TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of as-salat (the prayer). - کتاب نماز کے احکام و مسائل - Book 8 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 8 of Sahih Bukhari, with 107 chapters and 172 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

172 Hadith · 107 Chapters
CHAPTER. To scrape off the sputum from the mosque with the hand (using some tool or other, or using no tool).
مسجد میں رینٹ کو کنکری سے کھرچ ڈالنا
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا ، فَقَالَ : إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى .
Narrated Abu Huraira and Abu Sa`id: Allah's Apostle saw some expectoration on the wall of the mosque; he took gravel and scraped it off and said, If anyone of you wanted to spit he should neither spit in front of him nor on his right but he could spit either on his left or under his left foot.
ہم سے سعید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمٰن کے واسطہ سے بیان کیا کہ ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر بلغم دیکھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لی اور اسے صاف کر دیا۔ پھر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تھوکے تو اسے اپنے منہ کے سامنے یا دائیں طرف نہیں تھوکنا چاہیے، البتہ بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
409
Sahih
(35) CHAPTER. It is forbidden to spit on the right side while in Salat (prayers).
اس بارے میں کہ نماز میں اپنے دائیں طرف نہ تھوکنا چاہیے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى .
Narrated Abu Huraira and Abu Sa`id: Allah's Apostle saw some expectoration on the wall of the mosque; he took gravel and scraped it off and said, If anyone of you wanted to spit, he should neither spit in front of him nor on his right but could spit either on his left or under his left foot.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے عقیل بن خالد کے واسطے سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے کہ ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا اگر تم میں سے کسی کو تھوکنا ہو تو اسے اپنے چہرے کے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکا کرو، البتہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو۔
410
Sahih
(35) CHAPTER. It is forbidden to spit on the right side while in Salat (prayers).
اس بارے میں کہ نماز میں اپنے دائیں طرف نہ تھوکنا چاہیے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى .
Narrated Abu Huraira and Abu Sa`id: Allah's Apostle saw some expectoration on the wall of the mosque; he took gravel and scraped it off and said, If anyone of you wanted to spit, he should neither spit in front of him nor on his right but could spit either on his left or under his left foot.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے عقیل بن خالد کے واسطے سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے کہ ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا اگر تم میں سے کسی کو تھوکنا ہو تو اسے اپنے چہرے کے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکا کرو، البتہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو۔
411
Sahih
(35) CHAPTER. It is forbidden to spit on the right side while in Salat (prayers).
اس بارے میں کہ نماز میں اپنے دائیں طرف نہ تھوکنا چاہیے ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَتْفِلَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ .
Narrated Anas: The Prophet said, None of you should spit in front or on his right but he could spit either on his left or under his foot.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے قتادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم اپنے سامنے یا اپنی دائیں طرف نہ تھوکا کرو، البتہ بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو۔
412
Sahih
(36) CHAPTER. One should spit on the left side or under one's left foot.
بائیں طرف یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ ، فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, A faithful believer while in prayer is speaking in private to his Lord, so he should neither spit in front of him nor to his right side but he could spit either on his left or under his foot.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے، ہاں بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
413
Sahih
(36) CHAPTER. One should spit on the left side or under one's left foot.
بائیں طرف یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ ، ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ، وَعَنْ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ حُمَيْدًا ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ نَحْوَهُ .
Narrated Abu Sa`id: The Prophet saw sputum on (the wall of) the mosque in the direction of the Qibla and scraped it off with gravel. Then he forbade Spitting in front or on the right, but allowed it on one's left or under one's left foot.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے امام زہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے کھرچ ڈالا۔ پھر فرمایا کہ کوئی شخص سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے، البتہ بائیں طرف یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لینا چاہیے۔ دوسری روایت میں زہری سے یوں ہے کہ انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے ابو سعید خدری کے واسطہ سے اسی طرح یہ حدیث سنی۔
414
Sahih
(37) CHAPTER. The expiation for spitting in the mosque.
مسجد میں تھوکنے کا کفارہ
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, Spitting in the mosque is a sin and its expiation is to bury it.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے قتادہ نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے ( زمین میں ) چھپا دینا ہے۔
415
Sahih
(38) CHAPTER. The burying of the expectoration in the mosque.
مسجد میں بلغم کو مٹی کے اندر چھپا دینا ضروری ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ ، فَإِنَّمَا يُنَاجِي اللَّهَ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَيَدْفِنُهَا .
Narrated Abu Huraira: Prophet said, If anyone of you stands for prayer, he should not spit in front of him because in prayer he is speaking in private to Allah and he should not spit on his right as there is an angel, but he can spit either on his left or under his left foot and bury it (i.e. expectoration).
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبدالرزاق نے معمر بن راشد سے، انہوں نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو سامنے نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک اپنی نماز کی جگہ میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتا رہتا ہے اور دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس طرف فرشتہ ہوتا ہے، ہاں بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لے اور اسے مٹی میں چھپا دے۔
416
Sahih
(39) CHAPTER. If the spit or sputum comes out suddenly then one should spit in the corner of one's garment.
جب تھوک کا غلبہ ہو تو نمازی اپنے کپڑے کے کنارے میں تھوک لے
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ ، وَرُئِيَ مِنْهُ كَرَاهِيَةٌ أَوْ رُئِيَ كَرَاهِيَتُهُ لِذَلِكَ ، وَشِدَّتُهُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ أَوْ رَبُّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قِبْلَتِهِ ، فَلَا يَبْزُقَنَّ فِي قِبْلَتِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ ، ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَزَقَ فِيهِ وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ ، قَالَ : أَوْ يَفْعَلُ هَكَذَا .
Narrated Anas: The Prophet saw expectoration (on the wall of the mosque) in the direction of the Qibla and scraped it off with his hand. It seemed that he disliked it and the sign of disgust was apparent from his face. He said, If anyone of you stands for the prayer, he is speaking in private to his Lord, (or) his Lord is between him and his Qibla, therefore he should not spit towards his Qibla, but he could spit either on his left or under his foot. Then he took the corner of his sheet and spat in it, folded it and said, Or do this.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے حمید نے انس بن مالک سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف ( دیوار پر ) بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے کھرچ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناخوشی کو محسوس کیا گیا یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا کہ ) اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید ناگواری کو محسوس کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، یا یہ کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے قبلہ کی طرف نہ تھوکا کرو، البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا ایک کونا ( کنارہ ) لیا، اس میں تھوکا اور چادر کی ایک تہہ کو دوسری تہہ پر پھیر لیا اور فرمایا، یا اس طرح کر لیا کرے۔
417
Sahih
(40) CHAPTER. Preaching of the Imam to the people regarding the proper offering of As-Salat (the prayer) and the mention of the Qiblah (Kabah at Makkah).
امام لوگوں کو یہ نصیحت کرے کہ نماز پوری طرح پڑھیں اور قبلہ کابیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا ، فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ ، وَلَا رُكُوعُكُمْ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Do you consider or see that my face is towards the Qibla? By Allah, neither your submissiveness nor your bowing is hidden from me, surely I see you from my back.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میرا منہ ( نماز میں ) قبلہ کی طرف ہے، اللہ کی قسم مجھ سے نہ تمہارا خشوع چھپتا ہے نہ رکوع، میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تم کو دیکھتا رہتا ہوں۔
418
Sahih
(40) CHAPTER. Preaching of the Imam to the people regarding the proper offering of As-Salat (the prayer) and the mention of the Qiblah (Kabah at Makkah).
امام لوگوں کو یہ نصیحت کرے کہ نماز پوری طرح پڑھیں اور قبلہ کابیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ فِي الصَّلَاةِ وَفِي الرُّكُوعِ : إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَائِي كَمَا أَرَاكُمْ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet led us in a prayer and then got up on the pulpit and said, In your prayer and bowing, I certainly see you from my back as I see you (while looking at you.)
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے ہلال بن علی سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مرتبہ نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، پھر نماز کے باب میں اور رکوع کے باب میں فرمایا میں تمہیں پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا رہتا ہوں جیسے اب سامنے سے دیکھ رہا ہوں۔
419
Sahih
(41) CHAPTER. It is permissible to say, “Masjid (mosque) of Bani so-and-so?”
اس بارے میں کہ کیا یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسجد فلاں خاندان والو ں کی ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ فِيمَنْ سَابَقَ بِهَا .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle ordered for a horse race; the trained horses were to run from a place called Al-Hafya' to Thaniyat Al-Wada` and the horses which were not trained were to run from Al-Thaniya to the Masjid (mosque of) Bani Zuraiq. The sub narrator added: Ibn `Umar was one of those who took part in the race.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی جنھیں ( جہاد کے لیے ) تیار کیا گیا تھا مقام حفیاء سے دوڑ کرائی، اس دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع تھی اور جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کرائی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس گھوڑ دوڑ میں شرکت کی تھی۔
420
Sahih
(42) CHAPTER. The distribution (of goods or wealth) and the hanging of a cluster of dates in the mosque.
مسجد میں مال تقسیم کرنا اور مسجد میں کھجور کا خوشہ لٹکانا
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ ، فَقَالَ : انْثُرُوهُ فِي الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ أَكْثَرَ مَالٍ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ ، فَمَا كَانَ يَرَى أَحَدًا إِلَّا أَعْطَاهُ ، إِذْ جَاءَهُ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِنِي فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذْ فَحَثَا فِي ثَوْبِهِ ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اؤْمُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ إِلَيَّ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ ، قَالَ : لَا ، فَنَثَرَ مِنْهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اؤْمُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ عَلَيَّ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ ، قَالَ : لَا ، فَنَثَرَ مِنْهُ ، ثُمَّ احْتَمَلَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى كَاهِلِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ ، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا عَجَبًا مِنْ حِرْصِهِ ، فَمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَمَّ مِنْهَا دِرْهَمٌ .
Narrated Anas: Some goods came to Allah's Apostle from Bahrain. The Prophet ordered the people to spread them in the mosque --it was the biggest amount of goods Allah's Apostle had ever received. He left for prayer and did not even look at it. After finishing the prayer, he sat by those goods and gave from those to everybody he saw. Al-`Abbas came to him and said, O Allah's Apostle! give me (something) too, because I gave ransom for myself and `Aqil . Allah's Apostle told him to take. So he stuffed his garment with it and tried to carry it away but he failed to do so. He said, O Allah's Apostle! Order someone to help me in lifting it. The Prophet refused. He then said to the Prophet: Will you please help me to lift it? Allah's Apostle refused. Then Al-`Abbas threw some of it and tried to lift it (but failed). He again said, O Allah's Apostle Order someone to help me to lift it. He refused. Al-`Abbas then said to the Prophet: Will you please help me to lift it? He again refused. Then Al-`Abbas threw some of it, and lifted it on his shoulders and went away. Allah's Apostle kept on watching him till he disappeared from his sight and was astonished at his greediness. Allah's Apostle did not get up till the last coin was distributed.
ابراہیم بن طہمان نے کہا، عبدالعزیز بن صہیب سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین سے رقم آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مسجد میں ڈال دو اور یہ رقم اس تمام رقم سے زیادہ تھی جو اب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ چکی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائے اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں فرمائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پوری کر چکے تو آ کر مال ( رقم ) کے پاس بیٹھ گئے اور اسے تقسیم کرنا شروع فرما دیا۔ اس وقت جسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے اسے عطا فرما دیتے۔ اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور بولے کہ یا رسول اللہ! مجھے بھی عطا کیجیئے کیونکہ میں نے ( غزوہ بدر میں ) اپنا بھی فدیہ دیا تھا اور عقیل کا بھی ( اس لیے میں زیر بار ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لیجیئے۔ انہوں نے اپنے کپڑے میں روپیہ بھر لیا اور اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن ( وزن کی زیادتی کی وجہ سے ) وہ نہ اٹھا سکے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! کسی کو فرمائیے کہ وہ اٹھانے میں میری مدد کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ( یہ نہیں ہو سکتا ) انہوں نے کہا کہ پھر آپ ہی اٹھوا دیجیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی انکار کیا، تب عباس رضی اللہ عنہ نے اس میں سے تھوڑا سا گرا دیا اور باقی کو اٹھانے کی کوشش کی، ( لیکن اب بھی نہ اٹھا سکے ) پھر فرمایا کہ یا رسول اللہ! کسی کو میری مدد کرنے کا حکم دیجیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا تو انہوں نے کہا کہ پھر آپ ہی اٹھوا دیجیئے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی انکار کیا، تب انہوں نے اس میں سے تھوڑا سا روپیہ گرا دیا اور اسے اٹھا کر اپنے کاندھے پر رکھ لیا اور چلنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس حرص پر اتنا تعجب ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ان کی طرف دیکھتے رہے جب تک وہ ہماری نظروں سے غائب نہیں ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں سے اس وقت تک نہ اٹھے جب تک کہ ایک چونی بھی باقی رہی۔
421
Sahih
(43) CHAPTER. Receiving an invitation to dinner in the mosque and accepting it.
جسے مسجد میں کھانے کے لیے کہا جائے اور وہ اسے قبول کر لے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِك ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَمِعَ أَنَسًا ، قَالَ : وَجَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ نَاسٌ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ لِي : أَأَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : لِطَعَامٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ : قُومُوا ، فَانْطَلَقَ ، وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ .
Narrated Anas: I found the Prophet in the mosque along with some people. He said to me, Did Abu Talha send you? I said, Yes . He said, For a meal? I said, Yes. Then he said to his companions, Get up. They set out and I was ahead of them.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے اسحاق بن عبداللہ سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور بھی کئی لوگ تھے۔ میں کھڑا ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تجھ کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کھانے کے لیے؟ ( بلایا ہے ) میں نے عرض کی کہ جی ہاں! تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریب موجود لوگوں سے فرمایا کہ چلو، سب حضرات چلنے لگے اور میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا۔
422
Sahih
(44) CHAPTER. To give the judicial verdicts in the mosque and to perform the Al-Lian between men and women (husbands and wives) there.
مسجد میں فیصلے کرنا اور مردوں اور عورتوں ( خاوند ، بیوی ) کے درمیان لعان کرانا ( جائز ہے )
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، أَيَقْتُلُهُ ؟ فَتَلَا عَنَا فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَنَا شَاهِدٌ .
Narrated Sahl bin Sa`d: A man said, O Allah's Apostle! If a man finds another man with his wife, (committing adultery) should the husband kill him? Later on I saw them (the man and his wife) doing Li`an in the mosque (taking oaths, one accusing, and the other denying adultery).
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے، کہا ہم کو ابن جریج نے، کہا ہمیں ابن شہاب نے سہل بن سعد ساعدی سے کہ ایک شخص نے کہا، یا رسول اللہ! اس شخص کے بارہ میں فرمائیے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو ( بدفعلی کرتے ہوئے ) دیکھتا ہے، کیا اسے مار ڈالے؟ آخر اس مرد نے اپنی بیوی کے ساتھ مسجد میں لعان کیا اور اس وقت میں موجود تھا۔
423
Sahih
(45) CHAPTER. If someone enters a house, should he offer prayers where he likes, or as he is told? And he should not look out to seek information about the place or do spying.
اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے ( وہاں پڑھے ) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ فِي مَنْزِلِهِ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ قَالَ : فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى مَكَانٍ ، فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
Narrated `Itban bin Malik: The Prophet came to my house and said, Where do you like me to pray? I pointed to a place. The Prophet then said, Allahu Akbar , and we aligned behind him and he offered a two-rak`at prayer.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے محمود بن ربیع سے انہوں نے عتبان بن مالک سے (جو نابینا تھے) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم اپنے گھر میں کہاں پسند کرتے ہو کہ تمہارے لیے نماز پڑھوں۔ عتبان نے بیان کیا کہ میں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز ( نفل ) پڑھائی۔
424
Sahih
(46) CHAPTER. About (taking) the mosques in the houses.
اس بیان میں ( کہ بوقت ضرورت ) گھروں میں جائے نماز ( مقرر کر لینا جائز ہے )
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي ، فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ بِهِمْ ، وَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ تَأْتِينِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ عِتْبَانُ : فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ قَالَ : فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ ، فَقُمْنَا فَصَفَّنَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، قَالَ : وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ ، قَالَ : فَثَابَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ ذَوُو عَدَدٍ فَاجْتَمَعُوا ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخَيْشِنِ أَوِ ابْنُ الدُّخْشُنِ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، تَقُلْ ذَلِكَ ، أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ، قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ .
Narrated `Itban bin Malik: who was one of the companions of Allah's Apostle and one of the Ansar's who took part in the battle of Badr: I came to Allah's Apostle and said, O Allah's Apostle I have weak eyesight and I lead my people in prayers. When it rains the water flows in the valley between me and my people so I cannot go to their mosque to lead them in prayer. O Allah's Apostle! I wish you would come to my house and pray in it so that I could take that place as a Musalla. Allah's Apostle said. Allah willing, I will do so. Next day after the sun rose high, Allah's Apostle and Abu Bakr came and Allah's Apostle asked for permission to enter. I gave him permission and he did not sit on entering the house but said to me, Where do you like me to pray? I pointed to a place in my house. So Allah's Apostle stood there and said, 'Allahu Akbar', and we all got up and aligned behind him and offered a two-rak`at prayer and ended it with Taslim. We requested him to stay for a meal called Khazira which we had prepared for him. Many members of our family gathered in the house and one of them said, Where is Malik bin Al-Dukhaishin or Ibn Al-Dukhshun? One of them replied, He is a hypocrite and does not love Allah and His Apostle. Hearing that, Allah's Apostle said, Do not say so. Haven't you seen that he said, 'None has the right to be worshipped but Allah' for Allah's sake only? He said, Allah and His Apostle know better. We have seen him helping and advising hypocrites. Allah's Apostle said, Allah has forbidden the (Hell) fire for those who say, 'None has the right to be worshipped but Allah' for Allah's sake only.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عقیل نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا کہ مجھے محمود بن ربیع انصاری نے کہ عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور غزوہ بدر کے حاضر ہونے والوں میں سے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ! میری بینائی میں کچھ فرق آ گیا ہے اور میں اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھایا کرتا ہوں لیکن جب برسات کا موسم آتا ہے تو میرے اور میری قوم کے درمیان جو وادی ہے وہ بھر جاتی ہے اور بہنے لگ جاتی ہے اور میں انہیں نماز پڑھانے کے لیے مسجد تک نہیں جا سکتا یا رسول اللہ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور ( کسی جگہ ) نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبان سے فرمایا، انشاء اللہ تعالیٰ میں تمہاری اس خواہش کو پورا کروں گا۔ عتبان نے کہا کہ ( دوسرے دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب دن چڑھا تو دونوں تشریف لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت چاہی، میں نے اجازت دے دی۔ جب آپ گھر میں تشریف لائے تو بیٹھے بھی نہیں اور پوچھا کہ تم اپنے گھر کے کس حصہ میں مجھ سے نماز پڑھنے کی خواہش رکھتے ہو۔ عتبان نے کہا کہ میں نے گھر میں ایک کونے کی طرف اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس جگہ ) کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی ہم بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور صف باندھی پس آپ نے دو رکعت ( نفل ) نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا۔ عتبان نے کہا کہ ہم نے آپ کو تھوڑی دیر کے لیے روکا اور آپ کی خدمت میں حلیم پیش کیا جو آپ ہی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ عتبان نے کہا کہ محلہ والوں کا ایک مجمع گھر میں لگ گیا اور مجمع میں سے ایک شخص بولا کہ مالک بن دخشن یا ( یہ کہا ) ابن دخشن دکھائی نہیں دیتا۔ اس پر کسی دوسرے نے کہہ دیا کہ وہ تو منافق ہے جسے اللہ اور رسول سے کوئی محبت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا ایسا مت کہو، کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس نے «لا إله إلا الله» کہا ہے اور اس سے مقصود خالص اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا ہے۔ تب منافقت کا الزام لگانے والا بولا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ہم تو بظاہر اس کی توجہات اور دوستی منافقوں ہی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے «لا إله إلا الله» کہنے والے پر اگر اس کا مقصد خالص اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے۔ ابن شہاب نے کہا کہ پھر میں نے محمود سے سن کر حصین بن محمد انصاری سے جو بنوسالم کے شریف لوگوں میں سے ہیں ( اس حدیث ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ محمود سچا ہے۔
425
Sahih
(47) CHAPTER. While entering the mosque etc., one should start with the right foot.
مسجد میں داخل ہونے اور دوسرے کاموں میں بھی دائیں طرف سے ابتداء کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ .
Narrated `Aisha: The Prophet used to start every thing from the right (for good things) whenever it was possible in all his affairs; for example: in washing, combing or wearing shoes.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی اشعث بن سلیم کے واسطہ سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کاموں میں جہاں تک ممکن ہوتا دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ طہارت کے وقت بھی، کنگھا کرنے اور جوتا پہننے میں بھی۔
426
Sahih
(48) CHAPTER. Is it permissible to dig the graves of pagans of the Period of Ignorance, and to use that place as a mosque?
کیا دور جاہلیت کے مشرکوں کی قبروں کو کھود ڈالنا اور ان کی جگہ مسجد بنانا درست ہے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ ، فَذَكَرَتَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
Narrated `Aisha: Um Habiba and Um Salama mentioned about a church they had seen in Ethiopia in which there were pictures. They told the Prophet about it, on which he said, If any religious man dies amongst those people they would build a place of worship at his grave and make these pictures in it. They will be the worst creature in the sight of Allah on the Day of Resurrection.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ خبر پہنچائی کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تو اس میں مورتیں ( تصویریں ) تھیں۔ انہوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکوکار ( نیک ) شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہی مورتیں ( تصویریں ) بنا دیتے پس یہ لوگ اللہ کی درگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں برے ہوں گے۔
427
Sahih
(48) CHAPTER. Is it permissible to dig the graves of pagans of the Period of Ignorance, and to use that place as a mosque?
کیا دور جاہلیت کے مشرکوں کی قبروں کو کھود ڈالنا اور ان کی جگہ مسجد بنانا درست ہے ؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَنَزَلَ أَعْلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَأَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَأَنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ ، فَقَالَ : يَا بَنِي النَّجَّارِ ، ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا ، قَالُوا : لَا ، وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ ، فَقَالَ أَنَسٌ : فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَفِيهِ خَرِبٌ وَفِيهِ نَخْلٌ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ ، ثُمَّ بِالْخَرِبِ فَسُوِّيَتْ ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ ، فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ الْحِجَارَةَ وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ .
Narrated Anas: When the Prophet arrived Medina he dismounted at `Awali-i-Medina amongst a tribe called Banu `Amr bin `Auf. He stayed there For fourteen nights. Then he sent for Bani An-Najjar and they came armed with their swords. As if I am looking (just now) as the Prophet was sitting over his Rahila (Mount) with Abu Bakr riding behind him and all Banu An-Najjar around him till he dismounted at the courtyard of Abu Aiyub's house. The Prophet loved to pray wherever the time for the prayer was due even at sheep-folds. Later on he ordered that a mosque should be built and sent for some people of Banu-An-Najjar and said, O Banu An-Najjar! Suggest to me the price of this (walled) piece of land of yours. They replied, No! By Allah! We do not demand its price except from Allah. Anas added: There were graves of pagans in it and some of it was unleveled and there were some date-palm trees in it. The Prophet ordered that the graves of the pagans be dug out and the unleveled land be level led and the date-palm trees be cut down . (So all that was done). They aligned these cut date-palm trees towards the Qibla of the mosque (as a wall) and they also built two stone side-walls (of the mosque). His companions brought the stones while reciting some poetic verses. The Prophet was with them and he kept on saying, There is no goodness except that of the Hereafter, O Allah! So please forgive the Ansars and the emigrants.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے ابوالتیاح کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہاں کے بلند حصہ میں بنی عمرو بن عوف کے یہاں آپ اترے اور یہاں چوبیس راتیں قیام فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونجار کو بلا بھیجا، تو وہ لوگ تلواریں لٹکائے ہوئے آئے۔ انس نے کہا، گویا میری نظروں کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تشریف فرما ہیں، جبکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں اور بنو نجار کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف ہیں۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوایوب کے گھر کے سامنے اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ جہاں بھی نماز کا وقت آ جائے فوراً نماز ادا کر لیں۔ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے، پھر آپ نے یہاں مسجد بنانے کے لیے حکم فرمایا۔ چنانچہ بنو نجار کے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوا کر فرمایا کہ اے بنو نجار! تم اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے لے لو۔ انہوں نے جواب دیا نہیں یا رسول اللہ! اس کی قیمت ہم صرف اللہ سے مانگتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جیسا کہ تمہیں بتا رہا تھا یہاں مشرکین کی قبریں تھیں، اس باغ میں ایک ویران جگہ تھی اور کچھ کھجور کے درخت بھی تھے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کو اکھڑوا دیا ویرانہ کو صاف اور برابر کرایا اور درختوں کو کٹوا کر ان کی لکڑیوں کو مسجد کے قبلہ کی جانب بچھا دیا اور پتھروں کے ذریعہ انہیں مضبوط بنا دیا۔ صحابہ پتھر اٹھاتے ہوئے رجز پڑھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ! آخرت کے فائدہ کے علاوہ اور کوئی فائدہ نہیں پس انصار و مہاجرین کی مغفرت فرمانا۔
428
Sahih

Chapters

107
01
(1) CHAPTER. How As-Salat (the prayer) was prescribed on the night of Al-Isra (miraculous night journey) of the Prophet to Jerusalem (and then to the heavens).
اس بارے میں کہ شب معراج میں نماز کس طرح فرض ہوئی ؟
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. It is obligatory to wear clothes while offering As-Salat (the prayers).
اس بیان میں کہ کپڑے پہن کر نماز پڑھنا واجب ہے
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. To tie Izar (dress worn below the waist) at one's back while offering Salat (prayers).
نماز میں گدی پر تہبند باندھنے کے بیان میں
2 Hadith
04
(4) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayers) with a single garment wrapped round the body.
اس بیان میں کہ صرف ایک کپڑے کو بدن پر لپیٹ کر نماز پڑھنا جائز و درست ہے
5 Hadith
05
(5) CHAPTER. If someone offers Salat (prayer) wrapped in a single garment, he should cross its corners round his shoulders.
جب ایک کپڑے میں کوئی نماز پڑھے تو اس کو کندھوں پر ڈالے
2 Hadith
06
(6) CHAPTER. If the garment is tight (over the body).
جب کپڑا تنگ ہو تو کیا کیا جائے ؟
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayer) in a Syrian cloak (made by infidels) .
شام کے بنے ہوئے چغہ میں نماز پڑھنے کے بیان میں
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. It is disliked to be naked during Salat (the prayers).
۔ ( بے ضرورت ) ننگا ہونے کی کراہیت نماز میں ( ہو یا اور کسی حال میں )
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. To offer Salat (prayer) with a shirt, trousers, a Tubban or a Qaba (an outer garment with full length sleeves).
قمیص اور پاجامہ اور جانگیا اور قباء ( چغہ ) پہن کر نماز پڑھنے کے بیان میں
2 Hadith
10
(10) CHAPTER. What may be used to cover the private parts of the body.
ستر کا بیان جس کو ڈھانکنا چاہیے
3 Hadith
11
(11) CHAPTER. To pray without a Rida.
بغیر چادر اوڑھے صرف ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. What is said about the thigh.
ران سے متعلق جو روایتیں آئی ہیں
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. In how many (what sort of) clothes a woman should offer Salat (prayer).
عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے ؟
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. If a person offered Salat (prayer) in a dress with marks and looked at those marks during the Salat.
حاشیہ ( بیل ) لگے ہوئے کپڑے میں نماز پڑھنا اور اس کے نقش و نگار کو دیکھنا
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. If someone offers Salat (prayer) in a garment bearing marks of a cross or pictures, will the Salat be annulled? And what is forbidden thereof.
ایسے کپڑے میں اگر کسی نے نماز پڑھی جس پر صلیب یا مورتیاں بنی ہوں تو نماز فاسد ہو گی یا نہیں اور ان کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. Whoever offered Salat (prayer) in a silk Farruj (an outer garment opened at the back) and then took it off.
جس نے ریشم کے کوٹ میں نماز پڑھی پھر اسے اتار دیا
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. (It is permissible) to offer Salat (prayer) in a red garment.
سرخ رنگ کے کپڑے میں نماز پڑھنا
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. (It is permissible) to offer Salat (prayer) on roofs, a pulpit or wood.
چھت ، منبر اور لکڑی پر نماز پڑھنے کے بارے میں
2 Hadith
19
CHAPTER. If the clothes of a praying person in prostration touched his wife [would that make his Salat (prayer) invalid]?
جب سجدے میں آدمی کا کپڑا اس کی عورت سے لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟
1 Hadith
20
CHAPTER. To offer Salat (the prayers) on the Hasir (a mat that is made of the leaves of date-palm trees and is as long as or longer than a man's stature).
بورئیے پر نماز پڑھنے کا بیان
1 Hadith
21
CHAPTER. To offer Salat (the prayer) on a Khumra (a small mat, hardly sufficient for the face and hands while prostrating
کھجور کی چٹائی پر نماز پڑھنا
1 Hadith
22
CHAPTER. To offer Salat (the prayer) on the bed.
بچھونے پر نماز پڑھنا ( جائز ہے )
3 Hadith
23
CHAPTER. To prostrate on a garment in scorching heat.
سخت گرمی میں کپڑے پر سجدہ کرنا ( جائز ہے )
1 Hadith
24
CHAPTER. To offer Salat (prayer) with the shoes on.
جوتوں سمیت نماز پڑھنا ( جائز ہے )
1 Hadith
25
CHAPTER. To offer Salat (prayer) wearing Khuff (leather socks).
موزے پہنے ہوئے نماز پڑھنا ( جائز ہے )
2 Hadith
26
CHAPTER. If some one does not prostrate properly.
جب کوئی پورا سجدہ نہ کرے ( تو اس کی نماز کے متعلق کیا فتویٰ ہے ؟ )
1 Hadith
27
CHAPTER. During prostrations one should show his armpits and separate his forearms from his body.
سجدہ میں اپنی بغلوں کو کھلی رکھے اور اپنی پسلیوں سے ( ہر دو کہنیوں کو ) جدا رکھے
1 Hadith
28
CHAPTER. Superiority of (praying) facing the Qiblah with the toes toward it as well.
قبلہ کی طرف منہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
29
CHAPTER. The Qiblah for the people of Al-Madina, Sham and the East.
مدینہ اور شام والوں کے قبلہ کا بیان اور مشرق کا بیان
1 Hadith
30
CHAPTER. The Statement of Allah: “... And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim (Abraham) (or the stone on which Abrahim stood while he was building the Kabah) as a place of prayer (for some of your Salat e.g., two Raka after the Tawaf of Kabah) ...”
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ’’ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ۔ ‘‘ ( البقرہ : 125 )
4 Hadith
31
CHAPTER. [During the obligatory Salat (prayers)] one should face the Qiblah (Kabah at Makkah) wherever one may be.
ہر مقام اور ہر ملک میں مسلمان جہاں بھی رہے نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرے
3 Hadith
32
CHAPTER. What has been said about (facing) the Qiblah (Kabah at Makkah) and whoever considered that there was no need to repeat the Salat (prayer) if someone offered prayers by mistake facing a direction other than that of the Qiblah.
قبلہ سے متعلق مزید احادیث
3 Hadith
33
CHAPTER. To scrape off the sputum from the mosque with the hand (using some tool or other, or using no tool).
مسجد میں تھوک لگا ہو تو ہاتھ سے اس کا کھرچ ڈالنا ضروری ہے
3 Hadith
34
CHAPTER. To scrape off the sputum from the mosque with the hand (using some tool or other, or using no tool).
مسجد میں رینٹ کو کنکری سے کھرچ ڈالنا
2 Hadith
35
(35) CHAPTER. It is forbidden to spit on the right side while in Salat (prayers).
اس بارے میں کہ نماز میں اپنے دائیں طرف نہ تھوکنا چاہیے ۔
3 Hadith
36
(36) CHAPTER. One should spit on the left side or under one's left foot.
بائیں طرف یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنے کے بیان میں
2 Hadith
37
(37) CHAPTER. The expiation for spitting in the mosque.
مسجد میں تھوکنے کا کفارہ
1 Hadith
38
(38) CHAPTER. The burying of the expectoration in the mosque.
مسجد میں بلغم کو مٹی کے اندر چھپا دینا ضروری ہے
1 Hadith
39
(39) CHAPTER. If the spit or sputum comes out suddenly then one should spit in the corner of one's garment.
جب تھوک کا غلبہ ہو تو نمازی اپنے کپڑے کے کنارے میں تھوک لے
1 Hadith
40
(40) CHAPTER. Preaching of the Imam to the people regarding the proper offering of As-Salat (the prayer) and the mention of the Qiblah (Kabah at Makkah).
امام لوگوں کو یہ نصیحت کرے کہ نماز پوری طرح پڑھیں اور قبلہ کابیان
2 Hadith
41
(41) CHAPTER. It is permissible to say, “Masjid (mosque) of Bani so-and-so?”
اس بارے میں کہ کیا یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسجد فلاں خاندان والو ں کی ہے
1 Hadith
42
(42) CHAPTER. The distribution (of goods or wealth) and the hanging of a cluster of dates in the mosque.
مسجد میں مال تقسیم کرنا اور مسجد میں کھجور کا خوشہ لٹکانا
1 Hadith
43
(43) CHAPTER. Receiving an invitation to dinner in the mosque and accepting it.
جسے مسجد میں کھانے کے لیے کہا جائے اور وہ اسے قبول کر لے
1 Hadith
44
(44) CHAPTER. To give the judicial verdicts in the mosque and to perform the Al-Lian between men and women (husbands and wives) there.
مسجد میں فیصلے کرنا اور مردوں اور عورتوں ( خاوند ، بیوی ) کے درمیان لعان کرانا ( جائز ہے )
1 Hadith
45
(45) CHAPTER. If someone enters a house, should he offer prayers where he likes, or as he is told? And he should not look out to seek information about the place or do spying.
اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے ( وہاں پڑھے ) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے ۔
1 Hadith
46
(46) CHAPTER. About (taking) the mosques in the houses.
اس بیان میں ( کہ بوقت ضرورت ) گھروں میں جائے نماز ( مقرر کر لینا جائز ہے )
1 Hadith
47
(47) CHAPTER. While entering the mosque etc., one should start with the right foot.
مسجد میں داخل ہونے اور دوسرے کاموں میں بھی دائیں طرف سے ابتداء کرنے کے بیان میں
1 Hadith
48
(48) CHAPTER. Is it permissible to dig the graves of pagans of the Period of Ignorance, and to use that place as a mosque?
کیا دور جاہلیت کے مشرکوں کی قبروں کو کھود ڈالنا اور ان کی جگہ مسجد بنانا درست ہے ؟
2 Hadith
49
(49) CHAPTER. To offer Salat (the prayer) in a sheep-fold.
بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا
1 Hadith
50
(50) CHAPTER. To offer Salat (the prayer) in the camel-yards (the places where the camels are stationed).
اونٹوں کے رہنے کی جگہ میں نماز پڑھنا
1 Hadith
51
(51) CHAPTER. Whoever offered Salat (prayer) with furnace or fire or any other worshipable thing in front of him but he intended Salat solely for Allah.
اگر کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے آگے تنور ، یا آگ ، یا اور کوئی چیز ہو جسے مشرک پوجتے ہیں ، لیکن اس نمازی کی نیت محض عبادت الٰہی ہو تو نماز درست ہے
1 Hadith
52
(52) CHAPTER. The dislikeness of offering As-Salat (the prayers) in grave-yards.
مقبروں میں نماز پڑھنے کی کراہت کے بیان میں
1 Hadith
53
(53) CHAPTER. (What is said about) offering Salat (prayer) at the places where the earth had sunk down and Allah's punishment had fallen.
دھنسی ہوئی جگہوں میں یا جہاں کوئی اور عذاب اترا ہو وہاں نماز ( پڑھنا کیسا ہے ؟ )
1 Hadith
54
(54) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayer) in a church or in a temple etc.
گرجا میں نماز پڑھنے کا بیان
1 Hadith
55
CHAPTER
باب
5 Hadith
56
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
1 Hadith
57
(57) CHAPTER. Sleeping of a woman in the mosque (and residing in it).
عورت کا مسجد میں سونا
1 Hadith
58
(58) CHAPTER. Sleeping of men in the mosque.
مسجدوں میں مردوں کا سونا
3 Hadith
59
(59) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayer) when returning from a journey.
سفر سے واپسی پر نماز پڑھنے کے بیان میں
1 Hadith
60
(60) CHAPTER. If one entered a mosque, one should offer two Raka (Tahayyat-al-Masjid) before sitting.
جب کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے
1 Hadith
61
(61) CHAPTER. Al-Hadath (Passing wind) in the mosque.
مسجد میں ریاح ( ہوا ) خارج کرنا
1 Hadith
62
(62) CHAPTER. The construction of (the Prophet's) mosque.
مسجد کی عمارت
1 Hadith
63
(63) CHAPTER. To co-operate in building a mosque.
مسجد بنانے میں مدد کرنا ( یعنی اپنی جان و مال سے حصہ لینا کار ثواب ہے )
1 Hadith
64
(64) CHAPTER. Employing the carpenter and the technical hand (artisan) in making the wooden pulpit or building the mosque.
بڑھئی اور کاریگر سے مسجد کی تعمیر میں اور منبر کے تختوں کو بنوانے میں مدد حاصل کرنا ( جائز ہے )
2 Hadith
65
(65) CHAPTER. (The superiority of) whoever built a mosque.
جس نے مسجد بنائی اس کے اجر و ثواب کا بیان
1 Hadith
66
(66) CHAPTER. While passing through a mosque, (one should better) hold the arrowheads (with the hand).
جب کوئی مسجد میں جائے تو اپنے تیر کے پھل کو تھامے رکھے تاکہ کسی نمازی کو تکلیف نہ ہو
1 Hadith
67
(67) CHAPTER. Passing through a mosque (is permissible).
مسجد میں تیر وغیرہ لے کر گزرنا
1 Hadith
68
(68) CHAPTER. (What is said about) reciting poetry in the mosque?
مسجد میں شعر پڑھنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
69
(69) CHAPTER. The presence of spearmen (with their spears) in the mosque (is permissible).
چھوٹے چھوٹے نیزوں ( بھالوں ) سے مسجد میں کھیلنے والوں کے بیان میں
2 Hadith
70
(70) CHAPTER. Mentioning about sales and purchases on the pulpit in the mosque.
مسجد کے منبر پر مسائل خریدوفروخت کا ذکر کرنا درست ہے
1 Hadith
71
(71) CHAPTER. Asking a debtor to repay what he owes, and catching the debtor in the mosque.
قرض کا تقاضہ اور قرض دار کا مسجد تک پیچھا کرنا
1 Hadith
72
(72) CHAPTER. Sweeping (cleaning) of the mosque and removing rags, dirt and sticks from it.
مسجد میں جھاڑو دینا اور وہاں کے چیتھڑے ، کوڑے کرکٹ اور لکڑیوں کو چن لینا
1 Hadith
73
(73) CHAPTER. The order of banning the trade of alcoholic drinks was issued in the mosque.
مسجد میں شراب کی سوداگری کی حرمت کا اعلان کرنا
1 Hadith
74
(74) CHAPTER. Servants for the mosque.
مسجد کے لیے خادم مقرر کرنا
1 Hadith
75
(75) CHAPTER. To fasten a prisoner or a debtor in the mosque.
قیدی یا قرض دار جسے مسجد میں باندھ دیا گیا ہو
1 Hadith
76
(76) CHAPTER. To take a bath on embracing Islam and fasten a prisoner in the mosque.
جب کوئی شخص اسلام لائے تو اس کو غسل کرانا اور قیدی کو مسجد میں باندھنا
1 Hadith
77
(77) CHAPTER. To pitch a tent in the mosque for patients, etc.
مسجد میں مریضوں وغیرہ کے لیے خیمہ لگانا
1 Hadith
78
(78) CHAPTER. To take the camel inside the mosque if necessary.
ضرورت سے مسجد میں اونٹ لے جانا
1 Hadith
79
(80) CHAPTER. Al-Khaukhah (a small door) and a path in the mosque.
مسجد میں کھڑکی اور راستہ رکھنا
2 Hadith
80
(81) CHAPTER. The doors and locks of the Kabah and the mosques.
کعبہ اور مساجد میں دروازے اور زنجیر رکھنا
1 Hadith
81
(82) CHAPTER. The entering of a pagan in the mosque.
مشرک کا مسجد میں داخل ہونا کیسا ہے ؟
1 Hadith
82
(83) CHAPTER. Raising the voice in the mosque.
مساجد میں آواز بلند کرنا کیسا ہے ؟
2 Hadith
83
(84) CHAPTER. The religious gatherings in circles and sitting in the mosque.
مسجد میں حلقہ باندھ کر بیٹھنا اور یوں ہی بیٹھنا
3 Hadith
84
(85) CHAPTER. To lie flat (on the back) in the mosque.
مسجد میں چت لیٹنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
85
(86) CHAPTER. (If) a mosque (is built) on a road, it should not be a cause of harm for the people.
عام راستوں پر مسجد بنانا جب کہ کسی کو اس سے نقصان نہ پہنچے ( جائز ہے ) اور امام حسن ( بصریٰ ) اور ایوب اور امام مالک رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے
1 Hadith
86
(87) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayers) in a mosque situated in a market.
بازار کی مسجد میں نماز پڑھنا اور عبداللہ بن عون نے ایک ایسے گھر کی مسجد میں نماز پڑھی جس کے دروازے عام لوگوں پر بند کئے گئے تھے
1 Hadith
87
(88) CHAPTER. To clasp one's hands by interlocking the fingers in the mosque or outside the mosque.
مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے
5 Hadith
88
(89) CHAPTER. The mosques which are on the way to Al-Madina and the places where the Prophet had offered Salat (prayers).
ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے
10 Hadith
89
(90) CHAPTER. The Sutra of the Imam is also a Sutra for those who are behind him.
امام کا سترہ مقتدیوں کو بھی کفایت کرتا ہے
3 Hadith
90
(91) CHAPTER. What should be the distance between the person offering Salat (prayer) and the Sutra?
نمازی اور سترہ میں کتنا فاصلہ ہونا چاہیے ؟
2 Hadith
91
(92) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayer) using a Harba (a short spear) (as a Sutra).
برچھی کی طرف نماز پڑھنا
1 Hadith
92
(93) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayer) using an Anaza (a spear-headed stick) (as a Sutra).
عنزہ ( لکڑی جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا ہو ) کی طرف نماز پڑھنا
2 Hadith
93
(94) CHAPTER. Sutra (for the prayer) in Makkah and elsewhere.
مکہ اور اس کے علاوہ دوسرے مقامات میں سترہ کا حکم
1 Hadith
94
(95) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayer) facing a pillar.
ستونوں کی آڑ میں نماز پڑھنا
2 Hadith
95
(96) CHAPTER. To offer non-congregational As-Salat (the prayers) between the pillars.
دو ستونوں کے بیچ میں نمازی اگر اکیلا ہو تو نماز پڑھ سکتا ہے
2 Hadith
96
(98) CHAPTER. To offer As-Salat (prayers) facing a Rahila (mount) a camel, a tree or a camel-saddle (etc. as a Sutra).
اونٹنی اور اونٹ اور درخت اور پالان کو سامنے کر کے نماز پڑھنا
1 Hadith
97
(99) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayer) facing a bed.
چارپائی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا
1 Hadith
98
(100) CHAPTER. The person offering Salat (prayer) should repulse that person who tries to pass in front of him.
چاہیے کہ نماز پڑھنے والا اپنے سامنے سے گزرنے والے کو روک دے
1 Hadith
99
(101) CHAPTER. The sin of a person who passes in front of a person offering Salat (prayer).
نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ کتنا ہے ؟
1 Hadith
100
(102) CHAPTER. A man facing a man while offering Salat (prayer).
نماز پڑھتے وقت ایک نمازی کا دوسرے شخص کی طرف رخ کرنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
101
(103) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayer) behind a sleeping person.
سوتے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا
1 Hadith
102
(104) CHAPTER. To offer Nawafil (non-obligatory prayers) behind a sleeping woman.
عورت کے پیچھے نفل نماز پڑھنا
1 Hadith
103
(105) CHAPTER. Whoever said: “Nothing annuls As-Salat (the prayer) (i.e. nothing of what others do, not the praying person himself).”
اس شخص کی دلیل جس نے یہ کہا کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی
2 Hadith
104
(106) CHAPTER. If a small girl is carried on one's neck during As-Salat (the prayer).
اس بارے میں کہ نماز میں اگر کوئی اپنی گردن پر کسی بچی کو اٹھالے تو کیا حکم ہے ؟
1 Hadith
105
(107) CHAPTER. To offer Salat (prayer) facing a bed occupied by a menstruating woman.
ایسے بستر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا جس پر حائضہ عورت ہو
2 Hadith
106
(108) CHAPTER. Is it permissible to touch or push one's wife in prostration, in order to prostrate properly?
اس بیان میں کہ کیا مرد سجدہ کرتے وقت اپنی بیوی کو چھو سکتا ہے ؟ ( تاکہ وہ سکڑ کر جگہ چھوڑ دے کہ بآسانی سجدہ کیا جا سکے )
1 Hadith
107
(109) CHAPTER. A woman can remove troublesome or offensive things from a person in Salat (prayer).
اس بارے میں کہ اگر عورت نماز پڑھنے والے سے گندگی ہٹا دے ( تو مضائقہ نہیں ہے )
1 Hadith
No chapter matched that.