TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of dress. - کتاب لباس کے بیان میں - Book 78 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 78 of Sahih Bukhari, with 95 chapters and 187 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

187 Hadith · 95 Chapters
(31) CHAPTER. The Prophet used to be contented with whatever clothes or mats were available.
اس بیان میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی لباس یا فرش کے پابند نہ تھے جیسا مل جاتا اسی پر قناعت کرتے
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَبِثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَهَابُهُ ، فَنَزَلَ يَوْمًا مَنْزِلًا فَدَخَلَ الْأَرَاكَ فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ ، ثُمَّ قَالَ : كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا نَعُدُّ النِّسَاءَ شَيْئًا ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ وَذَكَرَهُنَّ اللَّهُ ، رَأَيْنَا لَهُنَّ بِذَلِكَ عَلَيْنَا حَقًّا مِنْ غَيْرِ أَنْ نُدْخِلَهُنَّ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِنَا ، وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي كَلَامٌ فَأَغْلَظَتْ لِي ، فَقُلْتُ لَهَا : وَإِنَّكِ لَهُنَاكِ قَالَتْ : تَقُولُ : هَذَا لِي وَابْنَتُكَ تُؤْذِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَقُلْتُ : لَهَا إِنِّي أُحَذِّرُكِ أَنْ تَعْصِي اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَتَقَدَّمْتُ إِلَيْهَا فِي أَذَاهُ ، فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا ، فَقَالَتْ : أَعْجَبُ مِنْكَ يَا عُمَرُ ، قَدْ دَخَلْتَ فِي أُمُورِنَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ فَرَدَّدَتْ ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِذَا غَابَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَكُونُ ، وَإِذَا غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَ أَتَانِي بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ مَنْ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَقَامَ لَهُ فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا مَلِكُ غَسَّانَ بِالشَّأْمِ ، كُنَّا نَخَافُ أَنْ يَأْتِيَنَا فَمَا شَعَرْتُ إِلَّا بِالْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ يَقُولُ : إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ قُلْتُ لَهُ : وَمَا هُوَ أَجَاءَ الْغَسَّانِيُّ ؟ قَالَ : أَعْظَمُ مِنْ ذَاكَ ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ، فَجِئْتُ فَإِذَا الْبُكَاءُ مِنْ حُجَرِهِنَّ كُلِّهَا وَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَعِدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ ، وَعَلَى باب الْمَشْرُبَةِ وَصِيفٌ ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : اسْتَأْذِنْ لِي ، فَأَذِنَ لِي ، فَدَخَلْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَإِذَا أُهُبٌ مُعَلَّقَةٌ وَقَرَظٌ ، فَذَكَرْتُ الَّذِي قُلْتُ لِحَفْصَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ وَالَّذِي رَدَّتْ عَلَيَّ أُمُّ سَلَمَةَ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نَزَلَ .
Narrated Ibn `Abbas: For one year I wanted to ask `Umar about the two women who helped each other against the Prophet but I was afraid of him. One day he dismounted his riding animal and went among the trees of Arak to answer the call of nature, and when he returned, I asked him and he said, (They were) `Aisha and Hafsa. Then he added, We never used to give significance to ladies in the days of the Pre-lslamic period of ignorance, but when Islam came and Allah mentioned their rights, we used to give them their rights but did not allow them to interfere in our affairs. Once there was some dispute between me and my wife and she answered me back in a loud voice. I said to her, 'Strange! You can retort in this way?' She said, 'Yes. Do you say this to me while your daughter troubles Allah's Apostle?' So I went to Hafsa and said to her, 'I warn you not to disobey Allah and His Apostle.' I first went to Hafsa and then to Um Salama and told her the same. She said to me, 'O `Umar! It surprises me that you interfere in our affairs so much that you would poke your nose even into the affairs of Allah's Apostle and his wives.' So she rejected my advice. There was an Ansari man; whenever he was absent from Allah's Apostle and I was present there, I used to convey to him what had happened (on that day), and when I was absent and he was present there, he used to convey to me what had happened as regards news from Allah's Apostle . During that time all the rulers of the nearby lands had surrendered to Allah's Apostle except the king of Ghassan in Sham, and we were afraid that he might attack us. All of a sudden the Ansari came and said, 'A great event has happened!' I asked him, 'What is it? Has the Ghassani (king) come?' He said, 'Greater than that! Allah's Apostle has divorced his wives! I went to them and found all of them weeping in their dwellings, and the Prophet had ascended to an upper room of his. At the door of the room there was a slave to whom I went and said, Ask the permission for me to enter. He admitted me and I entered to see the Prophet lying on a mat that had left its imprint on his side. Under his head there was a leather pillow stuffed with palm fires. Behold! There were some hides hanging there and some grass for tanning. Then I mentioned what I had said to Hafsa and Um Salama and what reply Um Salama had given me. Allah's Apostle smiled and stayed there for twenty nine days and then came down. (See Hadith No. 648, Vol. 3 for details)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبید بن حنین نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے بارے میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں اتفاق کر لیا تھا، پوچھنے کا ارادہ کرتا رہا لیکن ان کا رعب سامنے آ جاتا تھا۔ ایک دن ( مکہ کے راستہ میں ) ایک منزل پر قیام کیا اور پیلو کے درختوں میں ( وہ قضائے حاجت کے لیے ) تشریف لے گئے۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا انہوں نے بتلایا کہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں پھر کہا کہ جاہلیت میں ہم عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا ( اور ان کے حقوق ) مردوں پر بتائے تب ہم نے جانا کہ ان کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن اب بھی ہم اپنے معاملات میں ان کا دخیل بننا پسند نہیں کرتے تھے۔ میرے اور میری بیوی میں کچھ گفتگو ہو گئی اور اس نے تیز و تند جواب مجھے دیا تو میں نے اس سے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔ اس نے کہا تم مجھے یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف پہنچاتی ہے۔ میں ( اپنی بیٹی ام المؤمنین ) حفصہ کے پاس آیا اور اس سے کہا میں تجھے تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے معاملہ میں سب سے پہلے میں ہی حفصہ کے یہاں گیا پھر میں ام سلمہ کے پاس آیا اور ان سے بھی یہی بات کہی لیکن انہوں نے کہا کہ حیرت ہے تم پر عمر! تم ہمارے معاملات میں دخیل ہو گئے ہو۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج کے معاملات میں دخل دینا باقی تھا۔ ( سو اب وہ بھی شروع کر دیا ) انہوں نے میری بات رد کر دی۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں موجود نہ ہوتے اور میں حاضر ہوتا تو تمام خبریں ان سے آ کر بیان کرتا تھا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے غیر حاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام خبریں مجھے آ کر سناتے تھے۔ آپ کے چاروں طرف جتنے ( بادشاہ وغیرہ ) تھے ان سب سے آپ کے تعلقات ٹھیک تھے۔ صرف شام کے ملک غسان کا ہمیں خوف رہتا تھا کہ وہ کہیں ہم پر حملہ نہ کر دے۔ میں نے جو ہوش و حواس درست کئے تو وہی انصاری صحابی تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایک حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی۔ کیا غسان چڑھ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا حادثہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ میں جب ( مدینہ ) حاضر ہوا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ پر چلے گئے تھے اور بالا خانہ کے دروازہ پر ایک نوجوان پہرے دار موجود تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے کہا کہ میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر حاضر ہونے کی اجازت مانگ لو پھر میں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر کے نیچے ایک چھوٹا سا چمڑے کا تکیہ تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور ببول کے پتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حفصہ اور ام سلمہ سے کہی تھیں اور وہ بھی جو ام سلمہ نے میری بات رد کرتے ہوئے کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ آپ نے اس بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام کیا پھر آپ وہاں سے نیچے اتر آئے۔
5843
Sahih
(31) CHAPTER. The Prophet used to be contented with whatever clothes or mats were available.
اس بیان میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی لباس یا فرش کے پابند نہ تھے جیسا مل جاتا اسی پر قناعت کرتے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ ، مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ ، كَمْ مِنْ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَكَانَتْ هِنْدٌ لَهَا أَزْرَارٌ فِي كُمَّيْهَا بَيْنَ أَصَابِعِهَا .
Narrated Um Salama: One night the Prophet woke up, saying, None has the right to be worshipped but Allah! How many afflictions have been sent down tonight, and how many treasures have been sent down (disclosed)! Who will go and wake up (for prayers) the lady dwellers of these rooms? Many well dressed soul (people) in this world, will be naked on the Day of Resurrection.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر بن راشد نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، انہیں ہندہ بنت حارث نے خبر دی اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیدار ہوئے اور کہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کیسی کیسی بلائیں اس رات میں نازل ہو رہی ہیں اور کیا کیا رحمتیں اس کے خزانوں سے اتر رہی ہیں۔ کوئی ہے جو ان حجرہ والیوں کو بیدار کر دے۔ دیکھو بہت سی دنیا میں پہننے اوڑھنے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ زہری نے بیان کیا کہ ہندہ اپنی آستینوں میں انگلیوں کے درمیان گھنڈیاں لگاتی تھیں، تاکہ صرف انگلیاں کھلیں اس سے آگے نہ کھلے۔
5844
Sahih
(32) CHAPTER. What to invoke for the one wearing a new garment.
جو شخص نیا کپڑا پہنے اسے کیا دعا دی جائے
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ خَالِدٍ ، قَالَتْ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ ، قَالَ : مَنْ تَرَوْنَ نَكْسُوهَا هَذِهِ الْخَمِيصَةَ فَأُسْكِتَ الْقَوْمُ ، قَالَ : ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ ، فَأُتِيَ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْبَسَنِيهَا بِيَدِهِ ، وَقَالَ : أَبْلِي وَأَخْلِقِي مَرَّتَيْنِ ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمِ الْخَمِيصَةِ وَيُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَيَّ ، وَيَقُولُ : يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَا وَالسَّنَا بِلِسَانِ الْحَبَشِيَّةِ : الْحَسَنُ ، قَالَ إِسْحَاقُ : حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِي أَنَّهَا رَأَتْهُ عَلَى أُمِّ خَالِدٍ .
Narrated Um Khalid bint Khalid: Some clothes were presented to Allah's Apostle as a gift and there was a black Khamisa with it. The Prophet asked (his companions), To whom do you suggest we give this Khamisa? The people kept quiet. Then he said, Bring me Um Khalid, So I was brought to him and he dressed me with it with his own hands and said twice, May you live so long that you will wear out many garments. He then started looking at the embroidery of that Khamisa and said, O Um Khalid! This is Sana! (Sana in Ethiopian language means beautiful.) 'Is-haq, a sub-narrator, said: A woman of my family had told me that she had seen the Khamisa worn by Um Khalid.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک کالی چادر بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے، کسے یہ چادر دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد کو بلا لاؤ۔ چنانچہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور مجھے وہ چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے عنایت فرمائی اور فرمایا دیر تک جیتی رہو، دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر آپ اس چادر کے نقش و نگار کو دیکھنے لگے اور اپنے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا ام خالد! «سنا ‏ ‏‏.‏ والسنا» یہ حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی واہ کیا زیب دیتی ہے۔ اسحاق بن سعید نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے گھر کی ایک عورت نے بیان کیا کہا کہ انہوں نے وہ چادر ام خالد رضی اللہ عنہا کے پاس دیکھی تھی۔
5845
Sahih
(33) CHAPTER. Men are forbidden to use saffron.
مردوں کے لیے زعفران کے رنگ کا استعمال منع ہے ( یعنی بدن یا کپڑے کو زعفران سے رنگنا )
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ .
Narrated Anas: The Prophet forbade men to use saffron.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی مرد زعفران کے رنگ کا استعمال کرے۔
5846
Sahih
(34) CHAPTER. The garment dyed with saffron.
زعفران سے رنگا ہوا کپڑا پہننا مردوں کے لیے سخت منع ہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ أَوْ بِزَعْفَرَانٍ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet forbade Muhrims to wear clothes dyed with Wars or saffron.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا کہ کوئی محرم ورس یا زعفران سے رنگا ہوا کپڑا پہنے۔
5847
Sahih
(35) CHAPTER. The red garment.
سرخ کپڑا پہننے کے بیان میں
ع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْبُوعًا ، وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْهُ .
Narrated Al-Bara: The Prophet was of a modest height. I saw him wearing a red suit, and I did not see anything better than him.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ جوڑے میں دیکھا آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی۔
5848
Sahih
(36) CHAPTER. The red Mithara. (a kind of silk-cushions)
سرخ زین پوش کا کیا حکم ہے
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ : عِيَادَةِ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ : عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ، وَالدِّيبَاجِ ، وَالْقَسِّيِّ ، وَالْإِسْتَبْرَقِ ، وَالْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ .
Narrated Al-Bara: The Prophet ordered us to observe seven things: To visit the sick; follow funeral processions; say 'May Allah bestow His Mercy on you', to the sneezer if he says, 'Praise be to Allah!; He forbade us to wear silk, Dibaj, Qassiy and Istibarq (various kinds of silken clothes); or to use red Mayathir (silkcushions). (See Hadith No. 253 A, Vol. 8).
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اشعث نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی عیادت کا، جنازہ کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کا جواب ( یرحمک اللہ سے ) دینے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم، دیبا، قسی، استبرق اور سرخ زین پوشوں کے استعمال سے بھی منع فرمایا تھا۔
5849
Sahih
(37) CHAPTER. The Sibtiya (shoes made of tanned leather) and other shoes.
صاف چمڑے کی جوتی پہننا
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا ، أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
Narrated Sa`id Abu Maslama: I asked Anas (bin Malik), Did the Prophet use to offer the prayers with his shoes on? He said, Yes.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی مسلمہ نے، انہوں نے کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں۔
5850
Sahih
(37) CHAPTER. The Sibtiya (shoes made of tanned leather) and other shoes.
صاف چمڑے کی جوتی پہننا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا ، قَالَ : مَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ ؟ قَالَ : رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ ، حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا ، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا ، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ .
Narrated Sa`id Al-Maqburi: 'Ubai bin Juraij said to `Abdullah Ben `Umar, I see you doing four things which are not done by your friends. Ibn `Umar said, What are they, O Ibn Juraij? He said, I see that you do not touch except the two Yemenite corners of the Ka`ba (while performing the Tawaf): and I see you wearing the Sabtiyya shoes; and I see you dyeing (your hair) with Sufra; and I see that when you are in Mecca, the people assume the state of Ihram on seeing the crescent (on the first day of Dhul-Hijja) while you do not assume the state of Ihram till the Day of Tarwiya (8th Dhul Hijja). `Abdullah bin `Umar said to him, As for the corners of the Ka`ba, I have not seen Allah's Apostle touching except the two Yemenite corners, As for the Sabtiyya shoes, I saw Allah's Apostle wearing leather shoes that had no hair, and he used to perform the ablution while wearing them. Therefore, I like to wear such shoes. As regards dyeing with Sufra, I saw Allah's Apostle dyeing his hair with it, so I like to dye (my hair) with it. As regards the crescent (of Dhul-Hijja), I have not seen Allah's Apostle assuming the state of Ihram till his she-camel set out (on the 8th of Dhul-Hijja).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے مقبری نے، ان سے عبید بن جریج نے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں آپ کو چار ایسی چیزیں کرتے دیکھتا ہوں جو میں نے آپ کے کسی ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن جریج! وہ کیا چیزیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ( خانہ کعبہ کے ) کسی کونے کو طواف میں ہاتھ نہیں لگاتے صرف دو ارکان یمانی ( یعنی صرف رکن یمانی اور حجر اسود ) کو چھوتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صاف زین کے چمڑے کا جوتا پہنتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا کپڑا زرد رنگ سے رنگتے ہیں یا زرد خضاب لگاتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ جب مکہ میں ہوتے ہیں تو سب لوگ تو ذی الحجہ کا چاند دیکھ کر احرام باندھ لیتے ہیں لیکن آپ احرام نہیں باندھتے بلکہ ترویہ کے دن ( 8 ذی الحجہ کو ) کو احرام باندھتے ہیں۔ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ خانہ کعبہ کے ارکان کے متعلق جو تم نے کہا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو چھوتے دیکھا۔ صاف تری کے چمڑے کے جوتوں کے متعلق جو تم نے پوچھا تو میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی چمڑے کا جوتا پہنتے تھے جس میں بال نہیں ہوتے تھے اور آپ اس کو پہنے ہوئے وضو کرتے تھے اس لیے میں بھی پسند کرتا ہوں کہ ایسا ہی جوتا استعمال کروں۔ زرد رنگ کے متعلق تم نے جو کہا ہے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے خضاب کرتے یا کپڑے رنگتے دیکھا ہے اس لیے میں بھی اس زرد رنگ کو پسند کرتا ہوں اور رہا احرام باندھنے کا مسئلہ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی وقت احرام باندھتے جب اونٹ پر سوار ہو کر جانے لگتے۔
5851
Sahih
(37) CHAPTER. The Sibtiya (shoes made of tanned leather) and other shoes.
صاف چمڑے کی جوتی پہننا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ وَقَالَ : مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle forbade that a Muhrim should wear clothes dyed with Saffron or Wars, and said, Whoever has no shoes can put on Khuffs (socks made from thick fabric or leather) after cutting it below the ankles.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو زعفران یا ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے منع فرمایا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے ہی پہن لیں لیکن ان کو ٹخنے کے نیچے تک کاٹ دیں۔
5852
Sahih
(37) CHAPTER. The Sibtiya (shoes made of tanned leather) and other shoes.
صاف چمڑے کی جوتی پہننا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِزَارٌ فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, Whoever has no Izar (waist sheet), can wear trousers; and whoever has no sandals, can wear Khuffs (socks made from thick fabric or leather, but cut them short below the ankles).
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے جابر بن زید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس احرام باندھنے کے لیے تہبند نہ ہو وہ پاجامہ پہن لے ( اس کا کاٹنا ضروری نہیں ہے ) اور جس کے پاس جوتے نہ ہوں وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں کے نیچے تک ان کو کاٹ ڈالے ( جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے ) ۔
5853
Sahih
(38) CHAPTER. While putting on the shoes, one should start with right foot.
اس بیان میں کہ پہنتے وقت داہنے پاؤں میں جوتا پہنے
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ .
Narrated `Aisha: The Prophet used to like starting from the right in performing ablution, combing his hair and putting on his shoes.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے اشعث بن سلیم نے خبر دی کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ مسروق سے بیان کرتے تھے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طہارت میں کنگھا کرنے میں اور جوتا پہننے میں داہنی طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
5854
Sahih
(38) CHAPTER. While putting on the shoes, one should start with right foot.
اس بیان میں کہ پہنتے وقت داہنے پاؤں میں جوتا پہنے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ ، وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ ، لِتَكُنِ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, If you want to put on your shoes, put on the right shoe first; and if you want to take them off, take the left one first. Let the right shoe be the first to be put on and the last to be taken off.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو دائیں طرف سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں طرف سے اتارے تاکہ داہنی جانب پہننے میں اول ہو اور اتارنے میں آخر ہو۔
5855
Sahih
(40) CHAPTER. One should take off the left shoe first.
اس بارے میں کہ صرف ایک پاؤں میں جوتا ہو ۔ دوسرا پیر ننگا ہو اس طرح چلنا منع ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, None of you should walk, wearing one shoe only; he should either put on both shoes or put on no shoes whatsoever.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی شخص صرف ایک پاؤں میں جوتا پہن کر نہ چلے یا دونوں پاؤں ننگا رکھے یا دونوں میں جوتا پہنے۔
5856
Sahih
(41) CHAPTER. Two straps in a sandal; and whoever thinks that it is permissible to use one strap.
ہر چپل میں دو دو تسمہ ہونا اور ایک تسمہ بھی کافی ہے
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ نَعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهَا قِبَالَانِ .
Narrated Anas: The sandal of the Prophet had two straps.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چپل میں دو تسمے تھے۔
5857
Sahih
(41) CHAPTER. Two straps in a sandal; and whoever thinks that it is permissible to use one strap.
ہر چپل میں دو دو تسمہ ہونا اور ایک تسمہ بھی کافی ہے
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ ، قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ بِنَعْلَيْنِ لَهُمَا قِبَالَانِ ، فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ هَذِهِ نَعْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Isaa bin Tahman: Anas bin Malik brought out for us, two sandals having two straps. Thabit Al-Banani said, These were the sandals of the Prophet .
مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عیسیٰ بن طہمان نے خبر دی، بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ دو جوتے لے کر ہمارے پاس باہر آئے جس میں دو تسمے لگے ہوئے تھے۔ ثابت بنانی نے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے ہیں۔
5858
Sahih
(42) CHAPTER. The red tent of leather.
لال چمڑے کا خیمہ بنانا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ ، وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخَذَ وَضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَبْتَدِرُونَ الْوَضُوءَ ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ .
Narrated Abu Juhaifa: I came to the Prophet while he was inside a red leather tent, and I saw Bilal taking the remaining water of the ablution of the Prophet, and the people were taking of that water and rubbing it on their faces; and whoever could not get anything of it, would share the moisture of the hand of his companion (and then rub it on his face).
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے اور ان سے ان کے والد وہب بن عبداللہ سوائی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) خدمت نبوی میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک سرخ خیمہ میں تشریف رکھے ہوئے تھے اور میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لیے ہوئے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کو لے لینے میں ایک دوسرے کے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کسی کو کچھ پانی مل جاتا ہے تو وہ اسے اپنے بدن پر لگا لیتا ہے اور جسے کچھ نہیں ملتا وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی کو لگانے کی کوشش کرتا ہے۔
5859
Sahih
(42) CHAPTER. The red tent of leather.
لال چمڑے کا خیمہ بنانا
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ . ح وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْأَنْصَارِ وَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet called for the Ansar and gathered them in a leather tent.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلوایا اور انہیں لال چمڑے کے ایک خیمہ میں جمع کیا۔
5860
Sahih
(43) CHAPTER. To sit on a Hasir (a mat made of leaves of date-palms) or similar thing.
بورے یا اس جیسی کسی حقیر چیز پر بیٹھنا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْتَجِرُ حَصِيرًا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَيَجْلِسُ عَلَيْهِ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَثُوبُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ حَتَّى كَثُرُوا ، فَأَقْبَلَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا ، وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ .
Narrated `Aisha: The Prophet used to construct a loom with a Hasir at night m order to pray therein, and during the day he used to spread it out and sit on it. The people started coming to the Prophet at night to offer the prayer behind him When their number increased, the Prophet faced them and said. O people! Do only those good deeds which you can do, for Allah does not get tired (of giving reward) till you get tired, and the best deeds to Allah are the incessant ones though they were few.
مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں چٹائی کا گھیرا بنا لیتے تھے اور ان گھیرے میں نماز پڑھتے تھے اور اسی چٹائی کو دن میں بچھاتے تھے اور اس پر بیٹھتے تھے پھر لوگ ( رات کی نماز کے وقت ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتداء کرنے لگے جب مجمع زیادہ بڑھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ لوگو! عمل اتنے ہی کیا کرو جتنی کہ تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ( اجر دینے سے ) نہیں تھکتا مگر تم ( عمل سے ) تھک جاتے ہو اور اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جسے پابندی سے ہمیشہ کیا جائے، خواہ وہ کم ہی ہو۔
5861
Sahih
(44) CHAPTER. Garments having gold buttons.
اگر کسی کپڑے میں سونے کی گھنڈی یا تکمہ لگا ہو
وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ مَخْرَمَةَ ، قَالَ لَهُ : يَا بُنَيِّ ، إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَتْ عَلَيْهِ أَقْبِيَةٌ فَهُوَ يَقْسِمُهَا ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ ، فَذَهَبْنَا فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِهِ ، فَقَالَ لِي : يَا بُنَيِّ ادْعُ لِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْظَمْتُ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : أَدْعُو لَكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا بُنَيِّ إِنَّهُ لَيْسَ بِجَبَّارٍ ، فَدَعَوْتُهُ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرٌ بِالذَّهَبِ ، فَقَالَ : يَا مَخْرَمَةُ هَذَا خَبَأْنَاهُ لَكَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ
Narrated Al-Miswar bin Makhrama: My father, Makhrama said to me, I have come to know that some cloaks have come to the Prophet (saws) and he is distributing them. So O my son! take me to him. We went to the Prophet (saws) and found him in the house. My father said to me, O my son! Call the Prophet (saws) for me. I found it hard to do so, so I said surprisingly, Shall I call Allah's Messenger (saws) for you ? My father said, O mu son! He is not a tyrant. So I called him and he came out wearing a Dibaj cloak having gold buttons, and said: O Makhrama, I kept this for you. The Prophet (saws) then gave it to him.
اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ ان سے ان کے والد مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا بیٹے مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئی ہیں اور آپ انہیں تقسیم فرما رہے ہیں۔ ہمیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو۔ چنانچہ ہم گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھر ہی میں پایا۔ والد نے مجھ سے کہا بیٹے میرا نام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاؤ۔ میں نے اسے بہت بڑی توہین آمیز بات سمجھا ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے والد کے لیے بلا کر تکلیف دوں ) چنانچہ میں نے والد صاحب سے کہا کہ میں آپ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاؤں! انہوں نے کہا کہ بیٹے ہاں۔ آپ کوئی جابر صفت انسان نہیں ہیں۔ چنانچہ میں نے بلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر دیبا کی ایک قباء تھی جس میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ اسے میں نے تمہارے لیے چھپا کے رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قباء انہیں عنایت فرما دی۔
5862
Sahih

Chapters

95
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “Say (O Muhammad ): Who has forbidden the adornment with clothes given by Allah which He has produced for His slaves?” (V.7:32)
اللہ پاک کا سورۃ الاعراف میں فرمانا کہ
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. Whoever dragged his Izar (lower-half body garment) without conceit.
اگر کسی کا کپڑا یوں ہی لٹک جائے تکبر کی نیت نہ ہو تو گنہگار نہ ہوگا
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. To tuck up or roll up the clothes.
کپڑا اوپر اٹھانا
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. The part of the garment that hangs below the ankles is in the Fire.
کپڑا جو ٹخنوں سے نیچے ہو ( ازار ہو یا کرتہ یا چغہ ) وہ اپنے پہننے والے مرد کو دوزخ میں لے جائے گا جب کہ وہ پہننے والا متکبر ہو
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. Whoever drags his garment out of pride and arrogance (conceit).
جو تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا چلے اس کی سزا کا بیان
4 Hadith
06
(6) CHAPTER. The fringed Izar.
حاشیہ دار تہمد پہننا
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. The Rida.
قمیص پہننا ( کرتہ قمیص ہر دو ایک ہی ہیں )
4 Hadith
08
(9) CHAPTER. The Jaib (pocket) (the opening) of a shirt at the chest and other positions.
قمیص کا گریبان سینے پر یا اور کہیں مثلاً ( کندھے پر ) لگانا
1 Hadith
09
(10) CHAPTER. Wearing wore a cloak of narrow sleeves while on a journey.
جس نے سفر میں تنگ آستینوں کا جبہ پہنا
1 Hadith
10
(11) CHAPTER. To wear a woollen cloak during the Ghazawat (military expedition).
لڑائی میں اون کا جبہ پہننا
1 Hadith
11
(12) CHAPTER. Al-Qaba. And the silken Farruj, which is a kind of Al-Qaba, and it is said that it has a sit at the back.
قباء اور ریشمی فروج کے بیان میں ۔
2 Hadith
12
(13) CHAPTER. Hooded cloaks.
برانس یعنی ٹوپی پہننا
2 Hadith
13
(14) CHAPTER. Trousers.
پاجامہ پہننے کے بارے میں
2 Hadith
14
(15) CHAPTER. Turbans.
عمامے کے بیان میں
1 Hadith
15
(16) CHAPTER. At-Taqannu (covering the head and most of the face with a covering sheet).
سر پر کپڑا ڈال کر سر چھپانا
1 Hadith
16
(17) CHAPTER. The helmet.
خود کا بیان
1 Hadith
17
(18) CHAPTER. Al-Burud (black decorated square garments that are worn by bedouins). And AI-Hibar (a green garment made is Yemen). And Ash-Shamla (a garment that is wrapped around the body).
دھاریدار چادروں ، یمنی چادروں اور کملیوں کا بیان
6 Hadith
18
(19) CHAPTER. Al-Aksiya. And Al-Khamais.
کملیوں اور اونی حاشیہ دار چادروں کے بیان میں
4 Hadith
19
(20) CHAPTER. Ishtimal-as-samma.
اشتمال الصماء کا بیان
17 Hadith
20
(26) CHAPTER. Whoever just touches silk but does not wear it.
بغیر پہنے ریشم صرف چھونا جائز ہے ۔
1 Hadith
21
(27) CHAPTER. The use of silk in bedding.
مرد کے لیے ریشم کا کپڑا بطور فرش بچھانا منع ہے ۔ عبیدہ نے کہا کہ یہ بچھانا بھی پہننے جیسا ہے
1 Hadith
22
(28) CHAPTER. The wearing of Qassiy.
مصر کا ریشمی کپڑا پہننا مرد کے لیے کیسا ہے ۔
1 Hadith
23
(29) CHAPTER. Silk is allowed for men suffering from an itch.
خارش کی وجہ سے مردوں کو ریشمی کپڑے کے استعمال کی اجازت ہے
1 Hadith
24
(30) CHAPTER. Silk for women.
ریشم عورتوں کے لیے جائز ہے
3 Hadith
25
(31) CHAPTER. The Prophet used to be contented with whatever clothes or mats were available.
اس بیان میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی لباس یا فرش کے پابند نہ تھے جیسا مل جاتا اسی پر قناعت کرتے
2 Hadith
26
(32) CHAPTER. What to invoke for the one wearing a new garment.
جو شخص نیا کپڑا پہنے اسے کیا دعا دی جائے
1 Hadith
27
(33) CHAPTER. Men are forbidden to use saffron.
مردوں کے لیے زعفران کے رنگ کا استعمال منع ہے ( یعنی بدن یا کپڑے کو زعفران سے رنگنا )
1 Hadith
28
(34) CHAPTER. The garment dyed with saffron.
زعفران سے رنگا ہوا کپڑا پہننا مردوں کے لیے سخت منع ہے
1 Hadith
29
(35) CHAPTER. The red garment.
سرخ کپڑا پہننے کے بیان میں
1 Hadith
30
(36) CHAPTER. The red Mithara. (a kind of silk-cushions)
سرخ زین پوش کا کیا حکم ہے
1 Hadith
31
(37) CHAPTER. The Sibtiya (shoes made of tanned leather) and other shoes.
صاف چمڑے کی جوتی پہننا
4 Hadith
32
(38) CHAPTER. While putting on the shoes, one should start with right foot.
اس بیان میں کہ پہنتے وقت داہنے پاؤں میں جوتا پہنے
2 Hadith
33
(40) CHAPTER. One should take off the left shoe first.
اس بارے میں کہ صرف ایک پاؤں میں جوتا ہو ۔ دوسرا پیر ننگا ہو اس طرح چلنا منع ہے
1 Hadith
34
(41) CHAPTER. Two straps in a sandal; and whoever thinks that it is permissible to use one strap.
ہر چپل میں دو دو تسمہ ہونا اور ایک تسمہ بھی کافی ہے
2 Hadith
35
(42) CHAPTER. The red tent of leather.
لال چمڑے کا خیمہ بنانا
2 Hadith
36
(43) CHAPTER. To sit on a Hasir (a mat made of leaves of date-palms) or similar thing.
بورے یا اس جیسی کسی حقیر چیز پر بیٹھنا
1 Hadith
37
(44) CHAPTER. Garments having gold buttons.
اگر کسی کپڑے میں سونے کی گھنڈی یا تکمہ لگا ہو
1 Hadith
38
(45) CHAPTER. Gold rings
سونے کی انگوٹھیاں مرد کو پہننا کیسا ہے
3 Hadith
39
(46) CHAPTER. Silver rings.
مرد کو چاندی کی انگوٹھی پہننا
1 Hadith
40
(47) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
41
(47) CHAPTER.
ریشم پہننا اور مردوں کا اسے اپنے لیے بچھانا اور کس حد تک اس کا استعمال جائز ہے
1 Hadith
42
(48) CHAPTER. The stone of the ring.
انگوٹھی میں نگینہ لگانا درست ہے
2 Hadith
43
(49) CHAPTER. An iron ring.
لوہے کی انگوٹھی کا بیان
3 Hadith
44
(51) CHAPTER. To wear the ring on the little finger.
انگوٹھی چھنگلیاں میں پہننی چاہیئے
1 Hadith
45
(52) CHAPTER. Taking a ring for stamping certain things or (for stamping) letters written to the people of the Scripture (Jews and Christians) and other people.
انگوٹھی کسی ضرورت سے مثلاً مہر کرنے کے لیے یا اہلکتاب وغیرہ کو خطوط لکھنے کے لیے بنانا
1 Hadith
46
(53) CHAPTER. Keeping the stone of the ring towards the palm of the hand.
انگوٹھی کا نگینہ اندر ہتھیلی کی طرف رکھنا
1 Hadith
47
(54) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “None should have the same engraving made on his ring as the engraving on my ring.”
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ کوئی شخص اپنی انگوٹھی پرلفظ ” محمد رسول اللہ “ کا نقش نہ کھدوائے
1 Hadith
48
(55) CHAPTER. Should one get the engraving of the ring done in three lines?
انگوٹھی کا کندہ تین سطروں میں کرنا
2 Hadith
49
(56) CHAPTER. Rings for women.
عورتوں کے لیے ( سونے کی ) انگوٹھی پہننا جائز ہے اور حضرت عائشہ رضیاللہعنہا کے پاس سونے کی انگوٹھیاں تھیں
1 Hadith
50
(57) CHAPTER. The wearing of necklaces and Sikhab by the women.
زیور کے ہار اور خوشبو یا مشک کے ہار عورتیں پہن سکتی ہیں
1 Hadith
51
(58) CHAPTER. To borrow a necklace.
ایک عورت کا کسی دوسری عورت سے ہار عاریتاً لینا
1 Hadith
52
(59) CHAPTER. Ear-rings for women.
عورتوں کے لیے بالیاں پہننے کا بیان
1 Hadith
53
(60) CHAPTER. As-Sikhab (necklace formed of a string carrying beads) for boys.
بچوں کے گلوں میں ہار لٹکانا جائز ہے
1 Hadith
54
(61) CHAPTER. About those men who are in the similitude (assume the manners) of women, and those women who are in the similitude (assume the manners) of men.
عورتوں کا چال ڈھال اختیار کرنے والے مرد اور مردوں کی چال ڈھال اختیار کرنے والی عورتیں عنداللہ ملعون ہیں
1 Hadith
55
(62) CHAPTER. The dismissal of such men as are in the similitude (assume the manners) of women, from the houses.
زنانوں اورہیجڑوں کو جو عورتوں کی چال ڈھال اختیارکرتے ہیں گھر سے نکال دینا
2 Hadith
56
(63) CHAPTER. To cut short the moustaches.
مونچھوں کا کتروانا
2 Hadith
57
(64) CHAPTER. The clipping of nails.
ناخن ترشوانے کا بیان
4 Hadith
58
(66) CHAPTER. What is said about grey hair.
داڑھی کا چھوڑدینا
2 Hadith
59
(66) CHAPTER. What is said about grey hair.
بڑھاپے کا بیان
3 Hadith
60
(67) CHAPTER. The hair dye.
خضاب کابیان
1 Hadith
61
(68) CHAPTER. The curly hair.
گھونگھریالے بالوں کا بیان
14 Hadith
62
(69) CHAPTER. At-Talbid (to get the hair stuck together with a sticky substance).
خطمی ( یا گوند وغیرہ ) سے بالوں کو جمانا
3 Hadith
63
(70) CHAPTER. (Hair) parting.
( سر میں بیچوں بیچ بالوں میں ) مانگ نکالنا
2 Hadith
64
(71) CHAPTER. Locks of hair.
گیسوؤں کے بیان میں
1 Hadith
65
(72) CHAPTER. Al-Qaza (leaving a tuft of hair here and there after shaving one's head).
قزع یعنی کچھ سر منڈانا کچھ بال رکھنے کے بیان میں
2 Hadith
66
(73) CHAPTER. The application of perfume by the wife on her husband with her own hands.
عورت کا اپنے ہاتھ سے اپنے خاوند کو خوشبو لگانا
1 Hadith
67
(74) CHAPTER. To apply scent to the head and beard.
سر اور داڑھی میں خوشبو لگانا
2 Hadith
68
(76) CHAPTER. The combing of the hair of the husband by menstruating wife.
حائضہ عورت اپنے خاوند کے سرمیں کنگھی کر سکتی ہے
1 Hadith
69
(77) CHAPTER. To start combing the hair from the right side.
بالوں میں کنگھا کرنا
1 Hadith
70
(78) CHAPTER. What has mentioned about musk (a kind of perfume).
مشک کا بیان
1 Hadith
71
(79) CHAPTER. What kind of scent is recommended.
خوشبو لگانا مستحب ہے
1 Hadith
72
(80) CHAPTER. Whoever did not refuse the scent.
خوشبو کا پھیر دینا منع ہے
1 Hadith
73
(81) CHAPTER. Adh-Dharira (a kind of scent).
ذریرہ کا بیان
1 Hadith
74
(82) CHAPTER. Creating artificial spaces between the teeth to look beautiful.
حسن کے لیے جو عورتیں دانت کشادہ کرائیں
1 Hadith
75
(83) CHAPTER. The use of false hair.
بالوں میں الگ سے بناوٹی چٹیا لگانا اوردوسرے بال جوڑنا
7 Hadith
76
(84) CHAPTER. Ladies remove hair from the face, eye-brows etc.
چہرے پر سے روئیں اکھاڑنےوالیوں کا بیان
2 Hadith
77
(85) CHAPTER. The lady who lengthens hair artificially (by wearing false hair etc.).
جس عورت کے بالوں میں دوسرے کے بال جوڑے جائیں
3 Hadith
78
(86) CHAPTER. The woman who practises tattooing.
گودنے والی کے بارے میں
2 Hadith
79
(87) CHAPTER. The woman gets herself tattooed.
گدوانے والی عورت کی برائی کا بیان
3 Hadith
80
(88) CHAPTER. Pictures.
تصویر یں بنانے کے بیان میں
1 Hadith
81
(89) CHAPTER. The punishment for picture-makers on the Day of Resurrection.
مورتیں بنانے والوں پر قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ہوگا
2 Hadith
82
(90) CHAPTER. The obliteration of pictures.
تصویروں کو توڑ نے کے بیان میں
2 Hadith
83
(91) CHAPTER. (What about) pictures made on things that are to be trodden on (i.e., carpets, mats, etc.).
اگر مورتیں پاؤں کے تلے روندی جائیں تو ان کے رہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے
3 Hadith
84
(92) CHAPTER. Whoever disliked to sit on pictures.
اس شخص کی دلیل جس نے توشک اور تکیہ اور فرش پر جب اس پر تصویریں بنی ہوئی ہوں بیٹھنا مکروہ رکھا ہے
2 Hadith
85
(93) CHAPTER. It is disliked to offer Salat (prayer) wearing clothes with pictures.
جہاں تصویر ہو وہاں نماز پڑھنی مکروہ ہے
1 Hadith
86
(94) CHAPTER. Angels do not enter a house in which there are pictures.
فرشتیاس گھر میں نہیں جاتے جس میں مورتیں ہوں
1 Hadith
87
(95) CHAPTER. Whoever does not enter a house which has a picture in it.
جس گھر میں مورتیں ہوں وہاں نہ جانا
1 Hadith
88
(96) CHAPTER. Whoever cursed a picture-maker.
مورت بنانے والے پر لعنت ہونا
1 Hadith
89
(97) CHAPTER. Whoever makes a picture will be asked to put life into it on the Day of Resurrection, but he will not be able to do so.
جو مورت بنائے گا اس پر قیامت کے دن زور ڈالا جائے گا کہ اسے زندہ بھی کرے حالانکہ وہ زندہ نہیں کر سکتا ہے
1 Hadith
90
(98) CHAPTER. To ride behind a rider as a companion-rider on an animal.
جانور پر کسی کو اپنے پیچھے بٹھالینا
1 Hadith
91
(99) CHAPTER. Three (riders) on one animal.
ایک جانور سواری پر تین آدمیوں کا سوار ہونا
1 Hadith
92
(100) CHAPTER. The mounting of the owner of animal and somebody else in front of him.
جانور کے مالک کا دوسرے کو سواری پر اپنے آگے بٹھانا جائز ہے
1 Hadith
93
(101) CHAPTER. To mount a man behind another man on an animal (as a companion-rider).
ایک مرد دوسرے مرد کے پیچھے ایک سواری پر بیٹھ سکتا ہے
1 Hadith
94
(102) CHAPTER. To mount a woman behind a man who is Dha-Mahram.
جانور پر عورت کا مرد کے پیچھے بیٹھنا جائز ہے
1 Hadith
95
(103) CHAPTER. To put one leg on the other while lying down.
چت لیٹ کر ایک پاؤں کا دوسرے پاؤں پر رکھنا
1 Hadith
No chapter matched that.