گیا۔
5270
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَنَادَاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنَى يَعْنِي نَفْسَهُ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنَى ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ ، فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَتَنَحَّى لَهُ الرَّابِعَةَ ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ ، فَقَالَ : هَلْ بِكَ جُنُونٌ ؟ قَالَ : لَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ، وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ .
Narrated Abu Huraira: A man from Bani Aslam came to Allah's Apostle while he was in the mosque and called (the Prophet ) saying, O Allah's Apostle! I have committed illegal sexual intercourse. On that the Prophet turned his face from him to the other side, whereupon the man moved to the side towards which the Prophet had turned his face, and said, O Allah's Apostle! I have committed illegal sexual intercourse. The Prophet turned his face (from him) to the other side whereupon the man moved to the side towards which the Prophet had turned his face, and repeated his statement. The Prophet turned his face (from him) to the other side again. The man moved again (and repeated his statement) for the fourth time. So when the man had given witness four times against himself, the Prophet called him and said, Are you insane? He replied, No. The Prophet then said (to his companions), Go and stone him to death. The man was a married one.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا ہے لیکن وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس رخ کی طرف مڑ گیا، جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک پھیر لیا تھا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دوسرے ( یعنی خود ) نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی منہ موڑ لیا لیکن وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس رخ کی طرف آ گیا جدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا تھا اور یہی عرض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان سے منہ موڑ لیا، پھر جب چوتھی مرتبہ وہ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور اپنے اوپر اس نے چار مرتبہ ( زنا کی ) شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم پاگل تو نہیں ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور سنگسار کرو کیونکہ وہ شادی شدہ تھے۔
5271
Sahih
وَعَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ , سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى بِالْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ حَتَّى مَاتَ .
Jabir bin `Abdullah Al-Ansari said: I was one of those who stoned him. We stoned him at the Musalla (`Id praying place) in Medina. When the stones hit him with their sharp edges, he fled, but we caught him at Al-Harra and stoned him till he died.
اور زہری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی جنہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا تھا کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان صحابی کو سنگسار کیا تھا۔ ہم نے مدینہ منورہ کی عیدگاہ پر سنگسار کیا تھا۔ جب ان پر پتھر پڑا تو وہ بھاگنے لگے لیکن ہم نے انہیں حرہ میں پھر پکڑ لیا اور انہیں سنگسار کیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
5272
Sahih

Chapters

43
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “O Prophet ! When you divorce women, divorce them at their Idda (prescribed periods) and count (accurately) their Idda (prescribed periods).” (V.65:1)
طلاق کے بیان میں ۔
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. If a woman is divorced during her menses, then that divorce is counted as one legal divorce.
اگر حائضہ کو طلاق دے دی جائے تو یہ طلاق شمار ہو گی یا نہیں ؟
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. Whoever divorced (his wife), and should a man tell his wife face to face that she is divorced.
طلاق دینے کا بیان اور کیا طلاق دیتے وقت عورت کے منہ در منہ طلاق دے ؟
8 Hadith
04
(5) CHAPTER. Whoever gave option to his wives.
جس نے اپنی عورتوں کو اختیار دیا ۔
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. Whoever gave option to his wives.
جب کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تمہیں جدا کیا ۔
3 Hadith
06
(8) CHAPTER. “O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you…?” (V.66:1)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ” اے پیغمبر ! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے “ ۔
7 Hadith
07
(12) CHAPTER. Al-Khul and how a divorce is given according to it.
خلع کے بیان میں ۔
4 Hadith
08
(12) CHAPTER. Al-Khul and how a divorce is given according to it.
میاں بیوی میں نااتفاقی کا بیان ۔
1 Hadith
09
(13) CHAPTER. Ash-Shiqaq (the breach between the man and his wife).
اگر لونڈی کسی کے نکاح میں ہو اس کے بعد بیچی جائے تو بیع سے طلاق نہ پڑے گی ۔
1 Hadith
10
(14) CHAPTER. Selling a female slave does not necessarily lead to her divorce.
اگر لونڈی غلام کے نکاح میں ہو پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہو گا خواہ وہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کر ڈالے ۔
4 Hadith
11
(16) CHAPTER. The intercession of the Prophet for Barira's husband.
بریرہ رضیاللہعنہا کے شوہر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا ۔
1 Hadith
12
(17) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
13
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “Do not marry Al-Mushrikat (idolatresses) till they believe (i.e., worship Allah Alone). And indeed a slave woman who believes is better than a (free) Mushrikah (idolatress) even though she pleases you. (V.2:221)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور یقیناً مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے گو مشرک عورت تم کو بھلی لگے ۔
1 Hadith
14
(19) CHAPTER. Marrying Al-Mushrikat (pagan ladies) who had embraced Islam; and their Idda.
اسلام قبول کرنے والی مشرک عورتوں سے نکاح اور ان کی عدت کا بیان ۔
2 Hadith
15
(20) CHAPTER. (What) if an idolatress (Al-Mushrikah) or a Christian woman becomes a Muslim while she is the wife of a Dhimmi (i.e., a non-Muslim under the protection of a Muslim government), or Mushrik at war with the Muslims?
اس بیان میں کہ جب مشرک یا نصرانی عورت جو معاہد مشرک یا حربی مشرک کے نکاح میں ہواسلام لائے ۔
1 Hadith
16
(21) CHAPTER. The Statement of Allah: “Those who take an oath, not to have sexual relations with their wives, must wait four months.” (V.2:226)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ البقرہ میں فرمانا کہ ) ۔
2 Hadith
17
(22) CHAPTER. What are the regulations concerning the property and family of a lost person?
جو شخص گم ہو جائے اس کے گھر والوں اور جائیداد میں کیا عمل ہو گا ۔
2 Hadith
18
(24) CHAPTER. Using gestures to express the decision of divorcing and other matters.
اگر طلاق وغیرہ اشارے سے دے مثلاً کوئی گونگا ہو تو کیا حکم ہے ؟
7 Hadith
19
(25) CHAPTER. Al-Lian. The Statement of Allah: And for those who accuse their wives... (up to)... if he (her husband) speaks the truth. (V.24:6-9)
لعان کا بیان ۔
5 Hadith
20
(26) CHAPTER. If a husband hints that he suspects his paternity to a child.
جب اشاروں سے اپنی بیوی کے بچے کا انکار کرے اورصاف نہ کہہ سکے کہ یہ میرا لڑکا نہیں ہے تو کیا حکم ہے ؟
1 Hadith
21
(27) CHAPTER. Commanding those who are involved in a case of Lian to take the oath (of Lian).
لعان کرنے والے کو قسم کھلانا ۔
1 Hadith
22
(28) CHAPTER. The man should start the process of Lian.
لعان کی ابتداء مرد کرے گا ( پھر عورت ) ۔
1 Hadith
23
(29) CHAPTER. Al-Lian, and whoever divorced (his wife) after the process of Lian.
لعان اور لعان کے بعد طلاق دینے کا بیان ۔
1 Hadith
24
(30) CHAPTER. To carry out Lian in a mosque.
مسجد میں لعان کرنے کا بیان ۔
1 Hadith
25
(31) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “If I were to stone any person to death without witnesses.”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں بغیر گواہی کے کسی کو سنگسار کرنے والا ہوتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا ۔
1 Hadith
26
(32) CHAPTER. The Mahr in the case of Lian.
اس بارے میں کہ لعان کرنے والی کا مہر ملے گا ۔
1 Hadith
27
(33) CHAPTER. The Saying of Imam (ruler) to those who are involved in a case of Lian: “Surely one of you two is a liar; so will one of you repent (to Allah)?”
حاکم لعان کرنے والوں سے یہ کہناتم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو کیا وہ توبہ کرتا ہے ؟
1 Hadith
28
(34) CHAPTER. The separation (divorce) between those who are involved in a case of Lian.
لعان کرنے والوں میں جدائی کرنا ۔
2 Hadith
29
(35) CHAPTER. The child is to be given to the lady (accused by her husband for an illegal sexual intercourse).
لعان کے بعد عورت کا بچہ ( جس کو مرد کہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے ) ماں سے ملادیا جائے گا ( اسی کا بچہ کہلائے گا ) ۔
1 Hadith
30
(36) CHAPTER. The statement of the Imam: “O Allah! Reveal the truth.”
امام یا حاکم لعان کے وقت یوں دعا کرے یا اللہ ! جواصل حقیقت ہے وہ کھول دے ۔
1 Hadith
31
(37) CHAPTER. If a person divorces his wife thrice and she marries another man after the completion of her Idda but the second husband does not consummate his marriage with her.
جب کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور بیوی نے عدت گزار کر دوسرے شوہر سے شادی کی لیکن دوسرے شوہر نے اس سے صحبت نہیں کی ۔
1 Hadith
32
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
11 Hadith
33
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “And it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs. (V.2:228)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کر رکھا ہے اسے وہ چھپا رکھیں کہ حیض آتا ہے یا حمل ہے ۔
1 Hadith
34
(44) CHAPTER. “And their husbands have the better right to take them (divorced ladies) back,” (V.2:228) during the period of the Idda.
اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کیاندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یاد و طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے ۔
3 Hadith
35
(45) CHAPTER. To take hack one's wife (if she is divorced) while in her menses.
حائضہ سے رجعت کرنا ۔
1 Hadith
36
(46) CHAPTER. A widow should mourn for four months and ten days.
جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ منائے ۔
4 Hadith
37
(47) CHAPTER. Can a mourning lady use kohl?
عورت عدت میں سرمہ کا استعمال نہ کرے ۔
3 Hadith
38
(48) CHAPTER. Qust (incense) may be used by a mourning lady after being cleaned from her menses.
زمانہ عدت میں حیض سے پاکی کے وقت عود کا استعمال کرنا جائز ہے ۔
1 Hadith
39
(49) CHAPTER. A mourning lady can wear clothes of Asb (a kind of Yemeness cloth that is very coarse).
سوگ والی عورت یمن کے دھاریدار کپڑے پہن سکتی ہے ۔
2 Hadith
40
(50) CHAPTER. “And those of you who die, and leave behind wives... (up to)... and Allah is Well-Acquainted with what you do.” (V.2:234)
اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں “ اللہ تعالیٰ کے فرمان ( اور سورۃ البقرہ ) ” بما تعملون خبیر “ تک ۔ یعنی وفات کی عدت کا بیان ۔
2 Hadith
41
(51) CHAPTER. What is said regarding the earnings of a prostitute and the illegal wedding.
بیوہ کے خرچے اور نکاح فاسد کا بیان ۔
3 Hadith
42
(52) CHAPTER. The Mahr of the lady whose husband entered upon her to consummate his marriage.
جس عورت سے صحبت کی اس کا پورا مہر واجب ہو جانا ۔
1 Hadith
43
(53) CHAPTER. The gift given by a husband to a divorced lady for whom Mahr has not been fixed.
عورت کو بطور سلوک کچھ کپڑا یا زیور یا نقد دینا جب اس کا مہر نہ ٹھہرا ہو ۔
1 Hadith
No chapter matched that.