TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-adab (good manners). - کتاب اخلاق کے بیان میں - Book 79 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 79 of Sahih Bukhari, with 125 chapters and 257 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

257 Hadith · 125 Chapters
(60) CHAPTER. (It is recommended that) a believer should conceal what sins he may commit.
مومن کا پنے ( عیب ) پر پردہ ڈالنا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى ؟ قَالَ : يَدْنُو أَحَدُكُمْ مِنْ رَبِّهِ حَتَّى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ ، فَيَقُولُ : عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ : نَعَمْ ، وَيَقُولُ : عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُقَرِّرُهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : إِنِّي سَتَرْتُ عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ .
Narrated Safwan bin Muhriz: A man asked Ibn `Umar, What did you hear Allah's Apostle saying regarding An-Najwa (secret talk between Allah and His believing worshipper on the Day of Judgment)? He said, (The Prophet said), One of you will come close to his Lord till He will shelter him in His screen and say: Did you commit such-and-such sin? He will say, 'Yes.' Then Allah will say: Did you commit such and such sin? He will say, 'Yes.' So Allah will make him confess (all his sins) and He will say, 'I screened them (your sins) for you in the world, and today I forgive them for you. '
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے صفوان بن محرز سے کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کانا پھوسی کے بارے میں کیا سنا ہے؟ ( یعنی سرگوشی کے بارے میں ) انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ( قیامت کے دن تم مسلمانوں ) میں سے ایک شخص ( جو گنہگار ہو گا ) اپنے پروردگار سے نزدیک ہو جائے گا۔ پروردگار اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور فرمائے گا تو نے ( فلاں دن دنیا میں ) یہ یہ برے کام کئے تھے، وہ عرض کرے گا۔ بیشک ( پروردگار مجھ سے خطائیں ہوئی ہیں پر تو غفور رحیم ہے ) غرض ( سارے گناہوں کا ) اس سے ( پہلے ) اقرار کرا لے گا پھر فرمائے گا دیکھ میں نے دنیا میں تیرے گناہ چھپائے رکھے تو آج میں ان گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔
6070
Sahih
(61) CHAPTER. Pride and arrogance.
تکبر کے بارے میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ، كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَاعِفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ، كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ .
Narrated Haritha bin Wahb: Al-Khuzai: The Prophet said, Shall I inform you about the people of Paradise? They comprise every obscure unimportant humble person, and if he takes Allah's Oath that he will do that thing, Allah will fulfill his oath (by doing that). Shall I inform you about the people of the Fire? They comprise every cruel, violent, proud and conceited person.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے معبد بن خالد قیسی نے بیان کیا، ان سے حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت والوں کی خبر نہ دوں۔ ہر کمزور و تواضع کرنے والا اگر وہ ( اللہ کا نام لے کر ) قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم پوری کر دے۔ کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں ہر تند خو، اکڑ کر چلنے والا اور متکبر۔
6071
Sahih
(61) CHAPTER. Pride and arrogance.
تکبر کے بارے میں
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ .
Anas bin Malik said, Any of the female slaves of Medina could take hold of the hand of Allah's Apostle and take him wherever she wished.
اور محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی، کہا ہم سے انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا یہ حال تھا کہ ایک لونڈی مدینہ کی لونڈیوں میں سے آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی تھی۔
6072
Sahih
(62) CHAPTER. Al-Hijra [(to desert or) cut one's relation with another Muslim (i.e., not to speak to him on meeting him)].
ترک ملاقات کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ الطُّفَيْلِ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا ، أَنَّ عَائِشَةَ ، حُدِّثَتْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ : وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَهُوَ قَالَ هَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَتْ : هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا ، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتِ الْهِجْرَةُ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَبَدًا وَلَا أَتَحَنَّثُ إِلَى نَذْرِي ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ ، وَقَالَ لَهُمَا : أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ لَمَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ ، فَإِنَّهَا لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي ، فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مُشْتَمِلَيْنِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَا : السَّلَامُ عَلَيْكِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، أَنَدْخُلُ ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ : ادْخُلُوا قَالُوا : كُلُّنَا قَالَتْ : نَعَم ادْخُلُوا كُلُّكُمْ ، وَلَا تَعْلَمُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ ، فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي ، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِهَا إِلَّا مَا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ ، وَيَقُولَانِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمَا نَذْرَهَا وَتَبْكِي وَتَقُولُ : إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ ، فَلَمْ يَزَالَا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً ، وَكَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَتَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) that she was told that `Abdullah bin Az-Zubair (on hearing that she was selling or giving something as a gift) said, By Allah, if `Aisha does not give up this, I will declare her incompetent to dispose of her wealth. I said, Did he (`Abdullah bin Az-Zubair) say so? They (people) said, Yes. `Aisha said, I vow to Allah that I will never speak to Ibn Az-Zubair. When this desertion lasted long, `Abdullah bin Az-Zubair sought intercession with her, but she said, By Allah, I will not accept the intercession of anyone for him, and will not commit a sin by breaking my vow. When this state of affairs was prolonged on Ibn Az-Zubair (he felt it hard on him), he said to Al- Miswar bin Makhrama and `Abdur-Rahman bin Al-Aswad bin 'Abu Yaghuth, who were from the tribe of Bani Zahra, I beseech you, by Allah, to let me enter upon `Aisha, for it is unlawful for her to vow to cut the relation with me. So Al-Miswar and `Abdur-Rahman, wrapping their sheets around themselves, asked `Aisha's permission saying, Peace and Allah's Mercy and Blessings be upon you! Shall we come in? `Aisha said, Come in. They said, All of us? She said, Yes, come in all of you, not knowing that Ibn Az- Zubair was also with them. So when they entered, Ibn Az-Zubair entered the screened place and got hold of `Aisha and started requesting her to excuse him, and wept. Al-Miswar and `Abdur Rahman also started requesting her to speak to him and to accept his repentance. They said (to her), The Prophet forbade what you know of deserting (not speaking to your Muslim Brethren), for it is unlawful for any Muslim not to talk to his brother for more than three nights (days). So when they increased their reminding her (of the superiority of having good relation with Kith and kin, and of excusing others' sins), and brought her down to a critical situation, she started reminding them, and wept, saying, I have made a vow, and (the question of) vow is a difficult one. They (Al-Miswar and `Abdur-Rahman) persisted in their appeal till she spoke with `Abdullah bin Az- Zubair and she manumitted forty slaves as an expiation for her vow. Later on, whenever she remembered her vow, she used to weep so much that her veil used to become wet with her tears.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے، کہا مجھ سے عوف بن مالک بن طفیل نے بیان کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادری بھتیجے تھے، انہوں نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کوئی چیز بھیجی یا خیرات کی تو عبداللہ بن زبیر جو ان کے بھانجے تھے کہنے لگے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایسے معاملوں سے باز رہنا چاہیئے نہیں تو اللہ کی قسم میں ان کے لیے حجر کا حکم جاری کر دوں گا۔ ام المؤمنین نے کہا کیا اس نے یہ الفاظ کہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں۔ فرمایا پھر میں اللہ سے نذر کرتی ہوں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے اب کبھی نہیں بولوں گی۔ اس کے بعد جب ان کے قطع تعلقی پر عرصہ گزر گیا۔ تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ان سے سفارش کی گئی ( کہ انہیں معاف فرما دیں ) ام المؤمنین نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بارے میں کوئی سفارش نہیں مانوں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔ جب یہ قطعی تعلق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گئی تو انہوں نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہم سے اس سلسلے میں بات کی وہ دونوں بنی زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کسی طرح تم لوگ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں داخل کرا دو کیونکہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کو توڑنے کی قسم کھائیں چنانچہ مسور اور عبدالرحمٰن دونوں اپنی چادروں میں لپٹے ہوئے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اس میں ساتھ لے کر آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور عرض کی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا آ جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا ہم سب؟ کہا ہاں، سب آ جاؤ۔ ام المؤمنین کو اس کا علم نہیں تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جب یہ اندر گئے تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پردہ ہٹا کر اندر چلے گئے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے لپٹ کر اللہ کا واسطہ دینے لگے اور رونے لگے ( کہ معاف کر دیں، یہ ام المؤمنین کے بھانجے تھے ) مسور اور عبدالرحمٰن بھی ام المؤمنین کو اللہ کا واسطہ دینے لگے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بولیں اور انہیں معاف کر دیں ان حضرات نے یہ بھی عرض کیا کہ جیسا کہ تم کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلق توڑنے سے منع کیا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ والی حدیث یاد دلانے لگے اور یہ کہ اس میں نقصان ہے تو ام المؤمنین بھی انہیں یاد دلانے لگیں اور رونے لگیں اور فرمانے لگیں کہ میں نے تو قسم کھا لی ہے؟ اور قسم کا معاملہ سخت ہے لیکن یہ بزرگ لوگ برابر کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ ام المؤمنین نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی قسم ( توڑنے ) کی وجہ سے چالیس غلام آزاد کئے۔ اس کے بعد جب بھی آپ یہ قسم یاد کرتیں تو رونے لگتیں اور آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔
6073
Sahih
(62) CHAPTER. Al-Hijra [(to desert or) cut one's relation with another Muslim (i.e., not to speak to him on meeting him)].
ترک ملاقات کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ الطُّفَيْلِ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا ، أَنَّ عَائِشَةَ ، حُدِّثَتْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ : وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَهُوَ قَالَ هَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَتْ : هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا ، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتِ الْهِجْرَةُ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَبَدًا وَلَا أَتَحَنَّثُ إِلَى نَذْرِي ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ ، وَقَالَ لَهُمَا : أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ لَمَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ ، فَإِنَّهَا لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي ، فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مُشْتَمِلَيْنِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَا : السَّلَامُ عَلَيْكِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، أَنَدْخُلُ ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ : ادْخُلُوا قَالُوا : كُلُّنَا قَالَتْ : نَعَم ادْخُلُوا كُلُّكُمْ ، وَلَا تَعْلَمُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ ، فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي ، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِهَا إِلَّا مَا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ ، وَيَقُولَانِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمَا نَذْرَهَا وَتَبْكِي وَتَقُولُ : إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ ، فَلَمْ يَزَالَا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً ، وَكَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَتَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) that she was told that `Abdullah bin Az-Zubair (on hearing that she was selling or giving something as a gift) said, By Allah, if `Aisha does not give up this, I will declare her incompetent to dispose of her wealth. I said, Did he (`Abdullah bin Az-Zubair) say so? They (people) said, Yes. `Aisha said, I vow to Allah that I will never speak to Ibn Az-Zubair. When this desertion lasted long, `Abdullah bin Az-Zubair sought intercession with her, but she said, By Allah, I will not accept the intercession of anyone for him, and will not commit a sin by breaking my vow. When this state of affairs was prolonged on Ibn Az-Zubair (he felt it hard on him), he said to Al- Miswar bin Makhrama and `Abdur-Rahman bin Al-Aswad bin 'Abu Yaghuth, who were from the tribe of Bani Zahra, I beseech you, by Allah, to let me enter upon `Aisha, for it is unlawful for her to vow to cut the relation with me. So Al-Miswar and `Abdur-Rahman, wrapping their sheets around themselves, asked `Aisha's permission saying, Peace and Allah's Mercy and Blessings be upon you! Shall we come in? `Aisha said, Come in. They said, All of us? She said, Yes, come in all of you, not knowing that Ibn Az- Zubair was also with them. So when they entered, Ibn Az-Zubair entered the screened place and got hold of `Aisha and started requesting her to excuse him, and wept. Al-Miswar and `Abdur Rahman also started requesting her to speak to him and to accept his repentance. They said (to her), The Prophet forbade what you know of deserting (not speaking to your Muslim Brethren), for it is unlawful for any Muslim not to talk to his brother for more than three nights (days). So when they increased their reminding her (of the superiority of having good relation with Kith and kin, and of excusing others' sins), and brought her down to a critical situation, she started reminding them, and wept, saying, I have made a vow, and (the question of) vow is a difficult one. They (Al-Miswar and `Abdur-Rahman) persisted in their appeal till she spoke with `Abdullah bin Az- Zubair and she manumitted forty slaves as an expiation for her vow. Later on, whenever she remembered her vow, she used to weep so much that her veil used to become wet with her tears.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے، کہا مجھ سے عوف بن مالک بن طفیل نے بیان کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادری بھتیجے تھے، انہوں نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کوئی چیز بھیجی یا خیرات کی تو عبداللہ بن زبیر جو ان کے بھانجے تھے کہنے لگے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایسے معاملوں سے باز رہنا چاہیئے نہیں تو اللہ کی قسم میں ان کے لیے حجر کا حکم جاری کر دوں گا۔ ام المؤمنین نے کہا کیا اس نے یہ الفاظ کہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں۔ فرمایا پھر میں اللہ سے نذر کرتی ہوں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے اب کبھی نہیں بولوں گی۔ اس کے بعد جب ان کے قطع تعلقی پر عرصہ گزر گیا۔ تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ان سے سفارش کی گئی ( کہ انہیں معاف فرما دیں ) ام المؤمنین نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بارے میں کوئی سفارش نہیں مانوں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔ جب یہ قطعی تعلق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گئی تو انہوں نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہم سے اس سلسلے میں بات کی وہ دونوں بنی زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کسی طرح تم لوگ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں داخل کرا دو کیونکہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کو توڑنے کی قسم کھائیں چنانچہ مسور اور عبدالرحمٰن دونوں اپنی چادروں میں لپٹے ہوئے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اس میں ساتھ لے کر آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور عرض کی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا آ جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا ہم سب؟ کہا ہاں، سب آ جاؤ۔ ام المؤمنین کو اس کا علم نہیں تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جب یہ اندر گئے تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پردہ ہٹا کر اندر چلے گئے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے لپٹ کر اللہ کا واسطہ دینے لگے اور رونے لگے ( کہ معاف کر دیں، یہ ام المؤمنین کے بھانجے تھے ) مسور اور عبدالرحمٰن بھی ام المؤمنین کو اللہ کا واسطہ دینے لگے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بولیں اور انہیں معاف کر دیں ان حضرات نے یہ بھی عرض کیا کہ جیسا کہ تم کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلق توڑنے سے منع کیا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ والی حدیث یاد دلانے لگے اور یہ کہ اس میں نقصان ہے تو ام المؤمنین بھی انہیں یاد دلانے لگیں اور رونے لگیں اور فرمانے لگیں کہ میں نے تو قسم کھا لی ہے؟ اور قسم کا معاملہ سخت ہے لیکن یہ بزرگ لوگ برابر کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ ام المؤمنین نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی قسم ( توڑنے ) کی وجہ سے چالیس غلام آزاد کئے۔ اس کے بعد جب بھی آپ یہ قسم یاد کرتیں تو رونے لگتیں اور آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔
6074
Sahih
(62) CHAPTER. Al-Hijra [(to desert or) cut one's relation with another Muslim (i.e., not to speak to him on meeting him)].
ترک ملاقات کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ الطُّفَيْلِ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا ، أَنَّ عَائِشَةَ ، حُدِّثَتْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ : وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَهُوَ قَالَ هَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَتْ : هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا ، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتِ الْهِجْرَةُ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَبَدًا وَلَا أَتَحَنَّثُ إِلَى نَذْرِي ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ ، وَقَالَ لَهُمَا : أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ لَمَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ ، فَإِنَّهَا لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي ، فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مُشْتَمِلَيْنِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَا : السَّلَامُ عَلَيْكِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، أَنَدْخُلُ ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ : ادْخُلُوا قَالُوا : كُلُّنَا قَالَتْ : نَعَم ادْخُلُوا كُلُّكُمْ ، وَلَا تَعْلَمُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ ، فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي ، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِهَا إِلَّا مَا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ ، وَيَقُولَانِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمَا نَذْرَهَا وَتَبْكِي وَتَقُولُ : إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ ، فَلَمْ يَزَالَا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً ، وَكَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَتَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) that she was told that `Abdullah bin Az-Zubair (on hearing that she was selling or giving something as a gift) said, By Allah, if `Aisha does not give up this, I will declare her incompetent to dispose of her wealth. I said, Did he (`Abdullah bin Az-Zubair) say so? They (people) said, Yes. `Aisha said, I vow to Allah that I will never speak to Ibn Az-Zubair. When this desertion lasted long, `Abdullah bin Az-Zubair sought intercession with her, but she said, By Allah, I will not accept the intercession of anyone for him, and will not commit a sin by breaking my vow. When this state of affairs was prolonged on Ibn Az-Zubair (he felt it hard on him), he said to Al- Miswar bin Makhrama and `Abdur-Rahman bin Al-Aswad bin 'Abu Yaghuth, who were from the tribe of Bani Zahra, I beseech you, by Allah, to let me enter upon `Aisha, for it is unlawful for her to vow to cut the relation with me. So Al-Miswar and `Abdur-Rahman, wrapping their sheets around themselves, asked `Aisha's permission saying, Peace and Allah's Mercy and Blessings be upon you! Shall we come in? `Aisha said, Come in. They said, All of us? She said, Yes, come in all of you, not knowing that Ibn Az- Zubair was also with them. So when they entered, Ibn Az-Zubair entered the screened place and got hold of `Aisha and started requesting her to excuse him, and wept. Al-Miswar and `Abdur Rahman also started requesting her to speak to him and to accept his repentance. They said (to her), The Prophet forbade what you know of deserting (not speaking to your Muslim Brethren), for it is unlawful for any Muslim not to talk to his brother for more than three nights (days). So when they increased their reminding her (of the superiority of having good relation with Kith and kin, and of excusing others' sins), and brought her down to a critical situation, she started reminding them, and wept, saying, I have made a vow, and (the question of) vow is a difficult one. They (Al-Miswar and `Abdur-Rahman) persisted in their appeal till she spoke with `Abdullah bin Az- Zubair and she manumitted forty slaves as an expiation for her vow. Later on, whenever she remembered her vow, she used to weep so much that her veil used to become wet with her tears.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے، کہا مجھ سے عوف بن مالک بن طفیل نے بیان کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادری بھتیجے تھے، انہوں نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کوئی چیز بھیجی یا خیرات کی تو عبداللہ بن زبیر جو ان کے بھانجے تھے کہنے لگے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایسے معاملوں سے باز رہنا چاہیئے نہیں تو اللہ کی قسم میں ان کے لیے حجر کا حکم جاری کر دوں گا۔ ام المؤمنین نے کہا کیا اس نے یہ الفاظ کہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں۔ فرمایا پھر میں اللہ سے نذر کرتی ہوں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے اب کبھی نہیں بولوں گی۔ اس کے بعد جب ان کے قطع تعلقی پر عرصہ گزر گیا۔ تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ان سے سفارش کی گئی ( کہ انہیں معاف فرما دیں ) ام المؤمنین نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بارے میں کوئی سفارش نہیں مانوں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔ جب یہ قطعی تعلق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گئی تو انہوں نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہم سے اس سلسلے میں بات کی وہ دونوں بنی زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کسی طرح تم لوگ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں داخل کرا دو کیونکہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کو توڑنے کی قسم کھائیں چنانچہ مسور اور عبدالرحمٰن دونوں اپنی چادروں میں لپٹے ہوئے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اس میں ساتھ لے کر آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور عرض کی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا آ جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا ہم سب؟ کہا ہاں، سب آ جاؤ۔ ام المؤمنین کو اس کا علم نہیں تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جب یہ اندر گئے تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پردہ ہٹا کر اندر چلے گئے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے لپٹ کر اللہ کا واسطہ دینے لگے اور رونے لگے ( کہ معاف کر دیں، یہ ام المؤمنین کے بھانجے تھے ) مسور اور عبدالرحمٰن بھی ام المؤمنین کو اللہ کا واسطہ دینے لگے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بولیں اور انہیں معاف کر دیں ان حضرات نے یہ بھی عرض کیا کہ جیسا کہ تم کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلق توڑنے سے منع کیا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ والی حدیث یاد دلانے لگے اور یہ کہ اس میں نقصان ہے تو ام المؤمنین بھی انہیں یاد دلانے لگیں اور رونے لگیں اور فرمانے لگیں کہ میں نے تو قسم کھا لی ہے؟ اور قسم کا معاملہ سخت ہے لیکن یہ بزرگ لوگ برابر کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ ام المؤمنین نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی قسم ( توڑنے ) کی وجہ سے چالیس غلام آزاد کئے۔ اس کے بعد جب بھی آپ یہ قسم یاد کرتیں تو رونے لگتیں اور آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔
6075
Sahih
(62) CHAPTER. Al-Hijra [(to desert or) cut one's relation with another Muslim (i.e., not to speak to him on meeting him)].
ترک ملاقات کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle said, Do not hate one another, nor be jealous of one another; and do not desert one another, but O Allah's worshipers! Be Brothers! And it is unlawful for a Muslim to desert his brother Muslim (and not to talk to him) for more than three nights.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا انہیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپس میں بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ تک بات چیت بند کرے۔“
6076
Sahih
(62) CHAPTER. Al-Hijra [(to desert or) cut one's relation with another Muslim (i.e., not to speak to him on meeting him)].
ترک ملاقات کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ .
Narrated Abu Aiyub Al-Ansari: Allah's Apostle said, It is not lawful for a man to desert his brother Muslim for more than three nights. (It is unlawful for them that) when they meet, one of them turns his face away from the other, and the other turns his face from the former, and the better of the two will be the one who greets the other first.
ہم سے عبدالرحمٰن بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عطاء بن یزید لیثی نے اور انہیں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لیے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہو جائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔“
6077
Sahih
(63) CHAPTER. The desertion of a sinful person (disobedient to Allah and His Messenger ).
نافرمانی کرنے والے سے تعلق توڑنے کا جواز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَأَعْرِفُ غَضَبَكِ وَرِضَاكِ قَالَتْ : قُلْتُ : وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : إِنَّكِ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ : بَلَى وَرَبِّ مُحَمَّدٍ ، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ : لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : أَجَلْ لَسْتُ أُهَاجِرُ إِلَّا اسْمَكَ .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle said, I know whether you are angry or pleased. I said, How do you know that, Allah's Apostle? He said, When you are pleased, you say, Yes, by the Lord of Muhammad,' but when you are angry, you say, 'No, by the Lord of Abraham!' I said, Yes, I do not leave, except your name.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں تمہاری ناراضگی اور خوشی کو خوب پہچانتا ہوں۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کس طرح سے پہچانتے ہیں؟ فرمایا کہ جب تم خوش ہوتی ہو کہتی ہو، ہاں محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: جی ہاں , آپ کا فرمانا بالکل صحیح ہے میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں۔
6078
Sahih
(64) CHAPTER. May a person visit his friend daily, or visit him in the morning and in the evening?
کیا اپنے ساتھی کی ملاقات کے لئے ہر دن جا سکتا ہے یا صبح اور شام ہی کے اوقات میں جائے
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْهِمَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْرٌ ، قَالَ : إِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي بِالْخُرُوجِ .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) I do not remember my parents believing in any religion other than the Religion (of Islam), and our being visited by Allah's Apostle in the morning and in the evening. One day, while we were sitting in the house of Abu Bakr (my father) at noon, someone said, 'This is Allah's Apostle coming at an hour at which he never used to visit us.' Abu Bakr said, 'There must be something very urgent that has brought him at this hour.' The Prophet said, 'I have been allowed to go out (of Mecca) to migrate.'
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، ان سے زہری نے (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین اسلام کا پیرو پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس صبح و شام تشریف نہ لاتے ہوں، ایک دن ابوبکر رضی اللہ عنہ ( والد ماجد ) گھر میں بھری دوپہر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، یہ ایسا وقت تھا کہ اس وقت ہمارے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا معمول نہیں تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا کسی خاص وجہ ہی سے ہو سکتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے مکہ چھوڑنے کی اجازت مل گئی ہے۔
6079
Sahih
(65) CHAPTER. The paying of a visit. And whoever visited some people and ate in their houses.
ملاقات کے لئے جانا اور جو لوگوں سے ملنے گیا اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا تو یہ جائز ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ طَعَامًا ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَمَرَ بِمَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَنُضِحَ لَهُ عَلَى بِسَاطٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُمْ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle visited a household among the Ansars, and he took a meal with them. When he intended to leave, he asked for a place in that house for him, to pray so a mat sprinkled with water was put and he offered prayer over it, and invoked for Allah's Blessing upon them (his hosts).
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں انس بن سیرین نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے گھرانہ میں ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا، جب آپ واپس تشریف لانے لگے تو آپ کے حکم سے ایک چٹائی پر پانی چھڑکا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور گھر والوں کے لیے دعا کی۔
6080
Sahih
(66) CHAPTER. Whoever spruced himself up for the delegates.
جس نے لوگوں سے ملاقات کے لیے خوبصورتی اپنائی
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ لِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : مَا الْإِسْتَبْرَقُ ؟ قُلْتُ : مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ : رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِ هَذِهِ فَالْبَسْهَا لِوَفْدِ النَّاسِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فَمَضَى مِنْ ذَلِكَ مَا مَضَى ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيْهِ بِحُلَّةٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ فِي مِثْلِهَا مَا قُلْتَ ، قَالَ : إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ لِهَذَا الْحَدِيثِ .
Narrated `Abdullah: `Umar saw a silken cloak over a man (for sale) so he took it to the Prophet and said, 'O Allah's Apostle! Buy this and wear it when the delegate come to you.' He said, 'The silk is worn by one who will have no share (in the Here-after).' Some time passed after this event, and then the Prophet sent a (similar) cloak to him. `Umar brought that cloak back to the Prophet and said, 'You have sent this to me, and you said about a similar one what you said?' The Prophet said, 'I have sent it to you so that you may get money by selling it.' Because of this, Ibn `Umar used to hate the silken markings on the garments.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے، کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے پوچھا کہ «إستبرق» کیا چیز ہے؟ میں نے کہا کہ دیبا سے بنا ہوا دبیز اور کھردرا کپڑا پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو استبرق کا جوڑا پہنے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے آپ خرید لیں اور وفد جب آپ سے ملاقات کے لیے آئیں تو ان کی ملاقات کے وقت اسے پہن لیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ریشم تو وہی پہن سکتا ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو خیر اس بات پر ایک مدت گزر گئی پھر ایسا ہوا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انہیں ایک جوڑا بھیجا تو وہ اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ نے یہ جوڑا میرے لیے بھیجا ہے، حالانکہ اس کے بارے میں آپ اس سے پہلے ایسا ارشاد فرما چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ ( بیچ کر ) مال حاصل کرو۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اسی حدیث کی وجہ سے کپڑے میں ( ریشم کے ) بیل بوٹوں کو بھی مکروہ جانتے تھے۔
6081
Sahih
(67) CHAPTER. The establishment of a bond of brotherhood and the conclusion of a treaty.
کسی سے بھائی چارہ اور دوستی کا اقرار کرنا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ .
Narrated Anas: When `Abdur-Rahman came to us, the Prophet established a bond of brotherhood between him and Sa`d bin Ar-Rabi`. Once the Prophet said, As you (O `Abdur-Rahman) have married, give a wedding banquet even if with one sheep.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف ہمارے یہاں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور سعد بن ربیع میں بھائی چارگی کرائی تو پھر ( جب عبدالرحمٰن بن عوف نے نکاح کیا تو ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ولیمہ کر خواہ ایک بکری کا ہو۔
6082
Sahih
(67) CHAPTER. The establishment of a bond of brotherhood and the conclusion of a treaty.
کسی سے بھائی چارہ اور دوستی کا اقرار کرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ : قَدْ حَالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي .
Narrated `Asim: I said to Anas bin Malik, Did it reach you that the Prophet said, There is no treaty of brotherhood in Islam'? Anas said, The Prophet made a treaty (of brotherhood) between the Ansar and the Quraish in my home.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان احول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا تم کو یہ بات معلوم ہے کہ ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان احول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا تم کو یہ بات معلوم ہے کہ
6083
Sahih
(68) CHAPTER. (What is said about) smiling and laughing.
مسکرانا اور ہنسنا
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلَاقَهَا فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ ، لِهُدْبَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ جِلبابهَا ، قَالَ : وَأَبُو بَكْرٍ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بباب الْحُجْرَةِ لِيُؤْذَنَ لَهُ ، فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ ، يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّبَسُّمِ ، ثُمَّ قَالَ : لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ ، لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ .
Narrated `Aisha: Rifa`a Al-Qurazi divorced his wife irrevocably (i.e. that divorce was the final). Later on `Abdur- Rahman bin Az-Zubair married her after him. She came to the Prophet and said, O Allah's Apostle! I was Rifa`a's wife and he divorced me thrice, and then I was married to `Abdur-Rahman bin AzZubair, who, by Allah has nothing with him except something like this fringe, O Allah's Apostle, showing a fringe she had taken from her covering sheet. Abu Bakr was sitting with the Prophet while Khalid Ibn Sa`id bin Al-As was sitting at the gate of the room waiting for admission. Khalid started calling Abu Bakr, O Abu Bakr! Why don't you reprove this lady from what she is openly saying before Allah's Apostle? Allah's Apostle did nothing except smiling, and then said (to the lady), Perhaps you want to go back to Rifa`a? No, (it is not possible), unless and until you enjoy the sexual relation with him (`Abdur Rahman), and he enjoys the sexual relation with you.
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور طلاق رجعی نہیں دی۔ اس کے بعد ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نکاح کر لیا، لیکن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں رفاعہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی لیکن انہوں نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ پھر مجھ سے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نکاح کر لیا، لیکن اللہ کی قسم ان کے پاس تو پلو کی طرح کے سوا اور کچھ نہیں۔ ( مراد یہ کہ وہ نامرد ہیں ) اور انہوں نے اپنے چادر کا پلو پکڑ کر بتایا ( راوی نے بیان کیا کہ ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور سعید بن العاص کے لڑکے خالد حجرہ کے دروازے پر تھے اور اندر داخل ہونے کی اجازت کے منتظر تھے۔ خالد بن سعید اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز دے کر کہنے لگے کہ آپ اس عورت کو ڈانتے نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس طرح کی بات کہتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ پھر فرمایا، غالباً تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک تم ان کا ( عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کا ) مزا نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لیں۔
6084
Sahih
(68) CHAPTER. (What is said about) smiling and laughing.
مسکرانا اور ہنسنا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسْأَلْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ عَلَى صَوْتِهِ ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ ، فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ ، فَقَالَ : أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، فَقَالَ : عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي لَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَقَالَ : أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ ، فَقَالَ : يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَمْ تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَ إِنَّكَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ .
Narrated Sa`d: `Umar bin Al-Khattab asked permission of Allah's Apostle to see him while some Quraishi women were sitting with him and they were asking him to give them more financial support while raising their voices over the voice of the Prophet. When `Umar asked permission to enter, all of them hurried to screen themselves the Prophet admitted `Umar and he entered, while the Prophet was smiling. `Umar said, May Allah always keep you smiling, O Allah's Apostle! Let my father and mother be sacrificed for you ! The Prophet said, I am astonished at these women who were with me. As soon as they heard your voice, they hastened to screen themselves. `Umar said, You have more right, that they should be afraid of you, O Allah's Apostle! And then he (`Umar) turned towards them and said, O enemies of your souls! You are afraid of me and not of Allah's Apostle? The women replied, Yes, for you are sterner and harsher than Allah's Apostle. Allah's Apostle said, O Ibn Al-Khattab! By Him in Whose Hands my life is, whenever Satan sees you taking a way, he follows a way other than yours!
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب نے، ان سے محمد بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی کئی بیویاں جو قریش سے تعلق رکھتی تھیں آپ سے خرچ دینے کے لیے تقاضا کر رہی تھیں اور اونچی آواز میں باتیں کر رہی تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو وہ جلدی سے بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور وہ داخل ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہنس رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ آپ کو خوش رکھے، یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر مجھے حیرت ہوئی، جو ابھی میرے پاس تقاضا کر رہی تھیں، جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو فوراً بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ سے ڈرا جائے، پھر عورتوں کو مخاطب کر کے انہوں نے کہا، اپنی جانوں کی دشمن! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو او اللہ کے رسول سے نہیں ڈرتیں۔ انہوں نے عرض کیا: آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان بھی تمہیں راستے پر آتا ہوا دیکھے گا تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلا جائے گا۔
6085
Sahih
(68) CHAPTER. (What is said about) smiling and laughing.
مسکرانا اور ہنسنا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفِ قَالَ : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا نَبْرَحُ أَوْ نَفْتَحَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ قَالَ : فَغَدَوْا فَقَاتَلُوهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا وَكَثُرَ فِيهِمُ الْجِرَاحَاتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ : فَسَكَتُوا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِالْخَبَرِ كُلِّهِ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: When Allah Apostle was in Ta'if (trying to conquer it), he said to his companions, Tomorrow we will return (to Medina), if Allah wills. Some of the companions of Allah's Apostle said, We will not leave till we conquer it. The Prophet said, Therefore, be ready to fight tomorrow. On the following day, they (Muslims) fought fiercely (with the people of Ta'if) and suffered many wounds. Then Allah's Apostle said, Tomorrow we will return (to Medina), if Allah wills. His companions kept quiet this time. Allah's Apostle then smiled.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس سائب نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے ( فتح مکہ کے بعد ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہاں سے کل واپس ہوں گے۔ آپ کے بعض صحابہ نے کہا کہ ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک اسے فتح نہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہی بات ہے تو کل صبح لڑائی کرو۔ بیان کیا کہ دوسرے دن صبح کو صحابہ نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور بکثرت صحابہ زخمی ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس ہوں گے۔ بیان کیا کہ اب سب لوگ خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے پوری سند «خبر‏.» کے لفظ کے ساتھ بیان کی۔
6086
Sahih
(68) CHAPTER. (What is said about) smiling and laughing.
مسکرانا اور ہنسنا
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : هَلَكْتُ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ : لَيْسَ لِي ، قَالَ : فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، قَالَ : لَا أَجِدُ ، فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : الْعَرَقُ الْمِكْتَلُ ، فَقَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ ؟ تَصَدَّقْ بِهَا قَالَ : عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي ، وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ : فَأَنْتُمْ إِذًا .
Narrated Abu Huraira: A man came to the Prophet and said, I have been ruined for I have had sexual relation with my wife in Ramadan (while I was fasting) The Prophet said (to him), Manumit a slave. The man said, I cannot afford that. The Prophet said, (Then) fast for two successive months continuously . The man said, I cannot do that. The Prophet said, (Then) feed sixty poor persons. The man said, I have nothing (to feed them with). Then a big basket full of dates was brought to the Prophet. The Prophet said, Where is the questioner? Go and give this in charity. The man said, (Shall I give this in charity) to a poorer person than l? By Allah, there is no family in between these two mountains (of Medina) who are poorer than we. The Prophet then smiled till his premolar teeth became visible, and said, Then (feed) your (family with it).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں تو تباہ ہو گیا اپنی بیوی کے ساتھ رمضان میں ( روزہ کی حالت میں ) ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس کوئی غلام نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے کے روزے رکھ۔ انہوں نے عرض کیا: اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اتنا بھی میرے پاس نہیں ہے۔ بیان کیا کہ پھر کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ «عرق» ایک طرح کا ( نو کلوگرام کا ) ایک پیمانہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ لو اسے صدقہ کر دینا۔ انہوں نے عرض کیا مجھ سے جو زیادہ محتاج ہو اسے دوں؟ اللہ کی قسم! مدینہ کے دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ بھی ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے اور آپ کے سامنے کے دندان مبارک کھل گئے، اس کے بعد فرمایا کہ اچھا پھر تو تم میاں بیوی ہی اسے کھا لو۔
6087
Sahih
(68) CHAPTER. (What is said about) smiling and laughing.
مسکرانا اور ہنسنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً ، قَالَ أَنَسٌ : فَنَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ .
Narrated Anas bin Malik: While I was going along with Allah's Apostle who was wearing a Najrani Burd (sheet) with a thick border, a bedouin overtook the Prophet and pulled his Rida' (sheet) forcibly. I looked at the side of the shoulder of the Prophet and noticed that the edge of the Rida' had left a mark on it because of the violence of his pull. The bedouin said, O Muhammad! Order for me some of Allah's property which you have. The Prophet turned towards him, (smiled) and ordered that he be given something.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ ابن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا۔ آپ کے جسم پر ایک نجرانی چادر تھی، جس کا حاشیہ موٹا تھا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانے کو دیکھا کہ زور سے کھینچنے کی وجہ سے، اس پر نشان پڑ گئے۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے دیئے جانے کا حکم فرمایئے۔ اس وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مڑ کر دیکھا تو آپ مسکرا دیئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیئے جانے کا حکم فرمایا۔
6088
Sahih
(68) CHAPTER. (What is said about) smiling and laughing.
مسکرانا اور ہنسنا
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي .
Narrated Jarir: The Prophet did not screen himself from me (had never prevented me from entering upon him) since I embraced Islam, and whenever he saw me, he would receive me with a smile.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے پاس آنے سے ) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا تو مسکرائے۔
6089
Sahih

Chapters

125
01
(1) CHAPTER. Al-Birr (piety, righteousness), and As-Sila (good relations).
احسان اور رشتہ ناطہٰ پروری کی فضیلت
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. Who is more entitled to be treated with the best companionship?
رشتہ والوں میں اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. One should not go for Jihad (fighting in Allah's Cause) without the permission of the parents.
والدین کی اجازت کے بغیر کسی کو جہاد کے لیے نہ جانا چاہیئے
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. A man should not abuse his parents.
کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی گلوچ نہ دے
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. The invocation of the person who is dutiful to his parents is fulfilled (i.e., accepted by Allah).
جس شخص نے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا اس کی دعا قبول ہوتی ہے
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. To be undutiful to one's parents is one of the greatest sins.
والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے
3 Hadith
07
(7) CHAPTER. To be good to a father who is a Mushrik.
والد کافر یا مشرک ہو تب بھی اس کے ساتھ نیک سلوک کرنا
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The kindness shown by a lady who has a husband, to her mother.
اگر خاوند والی مسلمان عورت اپنے کافر ماں کے ساتھ نیک سلوک کرے
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. To be good to one's brother who is a Mushrik.
کافرومشرک بھائی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا
2 Hadith
10
(10) CHAPTER. The superiority of keeping good relations with one's relatives.
ناطہٰ والوں سے صلہرحمی کی فضیلت
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The sin of Al-Qati (the person who severs the blood of kinship).
قطعرحمی کرنے والے کا گناہ
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Whoever was made wealthy because of keeping good relations with his kith and kin.
ناطہٰ والوں سے نیک سلوک کرنا رزق میں فراخی کا ذریعہ بنتا ہے
2 Hadith
13
(13) CHAPTER. Allah will keep good relations with the one who will keep good relations with his kith and kin.
جو شخص ناطہٰ جوڑے گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاپ رکھے گا
4 Hadith
14
(15) CHAPTER. Al-Wasil (the one who keeps good relations with his kith and kin) is not the one who recompenses the good done to him by his relatives.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ناطہٰ اگر قائم رکھ کر تروتازہ رکھا جائے ( یعنی ناطہٰ کی رعایت کی جائے ) تو دوسرا بھی ناطہٰ کو تروتازہ رکھے گا ۔
1 Hadith
15
(16) CHAPTER. Whosoever kept good relations with his kith and kin while he was a Mushrik (pagan) and then embraced Islam.
ناطہٰ جوڑنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ صرف بدلہ ادا کر دے
1 Hadith
16
(17) CHAPTER. Whoever allowed a small girl of another person to play with him, or kissed her or had a joke with her.
جس نے کفر کی حالت میں صلہرحمی کی اور پھر اسلام لایا تو اس کا ثواب قائم رہے گا
1 Hadith
17
(18) CHAPTER. To be merciful to one's children kiss them and embrace them.
بچے کے ساتھ رحم و شفقت کرنا ، اسے بوسہ دینا اور گلے سے لگانا
6 Hadith
18
(19) CHAPTER. Allah divided mercy into one hundred parts.
اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے بنائے ہیں
1 Hadith
19
(20) CHAPTER. The killing of one's own children for the fear that they will share his meals.
اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا کہ ان کو اپنے ساتھ کھلانا پڑے گا
1 Hadith
20
(21) CHAPTER. To take a child in one's lap.
بچے کو گود میں بٹھلانا
1 Hadith
21
(22) CHAPTER. Putting the child on the thigh.
بچے کو ران پر بٹھانا
1 Hadith
22
(23) CHAPTER. To keep one's covenant is a part of Faith.
صحبت کا حق یاد رکھنا ایمان کی نشانی ہے
1 Hadith
23
(24) CHAPTER. The superiority of the one who looks after and sustains an orphan.
یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
24
(25 ) CHAPTER. The one who looks after and works for a widow.
بیوہ عورتوں کی پرورش کرنے والے کا ثواب
1 Hadith
25
(26) CHAPTER. The one who looks after and works for AI-Miskin (a poor person).
مسکین اور محتاجوں کی پرورش کرنے والا
1 Hadith
26
(27) CHAPTER. (What is said regarding) being merciful to the people and to the animals.
انسانوں اور جانوروں سب پر رحم کرنا
6 Hadith
27
(28) CHAPTER. To recommend to be kind to one's neighbour.
پڑوسی کے حقوق کا بیان ۔
2 Hadith
28
(29) CHAPTER. The sin of that person whose neighbour does not feel safe from his evil.
اس شخص کا گناہ جس کا پڑوسی اس کے شرسے امن میں نہ رہتا ہو
1 Hadith
29
(30) CHAPTER. A lady-neighbour should not degrade anything given to her by her lady-neighbour.
کوئی عورت اپنی پڑوسن کے لیے کسی چیز کے دینے کو حقیر نہ سمجھے
4 Hadith
30
(33) CHAPTER. Enjoining all that is Al-Maruf (i.e., Islamic Monotheism and all that Islam has ordained) is considered as a Sadaqa (charitable gift).
جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے
1 Hadith
31
(33) CHAPTER. Enjoining all that is Al-Maruf (i.e., Islamic Monotheism and all that Islam has ordained) is considered as a Sadaqa (charitable gift).
پڑوسیوں میں کون ساپڑوسی مقدم ہے ؟
1 Hadith
32
(34) CHAPTER. Pleasant friendly speech.
ہر نیک کام صدقہ ہے
1 Hadith
33
(35) CHAPTER. To be kind and lenient in all matters.
خوش کلامی کا ثواب ۔
2 Hadith
34
(36) CHAPTER. The co-operation between the believers.
ہر کام میں نرمی اور عمدہ اخلاق اچھی چیز ہے
2 Hadith
35
(37) CHAPTER. The Statement of Allah: “Whosoever intercedes for a good cause will have the reward thereof, and whosoever intercedes for an evil cause will have a share in its burden. And Allah is Ever All-Able to do (and also an All-Witness to) everything. (V.4:85)
۔ ۔ ۔
1 Hadith
36
(38) CHAPTER. The Prophet was neither a Fahish (one who speaks bad words) nor a Mutafahhish (one who speaks obscene evil words to make people laugh).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سختگو اور بدزبان نہ تھے
4 Hadith
37
(39) CHAPTER. (What is said regarding) good character and generosity and what sort of miserliness is disliked.
خوش خلقی اور سخاوت کا بیان اور بخل کا ناپسندیدہ ہونا
6 Hadith
38
(40) CHAPTER. How should a man be with his family?
آدمی اپنے گھر میں کیا کرتا رہے
1 Hadith
39
(41) CHAPTER. Love is from Allah.
نیک آدمی کی محبت اللہ پاک لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے
1 Hadith
40
(42) CHAPTER. To love for Allah's sake (only).
اللہ کے لیے محبت رکھنے کی فضیلت
1 Hadith
41
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Let not a group scoff at another group...” (V.49:11)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ( سورۃ الحجرات میں )
2 Hadith
42
(44) CHAPTER. What is forbidden as regards calling bad names and cursing.
گالی دینے اور لعنت کرنے کی ممانعت
7 Hadith
43
(45) CHAPTER. What is allowed of mentioning other people, for example, describing somebody as tall or short.
کسی آدمی کی نسبت یہ کہنا کہ لمبا یا چھوٹا ہے ، جائز ہے ( بشرطیکہ اس کی تحقیر کی نیت نہ ہو غیبت نہیں ہے )
1 Hadith
44
(46) CHAPTER. Backbiting, and the Statement of Allah: ...And spy not, neither backbite one another... (V.49:12)
غیبت کا بیان
1 Hadith
45
(47) CHAPTER. The Statement of Prophet : “The best family (house) among the Ansar
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا انصار کے سب گھروں میں فلانا گھرانہ بہتر ہے
1 Hadith
46
(48) CHAPTER. What is allowed as regards backbitings wicked and suspicious people.
مفسد اور شریر لوگوں کی یا جن پرگمان غالب برائی کا ہو ، ان کی غیبت درست ہونا
1 Hadith
47
(49) CHAPTER. An-Namima is one of the great sins. [It means to go about with calumnies (the conveyance of disagreeable false information from one person to another to creat hostility between them)].
چغلخوری کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے
1 Hadith
48
(50) CHAPTER. What is disliked of Namima (calumnies).
چغلخوری کی ناپسندیدگی کا بیان
1 Hadith
49
(51) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And shun lying speech (false statements).” (V.22:30)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اے ایمان والو ! جھوٹی بات سے بچو “
1 Hadith
50
(52) CHAPTER. What is said about a double-faced person.
دوغلی بات کرنے والے کے بارے میں جو کہا گیا ہے
1 Hadith
51
(53) CHAPTER. Whoever informs his friend what has been said about him.
جو اپنے ساتھی کو وہ بات بتائے جو اس کے بارے میں کی جاتی ہو
1 Hadith
52
(54) CHAPTER. What is disliked of praising a person.
تعریف میں مبالغہ کرنا منع ، مکروہ ہے
2 Hadith
53
(55) CHAPTER. Whoever praises his brother with that he knows.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النحل میں فرمانا
2 Hadith
54
(57) CHAPTER. Jealousy and mutual estrangement are forbidden.
حسد اور پیٹھ پیچھے برائی کی ممانعت
2 Hadith
55
(58) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Avoid much suspicion, indeed some suspicions are sins. And spy not, neither backbite one another... (V.49:12)
سورۃ الحجرات میں اللہ کا فرمان
1 Hadith
56
(59) CHAPTER. What sort of suspicion is allowed.
گمان سے کوئی بات کہنا
2 Hadith
57
(60) CHAPTER. (It is recommended that) a believer should conceal what sins he may commit.
مومن کا پنے ( عیب ) پر پردہ ڈالنا
2 Hadith
58
(61) CHAPTER. Pride and arrogance.
تکبر کے بارے میں
2 Hadith
59
(62) CHAPTER. Al-Hijra [(to desert or) cut one's relation with another Muslim (i.e., not to speak to him on meeting him)].
ترک ملاقات کا بیان
5 Hadith
60
(63) CHAPTER. The desertion of a sinful person (disobedient to Allah and His Messenger ).
نافرمانی کرنے والے سے تعلق توڑنے کا جواز
1 Hadith
61
(64) CHAPTER. May a person visit his friend daily, or visit him in the morning and in the evening?
کیا اپنے ساتھی کی ملاقات کے لئے ہر دن جا سکتا ہے یا صبح اور شام ہی کے اوقات میں جائے
1 Hadith
62
(65) CHAPTER. The paying of a visit. And whoever visited some people and ate in their houses.
ملاقات کے لئے جانا اور جو لوگوں سے ملنے گیا اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا تو یہ جائز ہے
1 Hadith
63
(66) CHAPTER. Whoever spruced himself up for the delegates.
جس نے لوگوں سے ملاقات کے لیے خوبصورتی اپنائی
1 Hadith
64
(67) CHAPTER. The establishment of a bond of brotherhood and the conclusion of a treaty.
کسی سے بھائی چارہ اور دوستی کا اقرار کرنا
2 Hadith
65
(68) CHAPTER. (What is said about) smiling and laughing.
مسکرانا اور ہنسنا
10 Hadith
66
(69) CHAPTER. The Staement of Allah: “O you who believe! Be afraid of Allah, and be with those who are true (in words and deeds).” (V.9:119) And what is forbidden as regards telling of lies.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحجرات میں ارشاد فرمانا
3 Hadith
67
(70) CHAPTER. The righteous way or guidance.
اچھے چال چلن کے بارے میں
2 Hadith
68
(71) CHAPTER. To be patient when one is harmed (by others).
تکلیف پر صبر کرنے کا بیان
2 Hadith
69
(72) CHAPTER. Whoever did not admonish people in their faces (i.e., directly).
غصہ میں جن پر عتاب ہے ان کو مخاطب نہ کرنا
2 Hadith
70
(73) CHAPTER. Whoever calls his brother a Kafir (disbeliever) without any grounds, and he does not think that he is such, then he himself is such, what he says.
جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو جس میں کفر کی وجہ نہ ہو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے
4 Hadith
71
(74) CHAPTER. Whoever does not consider as Kafir the person who says that (i.e., O Kafir), if he thinks that what he says is true, or if he is ignorant of the seriousness of such saying.
اگر کسی نے کوئی وجہ معقول رکھ کر کسی کو کافر کہا یا نادانستہ تو وہ کافر ہو گا ۔
2 Hadith
72
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
خلاف شرع کام پر غصہ اور سختی کرنا
1 Hadith
73
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
7 Hadith
74
(77) CHAPTER. Al-Haya.
حیاء اور شرم کا بیان
3 Hadith
75
(78) CHAPTER. “And if you do not feel ashamed, then do whatever you like.”
جب حیاء نہ ہو تو جو چاہو کرو
1 Hadith
76
(79) CHAPTER. One should not feel shy of the truth in the order to comprehend (the knowledge of) the religion.
شریعت کی باتیں پوچھنے میں شرم نہیں کرنی چایئے ۔
3 Hadith
77
(80) CHAPTER. The statement of the Prophet , “Make things easy for the people and do not make things difficult for them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو ، سختی نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر تخفیف اور آسانی کو پسند فرمایا کرتے تھے
5 Hadith
78
(81) CHAPTER. To be cheerful with the people.
لوگوں کے ساتھ فراخی سے پیش آنا
2 Hadith
79
(82) CHAPTER. To be gentle and polite with the people.
لوگوں کے ساتھ خاطر تواضع سے پیش آنا
2 Hadith
80
(83) CHAPTER. A believer is not to be stung twice (by something) out of one and the same hole.
مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جا سکتا
1 Hadith
81
(84) CHAPTER. The right of the guest.
مہمان کے حق کے بیان میں
1 Hadith
82
(85) CHAPTER. To honour one's guest and to serve him with one's own hands.
مہمان کی عزت اور خود اس کی خدمت کرنا اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ابراہیم علیہالسلام کے مہمان جن کی عزت کی گئی “ کی تفسیر ۔
4 Hadith
83
(86) CHAPTER. To prepare the meals and to trouble oneself for the guest.
مہمان کے لئے پرتکلف کھانا تیار کرنا
1 Hadith
84
(87) CHAPTER. What is disliked as regards anger and impatience before a guest.
مہمان کے سامنے غصہ اور رنج کا ظاہر کرنا مکروہ ہے
1 Hadith
85
(88) CHAPTER. The saying of a guest to his host: “By Allah, I will not eat till you eat.”
مہمان کو اپنے میزبان سے کہنا کہ جب تک تم ساتھ نہ کھاؤگے میں بھی نہیں کھاؤں گا ۔
1 Hadith
86
(89) CHAPTER. To respect the old ones, and the elder one should start talking or asking.
جو عمر میں بڑا ہو اس کی تعظیم کرنا اورپہلے اسی کو بات کرنے اور پوچھنے دینا
3 Hadith
87
(90) CHAPTER. What kinds of poetry, Rajaz and Huda is allowed and what kinds thereof are disliked.
شعر ، رجز اورحدی خوانی کاجائز ہونا
5 Hadith
88
(91) CHAPTER. Lampooning Al-Mushrikin.
مشرکوں کی ہجو کرنا درست ہے
4 Hadith
89
(92) CHAPTER. It is disliked for one to indulge in poetry to the extent that it diverts him from Allah's remembrance, and from (religious) knowledge and from (recitation of) the Quran.
شعروشاعری میں اس طرح اوقات صرف کرنا منع ہے کہ آدمی اللہ کی یاد اور علم حاصل کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے سے باز رہ جائے ۔ 2
2 Hadith
90
(93) CHAPTER. The statement of the Prophet : Taribat yaminuka (may your right hand be in dust)! an Aqra halqa. (it is just an exclamatory expression, the literal meaning of which is not meant here. It expresses disapproval.)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فر مانا کہ تیرے ہاتھ کو مٹی لگے یا تجھ کو زخم پہنچے ، تیرے حلق میں بیماری ہو ۔
2 Hadith
91
(94) CHAPTER. (What is said regarding) “They assumed or claimed that...”
” زعموا “ کہنے کا بیان
1 Hadith
92
(95) CHAPTER. What is said about one's saying: “Wailaka (woe to you).”
لفظ ” ویلک “ یعنی تجھ پر افسوس ہے کہنا درست ہے ۔
9 Hadith
93
(96) CHAPTER. The signs of loving (others for the sake of) Allah.
اللہ عز وجل کی محبت کس کو کہتے ہیں
4 Hadith
94
(97) CHAPTER. The saying of one man to another: Ikhsa.
کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو
4 Hadith
95
(98) CHAPTER. The saying of somebody to another: “Marhaba (i.e., welcome).
کسی شخص کا مرحبا کہنا
1 Hadith
96
(99) CHAPTER. Calling the people by their father's name (on the Day of Resurrection).
لوگوں کو ان کے باپ کانام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا
2 Hadith
97
(100) CHAPTER. One should not say, 'Khabuthat nafsi' (i.e., I have been overcome by nausea).
آدمی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میرا نفس پلید ہو گیا
2 Hadith
98
(101) CHAPTER. Do not abuse Ad-Dahr (the Time).
زمانہ کو برا کہنا منع ہے
2 Hadith
99
(102) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Al-Karm is only the heart of a believer.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ ” کرم “ تو مومن کا دل ہے
1 Hadith
100
(103) CHAPTER. The saying of someone (to another): “Let my father and mother be sacrificed for you.
کسی شخص کا کہنا کہ ” میرے باپ اور ماں تم پر قربان ہوں “ اس میں زبیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے
1 Hadith
101
(104) CHAPTER. The saying of somebody (to another): “May Allah sacrifice me for you.”
کسی کا یہ کہنا اللہ مجھے آپ پر قربان کرے اور حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم نے آپ پر اپنے باپوں اور ماؤں کو قربان کیا
1 Hadith
102
(105) CHAPTER. The most beloved names to Allah.
اللہ پاک کوکون سے نام زیادہ پسند ہیں اورکسی شخص کا کسی کو یوں کہنا بیٹا
1 Hadith
103
(106) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kunyah.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے نام پر نام رکھو ، لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔
3 Hadith
104
(107) CHAPTER. (What is said regarding) the name: Al-Hazn (literally: means hard, rough ground).
” حزن “ نام رکھنا
1 Hadith
105
(108) CHAPTER. To change a name for another name which is better than the first.
کسی برے نام کو بدل کر اچھا نام رکھنا
3 Hadith
106
(109) CHAPTER. Whoever named (his children) by the names of the Prophets.
جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے
6 Hadith
107
(110) CHAPTER. To name 'Al-Walid.'
بچے کا نام ولید رکھنا
1 Hadith
108
(111) CHAPTER. Whoever, while calling a friend, omits a letter from his name.
جس نے اپنے کسی ساتھی کو اس کے نام میں سے کوئی حرف کم کر کے پکارا ۔
2 Hadith
109
(112) CHAPTER. A child may be given AI-Kunyah and one may be given Al-Kunyah before one has children.
بچہ کی کنیت رکھنا اس سے پہلے کہ وہ صاحب اولاد ہو
1 Hadith
110
(113) CHAPTER. To be called Abu Turab (father of dust), though one already has another Kunyah name.
ایک کنیت ہوتے ہوئے دوسری ابوتراب کنیت رکھنا جائز ہے
1 Hadith
111
(114) CHAPTER. The name which is most disliked by Allah.
اللہ کو جو نام بہت ہی زیادہ ناپسند ہیں ان کا بیان
2 Hadith
112
(115) CHAPTER. The Kunyah of Al-Mushrik.
مشرک کی کنیت کا بیان
2 Hadith
113
(116) CHAPTER. AI-Maarid (indirect speech) is a safe way to avoid a lie.
تعریض کے طور پر بات کہنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے
4 Hadith
114
(117) CHAPTER. The description of something by a man as ‘nothing' while he means that it is not true.
کسی شخص کا کسی چیز کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ کچھ نہیں اور مقصد یہ ہو کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے
1 Hadith
115
(118) CHAPTER. To raise the sight towards the sky.
آسمان کی طرف نظر اٹھانا
2 Hadith
116
(119) CHAPTER. Whoever dipped a stick in water and mud.
کیچڑ پانی میں لکڑی مارنا
1 Hadith
117
(120) CHAPTER. One may scrape up the ground with something in hand.
کسی شخص کا زمین پر کسی چیز کو مارنا
1 Hadith
118
(121) CHAPTER. The saying of Takbir and Tasbih at the time of wonder.
تعجب کے وقت اللہاکبر اور سبحاناللہ کہنا
2 Hadith
119
(122) CHAPTER. It is forbidden to throw stones (with the thumb and the index or middle finger).
انگلیوں سے پتھر یا کنکری پھینکنے کی ممانعت
1 Hadith
120
(123) CHAPTER. To say Al-Hamdu-lillah (praise be to Allah) on sneezing.
چھینکنے والے کا الحمدللہ کہنا
1 Hadith
121
(124) CHAPTER. Tashmit (i.e., to say Yarhamukallah) to the sneezer if he praises Allah (i.e., if he says, 'Al-Hamdu-lillah')
چھینکنے والا الحمدللہ کہے تو اس کا جواب یرحمکاللہ سے دینا چاہئے یعنی اللہ تجھ پر رحم کرے ۔
1 Hadith
122
(125) CHAPTER. What is liked regarding sneezing, and what is disliked regarding yawning.
چھنیک اچھی ہے اورجمائی میں برائی ہے
1 Hadith
123
(126) CHAPTER. When somebody sneezes, what should one say to him?
چھینکنے والے کا کس طرح جواب دیا جائے ؟
1 Hadith
124
(127) CHAPTER. Tashmit (may Allah be Merciful to you) should not be said to a sneezer if he does not say ‘AI-Hamdu-lillah' (praise be to Allah).
جب چھنیکنے والا الحمدللہ نہ کہے تو اس کے لئے ” یرحمکاللہ “ بھی نہ کہا جائے
1 Hadith
125
(128) CHAPTER. If someone yawns, he should put his hand over his mouth (i.e., cover his mouth).
جب جمائی آئے تو چاہیے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لے
1 Hadith
No chapter matched that.