۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آزاد عورت سے عزل کرنے سے منع فرمایا، الایہ کہ وہ اجازت دے دے۔
Takhreej
(۷۰۷۷) اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن لھیعۃ سییء الحفظ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۲۸(انظر: ۲۱۲)
۔ سیدنا جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا ، جو کہ پہلی مہاجر خواتین میں سے تھیں، سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غزل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔
Takhreej
(۷۰۷۸) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۷۰۳۶)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالی نے جس نطفے کو بچے کی تخلیق کے لیے تیار کیا، اس مقصد کے پورا نہ ہونے کی کوشش کرنا اور نطفے کو ضائع کر دینا، گویامخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ یہ حدیث جواز والی احادیث کے مقابلے میں عزل کی ممانعت پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ اعلانیہ طور پر بچوں کو زندہ درگور کرنا حرام ہے، اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ مذکورہ بالا خفیہ طریقے سے بھی ایسا کرنا ممنوع ہے، جبکہ اگلے باب میںجواز کے دلائل موجود ہیں۔
۔ سیدنا ابو صرمہ مازنی اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے غزوئہ نبی مصطلق میں قیدی حاصل کیے،یہ وہی غزوہ ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہ کو حاصل کیا تھا، ہم میں سے بعض افراد (اہل (بیوی) بنانا چاہتے تھے اور بعض کا ارادہ تھا کہ وہ لونڈیوں سے ہم بستری کر کے ان کو فروخت کر دیں، اس لیے ہم نے غزل کے بارے میں تکرار کیا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عزل نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے قیامت تک جو کچھ پیدا کرنا ہے، اس نے اس کا اندازہ کر لیا ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہے کیا؟ لوگوں نے کہا: ایک آدمی کی بیوی ہے، وہ بچے کو دودھ پلاتی ہے اس لیے وہ پسند نہیں کرتا کہ وہ حاملہ ہو، اسی طرح ایک آدمی کی لونڈی ہے، وہ اس سے ہم بستری تو کرتا ہے، لیکن اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا، سو وہ عزل کرنا چاہتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، یہ تو تقدیر کا مسئلہ ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا حسن سے بیان کی تو انہوں نے کہا فَـلَا عَلَیْکُمْ کا مقصد عزل سے ڈانٹنا ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عزل کے بارے میں فرمایا: کیا تو اس کو پیدا کرتا ہے؟ کیا تو اس کو رزق دیتا ہے؟ اس کو اس کی جگہ پر ٹھہرنے دے (یعنی عزل نہ کر) کیونکہ ان سب امور کا تعلق قضا وقدرسے ہے۔
Takhreej
(۷۰۸۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الحسن البصری لم یسمع من ابی سعید (انظر: ۱۱۵۰۳)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے عزل کے مکروہ ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔