TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of ar-riqaq (softening of the hearts). - کتاب دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں - Book 82 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 82 of Sahih Bukhari, with 53 chapters and 182 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

182 Hadith · 53 Chapters
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ ، فَقَالَ : مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ ؟ قَالَ : الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ ، وَالْبِلَادُ ، وَالشَّجَرُ ، وَالدَّوَابُّ .
Narrated Abu Qatada bin Rib'i Al-Ansari: A funeral procession passed by Allah's Apostle who said, Relieved or relieving? The people asked, O Allah's Apostle! What is relieved and relieving? He said, A believer is relieved (by death) from the troubles and hardships of the world and leaves for the Mercy of Allah, while (the death of) a wicked person relieves the people, the land, the trees, (and) the animals from him.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو حلحلہ نے، ان سے سعد بن کعب بن مالک نے، ان سے ابوقتادہ بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ نے، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «مستريح» یا «مستراح» ہے یعنی اسے آرام مل گیا، یا اس سے آرام مل گیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ”المستریح او المستراح منہ“ کا کیا مطلب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن بندہ دنیا کی مشقتوں اور تکلیفوں سے اللہ کی رحمت میں نجات پا جاتا ہے وہ «مستريح» ہے اور «مستراح» منہ وہ ہے کہ فاجر بندہ سے اللہ کے بندے، شہر، درخت اور چوپائے سب آرام پا جاتے ہیں۔
6512
Sahih
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ .
Narrated Abu Qatada: The Prophet said, Relieved or relieving. And a believer is relieved (by death).
مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبدربہ بن سعید نے، ان سے محمد بن عمر نے بیان کیا، ان سے طلحہ بن کعب نے بیان کیا، ان سے ابوقتادہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مرنے والا یا تو آرام پانے والا ہے یا دوسرے بندوں کو آرام دینے والا ہے۔
6513
Sahih
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ ، وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ : يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ ، وَمَالُهُ ، وَعَمَلُهُ ، فَيَرْجِعُ : أَهْلُهُ وَمَالُهُ ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle said, When carried to his grave, a dead person is followed by three, two of which return (after his burial) and one remains with him: his relative, his property, and his deeds follow him; relatives and his property go back while his deeds remain with him.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میت کے ساتھ تین چیزیں چلتی ہیں دو تو واپس آ جاتی ہیں صرف ایک کام اس کے ساتھ رہ جاتا ہے، اس کے ساتھ اس کے گھر والے اس کا مال اور اس کا عمل چلتا ہے اس کے گھر والے اور مال تو واپس آ جاتا ہے اور اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے۔“
6514
Sahih
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ غُدْوَةً وَعَشِيًّا ، إِمَّا النَّارُ ، وَإِمَّا الْجَنَّةُ ، فَيُقَالُ : هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ إِلَيْهِ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, When anyone of you dies, his destination is displayed before him in the forenoon and in the afternoon, either in the (Hell) Fire or in Paradise, and it is said to him, That is your place till you are resurrected and sent to it.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو صبح و شام ( جب تک وہ برزخ میں ہے ) اس کے رہنے کی جگہ اسے ہر روز دکھائی جاتی ہے یا دوزخ ہو یا جنت اور کہا جاتا ہے کہ یہ تیرے رہنے کی جگہ ہے یہاں تک کہ تو اٹھایا جائے ( یعنی قیامت کے دن تک ) ۔“
6515
Sahih
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا .
Narrated `Aisha: The Prophet said, Do not abuse the dead, for they have reached the result of what they have done.
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں مجاہد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ مر گئے ان کو برا نہ کہو کیونکہ جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا تھا اس کے پاس وہ خود پہنچ چکے ہیں، انہوں نے برے بھلے جو بھی عمل کئے تھے ویسا بدلہ پا لیا۔“
6516
Sahih
(43) CHAPTER. The blowing of the Trumpet, on the Day of Resurrection.
صور پھونکنے کا بیان
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أنهما حدثاه أن أبا هريرة ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ ، قَالَ : فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَكُونُ فِي أَوَّلِ مَنْ يُفِيقُ ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مُوسَى فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ .
Narrated Abu Huraira: Two men, a Muslim and a Jew, abused each other. The Muslim said, By Him Who gave superiority to Muhammad over all the people. On that, the Jew said, By Him Who gave superiority to Moses over all the people. The Muslim became furious at that and slapped the Jew in the face. The Jew went to Allah's Apostle and informed him of what had happened between him and the Muslim. Allah's Apostle said, Don't give me superiority over Moses, for the people will fall unconscious on the Day of Resurrection and I will be the first to gain consciousness, and behold ! Moses will be there holding the side of Allah's Throne. I will not know whether Moses has been among those people who have become unconscious and then has regained consciousness before me, or has been among those exempted by Allah from falling unconscious.
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور عبدالرحمٰن الاعرج نے بیان کیا، ان دونوں نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی۔ جن میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی تھا۔ مسلمان نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان پر برگزیدہ کیا۔ یہودی نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان پر برگزیدہ کیا۔ راوی نے بیان کیا کہ مسلمان یہودی کی بات سن کر خفا ہو گیا اور اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا۔ وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اور مسلمان کا سارا واقعہ بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو موسیٰ علیہ السلام پر مجھ کو فضیلت مت دو کیونکہ قیامت کے دن ایسا ہو گا کہ صور پھونکتے ہی تمام لوگ بیہوش ہو جائیں گے اور میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جسے ہوش آئے گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا کونہ تھامے ہوئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کی موسیٰ علیہ السلام بھی ان لوگوں میں ہوں گے جو بیہوش ہوئے تھے اور پھر مجھ سے پہلے ہی ہوش میں آ گئے تھے یا ان میں سے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے مستثنیٰ کر دیا۔“
6517
Sahih
(43) CHAPTER. The blowing of the Trumpet, on the Day of Resurrection.
صور پھونکنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَصْعَقُ النَّاسُ حِينَ يَصْعَقُونَ ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ قَامَ ، فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِالْعَرْشِ ، فَمَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ ، رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The people will fall down unconscious at the time when they should fall down (i.e., on the Day of Resurrection), and then I will be the first man to get up, and behold, Moses will be there holding (Allah's) Throne. I will not know whether he has been amongst those who have fallen unconscious.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے ہوشی کے وقت تمام لوگ بیہوش ہو جائیں گے اور سب سے پہلے اٹھنے والا میں ہوں گا۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا کونہ تھامے ہوں گے۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ بیہوش بھی ہوں گے یا نہیں۔ اس حدیث کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
6518
Sahih
(44) CHAPTER. On the Day of Resurrection, Allah will grasp (or hold) the whole (planet of) earth (in His Hand).
اللہ تعالیٰ زمین کواپنی مٹھی میں لے لے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ؟ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Allah will take the whole earth (in His Hand) and will roll up the Heaven in His right Hand, and then He will say, I am King! Where are the kings of the earth ?
ہم سے مقاتل مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس بن یزید ایلی نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا کہ اب میں ہوں بادشاہ، آج زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟“
6519
Sahih
(44) CHAPTER. On the Day of Resurrection, Allah will grasp (or hold) the whole (planet of) earth (in His Hand).
اللہ تعالیٰ زمین کواپنی مٹھی میں لے لے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَقَالَ : بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا ، ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ ، قَالَ : إِدَامُهُمْ بَالَامٌ وَنُونٌ ، قَالُوا : وَمَا هَذَا ؟ قَالَ : ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: The Prophet said, The (planet of) earth will be a bread on the Day of Resurrection, and The resistible (Allah) will topple turn it with His Hand like anyone of you topple turns a bread with his hands while (preparing the bread) for a journey, and that bread will be the entertainment for the people of Paradise. A man from the Jews came (to the Prophet) and said, May The Beneficent (Allah) bless you, O Abul Qasim! Shall I tell you of the entertainment of the people of Paradise on the Day of Resurrection? The Prophet said, Yes. The Jew said, The earth will be a bread, as the Prophet had said. Thereupon the Prophet looked at us and smiled till his premolar tooth became visible. Then the Jew further said, Shall I tell you of the udm (additional food taken with bread) they will have with the bread? He added, That will be Balam and Nun. The people asked, What is that? He said, It is an ox and a fish, and seventy thousand people will eat of the caudate lobe (i.e. extra lobe) of their livers.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے خالد بن یزید نے، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم دستر خوان پر روٹی لہراتے پھراتے ہو۔ پھر ایک یہودی آیا اور بولا: ابوالقاسم! تم پر رحمن برکت نازل کرے کیا میں تمہیں قیامت کے دن اہل جنت کی سب سے پہلی ضیافت کے بارے میں خبر نہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیوں نہیں۔ تو اس نے ( بھی یہی ) کہا کہ ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا اور مسکرائے جس سے آپ کے آگے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ پھر ( اس نے ) خود ہی پوچھا کیا میں تمہیں اس کے سالن کے متعلق خبر نہ دوں؟ ( پھر خود ہی ) بولا کہ ان کا سالن «بالام ونون‏.‏» ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یہ کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ بیل اور مچھلی جس کی کلیجی کے ساتھ زائد چربی کے حصے کو ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔
6520
Sahih
(44) CHAPTER. On the Day of Resurrection, Allah will grasp (or hold) the whole (planet of) earth (in His Hand).
اللہ تعالیٰ زمین کواپنی مٹھی میں لے لے گا ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ نَقِيٍّ ، قَالَ سَهْلٌ أَوْ غَيْرُهُ : لَيْسَ فِيهَا مَعْلَمٌ لِأَحَدٍ .
Narrated Sahl bin Sa`d: I heard the Prophet saying, The people will be gathered on the Day of Resurrection on reddish white land like a pure loaf of bread (made of pure fine flour). Sahl added: That land will have no landmarks for anybody (to make use of).
ہم سے سعید بن ابومریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن لوگوں کا حشر سفید و سرخی آمیز زمین پر ہو گا جیسے میدہ کی روٹی صاف و سفید ہوتی ہے۔ اس زمین پر کسی ( چیز ) کا کوئی نشان نہ ہو گا۔“
6521
Sahih
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وهيب ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ ، وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَيَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا ، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا ، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا ، وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The people will be gathered in three ways: (The first way will be of) those who will wish or have a hope (for Paradise) and will have a fear (of punishment), (The second batch will be those who will gather) riding two on a camel or three on a camel or ten on a camel. (The third batch) the rest of the people will be urged to gather by the Fire which will accompany them at the time of their afternoon nap and stay with them where they will spend the night, and will be with them in the morning wherever they may be then, and will be with them in the afternoon wherever they may be then.
ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے والد طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہو گا ( ایک فرقہ والے ) لوگ رغبت کرنے نیز ڈرنے والے ہوں گے۔ ( دوسرا فرقہ ایسے لوگوں کا ہو گا کہ ) ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے کسی اونٹ پر تین ہوں گے، کسی اونٹ پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے۔ اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی ( اہل شرک کا یہ تیسرا فرقہ ہو گا ) جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہو گی جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہو گی جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہو گی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہو گی۔“
6522
Sahih
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ ؟ قَالَ : أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا ، قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ قَتَادَةُ : بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا .
Narrated Anas bin Malik: A man said, O Allah's Prophet! Will a Kafir (disbeliever) be gathered (driven prone) on his face? The Prophet said, Is not He Who made him walk with his legs in this world, able to make him walk on his face on the Day of Resurrection? (Qatada, a sub-narrator said: Yes, (He can), by the Power of Our Lord! )
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد بغدادی نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نحوی نے بیان کیا، کہا ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے کہا، اے اللہ کے نبی! قیامت میں کافروں کو ان کے چہرے کے بل کس طرح حشر کیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات جس نے انہیں دنیا میں دو پاؤں پر چلایا اسے اس پر قدرت نہیں ہے کہ قیامت کے دن انہیں چہرے کے بل چلا دے۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ضرور ہے، ہمارے رب کی عزت کی قسم، بیشک وہ منہ کے بل چلا سکتا ہے۔
6523
Sahih
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً مُشَاةً غُرْلًا ، قَالَ سُفْيَانُ : هَذَا مِمَّا نَعُدُّ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, You will meet Allah barefooted, naked, walking on feet, and uncircumcised.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اللہ سے قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور پیدل چل کر بن ختنہ ملو گے۔“ سفیان نے کہا کہ یہ حدیث ان ( نو یا دس حدیثوں ) میں سے ہے جن کے متعلق ہم سمجھتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خود ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
6524
Sahih
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا .
Narrated Ibn `Abbas: I heard Allah's Apostle while he was delivering a sermon on a pulpit, saying, You will meet Allah barefooted, naked, and uncircumcised.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ منبر پر خطبہ میں فرما رہے تھے کہ تم اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنہ ہو گے۔
6525
Sahih
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَخْطُبُ فَقَالَ : إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ، كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104 الْآيَةَ ، وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ ، وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَأَقُولُ يَا رَبِّ : أَصْحَابِي ، فَيَقُولُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ : وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ إِلَى قَوْلِهِ : الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 117 - 118 ، قَالَ : فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet stood up among us and addressed (saying) You will be gathered, barefooted, naked, and uncircumcised (as Allah says): 'As We began the first creation, We shall repeat it..' (21.104) And the first human being to be dressed on the Day of Resurrection will be (the Prophet) Abraham Al-Khalil. Then will be brought some men of my followers who will be taken towards the left (i.e., to the Fire), and I will say: 'O Lord! My companions whereupon Allah will say: You do not know what they did after you left them. I will then say as the pious slave, Jesus said, And I was witness over them while I dwelt amongst them..........(up to) ...the All-Wise.' (5.117-118). The narrator added: Then it will be said that those people (relegated from Islam, that is) kept on turning on their heels (deserted Islam).
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن نعمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا ”تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں جمع کئے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسم ہو گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «كما بدأنا أول خلق نعيده‏» کہ ”جس طرح ہم نے شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح لوٹا دیں گے۔“ اور تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ میں اس پر کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی نئی بدعات نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم‏» کہ ”یا اللہ! میں جب تک ان میں موجود رہا اس وقت تک میں ان پر گواہ تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ فرشتے ( مجھ سے ) کہیں گے کہ یہ لوگ ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے ( مرتد ہوتے رہے ) ۔
6526
Sahih
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ : الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ : الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُهِمَّهُمْ ذَاكِ .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle said, The people will be gathered barefooted, naked, and uncircumcised. I said, O Allah's Apostle! Will the men and the women look at each other? He said, The situation will be too hard for them to pay attention to that.
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن ابی صغیرہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی ملکیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے قاسم بن محمد بن ابی بکر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ننگے پاؤں، ننگے جسم، بلا ختنہ کے اٹھائے جاؤ گے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! تو کیا مرد عورتیں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہو گا، اس کا خیال بھی کوئی نہیں کر سکے گا۔
6527
Sahih
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ : أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ .
Narrated `Abdullah: While we were in the company of the Prophet in a tent he said, ''Would it please you to be one fourth of the people of Paradise? We said, Yes. He said, Would It please you to be one-third of the people of Paradise? We said, Yes. He said, Would it please you to be half of the people of Paradise? We said, Yes. Thereupon he said, I hope that you will be one half of the people of Paradise, for none will enter Paradise but a Muslim soul, and you people, in comparison to the people who associate others in worship with Allah, are like a white hair on the skin of a black ox, or a black hair on the skin of a red ox.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو؟ ہم نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم ایک تہائی رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم نصف رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ ( امت مسلمہ ) اہل جنت کا حصہ ہو گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ جنت میں فرمانبردار نفس کے علاوہ اور کوئی داخل نہ ہو گا اور تم لوگ شرک کرنے والوں کے درمیان ( تعداد میں ) اس طرح ہو گے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا جیسے سرخ کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔
6528
Sahih
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، آدَمُ فَتَرَاءَى ذُرِّيَّتُهُ ، فَيُقَالُ : هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ ، فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، فَيَقُولُ : أَخْرِجْ بَعْثَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ : كَمْ أُخْرِجُ ، فَيَقُولُ : أَخْرِجْ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا ؟ قَالَ : إِنَّ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The first man to be called on the Day of Resurrection will be Adam who will be shown his offspring, and it will be said to them, 'This is your father, Adam.' Adam will say (responding to the call), 'Labbaik and Sa`daik' Then Allah will say (to Adam), 'Take out of your offspring, the people of Hell.' Adam will say, 'O Lord, how many should I take out?' Allah will say, 'Take out ninety-nine out of every hundred. They (the Prophet's companions) said, O Allah's Apostle! If ninety-nine out of every one hundred of us are taken away, what will remain out of us? He said, My followers in comparison to the other nations are like a white hair on a black ox.
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ثور نے، ان سے ابوالغیث نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو پکارا جائے گا۔ پھر ان کی نسل ان کو دیکھے گی تو کہا جائے گا کہ یہ تمہارے بزرگ دادا آدم ہیں۔ ( پکارنے پر ) وہ کہیں گے کہ لبیک و سعدیک۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا حصہ نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے اے پروردگار! کتنوں کو نکالوں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا فیصد ( ننانوے فیصد دوزخی ایک جنتی ) ۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب ہم میں سو میں ننانوے نکال دئیے جائیں تو پھر باقی کیا رہ جائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام امتوں میں میری امت اتنی ہی تعداد میں ہو گی جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں۔
6529
Sahih
(46) CHAPTER. The Saying (of Allah): ...Verily, the earthquake of the Hour (of judgement) is a terrible thing. (V.22:1)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحج میں ارشاد کہ
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ اللَّهُ : يَا آدَمُ ، فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، قَالَ : يَقُولُ : أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ ، قَالَ : وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ قَالَ : مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا ، وَتَرَى النَّاسَ سَكْرَى وَمَا هُمْ بِسَكْرَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ ؟ قَالَ : أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا وَمِنْكُمْ رَجُلٌ ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الْأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ، أَوِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ .
Narrated Abu Sa`id: The Prophet said, Allah will say, 'O Adam!. Adam will reply, 'Labbaik and Sa`daik (I respond to Your Calls, I am obedient to Your orders), wal Khair fi Yadaik (and all the good is in Your Hands)!' Then Allah will say (to Adam), Bring out the people of the Fire.' Adam will say, 'What (how many) are the people of the Fire?' Allah will say, 'Out of every thousand (take out) nine hundred and ninety-nine (persons).' At that time children will become hoary-headed and every pregnant female will drop her load (have an abortion) and you will see the people as if they were drunk, yet not drunk; But Allah's punishment will be very severe. That news distressed the companions of the Prophet too much, and they said, O Allah's Apostle! Who amongst us will be that man (the lucky one out of one-thousand who will be saved from the Fire)? He said, Have the good news that one-thousand will be from Gog and Magog, and the one (to be saved will be) from you. The Prophet added, By Him in Whose Hand my soul is, I Hope that you (Muslims) will be one third of the people of Paradise. On that, we glorified and praised Allah and said, Allahu Akbar. The Prophet then said, By Him in Whose Hand my soul is, I hope that you will be one half of the people of Paradise, as your (Muslims) example in comparison to the other people (non-Muslims), is like that of a white hair on the skin of a black ox, or a round hairless spot on the foreleg of a donkey.
مجھ سے یوسف بن موسیٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام کہیں گے حاضر ہوں فرماں بردار ہوں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو۔ آدم علیہ السلام پوچھیں گے جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہی وہ وقت ہو گا جب بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے، حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا۔ صحابہ کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم میں سے وہ ( خوش نصیب ) شخص کون ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو، ایک ہزار یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے۔ اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہو گے۔ تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی ( معمولی تعداد ) ہوتی ہے یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے۔
6530
Sahih
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “Think they not that they will be resurrected (for reckoning), on a Great Day. The Day when (all) mankind will stand before the Lord of Al-Alamin (mankind, jinn and all that exists).” (V.83:4-6)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المطففین میں یوں فرمانا کہ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 قَالَ : يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet said (regarding the Verse), A Day when all mankind will stand before the Lord of the Worlds,' (that day) they will stand, drowned in their sweat up to the middle of their ears.
ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «يوم يقوم الناس لرب العالمين‏» کی تفسیر میں فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی سارے جہانوں کے پروردگار کے آگے کھڑا ہو گا اس حال میں کہ اس کا پسینہ کانوں کی لو تک پہنچا ہوا ہو گا۔
6531
Sahih

Chapters

53
01
(1) CHAPTER. Health and leisure (free time for doing good deeds). There is no life worth living except the life in the Hereafter.
صحت اور فراغت کے بیان میں ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ زندگی درحقیقت آخرت ہی کی زندگی ہے
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. The example of this world in contrast with the Hereafter.
آخرت کے سامنے دنیا کی کیا حقیقت ہے
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Be in this world as if you were a stranger.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. About hope and hoping too much (for long life and worldly pleasures).
آرزو کی رسی کا دراز ہونا
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. If somebody reaches sixty years of age, he has no right to ask Allah for a new lease of life (to make up for his past shortcomings), for Allah says: ...Did We not give you lives long enough, so that whoever would receive admonition - could receive it? And the warner (of Allah) came to you... (V.35:37)
جو شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. The deed which is done seeking Allah‘s Countenance (i.e., for the sake of Allah).
ایسا کام جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو
3 Hadith
07
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
8 Hadith
08
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “O mankind! Verily the Promise of Allah is true. So let not this present life deceive you, and let not the chief deceiver (Satan) deceive you about Allah. Surely, Satan is an enemy to you, so take (treat) him as an enemy. He only invites his Hizb (followers) that they may become the dwellers of the Blazing Fire.” (V.35:5,6)
اللہ پاک کا سورۃ فاطر میں فرمانا
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. The righteous people will depart (die).
صالحین کا گزر جانا
1 Hadith
10
(10) CI-IAPTER. The Fitnah (trial and affliction) of wealth should be warded off.
مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا
6 Hadith
11
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Wealth is (like) green sweet (fruit).” And the Statement of Allah: Beautified for men is the love of things they covet: women, children... (V.3:14)
نبی کریم کا یہ فرمان کہ یہ ( دنیا کا ) مال سرسبز میٹھا ہے ۔
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Whatever one spends from his money (on good deeds) will be better for him (in the Hereafter).
آدمی جو اللہ کی راہ میں دیدے وہی اس کا اصلی مال ہے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. The rich (who do not spend their wealth on good deeds) are infact the poor (i.e., little rewarded).
جو لوگ دنیا میں زیادہ ( مالدار ) ہیں وہی آخرت میں کم ہوں گے
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. The statement of the Prophet : “It would not please me to have gold equal to this rnoutain of Uhud.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر احد پہاڑ کے برابر سونا میرے پاس ہو تو بھی مجھ کو یہ پسند نہیں
2 Hadith
15
(15) CHAPTER. True riches is self-contentment.
مالدار وہ ہے جس کا دل غنی ہو
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. The superiority of being poor.
فقر کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
17
(17) CHAPTER. How the Prophet and his Companions used to live, and how they gave up their interest in the world.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے گزران کا بیان اور دنیا سے کنارہ کشی کا بیان
5 Hadith
18
(18) CHAPTER. The adoption of a middle course (not to go to extremes), and the regularity of one's deeds.
نیک عمل پر ہمیشگی کرنا اور درمیانی چال چلنا ( نہ کمی ہو نہ زیادتی )
8 Hadith
19
(19) CHAPTER. Hope (that Allah will forgive one's sins and will accept one's good deeds) with fear (of Allah).
اللہ کے خوف کے ساتھ امید بھی رکھنا
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. Refraining from doing things Allah has made illegal.
اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا
2 Hadith
21
(21) CHAPTER. “...And whosoever puts his trust in Allah, then He (Allah) will suffice him... (V.65:3)
جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ بھی اس کے لئے کافی ہو گا ( الطلاق 3 )
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. What is disliked about Qil and Qal (i.e., sinful and useless talk).
بےفائدہ بات چیت کرنا منع ہے
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. To protect one's tongue (from illegal talk, e.g., laying, abusing or backbiting, etc.).
زبان کی ( غلط باتوں سے ) حفاظت کرنا
5 Hadith
24
(24) CHAPTER. Weeping out of fear of Allah.
اللہ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
25
(25) CHAPTER. To be afraid of Allah.
اللہ سے ڈرنے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. To give up sinful deeds.
گناہوں سے باز رہنے کا بیان
3 Hadith
27
(27) CHAPTER. The saying of the Prophet : “If you knew that which I know, you would laugh little and weep much.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد
2 Hadith
28
(28) CHAPTER. The (Hell) Fire is surrounded by all kinds of desires and passions.
دوزخ کو خواہشات نفسانی سے ڈھک دیا گیا ہے
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. Paradise is nearer to anyone of you than the Shirak of his shoe, and so is the (Hell) Fire.
جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی ہے
1 Hadith
30
(29) CHAPTER. Paradise is nearer to anyone of you than the Shirak of his shoe, and so is the (Hell) Fire.
اسے دیکھنا چاہئے جو نیچے درجہ کا ہے اسے نہیں دیکھنا چاہئے جس کا مرتبہ اس سے اونچاہے
2 Hadith
31
(31) CHAPTER. Whoever intended to do a good deed or a bad deed.
جس نے کسی نیکی یا بدی کا ارادہ کیا اس کا نتیجہ کیا ہے ؟
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. What minor sins should be warded off.
چھوٹے اور حقیر گناہوں سے بھی بچتے رہنا
1 Hadith
33
(33) CHAPTER. The (results of) deeds done depend upon the last actions. And that one should be afraid of it.
عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے اور خاتمہ سے ڈرتے رہنا
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. Seclusion is better for a believer than to have evil companions.
بری صحبت سے تنہا ئی بہتر ہے
2 Hadith
35
(35) CHAPTER. The disappearance of Al-Amanah.
( آخر زمانہ میں ) دنیا سے امانت داری کا اٹھ جانا
3 Hadith
36
(36) CHAPTER. Showing Off.
ریا اور شہرت طلبی کی مذمت میں
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. Whoever compelled himself to obey Allah.
جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کو دبائے اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
38
(38) CHAPTER. The humility or modesty or lowliness (to lower oneself).
عاجزی کرنے کے بیان میں
2 Hadith
39
(39) CHAPTER. The saying of the Prophet : “I have been sent, and the Hour (is at hand) as these two (fingers).” And the Statement of Allah: ...And the matter of the Hour is not but as a twinkling of the eye, or even nearer. Truly! Allah is Able to do all things. (V.16:77)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میں اور قیامت دونوں ایسے نزدیک ہیں جیسے یہ ( کلمہ اور بیچ کی انگلیاں ) نزدیک ہیں
3 Hadith
40
(40) CHAPTER. The rising of the sun from the west.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
41
(41) CHAPTER. Whoever loves to meet Allah, Allah (too) loves to meet him.
جو اللہ سے ملاقات کو پسند رکھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند رکھتا ہے
3 Hadith
42
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
7 Hadith
43
(43) CHAPTER. The blowing of the Trumpet, on the Day of Resurrection.
صور پھونکنے کا بیان
2 Hadith
44
(44) CHAPTER. On the Day of Resurrection, Allah will grasp (or hold) the whole (planet of) earth (in His Hand).
اللہ تعالیٰ زمین کواپنی مٹھی میں لے لے گا ۔
3 Hadith
45
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
8 Hadith
46
(46) CHAPTER. The Saying (of Allah): ...Verily, the earthquake of the Hour (of judgement) is a terrible thing. (V.22:1)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحج میں ارشاد کہ
1 Hadith
47
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “Think they not that they will be resurrected (for reckoning), on a Great Day. The Day when (all) mankind will stand before the Lord of Al-Alamin (mankind, jinn and all that exists).” (V.83:4-6)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المطففین میں یوں فرمانا کہ
3 Hadith
48
(48) CHAPTER. AI-Qisas (retaliation) on the Day of Resurrection.
قیامت کے دن بدلہ لیا جانا
2 Hadith
49
(49) CHAPTER. Anybody whose account (record) is questioned will surely be punished.
جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب کیا جائے گا
5 Hadith
50
(50) CHAPTER. Seventy thousand (persons) will enter Paradise without accounts.
جنت میں ستر ہزار آدمی بلاحساب داخل ہوں گے
1 Hadith
51
(50) CHAPTER. Seventy thousand (persons) will enter Paradise without accounts.
جنت و جہنم کا بیان
31 Hadith
52
(52) CHAPTER. As-Sirat is a bridge across the Hell.
صراط ایک پل ہے جو دوزخ پر بنایاگیا ہے
2 Hadith
53
(53) CHAPTER. (What is said) regarding Al-Haud (the Prophet's Tank - Al-Kauthar).
حوضکوثر کے بیان میں
19 Hadith
No chapter matched that.