TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of oaths and vows. - کتاب قسموں اور نذروں کے بیان میں - Book 84 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 84 of Sahih Bukhari, with 30 chapters and 87 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

87 Hadith · 30 Chapters
(3) CHAPTER. How did the oaths of the Prophet use to be?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ مِمَّا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ أَخْبَاءٍ- أَوْ خِبَاءٍ- أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِكَ- أَوْ خِبَائِكَ، شَكَّ يَحْيَى- ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ أَهْلُ أَخْبَاءٍ- أَوْ خِبَاءٍ- أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِكَ أَوْ خِبَائِكَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ». قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ قَالَ: «لاَ إِلاَّ بِالْمَعْرُوفِ».
Narrated `Aisha: Hind bint `Utba bin Rabi`a said, O Allah 's Apostle! (Before I embraced Islam), there was no family on the surface of the earth, I wish to have degraded more than I did your family. But today there is no family whom I wish to have honored more than I did yours. Allah's Apostle said, I thought similarly, by Him in Whose Hand Muhammad's soul is! Hind said, O Allah's Apostle! (My husband) Abu Sufyan is a miser. Is it sinful of me to feed my children from his property? The Prophet said, No, unless you take it for your needs what is just and reasonable.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ ( معاویہ رضی اللہ عنہ کی ماں ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ساری زمین پر جتنے ڈیرے والے ہیں ( یعنی عرب لوگ جو اکثر ڈیروں اور خیموں میں رہا کرتے تھے ) میں کسی کا ذلیل و خوار ہونا مجھ کو اتنا پسند نہیں تھا جتنا آپ کا۔ یحییٰ بن بکیر راوی کو شک ہے ( کہ ڈیرے کا لفظ بہ صیغہ مفرد کہا یا بہ صیغہ جمع ) اب کوئی ڈیرہ والا یا ڈیرے والے ان کو عزت اور آبرو حاصل ہونا مجھ کو آپ کے ڈیرے والوں سے زیادہ پسند نہیں ہے ( یعنی اب میں آپ کی اور مسلمانوں کی سب سے زیادہ خیرخواہ ہوں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی کیا ہے تو اور بھی زیادہ خیرخواہ بنے گی۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے۔ پھر ہند کہنے لگی یا رسول اللہ! ابوسفیان تو ایک بخیل آدمی ہے مجھ پر گناہ تو نہیں ہو گا اگر میں اس کے مال میں سے ( اپنے بال بچوں کو کھلاؤں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اگر تو دستور کے موافق خرچ کرے۔
6641
Sahih
(3) CHAPTER. How did the oaths of the Prophet use to be?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضِيفٌ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ يَمَانٍ ، إِذْ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : أَفَلَمْ تَرْضَوْا أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ .
Narrated `Abdullah bin Masud: While Allah's Apostle was sitting, reclining his back against a Yemenite leather tent he said to his companions, Will you be pleased to be one-fourth of the people of Paradise? They said, 'Yes.' He said Won't you be pleased to be one-third of the people of Paradise They said, Yes. He said, By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, I hope that you will be one-half of the people of Paradise.
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا کہ میں نے عمرو بن میمون سے سنا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یمنی چمڑے کے خیمہ سے پشت لگائے ہوئے بیٹھے تھے تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کیا تم اس پر خوش ہو کہ تم اہل جنت کے ایک چوتھائی رہو؟ انہوں نے عرض کیا، کیوں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم اہل جنت کے ایک تہائی حصہ پاؤ۔ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھے تم ہی ہو گے۔
6642
Sahih
(3) CHAPTER. How did the oaths of the Prophet use to be?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، يُرَدِّدُهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: A man heard another man reciting: Surat-ul-Ikhlas (The Unity) 'Say: He is Allah, the One (112) and he was repeating it. The next morning he came to Allah's Apostle and mentioned the whole story to him as if he regarded the recitation of that Sura as insufficient On that, Allah's Apostle said, By Him in Whose Hand my soul is! That (Sura No. 112) equals one-third of the Qur'an.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے سنا کہ ایک دوسرے صحابی سورۃ قل ھو اللہ باربار پڑھتے ہیں جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، وہ صحابی اس سورت کو کم سمجھتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔
6643
Sahih
(3) CHAPTER. How did the oaths of the Prophet use to be?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ .
Narrated Anas bin Malik: I heard the Prophet saying, Perform the bowing and the prostration properly (with peace of mind), for, by Him in Whose Hand my soul is, I see you from behind my back when you bow and when you prostrate.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ رکوع اور سجدہ پورے طور پر ادا کیا کرو۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اپنی کمر کے پیچھے سے تم کو دیکھ لیتا ہوں جب رکوع اور سجدہ کرتے ہو۔
6644
Sahih
(3) CHAPTER. How did the oaths of the Prophet use to be?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا أَوْلَادٌ لَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ، قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ .
Narrated Anas bin Malik: An Ansari woman came to the Prophet in the company of her children, and the Prophet said to her, By Him in Whose Hand my soul is, you are the most beloved people to me! And he repeated the statement thrice.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ہشام بن زید سے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ انصاری خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ بھی مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز ہو۔ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائے۔
6645
Sahih
(4) CHAPTER. “Do not swear by your fathers.
اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ ، يَحْلِفُ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ ، أَوْ لِيَصْمُتْ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle met `Umar bin Al-Khattab while the latter was going with a group of camel-riders, and he was swearing by his father. The Prophet said, Lo! Allah forbids you to swear by your fathers, so whoever has to take an oath, he should swear by Allah or keep quiet.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے مالک نے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ چل رہے تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خبردار تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے، جسے قسم کھانی ہے اسے ( بشرط صدق ) چاہئے کہ اللہ ہی کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے۔
6646
Sahih
(4) CHAPTER. “Do not swear by your fathers.
اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ سَالِمٌ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكِرًا ، وَلَا آثِرًا ، قَالَ مُجَاهِدٌ : أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ سورة الأحقاف آية 4 ، يَأْثُرُ عِلْمًا ، تَابَعَهُ عُقَيْلٌ ، وَالزُّبَيْدِيُّ ، وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَمَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُمَرَ .
Narrated Ibn `Umar: I heard `Umar saying, Allah's Apostle said to me, 'Allah forbids you to swear by your fathers. `Umar said, By Allah! Since I heard that from the Prophet , I have not taken such an oath, neither intentionally, nor by reporting the oath of someone else.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا واللہ! پھر میں نے ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت سننے کے بعد کبھی قسم نہیں کھائی نہ اپنی طرف سے غیر اللہ کی قسم کھائی نہ کسی دوسرے کی زبان سے نقل کی۔ مجاہد نے کہا سورۃ الاحقاف میں جو «أثرة من علم‏» ہے اس کا معنی یہ ہے کہ علم کی کوئی بات نقل کرتا ہو۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل اور محمد بن ولید زبیدی اور اسحاق بن یحییٰ کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا اور سفیان بن عیینہ اور معمر نے اس کو زہری سے روایت کیا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو غیر اللہ کی قسم کھاتے سنا۔ روایت میں لفظ «اثارة» کی تفسیر «اثرا» کی مناسبت سے بیان کر دی کیونکہ دونوں کا مادہ ایک ہی ہے۔
6647
Sahih
(4) CHAPTER. “Do not swear by your fathers.
اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, Do not swear by your fathers.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ۔“
6648
Sahih
(4) CHAPTER. “Do not swear by your fathers.
اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ ، وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي ، فَدَعَاهُ إِلَى الطَّعَامِ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهُ ، فَقَالَ : قُمْ فَلَأُحَدِّثَنَّكَ عَنْ ذَاكَ ، إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ ، فَسَأَلَ عَنَّا ، فَقَالَ : أَيْنَ النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ ، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا ، قُلْنَا : مَا صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْمِلُنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا يَحْمِلُنَا ، ثُمَّ حَمَلَنَا ، تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ ، وَاللَّهِ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ ، فَقُلْنَا لَهُ : إِنَّا أَتَيْنَاكَ لِتَحْمِلَنَا ، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَمَا عِنْدَكَ مَا تَحْمِلُنَا ، فَقَالَ : إِنِّي لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ ، وَاللَّهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَتَحَلَّلْتُهَا .
Narrated Zahdam: There was a relation of love and brotherhood between this tribe of Jarm and Al-Ash`ariyin. Once we were with Abu Musa Al-Ash`ari, and then a meal containing chicken was brought to Abu Musa, and there was present, a man from the tribe of Taimillah who was of red complexion as if he were from non-Arab freed slaves. Abu Musa invited him to the meal. He said, I have seen chickens eating dirty things, so I deemed it filthy and took an oath that I would never eat chicken. On that, Abu Musa said, Get up, I will narrate to you about that. Once a group of the Ash`ariyin and I went to Allah's Apostle and asked him to provide us with mounts; he said, 'By Allah, I will never give you any mounts nor do I have anything to mount you on.' Then a few camels of war booty were brought to Allah's Apostle , and he asked about us, saying, 'Where are the Ash-'ariyin?' He then ordered five nice camels to be given to us, and when we had departed, we said, 'What have we done? Allah's Apostle had taken the oath not to give us any mounts, and that he had nothing to mount us on, and later he gave us that we might ride? Did we take advantage of the fact that Allah's Apostle had forgotten his oath? By Allah, we will never succeed.' So we went back to him and said to him, 'We came to you to give us mounts, and you took an oath that you would not give us any mounts and that you had nothing to mount us on.' On that he said, 'I did not provide you with mounts, but Allah did. By Allah, if I take an oath to do something, and then find something else better than it, I do that which is better and make expiation for the dissolution of the oath.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ اور قاسم تیمی نے اور ان سے زہدم نے بیان کیا کہ ان قبائل، جرم اور اشعر کے درمیان بھائی چارہ تھا۔ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے تو ان کے لیے کھانا لایا گیا۔ اس میں مرغی بھی تھی۔ ان کے پاس بنی تیم اللہ کا ایک سرخ رنگ کا آدمی بھی موجود تھا۔ غالباً وہ غلاموں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے کھانے پر بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تو مجھے گھن آئی اور پھر میں نے قسم کھا لی کہ اب میں اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تو میں تمہیں اس کے بارے میں ایک حدیث سناؤں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ آیا اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس ایسا کوئی جانور ہے جو تمہیں سواری کے لیے دے سکوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال غنیمت کے اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں پھر آپ نے ہم کو پانچ عمدہ قسم کے اونٹ دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ جب ہم ان کو لے کر چلے تو ہم نے کہا یہ ہم نے کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قسم کھا چکے تھے کہ ہم کو سواری نہیں دیں گے اور درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت سواری موجود بھی نہ تھی پھر آپ نے ہم کو سوار کرا دیا۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم سے غافل کر دیا۔ قسم اللہ کی ہم اس حرکت کے بعد کبھی فلاح نہیں پا سکیں گے۔ پس ہم آپ کی طرف لوٹ کر آئے اور آپ سے ہم نے تفصیل بالا کو عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس آئے تھے تاکہ آپ ہم کو سواری پر سوار کرا دیں پس آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سوار نہیں کرائیں گے اور درحقیقت اس وقت آپ کے پاس سواری موجود بھی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب سن کر فرمایا کہ میں نے تم کو سوار نہیں کرایا بلکہ اللہ نے تم کو سوار کرا دیا۔ اللہ کی قسم جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں بعد میں اس سے بہتر اور معاملہ دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور اس قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔
6649
Sahih
(5) CHAPTER. One should not swear by Al-Lat and Al-Uzza (idols which used to be worshipped in the Pre-Islamic Period of Ignorance in Hijaz) or by any kind of false deities.
لات و عزیٰ اور بتوں کی قسم نہ کھائے
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَلَفَ ، فَقَالَ فِي حَلِفِهِ : بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، فَلْيَقُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ : تَعَالَ أُقَامِرْكَ : فَلْيَتَصَدَّقْ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Whoever swears saying in his oath. 'By Al-Lat and Al-`Uzza,' should say, 'None has the right to be worshipped but Allah; and whoever says to his friend, 'Come, let me gamble with you,' should give something in charity.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے قسم کھائی اور کہا کہ ”لات و عزیٰ کی قسم“ تو اسے پھر کلمہ «لا إله إلا الله» کہہ لینا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے چاہئے کہ ( اس کے کفارہ میں ) صدقہ کرے۔
6650
Sahih
(6) CHAPTER. The one who gives an oath regarding something although he has not been asked to give an oath.
بن قسم دیئے قسم کھانا کیسا ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَكَانَ يَلْبَسُهُ فَيَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ ، فَصَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ ، ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتِمَ ، وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ فَرَمَى بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا ، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle had a gold ring made for himself, and he used to wear it with the stone towards the inner part of his hand. Consequently, the people had similar rings made for themselves. Afterwards the Prophet; sat on the pulpit and took it off, saying, I used to wear this ring and keep its stone towards the palm of my hand. He then threw it away and said, By Allah, I will never wear it. Therefore all the people threw away their rings as well.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے، اس کا نگینہ ہتھیلی کے حصے کی طرف رکھتے تھے۔ پھر لوگوں نے بھی ایسی انگوٹھیاں بنوا لیں اس کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور اپنی انگوٹھی اتار دی اور فرمایا کہ میں اسے پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی جانب رکھتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار کر پھینک دیں۔
6651
Sahih
(7) CHAPTER. Whoever swears by a religion other than Islam.
اس شخص کے بارے میں جس نے اسلام کے سوا اور کسی مذہب پر قسم کھائی
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ مِلَّةِ الْإِسْلَامِ ، فَهُوَ كَمَا قَالَ ، قَالَ : وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ ، عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ ، كَقَتْلِهِ ، وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ ، فَهُوَ كَقَتْلِهِ .
Narrated Thabit bin Ad-Dahhak: The Prophet said, Whoever swears by a religion other than Islam, is, as he says; and whoever commits suicide with something, will be punished with the same thing in the (Hell) Fire; and cursing a believer is like murdering him; and whoever accuses a believer of disbelief, then it is as if he had killed him.
ہم سے معلی بن اسعد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے روایت کیا، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ثابت بن ضحاک سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے پس وہ ایسا ہی ہے جیسی کہ اس نے قسم کھائی ہے اور جو شخص اپنے نفس کو کسی چیز سے ہلاک کرے وہ دوزخ میں اسی چیز سے عذاب دیا جاتا رہے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کا الزام لگایا پس وہ بھی اس کے قتل کرنے کے برابر ہے۔“
6652
Sahih
(7) CHAPTER. Whoever swears by a religion other than Islam.
اس شخص کے بارے میں جس نے اسلام کے سوا اور کسی مذہب پر قسم کھائی
وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ ، فَبَعَثَ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ : تَقَطَّعَتْ بِيَ الْحِبَالُ ، فَلَا بَلَاغَ لِي إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ بِكَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
Narrated Abu Hurairah that he heard the Prophet (saws) saying, Allah decided to test three people from Bani Isra'il. So, He sent an angel who came first to the leper and said, '(I am a traveller) who has run short of all means of living, and I have nobody to help me except Allah, and then with your help.' Abu Hurairah then mentioned the complete narration.
اور عمرو بن عاصم نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن عبداللہ نے، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے اللہ نے ان کو آزمانا چاہا ( پھر سارا قصہ بیان کیا ) فرشتے کو کوڑھی کے پاس بھیجا وہ اس سے کہنے لگا میری روزی کے سارے ذریعے کٹ گئے ہیں اب اللہ ہی کا آسرا ہے پھر تیرا ( یا اب اللہ ہی کی مدد درکار ہے پھر تیری ) پھر پوری حدیث کو ذکر کیا۔
6653
Sahih
(7) CHAPTER. Whoever swears by a religion other than Islam.
اس شخص کے بارے میں جس نے اسلام کے سوا اور کسی مذہب پر قسم کھائی
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ .
Narrated Al-Bara: The Prophet ordered us to help others to fulfill the oaths.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے اشعث بن ابی الشعثاء سے، انہوں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے، انہوں نے براء بن عازب سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے اشعث سے، انہوں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھانے والے کو سچا کرنے کا حکم فرمایا۔
6654
Sahih
(7) CHAPTER. Whoever swears by a religion other than Islam.
اس شخص کے بارے میں جس نے اسلام کے سوا اور کسی مذہب پر قسم کھائی
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أُسَامَةَ ، أَنَّ بِنْتًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وسَعْدٌ ، وأُبَيٌّ : أَنَّ ابْنِي قَدِ احْتُضِرَ فَاشْهَدْنَا ، فَأَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ : إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى ، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى ، فَلْتَصْبِرْ وَتَحْتَسِبْ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ ، تُقْسِمُ عَلَيْهِ ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا قَعَدَ رُفِعَ إِلَيْهِ ، فَأَقْعَدَهُ فِي حَجْرِهِ ، وَنَفْسُ الصَّبِيِّ جُئِّثُ ، فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : هَذِهِ رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ .
Narrated Usama: Once a daughter of Allah's Apostle sent a message to Allah's Apostle while Usama, Sa`d, and my father or Ubai were (sitting there) with him. She said, (in the message); My child is going to die; please come to us. Allah's Apostle returned the messenger and told him to convey his greetings to her, and say, Whatever Allah takes, is for Him and whatever He gives is for Him, and everything with Him has a limited fixed term (in this world): so she should be patient and hope for Allah's reward. Then she again sent for him swearing that he should come; so The Prophet got up, and so did we. When he sat there (at the house of his daughter), the child was brought to him, and he took him into his lap while the child's breath was disturbed in his chest. The eyes of Allah's Apostle started shedding tears. Sa`d said, What is this, O Allah's Apostle? The Prophet said, This is the mercy which Allah has lodged in the hearts of whoever He wants of His slaves, and verily Allah is merciful only to those of His slaves who are merciful (to others).'
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم کو عاصم الاحول نے خبر دی، کہا میں نے ابوعثمان سے سنا، وہ اسامہ سے نقل کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( زینب ) نے آپ کو بلا بھیجا اس وقت آپ کے پاس اسامہ بن زید اور سعد بن عبادہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم بھی بیٹھے تھے۔ صاحبزادی صاحبہ نے کہلا بھیجا کہ ان کا بچہ مرنے کے قریب ہے آپ تشریف لائیے۔ آپ نے ان کے جواب میں یوں کہلا بھیجا میرا سلام کہو اور کہو سب اللہ کا مال ہے جو اس نے لے لیا اور جو اس نے عنایت فرمایا اور ہر چیز کا اس کے پاس وقت مقرر ہے، صبر کرو اور اللہ سے ثواب کی امید رکھو۔ صاحبزادی صاحبہ نے قسم دے کر پھر کہلا بھیجا کہ نہیں آپ ضرور تشریف لائیے۔ اس وقت آپ اٹھے، ہم لوگ بھی ساتھ اٹھے جب آپ صاحبزادی صاحبہ کے گھر پر پہنچے اور وہاں جا کر بیٹھے تو بچے کو اٹھا کر آپ کے پاس لائے۔ آپ نے اسے گود میں بٹھا لیا وہ دم توڑ رہا تھا۔ یہ حال پرملال دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ رونا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رونا رحم کی وجہ سے ہے اور اللہ اپنے جس بندے کے دل میں چاہتا ہے رحم رکھتا ہے یا یہ ہے کہ اللہ اپنے ان ہی بندوں پر رحم کرے گا جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔
6655
Sahih
(7) CHAPTER. Whoever swears by a religion other than Islam.
اس شخص کے بارے میں جس نے اسلام کے سوا اور کسی مذہب پر قسم کھائی
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، تَمَسُّهُ النَّارُ ، إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Any Muslim who has lost three of his children will not be touched by the Fire except that which will render Allah's oath fulfilled.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں تو اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم اتارنے کے لیے۔“
6656
Sahih
(7) CHAPTER. Whoever swears by a religion other than Islam.
اس شخص کے بارے میں جس نے اسلام کے سوا اور کسی مذہب پر قسم کھائی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ ، مُتَضَعَّفٍ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، وَأَهْلِ النَّارِ ؟ كُلُّ جَوَّاظٍ ، عُتُلٍّ ، مُسْتَكْبِرٍ .
Narrated Haritha bin Wahb: I heard the Prophet saying, Shall I tell you of the people of Paradise? They comprise every poor humble person, and if he swears by Allah to do something, Allah will fulfill it; while the people of the fire comprise every violent, cruel arrogant person.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معبد بن خالد نے، کہا میں نے حارثہ بن وہب سے سنا، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں تم کو بتلاؤں بہشتی کون لوگ ہیں، ہر ایک غریب ناتواں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کو سچا کرے ( اس کی قسم پوری کر دے ) اور دوزخی کون لوگ ہیں ہر ایک موٹا، لڑاکا، مغرور، فسادی۔
6657
Sahih
(10) CHAPTER. If one says: “I bear witness swearing by Allah” or I have borne witness swearing by Allah.
اگر کسی نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں یا اللہ کے نام کے ساتھ گواہی دیتا ہوں
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَكَانَ أَصْحَابُنَا يَنْهَوْنَا وَنَحْنُ غِلْمَانٌ ، أَنْ نَحْلِفَ بِالشَّهَادَةِ وَالْعَهْدِ .
Narrated `Abdullah: The Prophet was asked, Who are the best people? He replied: The people of my generation, and then those who will follow (come after) them, and then those who will come after the later; after that there will come some people whose witness will precede their oaths and their oaths will go ahead of their witness. Ibrahim (a sub-narrator) said, When we were young, our elder friends used to prohibit us from taking oaths by saying, 'I bear witness swearing by Allah, or by Allah's Covenant. '
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون لوگ اچھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا زمانہ، پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جس کی گواہی قسم سے پہلے زبان پر آ جایا کرے گی اور قسم گواہی سے پہلے۔ ابراہیم نے کہا کہ ہمارے اساتذہ جب ہم کم عمر تھے تو ہمیں قسم کھانے سے منع کیا کرتے تھے کہ ہم گواہی یا عہد میں قسم کھائیں۔
6658
Sahih
(11) CHAPTER. (What is said regarding) The Covenant of Allah.
جو شخص علی عہداللہ کہے تو کیا حکم ہے
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ ، يَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ، أَوْ قَالَ : أَخِيهِ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَهُ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77 .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, Whoever swears falsely in order to grab the property of a Muslim (or of his brother), Allah will be angry with him when he meets Him. Allah then revealed in confirmation of the above statement:--'Verily those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their own oaths.' (3.77)
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان و منصور نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے جھوٹی قسم اس مقصد سے کھائی کہ کسی مسلمان کا مال اس کے ذریعہ ناجائز طریقے پر حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق نازل کی ( قرآن مجید میں کہ ) «إن الذين يشترون بعهد الله‏» بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کے ذریعہ خریدتے ہیں۔“
6659
Sahih
(11) CHAPTER. (What is said regarding) The Covenant of Allah.
جو شخص علی عہداللہ کہے تو کیا حکم ہے
قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ : فَمَرَّ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، فَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ ؟ قَالُوا لَهُ : فَقَالَ الْأَشْعَثُ : نَزَلَتْ فِيَّ ، وَفِي صَاحِبٍ لِي ، فِي بِئْرٍ كَانَتْ بَيْنَنَا .
Al-Ash'ath said, This Verse was revealed regarding me and a companion of mine when we had a dispute about a well.
سلیمان نے بیان کیا کہ پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور پوچھا کہ عبداللہ تم سے کیا بیان کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے بیان کیا تو اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت میرے اور میرے ایک ساتھی کے بارے میں نازل ہوئی تھی، ایک کنویں کے سلسلے میں ہم دونوں کا جھگڑا تھا۔
6660
Sahih

Chapters

30
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “Allah will not punish you for what is unintentional in your oaths, but He will punish you for your deliberate oaths; for its expiation (a deliberate oath) feed ten poor persons, on a scale of the average of that with which you feed your own families; or clothe them; or manumit a slave. But whosoever cannot afford (that), then he should fast for three days. That is the expiation for the oath when you have sworn. And protect your oaths (i.e., do not swear much). Thus Allah make clear to you His Ayat (proofs, evidances, verses, lessons, signs, revelations, etc.) that you may be grateful. (V.5:89)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا
1 Hadith
02
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “Allah will not punish you for what is unintentional in your oaths, but He will punish you for your deliberate oaths; for its expiation (a deliberate oath) feed ten poor persons, on a scale of the average of that with which you feed your own families; or clothe them; or manumit a slave. But whosoever cannot afford (that), then he should fast for three days. That is the expiation for the oath when you have sworn. And protect your oaths (i.e., do not swear much). Thus Allah make clear to you His Ayat (proofs, evidances, verses, lessons, signs, revelations, etc.) that you may be grateful. (V.5:89)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں قسم کھانا ” وایم اﷲ “ ( اللہ کی قسم )
6 Hadith
03
(3) CHAPTER. How did the oaths of the Prophet use to be?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے
18 Hadith
04
(4) CHAPTER. “Do not swear by your fathers.
اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ
4 Hadith
05
(5) CHAPTER. One should not swear by Al-Lat and Al-Uzza (idols which used to be worshipped in the Pre-Islamic Period of Ignorance in Hijaz) or by any kind of false deities.
لات و عزیٰ اور بتوں کی قسم نہ کھائے
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. The one who gives an oath regarding something although he has not been asked to give an oath.
بن قسم دیئے قسم کھانا کیسا ہے
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. Whoever swears by a religion other than Islam.
اس شخص کے بارے میں جس نے اسلام کے سوا اور کسی مذہب پر قسم کھائی
6 Hadith
08
(10) CHAPTER. If one says: “I bear witness swearing by Allah” or I have borne witness swearing by Allah.
اگر کسی نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں یا اللہ کے نام کے ساتھ گواہی دیتا ہوں
1 Hadith
09
(11) CHAPTER. (What is said regarding) The Covenant of Allah.
جو شخص علی عہداللہ کہے تو کیا حکم ہے
2 Hadith
10
(12) CHAPTER. To swear by Allah's Izza (Power and Honour) His Qualities, and His Speech.
اللہ تعالیٰ کی عزت ، اس کی صفات اور اس کے کلمات کی قسم کھانا
1 Hadith
11
(13) CHAPTER.The saying of a person, “La ‘amrullah. [By the Eternity of Allah].
کوئی شخص کہے کہ لعمر اﷲ یعنی اللہ کی بقا کی قسم کھانا ۔
1 Hadith
12
(14) CHAPTER.(The Holy Verse) “Allah will not call you to account for that which is unintentional in your oaths ...”
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ وہ تمہاری لغو قسموں کے بارے میں تم سے پکڑ نہیں کرے گا
1 Hadith
13
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
11 Hadith
14
(16) CHAPTER. Al-Ghamus oath.
قسموں کا بیان
1 Hadith
15
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths... (V.3:77) And also the Statement of Allah: And purchase not a small gain at the cost of Allah's Covenant. Verily! What is with Allah is better for you if you did but know. (V.16:95) And fulfil the Convenant of Allah (Baia: pledge for Islam) when you have convenanted, and break not the oaths after you have confirmed them - and indeed you have appointed Allah your surety... (V.16:91)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ آلعمران میں فرمانا
2 Hadith
16
(18) CHAPTER. To swear (to do or not to do) something which is not in one‘s power (to do or not); and to swear to do an act of disobedience or to take an oath in a state of anger.
ملک حاصل ہونے سے پہلے یا گناہ کی بات کے لئے یا غصہ کی حالت میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے ؟
3 Hadith
17
(19) CHAPTER. If one says: “By Allah! I will not speak today,” and then offers Salat (prayer) or recites the Quran or says, Subhan Allah or Al-Hamdu lillah or La ilaha illallah, he will be (judge by Allah) according to his intentions.
جب کسی نے کہا کہ واللہ ، میں آج بات نہیں کروں گا
3 Hadith
18
(20) CHAPTER. Whoever took an oath that he would not enter upon his wife for one month and that month was of twenty-nine days.
جس نے قسم کھائی کہ اپنی بیوی کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائے گا
1 Hadith
19
(21) CHAPTER. If somebody takes an oath not to drink Nabidh (infusion of dates) and then he drinks Tila or Sakar or juice (syrup) then, in the opinion of some people, he is not regarded as having broken his oath, if, to him, such drinks are not regarded as Nabidh.
اگر کسی نے قسم کھائی کہ نبیذ نہیں پئے گا پھر قسم کے بعد ۔ ۔ ۔
2 Hadith
20
(22) CHAPTER. If someone takes an oath that he will not eat Udm (cooked food-dish, meat, etc.) and then he eats dates with bread, (will his oath be regarded as dissolved?) And what sort of food is to be considered as Udm (cooked food-dish etc.)
جب کسی نے قسم کھائی کہ سالن نہیں کھائے گا
2 Hadith
21
(23) CHAPTER. The intention in taking oaths.
قسموں میں نیت کا اعتبار ہوگا
2 Hadith
22
(25) CHAPTER. If someone makes some food unlawful for himself.
اگر کوئی شخص اپنا کھانا اپنے اوپر حرام کرلے
4 Hadith
23
(27) CHAPTER. The sin of him who does not fulfil his vow.
منت نذر پوری کرنا واجب ہے
1 Hadith
24
(28) CHAPTER. To vow for to be obedient to Allah. And the Statement of Alllah: And whatever you spend for spendings (e.g. Sadaqa - charity, etc. for Allah's Cause) or whatever vow you make... (V.2:270)
اس شخص کا گناہ جو نذر پوری نہ کرے
1 Hadith
25
(29) CHAPTER. If somebody vowed or took an oath that he would not speak to anybody, during the Pre-Islamic Period of Ignorance, and then he embraces Islam (should he fulfil his vow)?.
اسی نذر کا پورا کرنا لازم ہے جو عبادت اور اطاعت کے کام کے لیے کی جائے نہ کہ گناہ کے لیے
1 Hadith
26
(30) CHAPTER. If somebody dies without fulfiling a vow (may somebody else fulfil it on his behalf)?
جب کسی نے جاہلیت میں ( اسلام لانے سے پہلے ) کسی شخص سے بات نہ کرنے کی نذر مانی ہو یا قسم کھائی ہو پھر اسلام لایا ہو ؟
1 Hadith
27
(30) CHAPTER. If somebody dies without fulfiling a vow (may somebody else fulfil it on his behalf)?
جو مرگیا اور اس پر کوئی نذر باقی رہ گئی
1 Hadith
28
(31) CHAPTER. To vow for something which one does not possess, and to vow for something sinful.
ایسی چیز کی نذر جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے
5 Hadith
29
(32) CHAPTER. If somebody has vowed that he will observe Saum (fast) for a few successive days and then those days appear to coincide with Eid-ul-Adha or Eid-ul-Fitr (should he observe fast then or make expiation, or observe fast on other days)?
جس نے کچھ خاص دنوں میں روزہ رکھنے کی نذر مانی ہو پھر اتفاق سے ان دنوں میں بقرعید یا عید ہو گئی تو اس دن روزہ نہ رکھے ۔ ( جمہور کا یہی قول ہے ) 2
2 Hadith
30
(33) CHAPTER. Can the land, sheep, farms and one‘s belongings be included in one's vows and oaths?
کیا قسموں اور نذروں میں زین ، بکریاں ، کھیتی اور سامان بھی آتے ہیں ؟
1 Hadith
No chapter matched that.