TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 343 - (5) CHAPTER. Tayammum is for the hands and the face. - The book of tayammum (rubbing hands and feet with dust). - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 5 in this chapter
(5) CHAPTER. Tayammum is for the hands and the face.
اس بارے میں کہ تیمم میں صرف منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کرنا کافی ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَمَّارٌ : فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ .
Narrated `Ammar: The Prophet stroked the earth with his hands and then passed them over his face and the backs of his hands (while demonstrating Tayammum).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم کے واسطے سے، انہوں نے ذر بن عبداللہ سے، انہوں نے ابن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، انہوں نے اپنے والد سے کہ عمار نے بیان کیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا اور اس سے اپنے چہرے اور پہنچوں کا مسح کیا
343
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

679
1
(4) CHAPTER. Can a person blow off the dust from his hands in performing Tayammum (before passing them over his face).
اس بارے میں کہ کیا مٹی پر تیمم کے لیے ہاتھ مارنے کے بعد ہاتھوں کو پھونک کر ان کو چہرے اور دونوں ہتھیلوں پر مل لینا کافی ہے ؟
Sahih Bukhari
2
(7) CHAPTER. To wash the face with both hands by a handful of water.
دونوں ہاتھوں سے چہرے کا صرف ایک چلو ( پانی ) سے دھونا بھی جائز ہے
Sahih Bukhari
3
(11) CHAPTER. While urinating or defecating, never face the Qiblah except when you are screened by a building or a wall or something like that.
اس مسئلہ میں کہ پیشاب اور پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہیں کرنا چاہیے ۔ لیکن جب کسی عمارت یا دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو کچھ حرج نہیں
Sahih Bukhari
4
(27) CHAPTER. Washing both feet, and it is not sufficient to pass wet hands over the feet.
دونوں پاؤں دھونا چاہیے اور قدموں پر مسح نہ کرنا چاہیے ۔
Sahih Bukhari
5
(38) CHAPTER. To pass wet hands over the whole head during ablution.
اس بارے میں کہ پورے سر کا مسح کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
6
(8) CHAPTER. Tayammum with one light stroke (on the earth).
تیمم میں ایک ہی دفعہ مٹی پر ہاتھ مارنا کافی ہے
Sahih Bukhari
7
(154) CHAPTER. Whoever did not say (a Taslim) in addition to the Taslim of the Imam but thought that Taslim of the Salat (prayer) was sufficient.
اس بارے میں کہ امام کو سلام کرنے کی ضرورت نہیں ، صرف نماز کے دو سلام کافی ہیں ۔
Sahih Bukhari
8
Chapter: Washing the face and hands when waking from sleep
نیند سے بیدار ہو کر ہاتھ منہ دھونا
Sahih Muslim
9
Chapter: It is recommended for the one who wants to marry a woman to look at her face and hands before proposing marriage to her
مرد کے لیے جس عورت سے وہ شادی کرنا چاہے، اس کا چہرے اور ہتھیلیاں دیکھ لینا مستحب ہے
Sahih Muslim
10
CHAPTER: It Is Dislikes To Face The Qiblah While Relieving Oneself.
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ ہے
Sunnan Abu Dawood
11
(92)Chapter: [What has Been Related] About Tayammum For The Junub Person When He Does Not Find Water
باب: پانی نہ پانے پر جنبی تیمم کر لے
Jam e Tirmazi
12
(110)Chapter: What Has Been Related About Tayammum
باب: تیمم کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Raising The Hands For the Bowing Position
باب: رکوع کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے (رفع یدین) کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related That The Prophet (saws) Would Not Raise His Hands Except For The First Time
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے تھے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Placing the Hands On The Knees While Bowing
باب: رکوع میں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Placing The Knees (On The Ground) Before The Hands For Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ سے پہلے دونوں گھٹنے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Placing The Hands and Planting The Feet During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنے اور دونوں پاؤں کھڑے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Direction The Imam Faces When Delivering The Khutbah
باب: خطبہ کے وقت امام کی طرف منہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Raising The Hands When Supplicating
باب: دعا کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
مقتدی کا امام کی اقتدا اس حال میں کرنا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو
Musnad Ahmad
21
چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
Musnad Ahmad
22
ان امور کا بیان کہ چوری میں پہلے کون سا ہاتھ کاٹا جائے، کاٹنے کا جگہ، ہاتھ کاٹ کر چور کی گردن میں لٹکانا، بار بار چوری کرنے والے کی سزا اور اس آیت کے بارے میںمفسرین کے اقوال: ’’اور چوری کرنے والا مرد اور عورت،پس ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘
Musnad Ahmad
23
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
24
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
Musnad Ahmad
25
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
Musnad Ahmad
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
Musnad Ahmad
27
(13) CHAPTER. If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend (the religion). [The understanding of the Quran and As-Sunna (legal ways) of the Prophet (Muhammad )].
اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے
Sahih Bukhari
28
(27) CHAPTER. To fix the duties in rotation for learning (religious) knowledge.
اس بارے میں کہ ( طلباء کا حصول ) علم کے لیے ( استاد کی خدمت میں ) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے ۔
Sahih Bukhari
29
(32) CHAPTER. The preaching (and teaching) of the (religious) knowledge to women by the Imam (Chief):
اس بارے میں کہ امام کا عورتوں کو بھی نصیحت کرنا اور تعلیم دینا ( ضروری ہے )
Sahih Bukhari
30
(41) CHAPTER. To speak about (religious) knowledge at night.
اس بارے میں کہ سونے سے پہلے رات کے وقت علمی باتیں کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
31
(5) CHAPTER. To perform a light ablution.
اس بارے میں کہ ہلکا وضو کرنا بھی درست اور جائز ہے
Sahih Bukhari
32
(34) CHAPTER. Whosoever considers not to repeat ablution except if something is discharged or passed from either exit (front or back private parts).
اس بارے میں کہ بعض لوگوں کے نزدیک صرف پیشاب اور پاخانے کی راہ سے کچھ نکلنے سے وضو ٹوٹتا ہے
Sahih Bukhari
33
(37) CHAPTER. Whoever does not repeat ablution except after falling into deep sleep - losing consciousness completely.
اس بارے میں کہ بعض علماء کے نزدیک صرف بیہوشی کے شدید دورہ ہی سے وضو ٹوٹتا ہے
Sahih Bukhari
34
(51) CHAPTER. Rinsing one's mouth (with water) after eating As-Sawiq without repeating ablution.
اس بارے میں کہ کوئی شخص ستو کھا کر صرف کلی کرے اور نیا وضو نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
35
(68) CHAPTER. Urinating in stagnant water.
اس بارے میں کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے
Sahih Bukhari
36
(2) CHAPTER. Taking a bath by a man along with his wife.
اس بارے میں کہ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ غسل کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
37
(3) CHAPTER. Taking a bath with a Sa of water or so. (One Sa = 3 kilograms approx.)
اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے
Sahih Bukhari
38
(8) CHAPTER. The rubbing of hands with earth in order to clean them thoroughly.
اس بارے میں کہ ( گندگی پاک کرنے کے بعد ) ہاتھ مٹی سے ملنا تاکہ وہ خوب صاف ہو جائیں
Sahih Bukhari
39
(13) CHAPTER. The washing away of emotional urethral discharge and performing ablution after it.
اس بارے میں کہ مذی کا دھونا اور اس کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
40
(17) CHAPTER. If someone while in the mosque remembers that he is Junub , he should leave (the mosque to take a bath) and should not perform Tayammum.
جب کوئی شخص مسجد میں ہو اور اسے یاد آئے کہ مجھ کو نہانے کی حاجت ہے تو اسی طرح نکل جائے اور تیمم کرے
Sahih Bukhari
41
(18) CHAPTER. The removing of water from one's body with one's hands after taking the bath of Janaba.
اس بارے میں کہ غسل جنابت کے بعد ہاتھوں سے پانی جھاڑ لینا ( سنت نبوی ہے )
Sahih Bukhari
42
(20) CHAPTER. Whosoever took a bath alone (in seclusion) completely naked.
اس شخص کے بارے میں جس نے تنہائی میں ننگے ہو کر غسل کیا ۔ اور جس نے کپڑا باندھ کر غسل کیا اور کپڑا باندھ کر غسل کرنا افضل ہے
Sahih Bukhari
43
(28) CHAPTER. When male and female organs come in close contact (bath becomes compulsory).
اس بارے میں کہ جب دونوں ختان ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل جنابت واجب ہے
Sahih Bukhari
44
(2) CHAPTER. The washing of the husband's head and the combing of his hair by a menstruating wife.
اس بارے میں کہ حائضہ عورت کا اپنے شوہر کے سر کو دھونا اور اس میں کنگھا کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
45
(5) CHAPTER. Fondling a menstruating wife.
اس بارے میں کہ حائضہ کے ساتھ مباشرت کرنا ( یعنی جماع کے علاوہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز ہے )
Sahih Bukhari
46
(3) CHAPTER. The performance of Tayammun by a non-traveller (is permissible).
اقامت کی حالت میں بھی تیمم کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
47
(7) CHAPTER. A Junub can perform Tayammum if he is afraid of disease, death or thirst.
جب جنبی کو ( غسل کی وجہ سے ) مرض بڑھ جانے کا یا موت ہونے کا یا ( پانی کے کم ہونے کی وجہ سے ) پیاس کا ڈر ہو تو تیمم کر لے
Sahih Bukhari
48
CHAPTER. To offer Salat (the prayer) on a Khumra (a small mat, hardly sufficient for the face and hands while prostrating
کھجور کی چٹائی پر نماز پڑھنا
Sahih Bukhari
49
CHAPTER. [During the obligatory Salat (prayers)] one should face the Qiblah (Kabah at Makkah) wherever one may be.
ہر مقام اور ہر ملک میں مسلمان جہاں بھی رہے نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرے
Sahih Bukhari
50
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

5,803
Sunnan Ibn e Maja
569
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ لَا تُصَلِّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ:‏‏‏‏ أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ .
It was narrated from Sa'eed bin 'Abdur-Rahman bin Abza from his father, that: A man came to 'Umar bin khattab and said: I became impure following sexual emission and cannot find any water. 'Umar said to him: Do not pray. But 'Ammar bin Yasir said: Do you not remember, O Commander of the Believers, when you and I were on a military expedition and we became sexually impure and could not find water? As for you, you did not pray, but I rolled in the dust and then prayed. When I came to the Prophet and told him what had happened, he said: 'It would have been enough for you (to do this).' (Then demonstrating) the Prophet struck the ground with his hands, then blew on hem, and wiped his face and palms with them.
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا اور پانی نہیں پایا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ ایک لشکر میں تھے، ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہ مل سکا تو آپ نے نماز نہیں پڑھی، اور میں مٹی میں لوٹا، اور نماز پڑھ لی، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا کافی تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان دونوں میں پھونک ماری، اور اپنے چہرے اور دونوں پہنچوں پر اسے مل لیا ۱؎۔
Jam e Tirmazi
3240
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ مَرَّ يَهُودِيٌّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا يَهُودِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدِّثْنَا ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِذَا وَضَعَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ عَلَى ذِهْ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَرْضَ عَلَى ذِهْ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ، ‏‏‏‏‏‏وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ بِخِنْصَرِهِ أَوَّلًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَابَعَ حَتَّى بَلَغَ الْإِبْهَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو كُدَيْنَةَ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ شُجَاعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّلْتِ.
Narrated Ibn 'Abbas: A Jew passed by the Prophet (ﷺ), so the Prophet (ﷺ) said: 'O you Jew! Narrate something to us.' So he said: 'What shall you say O Abul-Qasim, when Allah places the heavens upon this, the earths upon this, the water upon this, the mountains upon this, and the rest of creation upon this?' - Muhammad bin As-Salt, Abu Ja'far (one of the narrators) indicated first with his little finger, then followed one by one until he reached his index finger - So Allah, the Mighty and Sublime revealed: They made not a just estimate of Allah such as is due to Him (39:67).
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک یہودی کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( یہودی ) سے کہا: ”ہم سے کچھ بات چیت کرو“، اس نے کہا: ابوالقاسم! آپ کیا کہتے ہیں: جب اللہ آسمانوں کو اس پر اٹھائے گا ۱؎ اور زمینوں کو اس پر اور پانی کو اس پر اور پہاڑوں کو اس پر اور ساری مخلوق کو اس پر، ابوجعفر محمد بن صلت نے ( یہ بات بیان کرتے ہوئے ) پہلے چھنگلی ( کانی انگلی ) کی طرف اشارہ کیا، اور یکے بعد دیگرے اشارہ کرتے , ہوئے انگوٹھے تک پہنچے، ( اس موقع پر بطور جواب ) اللہ تعالیٰ نے «وما قدروا الله حق قدره» ”انہوں نے اللہ کی ( ان ساری قدرتوں کے باوجود ) صحیح قدر و منزلت نہ جانی، نہ پہچانی“ ( الزمر: ۶۷ ) ، نازل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- ہم اسے ( ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے ) صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- ابوکدینہ کا نام یحییٰ بن مہلب ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو دیکھا ہے، انہوں نے یہ حدیث حسن بن شجاع سے اور حسن نے محمد بن صلت سے روایت کی ہے۔
Sahih Bukhari
338
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ ؟ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ وَنَفَخَ فِيهِمَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ .
Narrated `Abdur Rahman bin Abza [??]: A man came to `Umar bin Al-Khattab and said, I became Junub but no water was available. `Ammar bin Yasir said to `Umar, Do you remember that you and I (became Junub while both of us) were together on a journey and you didn't pray but I rolled myself on the ground and prayed? I informed the Prophet about it and he said, 'It would have been sufficient for you to do like this.' The Prophet then stroked lightly the earth with his hands and then blew off the dust and passed his hands over his face and hands.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حکم بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے ذر بن عبداللہ سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، وہ اپنے باپ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کی کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور پانی نہیں ملا ( تو میں اب کیا کروں ) اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ سفر میں تھے، ہم دونوں جنبی ہو گئے۔ آپ نے تو نماز نہیں پڑھی لیکن میں نے زمین پر لوٹ پوٹ لیا، اور نماز پڑھ لی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھے بس اتنا ہی کافی تھا اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر انہیں پھونکا اور دونوں سے چہرے اور پہنچوں کا مسح کیا۔
Sahih Bukhari
339
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عَمَّارٌ بِهَذَا ، وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ، ثُمَّ أَدْنَاهُمَا مِنْ فِيهِ ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ، وَقَالَ النَّضْرُ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَرًّا يَقُولُ : عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، قَالَ الْحَكَمُ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَمَّارٌ .
Narrated Sa`id bin `Abdur Rahman bin Abza: (on the authority of his father who said) `Ammar said so (the above Statement). And Shu`ba stroked lightly the earth with his hands and brought them close to his mouth (blew off the dust) and passed them over his face and then the backs of his hands. `Ammar said, Ablution (meaning Tayammum here) is sufficient for a Muslim if water is not available.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے کہا کہ مجھے حکم بن عیینہ نے خبر دی ذر بن عبداللہ سے، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، وہ اپنے باپ سے کہ عمار نے یہ واقعہ بیان کیا ( جو پہلے گزر چکا ) اور شعبہ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا۔ پھر انہیں اپنے منہ کے قریب کر لیا ( اور پھونکا ) پھر ان سے اپنے چہرے اور پہنچوں کا مسح کیا اور نضر بن شمیل نے بیان کیا کہ مجھے شعبہ نے خبر دی حکم سے کہ میں نے ذر بن عبداللہ سے سنا، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کے حوالہ سے حدیث روایت کرتے تھے۔ حکم نے کہا کہ میں نے یہ حدیث ابن عبدالرحمٰن بن ابزی سے سنی، وہ اپنے والد کے حوالہ سے بیان کرتے تھے کہ عمار نے کہا ( جو پہلے مذکور ہوا ) ۔
Sunnan Abu Dawood
324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمَّار، ‏‏‏‏‏‏بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ، ‏‏‏‏‏‏وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ‏‏‏‏‏‏شَكَّ سَلَمَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ يَعْنِي أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ.
Ibn Abdur-Rahman bin Abza reported on the authority of his father this incident from Ammar. He said: This would have been enough for you, and the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم struck the ground with his hand. He then blew it and wiped with it his face and hands. Being doubtful Salamah said: I do not know (whether he wiped) up to the elbows or the wrists.
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابزی سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں بس اتنا کر لینا کافی تھا ، اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک مار کر اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لیا، سلمہ کو شک ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ اس میں «إلى المرفقين» ہے یا«إلى الكفين‏.» ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنیوں تک پھیرا، یا پہونچوں تک ) ۔
Sunnan Ibn e Maja
2223
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ كَانُوا مِنْ أَخْبَثِ النَّاسِ كَيْلًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ فَأَحْسَنُوا الْكَيْلَ بَعْدَ ذَلِكَ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said: When the Prophet (ﷺ) came to Al-Madinah, they were the worst people in weights and measures. Then Allah, Glorious is He revealed: Woe to the Mutaffifun (those who give less in measure and weight) ,[1] and they were fair in weights and measures after that.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ والے ناپ تول میں سب سے برے تھے، اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ويل للمطففين» خرابی ہے کم تولنے والوں کے لیے الخ اتاری اس کے بعد وہ ٹھیک ٹھیک ناپنے لگے۔
Sunnan Nisai
313
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قال عُمَرُ:‏‏‏‏ لَا تُصَلِّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَمَا تَذْكُرُ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ . وَسَلَمَةُ شَكَّ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
It was narrated from Ibn 'Abdur-Rahman bin Abza from his father that a man came to 'Umar and said: I have become Junub and I do not have any water. 'Umar said: Do not pray. But 'Ammar bin Yasir said: O Commander of the Believers! Don't you remember when you and I were on a campaign and we became Junub and could not find water? You did not pray, but I rolled in the dust and prayed. Then we came to the Prophet (ﷺ) and told him about that, and he said: 'It would have been sufficient for you (to do this),' then the Prophet (ﷺ) struck his hands on the ground and blew on them, then wiped his face and hands with them' - (one of the narrators) Salamah was uncertain and did not know whether that was up to the elbows or just hands. And 'Umar said: We will let you bear the burden of what you took upon yourself.
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا،  ( کیا کروں؟ )  عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:  ( غسل کئے بغیر )  نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ دونوں ایک سریہ  ( فوجی مہم )  میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، اور رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز پڑھ لی، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ہم نے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا - سلمہ کو شک ہے، وہ یہ نہیں جان سکے کہ اس میں مسح کا ذکر دونوں کہنیوں تک ہے یا دونوں ہتھیلیوں تک -  ( عمار رضی اللہ عنہ کی بات سن کر )  عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں ۔
Sunnan Nisai
320
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلَمَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِد الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ لَا تُصَلِّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَمَّارٌ:‏‏‏‏ أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ثُمَّ صَلَّيْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا يَكْفِيكَ، ‏‏‏‏‏‏وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ . شَكَّ سَلَمَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ. قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ. قَالَ شُعْبَةُ:‏‏‏‏ كَانَ يَقُولُ الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ:‏‏‏‏ مَا تَقُولُ ؟ فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ أَحَدٌ غَيْرُكَ، ‏‏‏‏‏‏فَشَكَّ سَلَمَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي ذَكَرَ الذِّرَاعَيْنِ أَمْ لَا.
It was narrated from Ibn 'Abdur-Rahman bin Abza, from his father, that a man came to 'Umar, may Allah be please with him, and said: I have become Junub and I cannot find any water. 'Umar said: Do not pray. 'Ammar said: Do you not remember, O Commander of the Believers, when you and I were on a campaign and became Junub, and we could not find any water. You did not pray, but I rolled in the dust then prayed. When we came to the Messenger of Allah (ﷺ) I told him about that and he said: 'This would have been sufficient for you,' and then Prophet (ﷺ) struck the earth with his hands then blew on them and wiped his face and hands - (one of the narrators) Salamah was uncertain and said: I do not know if he said it should be up to the elbows or just the hands. - 'Umar said: We will let you bear the burden of what you took upon yourself. (One of the narrators) Shu'bah said: He used to say the hands, face and forearms. (Another) Mansur said to him: What are you saying? No one mentions the forearms except you. Salamah was not certain and said: I do not know whether he mentioned the forearms or not.
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہو گیا ہوں، اور مجھے پانی نہیں ملا  ( کیا کروں؟ )  تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:  ( جب تک پانی نہ ملے )  تم نماز نہ پڑھو، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں؟ جب میں اور آپ دونوں ایک سریہ میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نے نماز پڑھ لی، تو جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مارے، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے شک کیا اور کہا: مجھے نہیں معلوم کہ  ( میرے شیخ ذر نے دونوں کہنیوں تک مسح کا ذکر کیا یا دونوں ہتھیلیوں تک ) ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سلسلہ میں جو تم کہہ رہے ہو اس کی ذمہ داری ہم تمہارے ہی سر ڈالتے ہیں شعبہ کہتے ہیں: سلمہ دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور دونوں بازؤوں کا ذکر کر رہے تھے، تو منصور نے ان سے کہا: یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ کے سوا کسی اور نے بازؤوں کا ذکر نہیں کیا ہے، تو سلمہ شک میں پڑ گئے اور کہنے لگے مجھے نہیں معلوم کہ  ( ذر نے )  بازؤوں کا ذکر کیا یا نہیں؟۔
Jam e Tirmazi
2
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ، ‏‏‏‏‏‏أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ‏‏‏‏‏‏خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبُو صَالِحٍ وَالِدُ سُهَيْلٍ هُوَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْمُهُ ذَكْوَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو هُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ عَبْدُ شَمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل وَهُوَ الْأَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،‏‏‏‏ وَثَوْبَانَ،‏‏‏‏ وَالصُّنَابِحِيِّ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ،‏‏‏‏ وَسَلْمَانَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَالصُّنَابِحِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ لَيْسَ لَهُ سَمَاعٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏رَحَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الطَّرِيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَالصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ الْأَحْمَسِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ الصُّنَابِحِيُّ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا حَدِيثُهُ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: When a Muslim, or believer, performs Wudu', washing his face, every evil that he looked at with his eyes leaves with the water - or with the last drop of water, or an expression similar to that - and when he washes his hands, every evil he did with his hands leaves with the water - or with the last drop of water - until he becomes free of sin.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں ۱؎، جو اس کی آنکھوں نے کیے تھے یا اسی طرح کی کوئی اور بات فرمائی، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎، ۲- اس باب میں عثمان بن عفان، ثوبان، صنابحی، عمرو بن عبسہ، سلمان اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صنابحی جنہوں نے ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ان کا سماع رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے نہیں ہے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلہ، اور کنیت ابوعبداللہ ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس سفر کیا، راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔ اور صنابح بن اعسرا حمسی صحابی رسول ہیں، ان کو صنابحی بھی کہا جاتا ہے، انہی کی حدیث ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں میں اپنی اکثریت پر فخر کروں گا تو میرے بعد تم ہرگز ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا“۔