TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of medicine. - کتاب دوا اور علاج کے بیان میں - Book 77 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 77 of Sahih Bukhari, with 55 chapters and 105 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

105 Hadith · 55 Chapters
(46) CHAPTER. (What is said about) Foretellers.
کہا نت کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ ، اقْتَتَلَتَا فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهِيَ حَامِلٌ ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ : كَيْفَ أَغْرَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا شَرِبَ ، وَلَا أَكَلَ ، وَلَا نَطَقَ ، وَلَا اسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle gave his verdict about two ladies of the Hudhail tribe who had fought each other and one of them had hit the other with a stone. The stone hit her `Abdomen and as she was pregnant, the blow killed the child in her womb. They both filed their case with the Prophet and he judged that the blood money for what was in her womb. was a slave or a female slave. The guardian of the lady who was fined said, O Allah's Apostle! Shall I be fined for a creature that has neither drunk nor eaten, neither spoke nor cried? A case like that should be nullified. On that the Prophet said, This is one of the brothers of soothsayers.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں کے بارے میں جنہوں نے جھگڑا کیا تھا یہاں تک کہ ان میں سے ایک عورت ( ام عطیف بنت مروح ) نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا ( جس کا نام ملیکہ بنت عویمر تھا ) وہ پتھر عورت کے پیٹ میں جا کر لگا۔ یہ عورت حاملہ تھی اس لیے اس کے پیٹ کا بچہ ( پتھر کی چوٹ سے ) مر گیا۔ یہ معاملہ دونوں فریق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا باندی آزاد کرنا ہے جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے ولی ( حمل بن مالک بن نابغہ ) نے کہا یا رسول اللہ! میں ایسی چیز کی دیت کیسے دے دوں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت اس کی آواز ہی سنائی دی؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت نہیں ہو سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔
5758
Sahih
(46) CHAPTER. (What is said about) Foretellers.
کہا نت کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ امْرَأَتَيْنِ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا ، فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ .
Narrated Abu Huraira: Two ladies (had a fight) and one of them hit the other with a stone on the `Abdomen and caused her to abort. The Prophet judged that the victim be given either a slave or a female slave (as blood-money).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ دو عورتیں تھیں، ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا جس سے اس کے پیٹ کا حمل گر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں ایک غلام یا باندی کا دیت میں دیئے جانے کا فیصلہ کیا۔
5759
Sahih
(46) CHAPTER. (What is said about) Foretellers.
کہا نت کا بیان
وَعَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ ، يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ ، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ : كَيْفَ أَغْرَمُ مَا لَا أَكَلَ ، وَلَا شَرِبَ ، وَلَا نَطَقَ ، وَلَا اسْتَهَلَّ ، وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ .
Narrated Ibn Shihab: Sa`id bin Al-Musayyab said, Allah's Apostle judged that in case of child killed in the womb of its mother, the offender should give the mother a slave or a female slave in recompense The offender said, How can I be fined for killing one who neither ate nor drank, neither spoke nor cried: a case like that should be denied ' On that Allah's Apostle said 'He is one of the brothers of the foretellers.
اور ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین جسے اس کی ماں کے پیٹ میں مار ڈالا گیا ہو، کی دیت کے طور پر ایک غلام یا ایک باندی دیئے جانے کا فیصلہ کیا تھا جسے دیت دینی تھی اس نے کہا کہ ایسے بچہ کی دیت آخر کیوں دوں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت ہی آواز نکالی؟ ایسی صورت میں تو دیت نہیں ہو سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔
5760
Sahih
(46) CHAPTER. (What is said about) Foretellers.
کہا نت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ .
Narrated Abu Mas`ud: The Prophet forbade the utilization of the price of a dog, the earnings of prostitute and the earnings of a foreteller.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زنا کی اجرت اور کاہن کی کہانت کی وجہ سے ملنے والے ہدیہ سے منع فرمایا ہے۔
5761
Sahih
(46) CHAPTER. (What is said about) Foretellers.
کہا نت کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ عَنِ الْكُهَّانِ ، فَقَالَ : لَيْسَ بِشَيْءٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَا أَحْيَانًا بِشَيْءٍ فَيَكُونُ حَقًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ ، يَخْطَفُهَا مِنَ الْجِنِّيِّ فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ ، وَلِيِّهِ فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ ، قَالَ عَلِيٌّ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : مُرْسَلٌ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ ، ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَسْنَدَهُ بَعْدَهُ .
Narrated `Aisha: Some people asked Allah's Apostle about the fore-tellers He said. ' They are nothing They said, 'O Allah's Apostle! Sometimes they tell us of a thing which turns out to be true. Allah's Apostle said, A Jinn snatches that true word and pours it Into the ear of his friend (the fore-teller) (as one puts something into a bottle) The foreteller then mixes with that word one hundred lies.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں یحییٰ بن عروہ بن زبیر نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! بعض اوقات وہ ہمیں ایسی چیزیں بھی بتاتے ہیں جو صحیح ہو جاتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کلمہ حق ہوتا ہے۔ اسے کاہن کسی جننی سے سن لیتا ہے وہ جننی اپنے دوست کاہن کے کان میں ڈال جاتا ہے اور پھر یہ کاہن اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں۔ علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ عبدالرزاق اس کلمہ «تلك الكلمة من الحق» کو مرسلاً روایت کرتے تھے پھر انہوں نے کہا مجھ کو یہ خبر پہنچی کہ عبدالرزاق اس کے بعد اس کو مسنداً عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
5762
Sahih
(47) CHAPTER. Magic.
جادو کا بیان
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ ، يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ ، حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ كَانَ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا فَعَلَهُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ عِنْدِي لَكِنَّهُ دَعَا وَدَعَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ : أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ ، فَقَالَ : مَطْبُوبٌ ، قَالَ : مَنْ طَبَّهُ ؟ ، قَالَ : لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ ، قَالَ : فِي أَيِّ شَيْءٍ ؟ ، قَالَ : فِي مُشْطٍ ، وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعِ نَخْلَةٍ ذَكَرٍ ، قَالَ : وَأَيْنَ هُوَ ؟ ، قَالَ : فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ ، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَجَاءَ ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ أَوْ كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا اسْتَخْرَجْتَهُ ، قَالَ : قَدْ عَافَانِي اللَّهُ فَكَرِهْتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ فِيهِ شَرًّا ، فَأَمَرَ بِهَا ، فَدُفِنَتْ ، تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ ، وَأَبُو ضَمْرَةَ ، وَابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، وَقَالَ اللَّيْثُ , وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ ، يُقَالُ الْمُشَاطَةُ : مَا يَخْرُجُ مِنَ الشَّعَرِ إِذَا مُشِطَ ، وَالْمُشَاقَةُ مِنْ مُشَاقَةِ الْكَتَّانِ .
Narrated `Aisha: A man called Labid bin al-A'sam from the tribe of Bani Zaraiq worked magic on Allah's Apostle till Allah's Apostle started imagining that he had done a thing that he had not really done. One day or one night he was with us, he invoked Allah and invoked for a long period, and then said, O `Aisha! Do you know that Allah has instructed me concerning the matter I have asked him about? Two men came to me and one of them sat near my head and the other near my feet. One of them said to his companion, What is the disease of this man? The other replied, He is under the effect of magic.' The first one asked, 'Who has worked the magic on him?' The other replied, Labid bin Al-A'sam.' The first one asked, 'What material did he use?' The other replied, 'A comb and the hairs stuck to it and the skin of pollen of a male date palm.' The first one asked, 'Where is that?' The other replied, '(That is) in the well of Dharwan;' So Allah's Apostle along with some of his companions went there and came back saying, O `Aisha, the color of its water is like the infusion of Henna leaves. The tops of the date-palm trees near it are like the heads of the devils. I asked. O Allah's Apostle? Why did you not show it (to the people)? He said, Since Allah cured me, I disliked to let evil spread among the people. Then he ordered that the well be filled up with earth.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ اشعری نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بنی زریق کے ایک شخص یہودی لبید بن اعصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔ ایک دن یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف رکھتے تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ سے جو بات میں پوچھ رہا تھا، اس نے اس کا جواب مجھے دے دیا۔ میرے پاس دو ( فرشتے جبرائیل و میکائیل علیہما السلام ) آئے۔ ایک میرے سر کی طرف کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔ ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔ پوچھا کس چیز میں؟ جواب دیا کہ کنگھے اور سر کے بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھے ہوئے ہیں۔ سوال کیا اور یہ جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ زروان کے کنویں میں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو فرمایا عائشہ! اس کا پانی ایسا ( سرخ ) تھا جیسے مہندی کا نچوڑ ہوتا ہے اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر ( اوپر کا حصہ ) شیطان کے سروں کی طرح تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت دے دی اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب میں خواہ مخواہ لوگوں میں اس برائی کو پھیلاؤں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جادو کا سامان کنگھی بال خرما کا غلاف ہوتے ہیں اسی میں دفن کرا دیا۔ عیسیٰ بن یونس کے ساتھ اس حدیث کو ابواسامہ اور ابوضمرہ ( انس بن عیاض ) اور ابن ابی الزناد تینوں نے ہشام سے یوں روایت کیا اور لیث بن مسور اور سفیان بن عیینہ نے ہشام سے یوں روایت کیا ہے «في مشط ومشاقة‏.‏، المشاطة» اسے کہتے ہیں جو بال کنگھی کرنے میں نکلیں سر یا داڑھی کے اور «مشاقة‏.‏» روئی کے تار یعنی سوت کے تار کو کہتے ہیں۔
5763
Sahih
(48) CHAPTER. Shirk (i.e., joining others in worship with Allah) and witchcraft are from the Mubiqat (great destructive sins).
شرک اورجادو ان گناہوں میں سے ہیں جو آدمی کو تباہ کر دیتے ہیں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اجْتَنِبُوا الْمُوبِقَاتِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Avoid the Mubiqat, i.e., shirk and witchcraft.
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تباہ کر دینے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچو اور جادو کرنے کرانے سے بھی بچو۔“
5764
Sahih
(49) CHAPTER. Should a bewitched person be treated?
جادو کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ ، يَقُولُ : أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ جُرَيْجٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي آلُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، فَسَأَلْتُ هِشَامًا عَنْهُ ، فَحَدَّثَنَا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ حَتَّى كَانَ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلَا يَأْتِيهِنَّ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَهَذَا أَشَدُّ مَا يَكُونُ مِنَ السِّحْرِ ، إِذَا كَانَ كَذَا ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ أَعَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلْآخَرِ ، مَا بَالُ الرَّجُلِ ؟ ، قَالَ : مَطْبُوبٌ ، قَالَ : وَمَنْ طَبَّهُ ؟ ، قَالَ : لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ كَانَ مُنَافِقًا ، قَالَ : وَفِيمَ ؟ قَالَ : فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ ، قَالَ : وَأَيْنَ ؟ قَالَ : فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ تَحْتَ رَاعُوفَةٍ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ ، قَالَتْ : فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِئْرَ حَتَّى اسْتَخْرَجَهُ ، فَقَالَ : هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا ، وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ ، وَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ، قَالَ : فَاسْتُخْرِجَ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ أَفَلَا أَيْ تَنَشَّرْتَ ، فَقَالَ : أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ شَفَانِي ، وَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ شَرًّا .
Narrated Aisha: Magic was worked on Allah's Apostle so that he used to think that he had sexual relations with his wives while he actually had not (Sufyan said: That is the hardest kind of magic as it has such an effect). Then one day he said, O `Aisha do you know that Allah has instructed me concerning the matter I asked Him about? Two men came to me and one of them sat near my head and the other sat near my feet. The one near my head asked the other. What is wrong with this man?' The latter replied the is under the effect of magic The first one asked, Who has worked magic on him?' The other replied Labid bin Al-A'sam, a man from Bani Zuraiq who was an ally of the Jews and was a hypocrite.' The first one asked, What material did he use)?' The other replied, 'A comb and the hair stuck to it.' The first one asked, 'Where (is that)?' The other replied. 'In a skin of pollen of a male date palm tree kept under a stone in the well of Dharwan' '' So the Prophet went to that well and took out those things and said That was the well which was shown to me (in a dream) Its water looked like the infusion of Henna leaves and its date-palm trees looked like the heads of devils. The Prophet added, Then that thing was taken out' I said (to the Prophet ) Why do you not treat yourself with Nashra? He said, Allah has cured me; I dislike to let evil spread among my people.
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا، کہا کہ سب سے پہلے یہ حدیث ہم سے ابن جریج نے بیان کی، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھ سے یہ حدیث آل عروہ نے عروہ سے بیان کی، اس لیے میں نے ( عروہ کے بیٹے ) ہشام سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ہم سے اپنے والد ( عروہ ) سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا اور اس کا آپ پر یہ اثر ہوا تھا آپ کو خیال ہوتا کہ آپ نے ازواج مطہرات میں سے کسی کے ساتھ ہمبستری کی ہے حالانکہ آپ نے کی نہیں ہوتی۔ سفیان ثوری نے بیان کیا کہ جادو کی یہ سب سے سخت قسم ہے جب اس کا یہ اثر ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ سے جو بات میں نے پوچھی تھی اس کا جواب اس نے کب کا دے دیا ہے۔ میرے پاس دو فرشتے آئے ایک میرے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔ جو فرشتہ میرے سر کی طرف کھڑا تھا اس نے دوسرے سے کہا ان صاحب کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے۔ پوچھا کہ کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے یہ یہودیوں کے حلیف بنی زریق کا ایک شخص تھا اور منافق تھا۔ سوال کیا کہ کس چیز میں ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ کنگھے اور بال میں۔ پوچھا جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشے میں جو زروان کے کنویں کے اندر رکھے ہوئے پتھر کے نیچے دفن ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لے گئے اور جادو اندر سے نکالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا رنگین تھا اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر شیطانوں کے سروں جیسے تھے۔ بیان کیا کہ پھر وہ جادو کنویں میں سے نکالا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا آپ نے اس جادو کا توڑ کیوں نہیں کرایا۔ فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی اب میں لوگوں میں ایک شور ہونا پسند نہیں کرتا۔
5765
Sahih
(49) CHAPTER. Should a bewitched person be treated?
جادو کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا فَعَلَهُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عِنْدِي ، دَعَا اللَّهَ وَدَعَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشَعَرْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ ، قُلْتُ : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : جَاءَنِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ ، مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ ، قَالَ : مَطْبُوبٌ ، قَالَ : وَمَنْ طَبَّهُ ؟ ، قَالَ : لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ الْيَهُودِيُّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ ، قَالَ : فِيمَا ذَا ؟ قَالَ : فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ ، قَالَ : فَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ ، قَالَ : فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى الْبِئْرِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَأَخْرَجْتَهُ ؟ قَالَ : لَا ، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ ، وَشَفَانِي ، وَخَشِيتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا ، وَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ .
Narrated `Aisha: Magic was worked on Allah's Apostle so that he began to imagine that he had done something although he had not. One day while he was with me, he invoked Allah and invoked for a long period and then said, O `Aisha! Do you know that Allah has instructed me regarding the matter I asked Him about? I asked, What is that, O Allah's Apostle? He said, Two men came to me; one of them sat near my head and the other sat near my feet. One of them asked his companion, 'What is the disease of this man?' The other replied, 'He is under the effect of magic.' The first one asked, 'Who has worked magic on him? The other replied, 'Labid bin A'sam, a Jew from the tribe of Bani Zuraiq.' The (first one asked), 'With what has it been done?' The other replied, 'With a a comb and the hair stuck to it and a skin of the pollen of a male datepalm tree.' The first one asked, 'Where is it?' The other replied, 'In the well of Dharwan.' Then the Prophet went along with some of his companions to that well and looked at that and there were date palms near to it. Then he returned to me and said, 'By Allah the water of that well was (red) like the infusion of Henna leaves and its date-palms were like the heads of devils I said, O Allah's Apostle! Did you take those materials out of the pollen skin? He said, 'No! As for me Allah has healed me and cured me and I was afraid that (by Showing that to the people) I would spread evil among them when he ordered that the well be filled up with earth, and it was filled up with earth
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا اور اس کا اثر یہ تھا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ کوئی چیز کر چکے ہیں حالانکہ وہ چیز نہ کی ہوتی ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف رکھتے تھے اور مسلسل دعائیں کر رہے تھے، پھر فرمایا: عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ سے جو بات میں نے پوچھی تھی اس کا جواب اس نے مجھے دے دیا ہے۔ میں نے عرض کی وہ کیا بات ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس دو فرشتے ( جبرائیل و میکائیل علیہما السلام ) آئے اور ایک میرے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا پاؤں کی طرف پھر ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا ان صاحب کی تکلیف کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے۔ پوچھا کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ فرمایا بنی زریق کے لبید بن اعصم یہودی نے، پوچھا کس چیز میں؟ جواب دیا کہ کنگھے اور بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھا ہوا ہے۔ پوچھا اور وہ جادو رکھا کہاں ہے؟ جواب دیا کہ ذروان کے کنویں میں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اسے دیکھا وہاں کھجور کے درخت بھی تھے پھر آپ واپس عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور فرمایا صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم! اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا ( سرخ ) ہے اور اس کے کھجور کے درخت شیاطین کے سروں جیسے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کنگھی بال وغیرہ غلاف سے نکلوائے یا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، سن لو اللہ نے تو مجھ کو شفاء دے دی، تندرست کر دیا اب میں ڈرا کہیں لوگوں میں ایک شور نہ پھیلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سامان کے گاڑ دینے کا حکم دیا وہ گاڑ دیا گیا۔
5766
Sahih
(51) CHAPTER. Some eloquent speech is as effective as magic.
اس بیان میں کہ بعض تقریریں بھی جادو بھری ہوتی ہیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا ، أَوْ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Two men came from the East and addressed the people who wondered at their eloquent speeches On that Allah's Apostle said. Some eloquent speech is as effective as magic.'
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ دو آدمی پورب کی طرف ( ملک عراق ) سے ( سنہ 9 ھ میں ) مدینہ آئے اور لوگوں کو خطاب کیا لوگ ان کی تقریر سے بہت متاثر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض تقریریں بھی جادو بھری ہوتی ہیں یا یہ فرمایا کہ بعض تقریر جادو ہوتی ہیں۔
5767
Sahih
(52) CHAPTER. The use of Ajwa dates as medicine for magic.
عجوہ کھجور جادو کیلئے دوا ہے
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، أَخْبَرَنَا هَاشِمٌ ، أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اصْطَبَحَ كُلَّ يَوْمٍ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ وَقَالَ غَيْرُهُ : سَبْعَ تَمَرَاتٍ .
Narrated Saud: The Prophet said, If somebody takes some 'Ajwa dates every morning, he will not be effected by poison or magic on that day till night. (Another narrator said seven dates).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ فزاری نے بیان کیا، کہا ہم کو ہاشم بن ہاشم بن عقبہ نے خبر دی، کہا ہم کو عامر بن سعد نے خبر دی اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص روزانہ چند عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے اسے اس دن رات تک زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ علی بن عبداللہ مدینی کے سوا دوسرے راوی نے بیان کیا کہ سات کھجوریں کھا لیا کرے۔
5768
Sahih
(52) CHAPTER. The use of Ajwa dates as medicine for magic.
عجوہ کھجور جادو کیلئے دوا ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ ، سَمِعْتُ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ تَصَبَّحَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ .
Narrated Saud: I heard Allah's Apostle saying, If Somebody takes seven 'Ajwa dates in the morning, neither magic nor poison will hurt him that day.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابواسامہ حماد بن اسامہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا کہ میں نے عامر بن سعد سے سنا، انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیں اس دن اسے نہ زہر نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ جادو۔
5769
Sahih
(53) CHAPTER. No Hama.
الو کا منحوس ہونا محض غلط ہے
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَةَ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ ، فَيُجْرِبُهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, 'No 'Adha (i.e. no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission); nor (any evil omen m the month of) Safar; nor Hama A bedouin said, O Allah's Apostle! What about the camels which, when on the sand (desert) look like deers, but when a mangy camel mixes with them they all get infected with mange? On that Allah s Apostle said, Then who conveyed the (mange) disease to the first (mangy) camel?
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانا، صفر کی نحوست اور الو کی نحوست کوئی چیز نہیں۔ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! پھر اس اونٹ کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمکدار ہوتا ہے لیکن خارش والا اونٹ اسے مل جاتا ہے اور اسے بھی خارش لگا دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟
5770
Sahih
(53) CHAPTER. No Hama.
الو کا منحوس ہونا محض غلط ہے
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ : سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ بَعْدُ يَقُولُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ ، وَأَنْكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَدِيثَ الْأَوَّلِ ، قُلْنَا أَلَمْ تُحَدِّثْ أَنَّهُ لَا عَدْوَى فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : فَمَا رَأَيْتُهُ نَسِيَ حَدِيثًا غَيْرَهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said: The cattle (sheep, cows, camels, etc.) suffering from a disease should not be mixed up with healthy cattle, (or said: Do not put a patient with a healthy person ). (as a precaution).
اور ابوسلمہ سے روایت ہے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بیمار اونٹوں کو کسی کے صحت مند اونٹوں میں نہ لے جائے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پہلی حدیث کا انکار کیا۔ ہم نے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ) عرض کیا کہ آپ ہی نے ہم سے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ چھوت یہ نہیں ہوتا پھر وہ ( غصہ میں ) حبشی زبان بولنے لگے۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ اس حدیث کے سوا میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اور کوئی حدیث بھولتے نہیں دیکھا۔
5771
Sahih
(54) CHAPTER. No Adwa (no contagious disease is conveyed without Allah's Permission).
امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَمْزَةُ ، أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، إِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ : فِي الْفَرَسِ ، وَالْمَرْأَةِ ، وَالدَّارِ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, there is neither 'Adha nor Tiyara, and an evil omen is only in three: a horse, a woman and a house. (See the foot-note of Hadith No. 649)
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ اور حمزہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، بدشگونی کی کوئی اصل نہیں۔ ( اگر ممکن ہوتی تو ) نحوست تین چیزوں میں ہوتی، گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔
5772
Sahih
(54) CHAPTER. No Adwa (no contagious disease is conveyed without Allah's Permission).
امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا عَدْوَى .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, No 'Adha.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت کی کوئی حقیقت نہیں۔
5773
Sahih
(54) CHAPTER. No Adwa (no contagious disease is conveyed without Allah's Permission).
امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے
قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تُورِدُوا الْمُمْرِضَ عَلَى الْمُصِحِّ .
Abu Huraira also said: The Prophet said, The cattle suffering from a disease should not be mixed up with healthy cattle (or said Do not put a patient with a healthy person as a precaution. )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مریض اونٹوں والا اپنے اونٹ تندرست اونٹوں والے کے اونٹ میں نہ چھوڑے۔
5774
Sahih
(54) CHAPTER. No Adwa (no contagious disease is conveyed without Allah's Permission).
امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے
وَعَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا عَدْوَى ، فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : أَرَأَيْتَ الْإِبِلَ تَكُونُ فِي الرِّمَالِ أَمْثَالَ الظِّبَاءِ ، فَيَأْتِيهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَتَجْرَبُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ .
Abu Huraira also said: Allah's Apostle said, No 'Adha. A bedouin got up and said, Don't you see how camels on the sand look like deer but when a mangy camel mixes with them, they all get infected with mange? On that the Prophet said, Then who conveyed the (mange) disease to the first camel?
اور زہری سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے سنان بن ابی سنان الدؤلی نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت کوئی چیز نہیں ہے۔ اس پر ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر پوچھا آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک اونٹ ریگستان میں ہرن جیسا صاف رہتا ہے لیکن جب وہی ایک خارش والے اونٹ کے پاس آ جاتا ہے تو اسے بھی خارش ہو جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی۔
5775
Sahih
(54) CHAPTER. No Adwa (no contagious disease is conveyed without Allah's Permission).
امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ ، قَالُوا : وَمَا الْفَأْلُ ، قَالَ : كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, No 'Adha nor Tiyara; but I like Fal. They said, What is the Fal? He said, A good word.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا کوئی چیز نہیں ہے اور بدشگونی نہیں ہے البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔ صحابی نے عرض کیا نیک فال کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھی بات منہ سے نکالنا یا کسی سے سن لینا۔
5776
Sahih
(55) CHAPTER. What has been said regarding the poison given to the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیئے جانے سے متعلق بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سَمٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ الْيَهُودِ فَجُمِعُوا لَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ ، فَقَالُوا : نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَبُوكُمْ ؟ ، قَالُوا : أَبُونَا فُلَانٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبْتُمْ ، بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ ، فَقَالُوا : صَدَقْتَ وَبَرِرْتَ ، فَقَالَ : هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا ، قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَهْلُ النَّارِ ؟ ، فَقَالُوا : نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَنَا فِيهَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اخْسَئُوا فِيهَا ، وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سَمًّا ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ ؟ فَقَالُوا : أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَذَّابًا نَسْتَرِيحُ مِنْكَ ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ .
Narrated Abu Huraira: When Khaibar was conquered, Allah's Apostle was presented with a poisoned (roasted) sheep. Allah's Apostle said, Collect for me all the Jews present in this area. (When they were gathered) Allah's Apostle said to them, I am going to ask you about something; will you tell me the truth? They replied, Yes, O Abal-Qasim! Allah's Apostle said to them, Who is your father? They said, Our father is so-and-so. Allah's Apostle said, You have told a lie. for your father is so-and-so, They said, No doubt, you have said the truth and done the correct thing. He again said to them, If I ask you about something; will you tell me the truth? They replied, Yes, O Abal-Qasim! And if we should tell a lie you will know it as you have known it regarding our father, Allah's Apostle then asked, Who are the people of the (Hell) Fire? They replied, We will remain in the (Hell) Fire for a while and then you (Muslims) will replace us in it Allah's Apostle said to them. ''You will abide in it with ignominy. By Allah, we shall never replace you in it at all. Then he asked them again, If I ask you something, will you tell me the truth? They replied, Yes. He asked. Have you put the poison in this roasted sheep? They replied, Yes, He asked, What made you do that? They replied, We intended to learn if you were a liar in which case we would be relieved from you, and if you were a prophet then it would not harm you.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری ہدیہ میں پیش کی گئی ( ایک یہودی عورت زینب بنت حرث نے پیش کی تھی ) جس میں زہر بھرا ہوا تھا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں پر جتنے یہودی ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو۔ چنانچہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھوں گا کیا تم مجھے صحیح صحیح بات بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا پردادا کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ فلاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جھوٹ کہتے ہو تمہارا پردادا تو فلاں ہے۔ اس پر وہ بولے کہ آپ نے سچ فرمایا، درست فرمایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں گا تو تم مجھے سچ سچ بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم! اور اگر ہم جھوٹ بولیں بھی تو آپ ہمارا جھوٹ پکڑ لیں گے جیسا کہ ابھی ہمارے پردادا کے متعلق آپ نے ہمارا جھوٹ پکڑ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ والے کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کچھ دن کے لیے تو ہم اس میں رہیں گے پھر آپ لوگ ہماری جگہ لے لیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے، واللہ! ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی نہیں لیں گے۔ آپ نے پھر ان سے دریافت فرمایا کیا اگر میں تم سے ایک بات پوچھوں تو تم مجھے اس کے متعلق صحیح صحیح بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں اس کام پر کس جذبہ نے آمادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں گے تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر سچے ہوں گے تو آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
5777
Sahih

Chapters

55
01
(1) CHAPTER. There is no disease that Allah has sent down except that He also has sent down its treatment.
اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. May a man treat a woman or a woman treat a man?
کیا مرد کبھی عورت کا یا کبھی عورت مرد کا علاج کر سکتی ہے
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. There is cure in three things.
( اللہ نے ) شفاء تین چیزوں میں ( رکھی ) ہے
2 Hadith
04
(4) CHAPTER. Treatment with honey, And the Statement of Allah: Wherein is healing for men. (V.16:69)
شہد کے ذریعہ علاج کرنا اورفضائل شہد میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اس میں ( ہر مرض سے ) لوگوں کے لیے شفاء ہے ۔
3 Hadith
05
(5) CHAPTER. To treat with the milk of camels.
اونٹ کے دودھ سے علاج کرنے کا بیان
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. To treat with the urine of camels.
اونٹ کے پیشاب سے علاج جائز ہے
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. (To treat with ) black cumin (Nigella seeds).
کلونجی کا بیان
2 Hadith
08
(8) CHAPTER. At-Talbina (a kind of porridge prepared from milk, honey and white flour, etc.) for the patient.
مریض کے لیے حریرہ پکانا
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. Saut
ناک میں دوا ڈالنا درست ہے
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. To sniff the Indian and sea Qust (kind of incense).
قسطہندی اور قسط بحری یعنی کوٹ جو سمندر سے نکلتا ہے اس کا نام لینا
2 Hadith
11
(11) CHAPTER. What time one should be cupped.
کس وقت پچھنا لگوایا جائے ، حضرت ابوموسیٰ رضیاللہعنہ نے رات کے وقت پچھنا لگوایا تھا
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. To be cupped while on a journey or while in a state of Ihram.
سفر میں پچھنا لگوانا اور حالت احرام میں بھی ، اسے ابنبحینہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. To be cupped (as a treatment) for a disease.
بیماری کی وجہ سے پچھنا لگوانا جا ئز ہے
1 Hadith
14
(13) CHAPTER. To be cupped (as a treatment) for a disease.
سر میں پچھنا لگوانا درست ہے
3 Hadith
15
(15) CHAPTER. To perform the operation of cupping to treating unilateral or bilateral headache.
آدھے سر کے درد یاپورے سر کے درد میں پچھنا لگواناجائز ہے
3 Hadith
16
(16) CHAPTER. To get one's head shaved because of some ailment.
( محرم کا ) تکلیف کی وجہ سے سر منڈانا ( مثلاً پچھنا لگوانے میں بالوں سے تکلیف ہو )
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. Whatever gets himself branded (cauterized) or branded (cauterized) someone else, and the superiority of one who does not get branded (cauterized).
داغ لگوانا یا لگانا اور جو شخص داغ نہ لگوائے اس کی فضیلت کابیان
2 Hadith
18
(18) CHAPTER. To treat opthalmia (inflammation or soreness of the eyes) with antimony or kohl.
اثمد اور سرمہ لگانا جب آنکھیں دکھتی ہوں اس باب میں امعطیہ رضیاللہعنہا سے ایک حدیث بھی مروی ہے
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. Leprosy.
جذام کا بیان
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. Al-Mann heals eye diseases.
من ( کھنبی ) آنکھ کے لیے شفاء ہے
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. Al-Ladud (the medicine which is poured or inserted into one side of a patient's mouth)
مریض کے حلق میں دوا ڈالنا
6 Hadith
22
(23) CHAPTER. Al-Udhra (throat or tonsil diseases).
عذرہ یعنی حلق کے کوا کے گر جانے کاعلاج جسے عربی میں سقوط اللھاۃ کہتے ہیں ۔
1 Hadith
23
(24) CHAPTER. The treatment for a person suffering from diarrhea.
پیٹ کے عارضہ میں کیا دوا دی جائے ؟
1 Hadith
24
(25) CHAPTER. There is no Safar (i.e., it is not a contagious disease). Safar is a disease that afflicts the abdomen.
صفرصرف پیٹ کی ایک بیماری ہے ۔
1 Hadith
25
(26) CHAPTER. Pleurisy.
ذات الجنب ( نمونیہ ) کا بیان
4 Hadith
26
(27) CHAPTER. To burn a mat made of palm-tree leaves (and put its ashes into a wound) to stop bleeding.
زخموں کا خون روکنے کے لیے بو ریا جلا کر زخم پر لگانا
1 Hadith
27
(28) CHAPTER. Fever is from the heat of Hell.
بخار دوزخ کی بھاپ سے ہے
4 Hadith
28
(29) CHAPTER. Whoever went out of a land because of its climate and water did not suit him.
جہاں کی آب و ہوا ناموافق ہو وہاں سے نکل کر دوسرے مقام پر جانا درست ہے
1 Hadith
29
(30) CHAPTER. What has been mentioned about the plague.
طاعون کا بیان
6 Hadith
30
(31) CHAPTER. The reward of a person who suffers from plague (or lives in a plague-striken land) and remains patient.
جو شخص طاعون میں صبر کر کے وہیں رہے گو اس کو طاعون نہ ہو ، اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
31
(32) CHAPTER. Ar-Ruqa with the Quran and the Muawwidhat (the last two Surah of Quran).
قرآنمجید اورمعوذات پڑھ کر مریض پر دم کرنا
1 Hadith
32
(33) CHAPTER. To do Ruqya by reciting Surat Al-Fatiha (the Opening of Book).
سورۃ الفاتحہ سے دم کرنا
1 Hadith
33
(34) CHAPTER. The conditions required for doing a Ruqya with Surat Al-Fatiha.
سورۃ الفاتحہ سے دم جھاڑ کرنے میں ( بکریاں لینے کی ) شرط لگانا
1 Hadith
34
(35) CHAPTER. Ruqya for an evil eye.
نظربد لگ جانے کی صورت میں دم کرنا
2 Hadith
35
(36) CHAPTER. The effect of an evil eye is a fact.
نظربد کا لگناحق ہے
1 Hadith
36
(37) CHAPTER. To treat a snakebite or a scorpion sting with a Ruqya.
سانپ اور بچھو کے کاٹے پر دم کرنا جائز ہے
1 Hadith
37
(38) CHAPTER. The Ruqya of the Prophet (i.e., what he used to recite while doing a Ruqya).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بیماری سے شفاء کے لیے ) دم
8 Hadith
38
(40) CHAPTER. The passing of the right hand of the one who is treating on the place of ailment.
بیمار پر دم کرتے وقت درد کی جگہ پر داہنا ہاتھ پھیرنا
1 Hadith
39
(41) CHAPTER. A woman may treat a man with a Ruqya.
عورت مرد پر دم کر سکتی ہے
1 Hadith
40
(42) CHAPTER. Whoever does not treat or get treated with a Ruqya.
دم جھاڑ نہ کرانے کی فضیلت
1 Hadith
41
(43) CHAPTER. At-Tiyara (drawing an evil omen from birds, etc.)
بدشگونی لینے کا بیان
2 Hadith
42
(44) CHAPTER. Al-Fal (good omen).
نیکفال لینا کچھ برا نہیں ہے
2 Hadith
43
(45) CHAPTER. No Hama.
الو کو منحوس سمجھنا لغو ہے
1 Hadith
44
(46) CHAPTER. (What is said about) Foretellers.
کہا نت کا بیان
5 Hadith
45
(47) CHAPTER. Magic.
جادو کا بیان
1 Hadith
46
(48) CHAPTER. Shirk (i.e., joining others in worship with Allah) and witchcraft are from the Mubiqat (great destructive sins).
شرک اورجادو ان گناہوں میں سے ہیں جو آدمی کو تباہ کر دیتے ہیں
1 Hadith
47
(49) CHAPTER. Should a bewitched person be treated?
جادو کے بیان میں
2 Hadith
48
(51) CHAPTER. Some eloquent speech is as effective as magic.
اس بیان میں کہ بعض تقریریں بھی جادو بھری ہوتی ہیں
1 Hadith
49
(52) CHAPTER. The use of Ajwa dates as medicine for magic.
عجوہ کھجور جادو کیلئے دوا ہے
2 Hadith
50
(53) CHAPTER. No Hama.
الو کا منحوس ہونا محض غلط ہے
2 Hadith
51
(54) CHAPTER. No Adwa (no contagious disease is conveyed without Allah's Permission).
امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے
5 Hadith
52
(55) CHAPTER. What has been said regarding the poison given to the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیئے جانے سے متعلق بیان
1 Hadith
53
(56) CHAPTER. The taking of poison and treating with it,or with what may be dangerous, or with an impure or polluted thing (medicine, etc.).
زہر پینا یا زہریلی اور خوفناک دوا یا ناپاک دوا کا استعمال کرنا
2 Hadith
54
(57) CHAPTER. The milk of she-asses.
گدھی کا دودھ پینا کیسا ہے ؟
2 Hadith
55
(58) CHAPTER. If a housefly falls in a utensil.
جب مکھی برتن میں پڑ جائے ( جس میں کھانا یا پانی ہو )
1 Hadith
No chapter matched that.