TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا

Chapter 44 of اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 44 of 51 · 3 Hadith
۔ (۱۰۶۱۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّھْرِیُّ وَأَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ اَبَوَایَ قَطُّ اِلَّا وَھُمَا یَدِیْنَانِ الدِّیْنَ وَلَمْ یَمُرَّ عَلَیْنَایَوْمٌ اِلَّا یَأْتِیْنَا فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَرَفَیِ النَّھَارِ بُکْرَۃً وَعَشِیَّۃً، فَلَمَّا ابْتُلِیَ الْمُسْلِمُوْنَ خَرَجَ أَبُوْ بَکْرٍ مُھَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ حَتّٰی اِذَا بَلَغَ بَرْکَ الْغِمَادِ لَقِیَہُ ابْنُ الدَّغِنَۃِ وَھُوَ سَیِّدُ الْقَارَۃِفَقَالَ ابْنُ الدَّغِنَۃِ: أَیْنَیَا أَبَا بَکْرٍ؟ فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: أَخْرَجَنِیْ قَوْمِیْ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْمُسْلِمِیْنَ: ((قَدْ رَأَیْتُ دَارَ ھِجْرَتِکُمْ رَأَیْتُ سَبْخَۃً ذَاتَ نَخْلٍ بَیْنَ لَا بَتَیْنِ وَھُمَا حَرَّتَانِ۔)) فَخَرَجَ مَنْ کَانَ مُھَاجِرًا قِبَلَ الْمَدِیْنَۃِ حِیْنَ ذَکَرَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ بَعْضُ مَنْ کَانَ ھَاجَرَ اِلٰی اللّٰہِ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَتَجَھَّزَ أَبُوْ بَکْرٍ مُھَاجِرًا فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلٰی رِسْلِکَ فَاِنَّیْ اَرْجُوْ اَنْ یُؤْذَنَ لِیْ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: وَتَرْجُوْ ذٰلِکَ بِأَبِیْ أَنْتَ وَأُمِّیْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) فَحَبَسَ أَبُوْ بَکْرٍ نَفْسَہَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصُحْبَۃٍ وَعَلَفَ رَاحِلَتَیْنِ کَانَتَا عِنْدَہُ مِنْ وَرَقِ السَّمَرِ أَرْبَعَۃَ أَشْھُرٍ قَالَ الزُّھْرِیُّ: قَالَ عُرْوَۃُ: قَالَتْ: عَائِشَۃُ: فَبَیْنَا نَحْنُ یَوْمًا جُلُوْسًا فِیْ بَیْتِنَا فِیْ نَحْرِ الظَّھِیْرَۃِ قَالَ قَائِلٌ لِأَبِیْ بَکْرٍ: ھٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا فِیْ سَاعَۃٍ لَمْ یَکُنْیَأْتِیْنَا فِیْھَا، فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ: فِدَائٌ لَہُ أبِیْ وَأُمِّیْ، اِنْ جَائَ بِہٖفِیْ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ اِلَّا أَمْرٌ؟ فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَہُ فَدَخَلَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ دَخَلَ لِأَبِیْ بَکْرٍ: ((أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَکَ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: اِنَّمَا ھُمْ أَھْلُکَ بِأَبِیْ أَنْتَ وَأُمِّیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاِنَّہُ قَدْ أُذِنَ لِیْ فِی الْخُرُوْجِ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: فَالصَّحَابَۃَ بِأَبِیْ أَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: فَخُذْ بِأَبِیْ أَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِحْدٰی رَاحِلَتَیَّ ھَاتَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِالثَّمَنِ)) قَالَتْ: فَجَھَّزْنَا ھُمَا أَحَبَّ الْجِھَازِ وَصَنَعْنَا لَھُمَا سُفْرَۃً فِیْ جِرَابٍ فَقَطَعَتْ اَسْمَائُ بِنْتُ أبِیْ بَکْرٍ مِنْ نِطَاقِھَا فَأَوْکَتِ الْجِرَابَ فَلِذٰلِکَ کَانَتْ تُسَمَّی ذَاتَ النِّطَاقَیْنِ، ثُمَّّ لَحِقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ وَأَبُوْ بَکْرٍ بِغَارٍ فِیْ جَبَلٍ یُقَالُ لَہُ: ثَوْرٌ، فَمَکَثَا فِیْہِ ثَلَاثَ لَیَالٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۴۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالی، اس وقت سے میں نے اپنے والدین کو دینِ اسلام پر پایا، کوئی دن نہیں گزرتا تھا، مگر اس کے صبح و شام کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس آتے تھے، جب اسلام کی وجہ سے مسلمانوں پر مصائب ڈھائے گئے تو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے نکل پڑے، جب (مکہ سے پانچ دنوں کی مسافت پر واقع) برک الغماد مقام پر پہنچے تو ابن دَغِنّہ ان کو ملے، جو کہ قارہ قبیلے کے سردار تھے، ابن دغنہ نے کہا: ابوبکر! کہاں جا رہے ہو، انھوں نے کہا: میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے، … … باقی حدیث ذکر کی، اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: تمہاری ہجرت گاہ مجھے دکھائی جا چکی ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کھجوروں والی شور والی زمین ہے اور دو حرّوں کے درمیان واقع ہے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے لوگ نکل پڑے، اور جو لوگ اللہ تعالیٰکے لیے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر گئے تھے، وہ مدینہ منورہ کی طرف لوٹ آئے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی ہجرت کی تیاری شروع کر دی، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ذرا ٹھیر جاؤ، مجھے امید ہے کہ مجھے بھی اجازت دے دی جائے گی۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا آپ بھی اس چیز کی امید رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو روک لیا اور چارماہ تک اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے درخت کے پتوں کا چارہ دیتے رہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک دن ہم ابتدائے زوال کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آ رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر ڈھانپا ہوا ہے اور ایسے گھڑی میں تشریف لا رہے کہ پہلے اس وقت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہیں آیا کرتے تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قربان ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی خاص معاملے کی وجہ سے اس وقت میں تشریف لا رہے ہیں، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہنچ گئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اجازت دے دی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں داخل ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے داخل ہوتے ہی سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اپنے پاس والے افراد کو باہر نکال دو۔ انھوں نے کہا: حضور! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ آپ کے اہل ہی ہیں، (ایک آپ کی بیوی عائشہ ہے اور ایک آپ کی سالی اسماء ہے)۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں بھی آپ کی صحبت کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، ان دو اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی آپ لے لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیمت سے لوں گا۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم نے بہت خوبصورت انداز میں ان دو اونٹنیوں کو تیار کیا، چمڑے کے تھیلے میں زادِ راہ رکھا، پھر سیدہ اسماء بنت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنیپیٹی سے ایک ٹکڑا کاٹ کر اس تھیلے کو باندھا، اسی وجہ سے ان کو ذَاتُ النِّطَاقَیْنِ کہتے ہیں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ثور پہاڑ کی ایک غار میں پہنچ گئے اور اس میں تین دنوں تک ٹھہرے رہے۔
Takhreej
(۱۰۶۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۷۶، ۲۲۹۷، ۳۹۰۵، ۶۰۷۹ (انظر: ۲۵۶۲۷)
Explanation
فوائد:… ذَاتَ النِّطَاقَیْنِ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنی پیٹی کو دو حصوں میں پھاڑ دیا، ایک سے زادِ راہ والا تھیلا باندھا اور ایک سے مشکیزے کا منہ باندھا، اس وجہ انکا یہ لقب پڑ گیا۔ صحیح بخاری میں اس حدیث کا بقیہ حصہ یہ ہے: یَبِیتُ عِنْدَہُمَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَہُوَ غُلَامٌ شَابٌّ ثَقِفٌ لَقِنٌ فَیُدْلِجُ مِنْ عِنْدِہِمَا بِسَحَرٍ فَیُصْبِحُ مَعَ قُرَیْشٍ بِمَکَّۃَ کَبَائِتٍ فَـلَا یَسْمَعُ أَمْرًا یُکْتَادَانِ بِہٖإِلَّاوَعَاہُحَتَّییَأْتِیَہُمَا بِخَبَرِ ذَلِکَ حِینَیَخْتَلِطُ الظَّلَامُ وَیَرْعٰی عَلَیْہِمَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ مَوْلَی أَبِی بَکْرٍ مِنْحَۃً مِنْ غَنَمٍ فَیُرِیحُہَا عَلَیْہِمَا حِینَ تَذْہَبُ سَاعَۃٌ مِنْ الْعِشَاء ِ فَیَبِیتَانِ فِی رِسْلٍ وَہُوَ لَبَنُ مِنْحَتِہِمَا وَرَضِیفِہِمَا حَتّٰییَنْعِقَ بِہَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ بِغَلَسٍ یَفْعَلُ ذٰلِکَ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْ تِلْکَ اللَّیَالِی الثَّلَاثِ وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِی الدِّیْلِ وَہُوَ مِنْ بَنِی عَبْدِ بْنِ عَدِیٍّ ہَادِیَا خِرِّیتًا وَالْخِرِّیتُ الْمَاہِرُ بِالْہِدَایَۃِ قَدْ غَمَسَ حِلْفًا فِی آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّہْمِیِّ وَہُوَ عَلٰی دِینِ کُفَّارِ قُرَیْشٍ فَأَمِنَاہُ فَدَفَعَا إِلَیْہِ رَاحِلَتَیْہِمَا وَوَاعَدَاہُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَیَالٍ بِرَاحِلَتَیْہِمَا صُبْحَ ثَلَاثٍ وَانْطَلَقَ مَعَہُمَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ وَالدَّلِیلُ فَأَخَذَ بِہٖمْطَرِیقَ السَّوَاحِلِ۔ …عبداللہ بن ابی بکر جو نوجوان ہوشیار اور ذکی لڑکے تھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حضرات کے پاس رات گزارتے اور علی الصبح اندھیرے منہ ان کے پاس سے جا کر مکہ میں قریش کے ساتھ اس طرح صبح کرتے جیسے انہوں نے یہیں رات گزاری ہے اور قریش کی ہر وہ بات جس میں ان دونوں حضرات کے متعلق کوئی مکر و تدیبر ہوتییہ اسے یاد کرکے جب اندھیرا ہوجاتا تو ان دونوں حضرات کو آکر بتا دیتے تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ ان کے پاس ہی دن کے وقت بکریاں چراتے اور تھوڑی رات گئے وہ ان دونوں کے پاس بکریاں لے جاتے اور یہ دونوں حضرات ان بکریوں کا دودھ پی کر اطمینان سے رات گزارتے حتیٰ کہ عامر بن فہیرہ صبح اندھیرے منہ ان بکریوں کو ہانک لے جاتے اور ان تین راتوں میں ایسا ہی کرتے رہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابوبکر نے (قبیلہ) بنو ویل کے ایک آدمی کو جو بنی عبد بن عدی میں سے تھا مزدور رکھا وہ بڑا واقف کار رہبر تھا اور آل عاص بن وائل سہمی کا حلیف تھا اور قریش کے دین پر تھا ان دونوں نے اسے امینبنا کر اپنی دونوں سواریاں اس کے حوالہ کردیں اور تین راتوں کے بعد صبح کو ان دونوں سواریوں کو غار ثور پر لانے کا وعدہ لے لیا ( چنانچہ وہ حسب وعدہ آ گیا) اور ان دونوں حضرات کے ساتھ عامر بن فہیرہ اور رہبر ان کو ساحل کے راستہ پر ڈال کر لے چلا ۔
10613
Sahih
۔ (۱۰۶۱۴)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ حَدَّثَہُ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِی الْغَارِ وَقَالَ مَرَّۃً: وَنَحْنُ فِی الْغَارِ، لَوْ اَنَّ اَحَدَھُمْ نَظَرَ اِلٰی قَدَمَیْہِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ: ((یَا أَبَا بَکْرٍ! مَا ظَنُّکَ بِاثْنَیْنِ اللّٰہُ ثَالِثُھُمَا؟))۔ (مسند احمد: ۱۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا، جبکہ ہم غار میں تھے، کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا تو وہ اپنے پاؤں کے نیچے سے ہم کو دیکھ لے گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! ان دو ہستیوں کے بارے میں تیرا کیاگمان ہے، جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔
Takhreej
(۱۰۶۱۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البخاری: ۳۶۵۳، ۳۹۲۲، ۴۶۶۳، ومسلم: ۲۳۸۱ (انظر: ۱۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسی اعزاز کو درج ذیل آیت میں بیان کیا گیا ہے: {اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَــصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖلَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا } … اگر تم اس کی مدد نہ کرو گے تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (سورۂ توبہ: ۴۰)
10614
Sahih
۔ (۱۰۶۱۵)۔ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ عَنْ جَدَّتِہِ أَسْمَائَ بِنْتِ أبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ: لَمَّا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَخَرَجَ مَعَہُ أَبُوْ بَکْرٍ اِحْتَمَلَ أَبُوْ بَکْرٍ مَالَہُ کُلَّہُ، مَعَہُ خَمْسَۃُ آلافِ دِرْھَمٍ أَوْ سِتَّۃُ آلافِ دِرْھَمٍ، قَالَتْ: وَانْطَلَقَ بِھَا مَعَہُ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَیْنَا جَدِیِّ أَبُوْ قُحَافَۃَ وَقَدْ ذَھَبَ بَصَرُہُ فقَالَ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَأَرَاہُ قَدْ فَجَعَکُمْ بِمَالِہِ مَعْ نَفْسِہِ، قَالَتْ: قُلْتُ: کَلَّا یَا أَبَتِ! اِنَّہُ قَدْ تَرَکَ لَنَا خَیْرًا کَثِیْرًا، قَالَتْ: فَأَخَذْتُ أَحْجَارًا فَتَرَکْتُھَا فَوَضَعْتُھَا فِیْ کَوَّۃٍ بِبَیْتٍ کَانَ أبِیْیَضَعُ فِیْھَا مَالَہُ، ثُمَّّ وَضَعْتُ عَلَیْھَا ثَوْبًا ثُمَّّ أَخَذْتُ بِیَدِہِ فَقُلْتُ: یَا أَبَتِ! ضَعْ یَدَکَ عَلٰی ھٰذَا الْمَالِ، قَالَتْ: فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَیْہِ فَقَالَ: لَا بَأَسَ اِنْ کَانَ قَدْ تَرَکَ لَکُمْ ھٰذَا فَقَدْ أَحْسَنَ، وَفِیْ ھٰذَا لَکُمْ بَلَاغٌ، قَالَتْ: لَا وَاللّٰہِ! مَا تَرَکَ لَنَا شَیْئًا وَلٰکِنِّیْ قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُسْکِنَ الشَّیْخَ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۹۷)
۔ سیدہ اسماء بنت بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے ساتھ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکل پڑے تو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنا سارا مال اپنے ساتھ اٹھا لیا، وہ پانچ چھ ہزار درہم تھا، وہ اپنا سارا مال اپنے ساتھ لے گئے، اُدھر جب ہمارا دادا ابو قحافہ ہمارے پاس آیا، وہ نابینا ہو چکا تھا، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ اس آدمی نے تم کو اپنے مال و جان کے ذریعے تم کو تکلیف دی ہے، میں نے کہا: ہر گزنہیں، اے ابو جان! وہ ہمارے لیے بہت مال چھوڑ گئے ہیں، پھر میں نے پتھر پکڑے اور ان کو گھر کے اس روشندان میں رکھا، جہاں میرے باپ اپنا مال رکھتے تھے، پھر میں نے ان پر کپڑا رکھا اور پھر اپنے دادے کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ابو جان! اس مال پر اپنا ہاتھ رکھو، پس انھوں نے اپنا ہاتھ رکھا اور کہا: چلو کوئی حرج نہیں ہے، اگر وہ اتنا مال چھوڑ گئے ہیں تو انھوں نے بہت اچھا کیا ہے، اس سے تمہاری گزر بسر ہوتی رہے گی۔سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: نہیں،اللہ کی قسم! سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا،اس کاروائی سے میرا ارادہ یہ تھا کہ اس بزرگ کو اطمینان ہو جائے۔
Takhreej
(۱۰۶۱۵) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر: ۲۴/ ۲۳۵، الحاکم: ۳/ ۵ (انظر: ۲۶۹۵۷)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد اس وقت مسلمان نہیں تھے، اس لیے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کے ساتھ یہ حکمت ِ عملی اختیار کی۔ تین دن غارِ ثور میں قیام کیا، پھر سوموار کی رات ربیع الاول ۱؁ھکی چاند رات، رہنما عبد اللہ بن اُرَیقط لیثی، وعدے کے مطابق سواریاں لے کر جبل ثور کے دامن میں آیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کوچ فرمایا، راہنما پہلے جنوب کی جانب یمن کے رخ پر دور تک چلا، پھر پچھم (مغرب) کی طرف مڑا اور ساحل سمندر کا رخ کیا، ساحل کے قریب پہنچ کر شمال کی طرف مڑ گیا اور ایک ایسے راستے پر چلا، جس پر شاذ و نادر ہی کوئی چلتا تھا۔
10615
Sahih

Chapters

51
01
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
3 Hadith
02
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
5 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
3 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
3 Hadith
05
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
1 Hadith
06
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
07
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
2 Hadith
08
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
1 Hadith
09
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
7 Hadith
11
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
1 Hadith
12
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
16 Hadith
13
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
7 Hadith
14
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
3 Hadith
15
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
4 Hadith
16
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
3 Hadith
17
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
5 Hadith
18
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
6 Hadith
19
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
4 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
1 Hadith
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
2 Hadith
22
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
2 Hadith
23
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
2 Hadith
24
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
1 Hadith
25
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
7 Hadith
26
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
2 Hadith
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
9 Hadith
28
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
2 Hadith
29
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
3 Hadith
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
1 Hadith
31
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
1 Hadith
32
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
2 Hadith
33
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
34
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
9 Hadith
35
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
5 Hadith
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
7 Hadith
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
3 Hadith
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
3 Hadith
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
3 Hadith
40
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
2 Hadith
41
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
5 Hadith
42
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
1 Hadith
43
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
3 Hadith
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
3 Hadith
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
3 Hadith
46
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
2 Hadith
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
6 Hadith
48
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
3 Hadith
49
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
6 Hadith
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
9 Hadith
51
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
6 Hadith
No chapter matched that.