TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of medicine. - کتاب دوا اور علاج کے بیان میں - Book 77 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 77 of Sahih Bukhari, with 55 chapters and 105 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

105 Hadith · 55 Chapters
(35) CHAPTER. Ruqya for an evil eye.
نظربد لگ جانے کی صورت میں دم کرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَى مِنَ الْعَيْنِ .
Narrated `Aisha: The Prophet ordered me or somebody else to do Ruqya (if there was danger) from an evil eye.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے معبد بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن شداد سے سنا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا یا ( آپ نے اس طرح بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) حکم دیا کہ نظر بد لگ جانے پر معوذتین سے دم کر لیا جائے۔
5738
Sahih
(35) CHAPTER. Ruqya for an evil eye.
نظربد لگ جانے کی صورت میں دم کرنا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً فِي وَجْهِهَا سَفْعَةٌ ، فَقَالَ : اسْتَرْقُوا لَهَا فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ ، تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، وَقَالَ عُقَيْلٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Um Salama: that the Prophet saw in her house a girl whose face had a black spot. He said. She is under the effect of an evil eye; so treat her with a Ruqya.
ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن وہب بن عطیہ دمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ولید زبیدی نے بیان کیا، کہا ہم کو زہری نے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر ( نظر بد لگنے کی وجہ سے ) کالے دھبے پڑ گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر دم کرا دو کیونکہ اسے نظر بد لگ گئی ہے۔ اور عقیل نے کہا ان سے زہری نے، انہیں عروہ نے خبر دی اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ محمد بن حرب کے ساتھ اس حدیث کو عبداللہ بن سالم نے بھی زبیدی سے روایت کیا ہے۔
5739
Sahih
(36) CHAPTER. The effect of an evil eye is a fact.
نظربد کا لگناحق ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْعَيْنُ حَقٌّ وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The effect of an evil eye is a fact. And he prohibited tattooing.
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظر بد لگنا حق ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم پر گودنے سے منع فرمایا۔
5740
Sahih
(37) CHAPTER. To treat a snakebite or a scorpion sting with a Ruqya.
سانپ اور بچھو کے کاٹے پر دم کرنا جائز ہے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ ، فَقَالَتْ : رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّقْيَةَ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ .
Narrated Al-Aswad: I asked `Aisha about treating poisonous stings (a snake-bite or a scorpion sting) with a Ruqya. She said, The Prophet allowed the treatment of poisonous sting with Ruqya.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن اسود نے اور ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے زہریلے جانور کے کاٹنے میں جھاڑنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہر زہریلے جانور کے کاٹنے میں جھاڑنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے۔
5741
Sahih
(38) CHAPTER. The Ruqya of the Prophet (i.e., what he used to recite while doing a Ruqya).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بیماری سے شفاء کے لیے ) دم
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَثَابِتٌ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ ثَابِتٌ : يَا أَبَا حَمْزَةَ اشْتَكَيْتُ ، فَقَالَ أَنَسٌ : أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَاسِ ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا .
Narrated `Abdul `Aziz: Thabit and I went to Anas bin Malik. Thabit said, O Abu Hamza! I am sick. On that Anas said, Shall I treat you with the Ruqya of Allah's Apostle? Thabit said, Yes, Anas recited, O Allah! The Lord of the people, the Remover of trouble! (Please) cure (Heal) (this patient), for You are the Healer. None brings about healing but You; a healing that will leave behind no ailment.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ میں اور ثابت بنانی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ثابت نے کہا: ابوحمزہ! ( انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ) میری طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر کیوں نہ میں تم پر وہ دعا پڑھ کر دم کر دوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے، ثابت نے کہا کہ ضرور کیجئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ دعا پڑھ کر دم کیا «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کر دینے والے! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے تیرے سوا کوئی شفاء دینے والا نہیں، ایسی شفاء عطا فرما کہ بیماری بالکل باقی نہ رہے۔
5742
Sahih
(38) CHAPTER. The Ruqya of the Prophet (i.e., what he used to recite while doing a Ruqya).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بیماری سے شفاء کے لیے ) دم
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ بَعْضَ أَهْلِهِ يَمْسَحُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ، وَيَقُولُ : اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ ، أَذْهِبْ الْبَاسَ اشْفِهِ وَأَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ، قَالَ سُفْيَانُ ، حَدَّثْتُ بِهِ مَنْصُورًا ، فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ .
Narrated `Aisha: The Prophet used to treat some of his wives by passing his right hand over the place of ailment and used to say, O Allah, the Lord of the people! Remove the trouble and heal the patient, for You are the Healer. No healing is of any avail but Yours; healing that will leave behind no ailment.
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے مسلم بن صبیح نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے بعض ( بیماروں ) پر یہ دعا پڑھ کر دم کرتے اور اپنا داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے «اللهم رب الناس أذهب الباس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اشفه وأنت الشافي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا شفاء إلا شفاؤك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! لوگوں کے پالنے والے! تکلیف کو دور کر دے، اسے شفاء دیدے تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء ( دے ) کہ کسی قسم کی بیماری باقی نہ رہ جائے۔“ سفیان ثوری نے بیان کیا کہ میں نے یہ دعا منصور بن معتمر کے سامنے بیان کی تو انہوں نے مجھ سے یہ ابراہیم نخعی سے بیان کی، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح بیان کی۔
5743
Sahih
(38) CHAPTER. The Ruqya of the Prophet (i.e., what he used to recite while doing a Ruqya).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بیماری سے شفاء کے لیے ) دم
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي يَقُولُ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle used to treat with a Ruqya saying, O the Lord of the people! Remove the trouble The cure is in Your Hands, and there is none except You who can remove it (the disease) .
مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دم کیا کرتے تھے اور یہ دعا پڑھتے تھے «امسح الباس رب الناس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏بيدك الشفاء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏لا كاشف له إلا أنت‏ ‏‏.‏» ”تکلیف کو دور کر دے، اے لوگوں کے پالنہار! تیرے ہی ہاتھ میں شفاء ہے، تیرے سوا تکلیف کو دور کرنے والا کوئی اور نہیں ہے۔“
5744
Sahih
(38) CHAPTER. The Ruqya of the Prophet (i.e., what he used to recite while doing a Ruqya).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بیماری سے شفاء کے لیے ) دم
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِلْمَرِيضِ : بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا .
Narrated `Aisha: The Prophet used to say to the patient, In the Name of Allah The earth of our land and the saliva of some of us cure our patient.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدربہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے لیے ( کلمے کی انگلی زمین پر لگا کر ) یہ دعا پڑھتے تھے «بسم الله،‏‏‏‏ تربة أرضنا‏.‏ بريقة بعضنا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏يشفى سقيمنا بإذن ربنا‏ ‏‏.» ”اللہ کے نام کی مدد سے ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے کسی کے تھوک کے ساتھ تاکہ ہمارا مریض شفاء پائے ہمارے رب کے حکم سے۔“
5745
Sahih
(38) CHAPTER. The Ruqya of the Prophet (i.e., what he used to recite while doing a Ruqya).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بیماری سے شفاء کے لیے ) دم
حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الرُّقْيَةِ : تُرْبَةُ أَرْضِنَا ، وَرِيقَةُ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle used to read in his Ruqya, In the Name of Allah The earth of our land and the saliva of some of us cure our patient with the permission of our Lord. with a slight shower of saliva) while treating with a Ruqya.
مجھ سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن سعید نے، انہیں عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دم کرتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے «تربة أرضنا،‏‏‏‏‏‏‏‏ وريقة بعضنا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏يشفى سقيمنا،‏‏‏‏‏‏‏‏ بإذن ربنا‏ ‏‏.» ”ہماری زمین کی مٹی اور ہمارا بعض تھوک ہمارے رب کے حکم سے ہمارے مریض کو شفاء ہو۔“
5746
Sahih
(38) CHAPTER. The Ruqya of the Prophet (i.e., what he used to recite while doing a Ruqya).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بیماری سے شفاء کے لیے ) دم
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ ، فَلْيَنْفِثْ حِينَ يَسْتَيْقِظُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَإِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا أَثْقَلَ عَلَيَّ مِنَ الْجَبَلِ ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فَمَا أُبَالِيهَا .
Narrated Abu Qatada: I heard the Prophet saying, A good dream is from Allah, and a bad dream is from Satan. So if anyone of you sees (in a dream) something he dislikes, when he gets up he should blow thrice (on his left side) and seek refuge with Allah from its evil for then it will not harm him.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف سے سنا، کہا کہ میں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، اور حلم ( برا خواب جس میں گھبراہٹ ہو ) شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص کوئی ایسا خواب دیکھے جو برا ہو تو جاگتے ہی تین مرتبہ بائیں طرف تھو تھو کرے اور اس خواب کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح خواب کا اسے نقصان نہیں ہو گا اور ابوسلمہ نے کہا کہ پہلے بعض خواب مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوتا تھا جب سے میں نے یہ حدیث سنی اور اس پر عمل کرنے لگا، اب مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔
5747
Sahih
(38) CHAPTER. The Ruqya of the Prophet (i.e., what he used to recite while doing a Ruqya).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بیماری سے شفاء کے لیے ) دم
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ نَفَثَ فِي كَفَّيْهِ ، ب قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، ، جَمِيعًا ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ ، وَمَا بَلَغَتْ يَدَاهُ مِنْ جَسَدِهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمَّا اشْتَكَى كَانَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ بِهِ ، قَالَ يُونُسُ : كُنْتُ أَرَى ابْنَ شِهَابٍ ، يَصْنَعُ ذَلِكَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ .
Narrated `Aisha: Whenever Allah's Apostle went to bed, he used to recite Surat-al-Ikhlas, Surat-al-Falaq and Surat-an- Nas and then blow on his palms and pass them over his face and those parts of his body that his hands could reach. And when he fell ill, he used to order me to do like that for him.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید ایلی نے، ان سے ابن شہاب زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آرام فرمانے کے لیے لیٹتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر «قل هو الله أحد» اور «قل أعوذ برب الناس» اور «قل أعوذ برب الفلق» سب پڑھ کر دم کرتے پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرہ پر اور جسم کے جس حصہ تک ہاتھ پہنچ پاتا پھیرتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر جب آپ بیمار ہوتے تو آپ مجھے اسی طرح کرنے کا حکم دیتے تھے۔ یونس نے بیان کیا کہ میں نے ابن شہاب کو بھی دیکھا کہ وہ جب اپنے بستر پر لیٹتے اسی طرح ان کو پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔
5748
Sahih
(38) CHAPTER. The Ruqya of the Prophet (i.e., what he used to recite while doing a Ruqya).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بیماری سے شفاء کے لیے ) دم
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ : أَنَّ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا حَتَّى نَزَلُوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَاسْتَضَافُوهُمْ ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ ، فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحَيِّ ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَاءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ قَدْ نَزَلُوا بِكُمْ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْءٌ ، فَأَتَوْهُمْ ، فَقَالُوا : يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ ، فَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَيْءٌ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَرَاقٍ ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا ، فَمَا أَنَا بِرَاقٍ لَكُمْ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا ، فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعٍ مِنَ الْغَنَمِ ، فَانْطَلَقَ فَجَعَلَ يَتْفُلُ وَيَقْرَأُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، حَتَّى لَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ ، فَانْطَلَقَ يَمْشِي مَا بِهِ قَلَبَةٌ ، قَالَ : فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اقْسِمُوا ، فَقَالَ الَّذِي رَقَى : لَا تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ ، فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا ، فَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ ، فَقَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ أَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ .
Narrated Abu Sa`id: A group of the companions of Allah's Apostle proceeded on a journey till they dismounted near one of the Arab tribes and requested them to entertain them as their guests, but they (the tribe people) refused to entertain them. Then the chief of that tribe was bitten by a snake (or stung by a scorpion) and he was given all sorts of treatment, but all in vain. Some of them said, Will you go to the group (those travelers) who have dismounted near you and see if one of them has something useful? They came to them and said, O the group! Our leader has been bitten by a snake (or stung by a scorpion) and we have treated him with everything but nothing benefited him Has anyone of you anything useful? One of them replied, Yes, by Allah, I know how to treat with a Ruqya. But. by Allah, we wanted you to receive us as your guests but you refused. I will not treat your patient with a Ruqya till you fix for us something as wages. Consequently they agreed to give those travellers a flock of sheep. The man went with them (the people of the tribe) and started spitting (on the bite) and reciting Surat-al-Fatiha till the patient was healed and started walking as if he had not been sick. When the tribe people paid them their wages they had agreed upon, some of them (the Prophet's companions) said, Distribute (the sheep). But the one who treated with the Ruqya said, Do not do that till we go to Allah's Apostle and mention to him what has happened, and see what he will order us. So they came to Allah's Apostle and mentioned the story to him and he said, How do you know that Surat-al-Fatiha is a Ruqya? You have done the right thing. Divide (what you have got) and assign for me a share with you.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر (جعفر) ان سے ابوالمتوکل علی بن داؤد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ ( 300 نفر ) ایک سفر کے لیے روانہ ہوئے جسے انہیں طے کرنا تھا راستے میں انہوں نے عرب کے ایک قبیلہ میں پڑاؤ کیا اور چاہا کہ قبیلہ والے ان کی مہمانی کریں لیکن انہوں نے انکار کیا، پھر اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا اسے اچھا کرنے کی ہر طرح کی کوشش انہوں نے کر ڈالی لیکن کسی سے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آخر انہیں میں سے کسی نے کہا کہ یہ لوگ جنہوں نے تمہارے قبیلہ میں پڑاؤ کر رکھا ہے ان کے پاس بھی چلو، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی منتر ہو۔ چنانچہ وہ صحابہ کے پاس آئے اور کہا لوگو! ہمارے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے ہم نے ہر طرح کی بہت کوشش اس کے لیے کر ڈالی لیکن کسی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا کیا تم لوگوں میں سے کسی کے پاس اس کے لیے منتر ہے؟ صحابہ میں سے ایک صاحب ( ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ ہاں واللہ میں جھاڑنا جانتا ہوں لیکن ہم نے تم سے کہا تھا کہ ہماری مہمانی کرو ( ہم مسافر ہیں ) تو تم نے انکار کر دیا تھا اس لیے میں بھی اس وقت تک نہیں جھاڑوں گا جب تک تم میرے لیے اس کی مزدوری نہ ٹھہرا دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے کچھ بکریوں ( 30 ) پر معاملہ کر لیا۔ اب یہ صحابی روانہ ہوئے۔ یہ زمین پر تھوکتے جاتے اور «‏‏‏‏الحمد لله رب العالمين» ‏‏‏‏ پڑھتے جاتے اس کی برکت سے وہ ایسا ہو گیا جیسے اس کی رسی کھل گئی ہو اور وہ اس طرح چلنے لگا جیسے اسے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ بیان کیا کہ پھر وعدہ کے مطابق قبیلہ والوں نے ان صحابی کی مزدوری ( 30 بکریاں ) ادا کر دی بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو تقسیم کر لو لیکن جنہوں نے جھاڑا تھا انہوں نے کہا کہ ابھی نہیں، پہلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں پوری صورت حال آپ کے سامنے بیان کر دیں پھر دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں۔ چنانچہ سب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ اس سے دم کیا جا سکتا ہے؟ تم نے اچھا کیا جاؤ ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی اپنے ساتھ ایک حصہ لگاؤ۔
5749
Sahih
(40) CHAPTER. The passing of the right hand of the one who is treating on the place of ailment.
بیمار پر دم کرتے وقت درد کی جگہ پر داہنا ہاتھ پھیرنا
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بَعْضَهُمْ يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ، فَذَكَرْتُهُ لِمَنْصُورٍ ، فَحَدَّثَنِي ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ .
Narrated `Aisha: The Prophet used to treat some of his wives by passing his right hand over the place of ailment and used to say, O Lord of the people! Remove the difficulty and bring about healing as You are the Healer. There is no healing but Your Healing, a healing that will leave no ailment.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم بن ابوالصبیح نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے گھر کے ) بعض لوگوں پر دم کرتے وقت اپنا داہنا ہاتھ پھیرتے ( اور یہ دعا پڑھتے تھے ) «أذهب الباس رب الناس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏واشف أنت الشافي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏لا شفاء إلا شفاؤك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏شفاء لا يغادر سقما» ”تکلیف کو دور کر دے اے لوگوں کے رب! اور شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء وہی ہے جو تیری طرف سے ہو ایسی شفاء کہ بیماری ذرا بھی باقی نہ رہ جائے۔“ ( سفیان نے کہا کہ ) پھر میں نے یہ منصور سے بیان کیا تو انہوں نے مجھ سے ابراہیم نخعی سے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس ہی کی طرح بیان کیا۔
5750
Sahih
(41) CHAPTER. A woman may treat a man with a Ruqya.
عورت مرد پر دم کر سکتی ہے
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْفِثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، فَلَمَّا ثَقُلَ ، كُنْتُ أَنَا أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ فَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَكَتِهَا ، فَسَأَلْتُ ابْنَ شِهَابٍ : كَيْفَ كَانَ يَنْفِثُ ؟ ، قَالَ : يَنْفِثُ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ .
Narrated `Aisha: The Prophet, during his fatal ailment used to blow (on his hands and pass them) over his body while reciting the Mu'auwidhat (Surat-an-Nas and Surat-al-Falaq). When his disease got aggravated, I used to recite them for him and blow (on his hands) and let him pass his hands over his body because of its blessing. (Ma`mar asked Ibn Shihab: How did he use to do Nafth? He said: He used to blow on his hands and then pass them over his face.)
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے پھر جب آپ کے لیے یہ دشوار ہو گیا تو میں آپ پر دم کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ ( معمر نے بیان کیا کہ ) پھر میں نے ابن شہاب سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے پھر ان کو چہرے پر پھیر لیتے۔
5751
Sahih
(42) CHAPTER. Whoever does not treat or get treated with a Ruqya.
دم جھاڑ نہ کرانے کی فضیلت
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلُ ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلَانِ ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّهْطُ ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ ، وَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ ، فَرَجَوْتُ أَنْ تَكُونَ أُمَّتِي ، فَقِيلَ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ ، ثُمَّ قِيلَ لِي : انْظُرْ ، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ ، فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا ، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ ، فَقِيلَ هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَلَمْ يُبَيَّنْ لَهُمْ ، فَتَذَاكَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : أَمَّا نَحْنُ فَوُلِدْنَا فِي الشِّرْكِ وَلَكِنَّا آمَنَّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ هُمْ أَبْنَاؤُنَا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَكْتَوُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ ، فَقَالَ : أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : أَمِنْهُمْ أَنَا ، فَقَالَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet once came out to us and said, Some nations were displayed before me. A prophet would pass in front of me with one man, and another with two men, and another with a group of people. and another with nobody with him. Then I saw a great crowd covering the horizon and I wished that they were my followers, but it was said to me, 'This is Moses and his followers.' Then it was said to me, 'Look'' I looked and saw a big gathering with a large number of people covering the horizon. It was said, Look this way and that way.' So I saw a big crowd covering the horizon. Then it was said to me, These are your followers, and among them there are 70,000 who will enter Paradise without (being asked about their) accounts. Then the people dispersed and the Prophet did not tell who those 70,000 were. So the companions of the Prophet started talking about that and some of them said, As regards us, we were born in the era of heathenism, but then we believed in Allah and His Apostle . We think however, that these (70,000) are our offspring. That talk reached the Prophet who said, These (70,000) are the people who do not draw an evil omen from (birds) and do not get treated by branding themselves and do not treat with Ruqya, but put their trust (only) in their Lord. then 'Ukasha bin Muhsin got up and said, O Allah's Apostle! Am I one of those (70,000)? The Prophet said, Yes. Then another person got up and said, Am I one of them? The Prophet said, 'Ukasha has anticipated you.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین بن نمیر نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ ( خواب میں ) مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں۔ بعض نبی گزرتے اور ان کے ساتھ ( ان کی اتباع کرنے والا ) صرف ایک ہوتا۔ بعض گزرتے اور ان کے ساتھ دو ہوتے بعض کے ساتھ پوری جماعت ہوتی اور بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ ہوتا پھر میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس سے آسمان کا کنارہ ڈھک گیا تھا میں سمجھا کہ یہ میری ہی امت ہو گی لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کے لوگ ہیں پھر مجھ سے کہا کہ دیکھو میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے آسمانوں کا کنارہ ڈھانپ لیا ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو، ادھر دیکھو، میں نے دیکھا کہ بہت سی جماعتیں ہیں جو تمام افق پر محیط تھیں۔ کہا گیا کہ یہ آپ کہ امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بے حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے پھر صحابہ مختلف جگہوں میں اٹھ کر چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں اس کے متعلق مذاکرہ کیا اور کہا کہ ہماری پیدائش تو شرک میں ہوئی تھی البتہ بعد میں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے لیکن یہ ستر ہزار ہمارے بیٹے ہوں گے جو پیدائش ہی سے مسلمان ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بدفالی نہیں کرتے، نہ منتر سے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ فرمایا کہ ہاں۔ ایک دوسرے صاحب سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گئے کہ تم سے پہلے عکاشہ کے لیے جو ہونا تھا ہو چکا۔
5752
Sahih
(43) CHAPTER. At-Tiyara (drawing an evil omen from birds, etc.)
بدشگونی لینے کا بیان
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَالشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ : فِي الْمَرْأَةِ ، وَالدَّارِ ، وَالدَّابَّةِ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, There is neither 'Adha (no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission) nor Tiyara, but an evil omen may be in three a woman, a house or an animal.
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے، کہا کہ ہم سے یونس بن یزید ایلی نے، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”امراض میں چھوت چھات کی اور بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اگر نحوست ہوتی تو یہ صرف تین چیزوں میں ہوتی عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں۔“
5753
Sahih
(43) CHAPTER. At-Tiyara (drawing an evil omen from birds, etc.)
بدشگونی لینے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ، قَالُوا : وَمَا الْفَأْلُ ، قَالَ : الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ .
Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, There is no Tiyara, and the best omen is the Fal. They asked, What is the Fal? He said, A good word that one of you hears (and takes as a good omen).
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدشگونی کی کوئی اصل نہیں البتہ نیک فال لینا کچھ برا نہیں ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نیک فال کیا چیز ہے؟ فرمایا ”کوئی ایسی بات سننا۔“
5754
Sahih
(44) CHAPTER. Al-Fal (good omen).
نیکفال لینا کچھ برا نہیں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ، قَالَ : وَمَا الْفَأْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, There is no Tiyara and the best omen is the Fal, Somebody said, What is the Fal, O Allah's Apostle? He said, A good word that one of you hears (and takes as a good omen).
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اس میں بہتر فال نیک ہے۔“ لوگوں نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا ”کلمہ صالحہ ( نیک بات ) جو تم میں سے کوئی سنے۔“
5755
Sahih
(44) CHAPTER. Al-Fal (good omen).
نیکفال لینا کچھ برا نہیں ہے
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ .
Narrated Anas: The Prophet said, No 'Adha (no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission), nor Tiyara, but I like the good Fal, i.e., the good word.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوت لگ جانے کی کوئی اصل نہیں اور نہ بدشگونی کی کوئی اصل ہے اور مجھے اچھی فال پسند ہے۔“ یعنی کوئی کلمہ خیر اور نیک بات جو کسی کے منہ سے سنی جائے ( جیسا کہ اوپر بیان ہوا ) ۔
5756
Sahih
(45) CHAPTER. No Hama.
الو کو منحوس سمجھنا لغو ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, There is no 'Adha, nor Tiyara, nor Hama, nor Safar.
ہم سے محمد بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابوحصین (عثمان بن عاصم اسدی) نے خبر دی، انہیں ابوصالح ذکوان نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوت لگ جانا بدشگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے۔“
5757
Sahih

Chapters

55
01
(1) CHAPTER. There is no disease that Allah has sent down except that He also has sent down its treatment.
اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. May a man treat a woman or a woman treat a man?
کیا مرد کبھی عورت کا یا کبھی عورت مرد کا علاج کر سکتی ہے
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. There is cure in three things.
( اللہ نے ) شفاء تین چیزوں میں ( رکھی ) ہے
2 Hadith
04
(4) CHAPTER. Treatment with honey, And the Statement of Allah: Wherein is healing for men. (V.16:69)
شہد کے ذریعہ علاج کرنا اورفضائل شہد میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اس میں ( ہر مرض سے ) لوگوں کے لیے شفاء ہے ۔
3 Hadith
05
(5) CHAPTER. To treat with the milk of camels.
اونٹ کے دودھ سے علاج کرنے کا بیان
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. To treat with the urine of camels.
اونٹ کے پیشاب سے علاج جائز ہے
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. (To treat with ) black cumin (Nigella seeds).
کلونجی کا بیان
2 Hadith
08
(8) CHAPTER. At-Talbina (a kind of porridge prepared from milk, honey and white flour, etc.) for the patient.
مریض کے لیے حریرہ پکانا
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. Saut
ناک میں دوا ڈالنا درست ہے
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. To sniff the Indian and sea Qust (kind of incense).
قسطہندی اور قسط بحری یعنی کوٹ جو سمندر سے نکلتا ہے اس کا نام لینا
2 Hadith
11
(11) CHAPTER. What time one should be cupped.
کس وقت پچھنا لگوایا جائے ، حضرت ابوموسیٰ رضیاللہعنہ نے رات کے وقت پچھنا لگوایا تھا
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. To be cupped while on a journey or while in a state of Ihram.
سفر میں پچھنا لگوانا اور حالت احرام میں بھی ، اسے ابنبحینہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. To be cupped (as a treatment) for a disease.
بیماری کی وجہ سے پچھنا لگوانا جا ئز ہے
1 Hadith
14
(13) CHAPTER. To be cupped (as a treatment) for a disease.
سر میں پچھنا لگوانا درست ہے
3 Hadith
15
(15) CHAPTER. To perform the operation of cupping to treating unilateral or bilateral headache.
آدھے سر کے درد یاپورے سر کے درد میں پچھنا لگواناجائز ہے
3 Hadith
16
(16) CHAPTER. To get one's head shaved because of some ailment.
( محرم کا ) تکلیف کی وجہ سے سر منڈانا ( مثلاً پچھنا لگوانے میں بالوں سے تکلیف ہو )
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. Whatever gets himself branded (cauterized) or branded (cauterized) someone else, and the superiority of one who does not get branded (cauterized).
داغ لگوانا یا لگانا اور جو شخص داغ نہ لگوائے اس کی فضیلت کابیان
2 Hadith
18
(18) CHAPTER. To treat opthalmia (inflammation or soreness of the eyes) with antimony or kohl.
اثمد اور سرمہ لگانا جب آنکھیں دکھتی ہوں اس باب میں امعطیہ رضیاللہعنہا سے ایک حدیث بھی مروی ہے
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. Leprosy.
جذام کا بیان
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. Al-Mann heals eye diseases.
من ( کھنبی ) آنکھ کے لیے شفاء ہے
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. Al-Ladud (the medicine which is poured or inserted into one side of a patient's mouth)
مریض کے حلق میں دوا ڈالنا
6 Hadith
22
(23) CHAPTER. Al-Udhra (throat or tonsil diseases).
عذرہ یعنی حلق کے کوا کے گر جانے کاعلاج جسے عربی میں سقوط اللھاۃ کہتے ہیں ۔
1 Hadith
23
(24) CHAPTER. The treatment for a person suffering from diarrhea.
پیٹ کے عارضہ میں کیا دوا دی جائے ؟
1 Hadith
24
(25) CHAPTER. There is no Safar (i.e., it is not a contagious disease). Safar is a disease that afflicts the abdomen.
صفرصرف پیٹ کی ایک بیماری ہے ۔
1 Hadith
25
(26) CHAPTER. Pleurisy.
ذات الجنب ( نمونیہ ) کا بیان
4 Hadith
26
(27) CHAPTER. To burn a mat made of palm-tree leaves (and put its ashes into a wound) to stop bleeding.
زخموں کا خون روکنے کے لیے بو ریا جلا کر زخم پر لگانا
1 Hadith
27
(28) CHAPTER. Fever is from the heat of Hell.
بخار دوزخ کی بھاپ سے ہے
4 Hadith
28
(29) CHAPTER. Whoever went out of a land because of its climate and water did not suit him.
جہاں کی آب و ہوا ناموافق ہو وہاں سے نکل کر دوسرے مقام پر جانا درست ہے
1 Hadith
29
(30) CHAPTER. What has been mentioned about the plague.
طاعون کا بیان
6 Hadith
30
(31) CHAPTER. The reward of a person who suffers from plague (or lives in a plague-striken land) and remains patient.
جو شخص طاعون میں صبر کر کے وہیں رہے گو اس کو طاعون نہ ہو ، اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
31
(32) CHAPTER. Ar-Ruqa with the Quran and the Muawwidhat (the last two Surah of Quran).
قرآنمجید اورمعوذات پڑھ کر مریض پر دم کرنا
1 Hadith
32
(33) CHAPTER. To do Ruqya by reciting Surat Al-Fatiha (the Opening of Book).
سورۃ الفاتحہ سے دم کرنا
1 Hadith
33
(34) CHAPTER. The conditions required for doing a Ruqya with Surat Al-Fatiha.
سورۃ الفاتحہ سے دم جھاڑ کرنے میں ( بکریاں لینے کی ) شرط لگانا
1 Hadith
34
(35) CHAPTER. Ruqya for an evil eye.
نظربد لگ جانے کی صورت میں دم کرنا
2 Hadith
35
(36) CHAPTER. The effect of an evil eye is a fact.
نظربد کا لگناحق ہے
1 Hadith
36
(37) CHAPTER. To treat a snakebite or a scorpion sting with a Ruqya.
سانپ اور بچھو کے کاٹے پر دم کرنا جائز ہے
1 Hadith
37
(38) CHAPTER. The Ruqya of the Prophet (i.e., what he used to recite while doing a Ruqya).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بیماری سے شفاء کے لیے ) دم
8 Hadith
38
(40) CHAPTER. The passing of the right hand of the one who is treating on the place of ailment.
بیمار پر دم کرتے وقت درد کی جگہ پر داہنا ہاتھ پھیرنا
1 Hadith
39
(41) CHAPTER. A woman may treat a man with a Ruqya.
عورت مرد پر دم کر سکتی ہے
1 Hadith
40
(42) CHAPTER. Whoever does not treat or get treated with a Ruqya.
دم جھاڑ نہ کرانے کی فضیلت
1 Hadith
41
(43) CHAPTER. At-Tiyara (drawing an evil omen from birds, etc.)
بدشگونی لینے کا بیان
2 Hadith
42
(44) CHAPTER. Al-Fal (good omen).
نیکفال لینا کچھ برا نہیں ہے
2 Hadith
43
(45) CHAPTER. No Hama.
الو کو منحوس سمجھنا لغو ہے
1 Hadith
44
(46) CHAPTER. (What is said about) Foretellers.
کہا نت کا بیان
5 Hadith
45
(47) CHAPTER. Magic.
جادو کا بیان
1 Hadith
46
(48) CHAPTER. Shirk (i.e., joining others in worship with Allah) and witchcraft are from the Mubiqat (great destructive sins).
شرک اورجادو ان گناہوں میں سے ہیں جو آدمی کو تباہ کر دیتے ہیں
1 Hadith
47
(49) CHAPTER. Should a bewitched person be treated?
جادو کے بیان میں
2 Hadith
48
(51) CHAPTER. Some eloquent speech is as effective as magic.
اس بیان میں کہ بعض تقریریں بھی جادو بھری ہوتی ہیں
1 Hadith
49
(52) CHAPTER. The use of Ajwa dates as medicine for magic.
عجوہ کھجور جادو کیلئے دوا ہے
2 Hadith
50
(53) CHAPTER. No Hama.
الو کا منحوس ہونا محض غلط ہے
2 Hadith
51
(54) CHAPTER. No Adwa (no contagious disease is conveyed without Allah's Permission).
امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے
5 Hadith
52
(55) CHAPTER. What has been said regarding the poison given to the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیئے جانے سے متعلق بیان
1 Hadith
53
(56) CHAPTER. The taking of poison and treating with it,or with what may be dangerous, or with an impure or polluted thing (medicine, etc.).
زہر پینا یا زہریلی اور خوفناک دوا یا ناپاک دوا کا استعمال کرنا
2 Hadith
54
(57) CHAPTER. The milk of she-asses.
گدھی کا دودھ پینا کیسا ہے ؟
2 Hadith
55
(58) CHAPTER. If a housefly falls in a utensil.
جب مکھی برتن میں پڑ جائے ( جس میں کھانا یا پانی ہو )
1 Hadith
No chapter matched that.