TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of oaths and vows. - کتاب قسموں اور نذروں کے بیان میں - Book 84 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 84 of Sahih Bukhari, with 30 chapters and 87 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

87 Hadith · 30 Chapters
(12) CHAPTER. To swear by Allah's Izza (Power and Honour) His Qualities, and His Speech.
اللہ تعالیٰ کی عزت ، اس کی صفات اور اس کے کلمات کی قسم کھانا
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ ، تَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, The Hell Fire will keep on saying: 'Are there anymore (people to come)?' Till the Lord of Power and Honor will put His Foot over it and then it will say, 'Qat! Qat! (sufficient! sufficient!) by Your Power and Honor. And its various sides will come close to each other (i.e., it will contract).
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم! اور اس کا بعض حصہ بعض کو کھانے لگے گا۔“ اس روایت کو شعبہ نے قتادہ سے نقل کیا۔
6661
Sahih
(13) CHAPTER.The saying of a person, “La ‘amrullah. [By the Eternity of Allah].
کوئی شخص کہے کہ لعمر اﷲ یعنی اللہ کی بقا کی قسم کھانا ۔
حَدَّثَنَا الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ : فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ : لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ .
Narrated Az-Zuhri: I heard `Urwa bin Az-Zubair, Sa`id bin Al-Musaiyab, 'Alqama bin Waqqas and 'Ubaidullah bin `Abdullah narrating from `Aisha, the wife of the Prophet, the story about the liars who said what they said about her and how Allah revealed her innocence afterwards. Each one of the above four narrators narrated to me a portion of her narration. (It was said in it), The Prophet stood up, saying, 'Is there anyone who can relieve me from `Abdullah bin Ubai?' On that, Usaid bin Hudair got up and said to Sa`d bin 'Ubada, La`Amrullahi (By the Eternity of Allah), we will kill him!'
ہم سے اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بات کے متعلق سنا کہ جب تہمت لگانے والے نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ اور ہر شخص نے مجھ سے پوری بات کا کوئی ایک حصہ ہی بیان کا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی کے بارے میں مدد چاہی۔ پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! ( «لعمر الله» ) ہم ضرور اسے قتل کر دیں گے ( مفصل حدیث پیچھے گزر چکی ہے ) ۔
6662
Sahih
(14) CHAPTER.(The Holy Verse) “Allah will not call you to account for that which is unintentional in your oaths ...”
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ وہ تمہاری لغو قسموں کے بارے میں تم سے پکڑ نہیں کرے گا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ سورة البقرة آية 225 ، قَالَ : قَالَتْ : أُنْزِلَتْ فِي قَوْلِهِ : لَا وَاللَّهِ ، بَلَى وَاللَّهِ .
Narrated `Aisha: regarding: 'Allah will not call you to account for that which is unintentional in your oaths...' (2.225) This Verse was revealed concerning such oath formulas as: 'No, by Allah!' and 'Yes, by Allah!' something against his oath due to forgetfulness should he make expiation?). And the Statement of Allah: 'And there is no blame on you if you make a mistake therein.' (33.5) And Allah said:-- '(Moses said to Khadir): Call me not to account for what I forgot.' (18.73)
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ آیت «لا يؤاخذكم الله باللغو‏» ”اللہ تعالیٰ تم سے لغو قسموں کے بارے میں پکڑ نہیں کرے گا۔“ راوی نے بیان کیا کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ آیت «لا،‏‏‏‏ والله بلى والله‏.‏» ( بے ساختہ جو قسمیں عادت بنا لی جاتی ہیں ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
6663
Sahih
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ ، أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ ، أَوْ تَكَلَّمْ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Allah forgives my followers those (evil deeds) their souls may whisper or suggest to them as long as they do not act (on it) or speak.
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر بن کدام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زرارہ بن اوفی نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان غلطیوں کو معاف کیا ہے جن کا صرف دل میں وسوسہ گزرے یا دل میں اس کے کرنے کی خواہش پیدا ہو، مگر اس کے مطابق عمل نہ ہو اور نہ بات کی ہو۔
6664
Sahih
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَوْ مُحَمَّدٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، حَدَّثَهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ ، إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَذَا وَكَذَا ، قَبْلَ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْتُ أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : افْعَلْ وَلَا حَرَجَ لَهُنَّ كُلِّهِنَّ يَوْمَئِذٍ ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ ، إِلَّا قَالَ : افْعَلْ وَلَا حَرَجَ .
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-As: While the Prophet was delivering a sermon on the Day of Nahr (i.e., 10th Dhul-Hijja-Day of slaughtering the sacrifice), a man got up saying, I thought, O Allah's Apostle, such-and-such a thing was to be done before such-and-such a thing. Another man got up, saying, O Allah's Apostle! As regards these three (acts of Hajj), thought so-and-so. The Prophet said, Do, and there is no harm, concerning all those matters on that day. And so, on that day, whatever question he was asked, he said, Do it, do it, and there is no harm therein.
ہم سے عثمان بن الہیثم نے بیان کیا یا ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے عثمان بن الہیثم سے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہا کہ میں نے ابن شہاب سے سنا، کہا کہ مجھ سے عیسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع میں ) قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان کو فلاں فلاں ارکان سے پہلے خیال کرتا تھا ( اس غلطی سے ان کو آگے پیچھے ادا کیا ) اس کے بعد دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان حج کے متعلق یونہی خیال کرتا تھا ان کا اشارہ ( حلق، رمی اور نحر ) کی طرف تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یونہی کر لو ( تقدیم و تاخیر کرنے میں ) آج ان میں سے کسی کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس مسئلہ میں بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ کر لو کوئی حرج نہیں۔
6665
Sahih
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : لَا حَرَجَ ، قَالَ آخَرُ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ، قَالَ : لَا حَرَجَ ، قَالَ آخَرُ : ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : لَا حَرَجَ .
Narrated Ibn `Abbas: A man said to the Prophet (while he was delivering a sermon on the Day of Nahr), I have performed the Tawaf round the Ka`ba before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra. The Prophet said, There is no harm (therein). Another man said, I had my head shaved before slaughtering (the sacrifice). The Prophet said, There is no harm. A third said, I have slaughtered (the sacrifice) before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra. The Prophet said, There is no harm.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ تیسرے نے کہا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
6666
Sahih
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ : ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ، فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ سَلَّمَ ، فَقَالَ : وَعَلَيْكَ ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ : فَأَعْلِمْنِي ، قَالَ : إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ ، فَكَبِّرْ وَاقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا .
Narrated Abu Huraira: A man entered the mosque and started praying while Allah's Apostle was sitting somewhere in the mosque. Then (after finishing the prayer) the man came to the Prophet and greeted him. The Prophet said to him, Go back and pray, for you have not prayed. The man went back, and having prayed, he came and greeted the Prophet. The Prophet after returning his greetings said, Go back and pray, for you did not pray. On the third time the man said, (O Allah's Apostle!) teach me (how to pray). The Prophet said, When you get up for the prayer, perform the ablution properly and then face the Qibla and say Takbir (Allahu Akbar), and then recite of what you know of the Qur'an, and then bow, and remain in this state till you feel at rest in bowing, and then raise your head and stand straight; and then prostrate till you feel at rest in prostration, and then sit up till you feel at rest while sitting; and then prostrate again till you feel at rest in prostration; and then get up and stand straight, and do all this in all your prayers.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کے لیے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کنارے تشریف رکھتے تھے۔ پھر وہ صحابی آئے اور سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور پھر نماز پڑھ کر آئے اور سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی ان سے یہی فرمایا کہ واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آخر تیسری مرتبہ میں وہ صحابی بولے کہ پھر مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کر لیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر کہو اور جو کچھ قرآن مجید میں تمہیں یاد ہے اور تم آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہو اسے پڑھا کرو، پھر رکوع کرو اور سکون کے ساتھ رکوع کر چکو تو اپنا سر اٹھاؤ اور جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو سجدہ کرو، جب سجدے کی حالت میں اچھی طرح ہو جاؤ تو سجدہ سے سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ سیدھے ہو جاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو اور جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، یہ عمل تم اپنی پوری نماز میں کرو۔
6667
Sahih
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ هَزِيمَةً تُعْرَفُ فِيهِمْ ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ : أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ : أَبِي أَبِي ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا انْحَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ .
Narrated `Aisha: When the pagans were defeated during the (first stage) of the battle of Uhud, Satan shouted, O Allah's slaves! Beware of what is behind you! So the front files of the Muslims attacked their own back files. Hudhaifa bin Al-Yaman looked and on seeing his father he shouted: My father! My father! By Allah! The people did not stop till they killed his father. Hudhaifa then said, May Allah forgive you. `Urwa (the sub-narrator) added, Hudhaifa continued asking Allah forgiveness for the killers of his father till he met Allah (till he died).
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہو گئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا ( مسلمانوں سے ) کہ اے للہ کے بندو! پیچھے دشمن ہے چنانچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے ( مسلمانوں ہی سے ) لڑ پڑے۔ اس حالت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بےخبری میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں، میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
6668
Sahih
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَمُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, If somebody eats something forgetfully while he is fasting, then he should complete his fast, for Allah has made him eat and drink.
مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عوف اعرابی نے بیان کیا، ان سے خلاص بن عمرو اور محمد بن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے روزہ رکھا ہو اور بھول کر کھا لیا ہو تو اسے اپنا روزہ پورا کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔“
6669
Sahih
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ ، فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ ، فَكَبَّرَ وَسَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَلَّمَ .
Narrated `Abdullah bin Buhaina: Once Allah's Apostle led us in prayer, and after finishing the first two rak`at, got up (instead of sitting for at-Tahiyyat) and then carried on with the prayer. When he had finished his prayer, the people were waiting for him to say Taslim, but before saying Tasiim, he said Takbir and prostrated; then he raised his head, and saying Takbir, he prostrated (SAHU) and then raised his head and finished his prayer with Taslim.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے عبداللہ بن بجینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعات کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی اٹھ گئے اور نماز پوری کر لی۔ جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور دوبارہ تکبیر کہہ کر سجدہ کیا۔ پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔
6670
Sahih
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا ، قَالَ مَنْصُورٌ : لَا أَدْرِي إِبْرَاهِيمُ ، وَهِمَ أَمْ ، عَلْقَمَةُ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ : أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ، قَالُوا : صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ لَا يَدْرِي زَادَ فِي صَلَاتِهِ أَمْ نَقَصَ ، فَيَتَحَرَّى الصَّوَابَ : فَيُتِمُّ مَا بَقِيَ ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ .
Narrated Ibn Mas`ud: that Allah's Prophet led them in the Zuhr prayer and he offered either more or less rak`at, and it was said to him, O Allah's Apostle ! Has the prayer been reduced, or have you forgotten? He asked, What is that? They said, You have prayed so many rak`at. So he performed with them two more prostrations and said, These two prostrations are to be performed by the person who does not know whether he has prayed more or less (rak`at) in which case he should seek to follow what is right. And then complete the rest (of the prayer) and perform two extra prostrations.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے عبدالعزیز بن عبدالصمد سے سنا، کہا ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز زیادہ یا کم کر دی۔ منصور نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں ابراہیم کو شبہ ہوا تھا یا علقمہ کو۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ! نماز میں کچھ کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے ( سہو کے ) کئے اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کر دی ہے اسے چاہئے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لیے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے ( سہو کے ) کر لے۔
6671
Sahih
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا سورة الكهف آية 73 ، قَالَ : كَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا .
Narrated Ubai bin Ka'b: that he heard Allah's Apostle saying, (Moses) said, 'Call me not to account for what I forget and be not hard upon me for my affair (with you)' (18.73) the first excuse of Moses was his forgetfulness.
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آیت «لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا‏» کے متعلق کہ پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوا تھا۔
6672
Sahih
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : كَتَبَ إِلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ : وَكَانَ عِنْدَهُمْ ضَيْفٌ لَهُمْ ، فَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يَذْبَحُوا قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ ، لِيَأْكُلَ ضَيْفُهُمْ ، فَذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الذَّبْحَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِنْدِي عَنَاقٌ جَذَعٌ عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ ، فَكَانَ ابْنُ عَوْنٍ يَقِفُ فِي هَذَا الْمَكَانِ ، عَنْ حَدِيثِ الشَّعْبِيِّ ، وَيُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَيَقِفُ فِي هَذَا الْمَكَانِ وَيَقُولُ : لَا أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ غَيْرَهُ ، أَمْ لَا ، رَوَاهُ أَيُّوبُ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Al-Bara bin Azib that once he had a guest, so he told his family (on the Day of Id-ul-Adha) that they should slaughter the animal for sacrifice before he returned from the ('Id) prayer in order that their guest could take his meal. So his family slaughtered (the animal ) before the prayer. Then they mentioned that event to the Prophet who ordered Al-Bara to slaughter another sacrifice. Al-Bara' said to the Prophet , I have a young milch she-goat which is better than two sheep for slaughtering. (The sub-narrator, Ibn 'Aun used to say, I don't know whether the permission (to slaughter a she-goat as a sacrifice) was especially given to Al-Bara' or if it was in general for all the Muslims. ) (See Hadith No. 99, Vol. 2.)
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ محمد بن بشار نے مجھے لکھا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا، کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان کے یہاں کچھ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کر لیں تاکہ ان کے مہمان کھائیں، چنانچہ انہوں نے نماز عید الاضحی سے پہلے جانور ذبح کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز کے بعد دوبارہ ذبح کریں۔ براء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے زیادہ دودھ والی بکری ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بڑھ کر ہے۔ ابن عوف شعبی کی حدیث کے اس مقام پر ٹھہر جاتے تھے اور محمد بن سیرین سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے تھے اور اس مقام پر رک کر کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں، یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا صرف براء رضی اللہ عنہ کے لیے ہی تھی۔ اس کی روایت ایوب نے ابن سیرین سے کی ہے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
6673
Sahih
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، قَالَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ ، ثُمَّ خَطَبَ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ ذَبَحَ فَلْيُبَدِّلْ مَكَانَهَا ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ .
Narrated Jundub: I witnessed the Prophet offering the `Id prayer (and after finishing it) he delivered a sermon and said, Whoever has slaughtered his sacrifice (before the prayer) should make up for it (i.e. slaughter another animal) and whoever has not slaughtered his sacrifice yet, should slaughter it by mentioning Allah's Name over it.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے اسود بن قیس نے کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔
6674
Sahih
(16) CHAPTER. Al-Ghamus oath.
قسموں کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْكَبَائِرُ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ .
Narrated `Abdullah bin `Amr: The Prophet said, The biggest sins are: To join others in worship with Allah; to be undutiful to one's parents; to kill somebody unlawfully; and to take an oath Al-Ghamus.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو نضر نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، کہا ہم سے فراس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کی ناحق جان لینا اور «يمين الغموس‏ ‏‏.‏» قصداً جھوٹی قسم کھانے کو کہتے ہیں۔
6675
Sahih
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths... (V.3:77) And also the Statement of Allah: And purchase not a small gain at the cost of Allah's Covenant. Verily! What is with Allah is better for you if you did but know. (V.16:95) And fulfil the Convenant of Allah (Baia: pledge for Islam) when you have convenanted, and break not the oaths after you have confirmed them - and indeed you have appointed Allah your surety... (V.16:91)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ آلعمران میں فرمانا
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
Narrated `Abdullah: Allah's Apostle said, If somebody is ordered (by the ruler or the judge) to take an oath, and he takes a false oath in order to grab the property of a Muslim, then he will incur Allah's Wrath when he will meet Him. And Allah revealed in its confirmation: 'Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenants and their own oaths.' (3.77)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے جھوٹی قسم اس طور سے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طریقہ سے حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غصہ ہو گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق وحی کے ذریعہ نازل کی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» کہ ”بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے معمولی دنیا کی پونجی خریدتے ہیں“ آخر آیت تک۔
6676
Sahih
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths... (V.3:77) And also the Statement of Allah: And purchase not a small gain at the cost of Allah's Covenant. Verily! What is with Allah is better for you if you did but know. (V.16:95) And fulfil the Convenant of Allah (Baia: pledge for Islam) when you have convenanted, and break not the oaths after you have confirmed them - and indeed you have appointed Allah your surety... (V.16:91)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ آلعمران میں فرمانا
فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، فَقَالَ : مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالُوا : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فِيَّ أُنْزِلَتْ ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ ، قُلْتُ : إِذًا يَحْلِفُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ .
(The sub-narrator added:) Al-Ash'ath bin Qais entered, saying, What did Abu `Abdur-Rahman narrate to you? They said, So-and-so, Al-Ash'ath said, This verse was revealed in my connection. I had a well on the land of my cousin (and we had a dispute about it). I reported him to Allah 's Apostle who said (to me). You should give evidence (i.e. witness) otherwise the oath of your opponent will render your claim invalid. I said, Then he (my opponent) will take the oath, O Allah's Apostle. Allah's Apostle said, Whoever is ordered (by the ruler or the judge) to give an oath, and he takes a false oath in order to grab the property of a Muslim, then he will incur Allah's Wrath when he meets Him on the Day of Resurrection.
عبداللہ یہ حدیث بیان کر چکے تھے، اتنے میں اشعث بن قیس آئے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن نے تم لوگوں سے کیا حدیث بیان کی ہے؟ لوگوں نے کہا اس اس مضمون کی۔ انہوں نے کہا اجی یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میرے ایک چچازاد بھائی کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا اس کے جھگڑے کے سلسلہ میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ مدعاعلیہ سے قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر وہ تو جھوٹی قسم کھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جھوٹی قسم بدنیتی کے ساتھ اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اللہ اس پر انتہائی غضب ناک ہو گا۔
6677
Sahih
(18) CHAPTER. To swear (to do or not to do) something which is not in one‘s power (to do or not); and to swear to do an act of disobedience or to take an oath in a state of anger.
ملک حاصل ہونے سے پہلے یا گناہ کی بات کے لئے یا غصہ کی حالت میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَسْأَلُهُ الْحُمْلَانَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ ، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ ، قَالَ : انْطَلِقْ إِلَى أَصْحَابِكَ ، فَقُلْ : إِنَّ اللَّهَ ، أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَحْمِلُكُمْ .
Narrated Abu Musa: My companions sent me to the Prophet to ask him for some mounts. He said, By Allah! I will not mount you on anything! When I met him, he was in an angry mood, but when I met him (again), he said, Tell your companions that Allah or Allah's Apostle will provide you with mounts.
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لیے بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا ( کیونکہ موجود نہیں ہیں ) جب میں آپ کے سامنے آیا تو آپ کچھ خفگی میں تھے۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا ( یہ کہا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے سواری کا انتظام کر دیا۔
6678
Sahih
(18) CHAPTER. To swear (to do or not to do) something which is not in one‘s power (to do or not); and to swear to do an act of disobedience or to take an oath in a state of anger.
ملک حاصل ہونے سے پہلے یا گناہ کی بات کے لئے یا غصہ کی حالت میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا ، كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ سورة النور آية 11 الْعَشْرَ الْآيَاتِ كُلَّهَا فِي بَرَاءَتِي . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ ، وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى سورة النور آية 22 الْآيَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي ، فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَنْزِعُهَا عَنْهُ أَبَدًا .
Narrated Az-Zuhri: I heard `Urwa bin Az-Zubair, Sa`id bin Al-Musaiyab, 'Alqama bin Waqqas and 'Ubaidullah bin `Abdullah bin `Uqba relating from `Aisha, the wife of the Prophet the narration of the people (i.e. the liars) who spread the slander against her and they said what they said, and how Allah revealed her innocence. Each of them related to me a portion of that narration. (They said that `Aisha said), ''Then Allah revealed the ten Verses starting with:--'Verily! Those who spread the slander..' (24.11-21) All these verses were in proof of my innocence. Abu Bakr As-Siddiq who used to provide for Mistah some financial aid because of his relation to him, said, By Allah, I will never give anything (in charity) to Mistah, after what he has said about `Aisha Then Allah revealed:-- 'And let not those among you who are good and are wealthy swear not to give (any sort of help) to their kins men....' (24.22) On that, Abu Bakr said, Yes, by Allah, I like that Allah should forgive me. and then resumed giving Mistah the aid he used to give him and said, By Allah! I will never withhold it from him.
ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن المسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے سنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان کی بات کے متعلق، جب ان پر اتہام لگانے والوں نے اتہام لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس اتہام سے بری قرار دیا تھا، ان سب لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کوئی ایک ٹکڑا بیان کیا ( اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الذين جاءوا بالإفك‏» کہ ”بلاشبہ جن لوگوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے“ دس آیتوں تک۔ جو سب کی سب میری پاکی بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی تھیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، مسطح رضی اللہ عنہ کے ساتھ قرابت کی وجہ سے ان کا خرچ اپنے ذمہ لیے ہوئے تھے، کہا کہ اللہ کی قسم اب کبھی مسطح پر کوئی چیز ایک پیسہ خرچ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد کہ اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا پر اس طرح کی جھوٹی تہمت لگائی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة أن يؤتوا أولي القربى‏» الخ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا، کیوں نہیں، اللہ کی قسم میں تو یہی پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری مغفرت کر دے۔ چنانچہ انہوں نے پھر مسطح کو وہ خرچ دینا شروع کر دیا جو اس سے پہلے انہیں دیا کرتے تھے اور کہا کہ اللہ کی قسم میں اب خرچ دینے کو کبھی نہیں روکوں گا۔
6679
Sahih
(18) CHAPTER. To swear (to do or not to do) something which is not in one‘s power (to do or not); and to swear to do an act of disobedience or to take an oath in a state of anger.
ملک حاصل ہونے سے پہلے یا گناہ کی بات کے لئے یا غصہ کی حالت میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ ، فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ ، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَتَحَلَّلْتُهَا .
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari: I went along with some men from the Ash-ariyin to Allah's Apostle and it happened that I met him while he was in an angry mood. We asked him to provide us with mounts, but he swore that he would not give us any. Later on he said, By Allah, Allah willing, if ever I take an oath (to do something) and later on I find something else better than the first, then I do the better one and give expiation for the dissolution of my oath.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے قاسم نے، ان سے زہدم نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ میں قبیلہ اشعر کے چند ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ غصہ تھے پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا لی کہ آپ ہمارے لیے اس کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد فرمایا: واللہ، اللہ نے چاہا تو میں کبھی بھی اگر کوئی قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور قسم توڑ دوں گا۔
6680
Sahih

Chapters

30
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “Allah will not punish you for what is unintentional in your oaths, but He will punish you for your deliberate oaths; for its expiation (a deliberate oath) feed ten poor persons, on a scale of the average of that with which you feed your own families; or clothe them; or manumit a slave. But whosoever cannot afford (that), then he should fast for three days. That is the expiation for the oath when you have sworn. And protect your oaths (i.e., do not swear much). Thus Allah make clear to you His Ayat (proofs, evidances, verses, lessons, signs, revelations, etc.) that you may be grateful. (V.5:89)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا
1 Hadith
02
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “Allah will not punish you for what is unintentional in your oaths, but He will punish you for your deliberate oaths; for its expiation (a deliberate oath) feed ten poor persons, on a scale of the average of that with which you feed your own families; or clothe them; or manumit a slave. But whosoever cannot afford (that), then he should fast for three days. That is the expiation for the oath when you have sworn. And protect your oaths (i.e., do not swear much). Thus Allah make clear to you His Ayat (proofs, evidances, verses, lessons, signs, revelations, etc.) that you may be grateful. (V.5:89)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں قسم کھانا ” وایم اﷲ “ ( اللہ کی قسم )
6 Hadith
03
(3) CHAPTER. How did the oaths of the Prophet use to be?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے
18 Hadith
04
(4) CHAPTER. “Do not swear by your fathers.
اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ
4 Hadith
05
(5) CHAPTER. One should not swear by Al-Lat and Al-Uzza (idols which used to be worshipped in the Pre-Islamic Period of Ignorance in Hijaz) or by any kind of false deities.
لات و عزیٰ اور بتوں کی قسم نہ کھائے
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. The one who gives an oath regarding something although he has not been asked to give an oath.
بن قسم دیئے قسم کھانا کیسا ہے
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. Whoever swears by a religion other than Islam.
اس شخص کے بارے میں جس نے اسلام کے سوا اور کسی مذہب پر قسم کھائی
6 Hadith
08
(10) CHAPTER. If one says: “I bear witness swearing by Allah” or I have borne witness swearing by Allah.
اگر کسی نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں یا اللہ کے نام کے ساتھ گواہی دیتا ہوں
1 Hadith
09
(11) CHAPTER. (What is said regarding) The Covenant of Allah.
جو شخص علی عہداللہ کہے تو کیا حکم ہے
2 Hadith
10
(12) CHAPTER. To swear by Allah's Izza (Power and Honour) His Qualities, and His Speech.
اللہ تعالیٰ کی عزت ، اس کی صفات اور اس کے کلمات کی قسم کھانا
1 Hadith
11
(13) CHAPTER.The saying of a person, “La ‘amrullah. [By the Eternity of Allah].
کوئی شخص کہے کہ لعمر اﷲ یعنی اللہ کی بقا کی قسم کھانا ۔
1 Hadith
12
(14) CHAPTER.(The Holy Verse) “Allah will not call you to account for that which is unintentional in your oaths ...”
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ وہ تمہاری لغو قسموں کے بارے میں تم سے پکڑ نہیں کرے گا
1 Hadith
13
(15) CHAPTER. If someone does something against his oath due to forgetfulness.
اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں
11 Hadith
14
(16) CHAPTER. Al-Ghamus oath.
قسموں کا بیان
1 Hadith
15
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths... (V.3:77) And also the Statement of Allah: And purchase not a small gain at the cost of Allah's Covenant. Verily! What is with Allah is better for you if you did but know. (V.16:95) And fulfil the Convenant of Allah (Baia: pledge for Islam) when you have convenanted, and break not the oaths after you have confirmed them - and indeed you have appointed Allah your surety... (V.16:91)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ آلعمران میں فرمانا
2 Hadith
16
(18) CHAPTER. To swear (to do or not to do) something which is not in one‘s power (to do or not); and to swear to do an act of disobedience or to take an oath in a state of anger.
ملک حاصل ہونے سے پہلے یا گناہ کی بات کے لئے یا غصہ کی حالت میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے ؟
3 Hadith
17
(19) CHAPTER. If one says: “By Allah! I will not speak today,” and then offers Salat (prayer) or recites the Quran or says, Subhan Allah or Al-Hamdu lillah or La ilaha illallah, he will be (judge by Allah) according to his intentions.
جب کسی نے کہا کہ واللہ ، میں آج بات نہیں کروں گا
3 Hadith
18
(20) CHAPTER. Whoever took an oath that he would not enter upon his wife for one month and that month was of twenty-nine days.
جس نے قسم کھائی کہ اپنی بیوی کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائے گا
1 Hadith
19
(21) CHAPTER. If somebody takes an oath not to drink Nabidh (infusion of dates) and then he drinks Tila or Sakar or juice (syrup) then, in the opinion of some people, he is not regarded as having broken his oath, if, to him, such drinks are not regarded as Nabidh.
اگر کسی نے قسم کھائی کہ نبیذ نہیں پئے گا پھر قسم کے بعد ۔ ۔ ۔
2 Hadith
20
(22) CHAPTER. If someone takes an oath that he will not eat Udm (cooked food-dish, meat, etc.) and then he eats dates with bread, (will his oath be regarded as dissolved?) And what sort of food is to be considered as Udm (cooked food-dish etc.)
جب کسی نے قسم کھائی کہ سالن نہیں کھائے گا
2 Hadith
21
(23) CHAPTER. The intention in taking oaths.
قسموں میں نیت کا اعتبار ہوگا
2 Hadith
22
(25) CHAPTER. If someone makes some food unlawful for himself.
اگر کوئی شخص اپنا کھانا اپنے اوپر حرام کرلے
4 Hadith
23
(27) CHAPTER. The sin of him who does not fulfil his vow.
منت نذر پوری کرنا واجب ہے
1 Hadith
24
(28) CHAPTER. To vow for to be obedient to Allah. And the Statement of Alllah: And whatever you spend for spendings (e.g. Sadaqa - charity, etc. for Allah's Cause) or whatever vow you make... (V.2:270)
اس شخص کا گناہ جو نذر پوری نہ کرے
1 Hadith
25
(29) CHAPTER. If somebody vowed or took an oath that he would not speak to anybody, during the Pre-Islamic Period of Ignorance, and then he embraces Islam (should he fulfil his vow)?.
اسی نذر کا پورا کرنا لازم ہے جو عبادت اور اطاعت کے کام کے لیے کی جائے نہ کہ گناہ کے لیے
1 Hadith
26
(30) CHAPTER. If somebody dies without fulfiling a vow (may somebody else fulfil it on his behalf)?
جب کسی نے جاہلیت میں ( اسلام لانے سے پہلے ) کسی شخص سے بات نہ کرنے کی نذر مانی ہو یا قسم کھائی ہو پھر اسلام لایا ہو ؟
1 Hadith
27
(30) CHAPTER. If somebody dies without fulfiling a vow (may somebody else fulfil it on his behalf)?
جو مرگیا اور اس پر کوئی نذر باقی رہ گئی
1 Hadith
28
(31) CHAPTER. To vow for something which one does not possess, and to vow for something sinful.
ایسی چیز کی نذر جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے
5 Hadith
29
(32) CHAPTER. If somebody has vowed that he will observe Saum (fast) for a few successive days and then those days appear to coincide with Eid-ul-Adha or Eid-ul-Fitr (should he observe fast then or make expiation, or observe fast on other days)?
جس نے کچھ خاص دنوں میں روزہ رکھنے کی نذر مانی ہو پھر اتفاق سے ان دنوں میں بقرعید یا عید ہو گئی تو اس دن روزہ نہ رکھے ۔ ( جمہور کا یہی قول ہے ) 2
2 Hadith
30
(33) CHAPTER. Can the land, sheep, farms and one‘s belongings be included in one's vows and oaths?
کیا قسموں اور نذروں میں زین ، بکریاں ، کھیتی اور سامان بھی آتے ہیں ؟
1 Hadith
No chapter matched that.