TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-ahkam (judgements). - کتاب حکومت اور قضا کے بیان میں - Book 95 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 95 of Sahih Bukhari, with 51 chapters and 89 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

89 Hadith · 51 Chapters
(51) CHAPTER. The appointment of a caliph (to succeed another).
ایک خلیفہ مرتے وقت کسی اور کو خلیفہ کر جائے تو کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَارَأْسَاهْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرُ لَكِ وَأَدْعُو لَكِ ، فَقَالَتْ 64 عَائِشَةُ 64 : وَا ثُكْلِيَاهْ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي ، وَلَوْ كَانَ ذَاكَ لَظَلَلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهْ ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ فَأَعْهَدَ ، أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ ، ثُمَّ قُلْتُ : يَأْبَى اللَّهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ ، أَوْ يَدْفَعُ اللَّهُ وَيَأْبَى الْمُؤْمِنُونَ .
Narrated Al-Qasim bin Muhammad: `Aisha said, O my head! Allah's Apostle said, If that (i.e., your death) should happen while I am still alive, I would ask Allah to forgive you and would invoke Allah for you. `Aisha said, O my life which is going to be lost! By Allah, I think that you wish for my death, and if that should happen then you would be busy enjoying the company of one of your wives in the last part of that day. The Prophet said, But I should say, 'O my head!' I feel like calling Abu Bakr and his son and appoint (the former as my successors lest people should say something or wish for something. Allah will insist (on Abu Bakr becoming a Caliph) and the believers will prevent (anyone else from claiming the Caliphate), or ..Allah will prevent (anyone else from claiming the Caliphate) and the believers will insist (on Abu Bakr becoming the Caliph).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن بلال نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، کہا میں نے قاسم بن محمد سے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ( اپنے سر درد پر ) ہائے سر پھٹا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم مر جاؤ اور میں زندہ رہا تو میں تمہارے لیے مغفرت کروں گا اور تمہارے لیے دعا کروں گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر کہا افسوس میرا خیال ہے کہ آپ میری موت چاہتے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو آپ دن کے آخری وقت ضرور کسی دوسری عورت سے شادی کر لیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نہیں بلکہ میں اپنا سر دکھنے کا اظہار کرتا ہوں۔ میرا ارادہ ہوا تھا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور انہیں ( ابوبکر کو ) خلیفہ بنا دوں تاکہ اس پر کسی دعویٰ کرنے والے یا اس کی خواہش رکھنے والے کے لیے کوئی گنجائش نہ رہے لیکن پھر میں نے سوچا کہ اللہ خود ( کسی دوسرے کو خلیفہ ) نہیں ہونے دے گا اور مسلمان بھی اسے دفع کریں گے۔ یا ( آپ نے اس طرح فرمایا کہ ) اللہ دفع کرے گا اور مسلمان کسی اور کو خلیفہ نہ ہونے دیں گے۔
7217
Sahih
(51) CHAPTER. The appointment of a caliph (to succeed another).
ایک خلیفہ مرتے وقت کسی اور کو خلیفہ کر جائے تو کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قِيلَ لِعُمَرَ : أَلَا تَسْتَخْلِفُ ، قَالَ : إِنْ أَسْتَخْلِفْ ، فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ ، مِنِّي أَبُو بَكْرٍ ، وَإِنْ أَتْرُكْ ، فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : رَاغِبٌ رَاهِبٌ ، وَدِدْتُ أَنِّي نَجَوْتُ مِنْهَا كَفَافًا لَا لِي وَلَا عَلَيَّ لَا أَتَحَمَّلُهَا حَيًّا وَلَا مَيِّتًا .
Narrated `Abdullah bin `Umar: It was said to `Umar, Will you appoint your successor? `Umar said, If I appoint a Caliph (as my successor) it is true that somebody who was better than I (i.e., Abu Bakr) did so, and if I leave the matter undecided, it is true that somebody who was better than I (i.e., Allah's Apostle) did so. On this, the people praised him. `Umar said, People are of two kinds: Either one who is keen to take over the Caliphate or one who is afraid of assuming such a responsibility. I wish I could be free from its responsibility in that I would receive neither reward nor retribution I won't bear the burden of the caliphate in my death as I do in my life.
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ جب زخمی ہوئے تو ان سے کہا گیا کہ آپ اپنا خلیفہ کسی کو کیوں نہیں منتخب کر دیتے، آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کو خلیفہ منتخب کرتا ہوں ( تو اس کی بھی مثال ہے کہ ) اس شخص نے اپنا خلیفہ منتخب کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ اور اگر میں اسے مسلمانوں کی رائے پر چھوڑتا ہوں تو ( اس کی بھی مثال موجود ہے کہ ) اس بزرگ نے ( خلیفہ کا انتخاب مسلمانوں کے لیے ) چھوڑ دیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پھر لوگوں نے آپ کی تعریف کی، پھر انہوں نے کہا کہ کوئی تو دل سے میری تعریف کرتا ہے کوئی ڈر کر۔ اب میں تو یہی غنیمت سمجھتا ہوں کہ خلافت کی ذمہ داریوں میں اللہ کے ہاں برابر برابر ہی چھوٹ جاؤں، نہ مجھے کچھ ثواب ملے اور نہ کوئی عذاب میں نے خلافت کا بوجھ اپنی زندگی بھر اٹھایا۔ اب مرنے پر میں اس بار کو نہیں اٹھاؤں گا۔
7218
Sahih
(51) CHAPTER. The appointment of a caliph (to succeed another).
ایک خلیفہ مرتے وقت کسی اور کو خلیفہ کر جائے تو کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ خُطْبَةَ عُمَرَ الْآخِرَةَ حِينَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَذَلِكَ الْغَدَ مِنْ يَوْمٍ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَشَهَّدَ وَأَبُو بَكْرٍ صَامِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ ، قَالَ : كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَدْبُرَنَا ، يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَكُونَ آخِرَهُمْ ، فَإِنْ يَكُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ جَعَلَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ نُورًا تَهْتَدُونَ بِهِ ، هَدَى اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثَانِيَ اثْنَيْنِ ، فَإِنَّهُ أَوْلَى الْمُسْلِمِينَ بِأُمُورِكُمْ ، فَقُومُوا ، فَبَايِعُوهُ ، وَكَانَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ قَدْ بَايَعُوهُ قَبْلَ ذَلِكَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَكَانَتْ بَيْعَةُ الْعَامَّةِ عَلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ لِأَبِي بَكْرٍ يَوْمَئِذٍ : اصْعَدِ الْمِنْبَرَ ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَبَايَعَهُ النَّاسُ عَامَّةً .
Narrated Anas bin Malik: That he heard `Umar's second speech he delivered when he sat on the pulpit on the day following the death of the Prophet `Umar recited the Tashahhud while Abu Bakr was silent. `Umar said, I wish that Allah's Apostle had outlived all of us, i.e., had been the last (to die). But if Muhammad is dead, Allah nevertheless has kept the light amongst you from which you can receive the same guidance as Allah guided Muhammad with that. And Abu Bakr is the companion of Allah's Apostle He is the second of the two in the cave. He is the most entitled person among the Muslims to manage your affairs. Therefore get up and swear allegiance to him. Some people had already taken the oath of allegiance to him in the shed of Bani Sa`ida but the oath of allegiance taken by the public was taken at the pulpit. I heard `Umar saying to Abu Bakr on that day. Please ascend the pulpit, and kept on urging him till he ascended the pulpit whereupon, all the people swore allegiance to him.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کا دوسرا خطبہ سنا جب آپ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دوسرے دن کا ہے۔ انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش تھے اور کچھ نہیں بول رہے تھے، پھر کہا مجھے امید تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہیں گے اور ہمارے کاموں کی تدبیر و انتظام کرتے رہیں گے۔ ان کا منشا یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سب لوگوں کے بعد تک زندہ رہیں گے تو اگر آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے نور ( قرآن ) کو باقی رکھا ہے جس کے ذریعہ تم ہدایت حاصل کرتے رہو گے اور اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے ہدایت کی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ( جو غار ثور میں ) دو میں کے دوسرے ہیں، بلا شک وہ تمہارے امور خلافت کے لیے تمام مسلمانوں میں سب سے بہتر ہیں، پس اٹھو اور ان سے بیعت کرو۔ ایک جماعت ان سے پہلے ہی سقیفہ بنی ساعدہ میں بیعت کر چکی تھی، پھر عام لوگوں نے منبر پر بیعت کی۔ زہری نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے، اس دن کہہ رہے تھے، منبر پر چڑھ آئیے۔ چنانچہ وہ اس کا برابر اصرار کرتے رہے، یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھ گئے اور سب لوگوں نے آپ سے بیعت کی۔
7219
Sahih
(51) CHAPTER. The appointment of a caliph (to succeed another).
ایک خلیفہ مرتے وقت کسی اور کو خلیفہ کر جائے تو کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ ، فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ ، كَأَنَّهَا تُرِيدُ الْمَوْتَ ، قَالَ : إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ .
Narrated Jubair bin Mut`im: A woman came to the Prophet and spoke to him about something and he told her to return to him. She said, O Allah's Apostle! If I come and do not find you? (As if she meant, ...if you die? ) The Prophet said, If you should not find me, then go to Abu Bakr.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خاتون آئیں اور کسی معاملہ میں آپ سے گفتگو کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ وہ دوبارہ آپ کے پاس آئیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو پھر آپ کیا فرماتے ہیں؟ جیسے ان کا اشارہ وفات کی طرف ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس آئیو۔
7220
Sahih
(51) CHAPTER. The appointment of a caliph (to succeed another).
ایک خلیفہ مرتے وقت کسی اور کو خلیفہ کر جائے تو کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لِوَفْدِ بُزَاخَةَ : تَتْبَعُونَ أَذْنَابَ الْإِبِلِ حَتَّى يُرِيَ اللَّهُ خَلِيفَةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرِينَ أَمْرًا يَعْذِرُونَكُمْ بِهِ .
Narrated Tariq bin Shihab: Abu Bakr said to the delegate of Buzakha. Follow the tails of the camels till Allah shows the Caliph (successor) of His Prophet and Al-Muhajirin (emigrants) something because of which you may excuse yourselves.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبائل بزاخہ کے وفد سے ( جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہو گیا تھا اور اب معافی کے لیے آیا تھا ) فرمایا کہ اونٹوں کی دموں کے پیچھے پیچھے جنگلوں میں گھومتے رہو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور مہاجرین کو کوئی امر بتلا دے جس کی وجہ سے وہ تمہارا قصور معاف کر دیں۔
7221
Sahih
(51b) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا ، فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا ، فَقَالَ أَبِي ، إِنَّهُ قَالَ : كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ .
Narrated Jabir bin Samura: I heard the Prophet saying, There will be twelve Muslim rulers (who will rule all the Islamic world). He then said a sentence which I did not hear. My father said, All of them (those rulers) will be from Quraish.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( میری امت میں ) بارہ امیر ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی بات فرمائی جو میں نے نہیں سنی، بعد میں میرے والد نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ وہ سب کے سب قریش خاندان سے ہوں گے۔
7222
Sahih
(51b) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا ، فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا ، فَقَالَ أَبِي ، إِنَّهُ قَالَ : كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ .
Narrated Jabir bin Samura: I heard the Prophet saying, There will be twelve Muslim rulers (who will rule all the Islamic world). He then said a sentence which I did not hear. My father said, All of them (those rulers) will be from Quraish.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( میری امت میں ) بارہ امیر ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی بات فرمائی جو میں نے نہیں سنی، بعد میں میرے والد نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ وہ سب کے سب قریش خاندان سے ہوں گے۔
7223
Sahih
(52) CHAPTER. The expulsion of quarrelsome people and people accused of something, from houses after having a firm proof against them.
جھگڑا اور فسق وفجور کرنے والوں کو معلوم ہونے کے بعد گھروں سے نکالنا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ يُحْتَطَبُ ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا ، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ : قَالَ يُونُسُ : قَالَ مُحَمَّد بْنُ سُلَيْمَانُ : قَالَ أَبو عَبْدَ اللهِ : مَرْمَاهُ مَا بَيْنَ خَلف الشاة مِنَ اللحم مِثْلَ منسأة وميضأة الميم مخفوضه .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, By Him in Whose Hands my life is, I was about to order for collecting fire wood and then order someone to pronounce the Adhan for the prayer and then order someone to lead the people in prayer and then I would go from behind and burn the houses of men who did not present themselves for the (compulsory congregational) prayer. By Him in Whose Hands my life is, if anyone of you had known that he would receive a bone covered with meat or two (small) pieces of meat present in between two ribs, he would come for `Isha' prayer. (See Hadith No. 617, Vol. 1)
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ارادہ ہوا کہ میں لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان دینے کا، پھر کسی سے کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں اس کے بجائے ان لوگوں کے پاس جاؤں ( جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے ) اور انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم سے کسی کو اگر یہ امید ہو کہ وہاں موٹی ہڈی یا دو «مرماة حسنتين» بکری کے کھر کے درمیان کا گوشت ملے گا تو وہ ضرور ( نماز ) عشاء میں شریک ہو۔
7224
Sahih
(53) CHAPTER. Is it legal for the Imam to forbid the criminals and those who commit sin to talk to or visit him, etc.?
کیا امام کے لیے جائز ہے کہ وہ مجرموں اور گنہگاروں کو اپنے ساتھ بات چیت کرنے اور ملاقات وغیرہ کرنے سے روک دے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ ، قَالَ : سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، قَال : لَمَّا تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَذَكَرَ حَدِيثَهُ ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا ، فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً ، وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا .
Narrated `Abdullah bin Ka`b bin Malik: Who was Ka`b's guide from among his sons when Ka`b became blind: I heard Ka`b bin Malik saying, When some people remained behind and did not join Allah's Apostle in the battle of Tabuk.. and then he described the whole narration and said, Allah's Apostle forbade the Muslims to speak to us, and so we (I and my companions) stayed fifty nights in that state, and then Allah's Apostle announced Allah's acceptance of our repentance.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے کہ عبداللہ بن کعب بن مالک، کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے زمانے میں ان کے سب لڑکوں میں یہی راستے میں ان کے ساتھ چلتے تھے، ( انہوں ) نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں جا سکتے تھے، پھر انہوں نے اپنا پورا واقعہ بیان کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے گفتگو کرنے سے روک دیا تھا تو ہم پچاس دن اسی حالت میں رہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ نے ہماری توبہ قبول کر لی ہے۔
7225
Sahih

Chapters

51
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “(O you who believe!) Obey Allah and obey the Messenger (Muhammad (p.b.u.h.)) and those of you (Muslims) who are in authority… (V.4:59)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا کہ
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. The (chief) rulers (of all Muslims must be) from the Quraish.
امیر اور سردار اور خلیفہ ہمیشہ قریش قبیلے سے ہونا چاہئے
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. The reward of the person who judging according to (the principles of) Al-Hikmah.
جو شخص اللہ کی عطا کردہ حکمت کے ساتھ فیصلہ کرے ۔
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. To listen to and obey one's Imam (Muslim ruler) as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah).
امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے
4 Hadith
05
(5) CHAPTER. If somebody does not seek authority of ruling, then Allah will surely help him (if he is given such authority).
جسے بن مانگے سرداری ملے تو اللہ اس کی مدد کرے گا
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. He who seeks to be a ruler will be held responsible for that (i.e., Allah will not help him in his duty).
جو شخص مانگ کر حکومت لے اس کو اسی کے سپرد کر دیا گیا
3 Hadith
07
(8) CHAPTER. If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner!
حکومت اور سرداری کی حرص کرنا مکروہ ہے
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner!
جو شخص رعیت کا حاکم بنے اور ان کی خیرخواہی نہ کرے اس کا عذاب
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. Whoever puts the people into troubles and difficulties will be put into troubles and difficulties by Allah.
جو شخص بندگان خدا کو ستائے ( مشکل میں پھانسے ) اللہ اس کو ستائے گا ( مشکل میں پھنسائے گا )
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. To give judgements and legal opinions on the road.
چلتے چلتے راستہ میں کوئی فیصلہ کرنا اور فتویٰ دینا
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. It is mentioned that there was no gatekeeper for the Prophet (p.b.u.h.).
یہ بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دربان نہیں تھا
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. A governor (of a province, etc.,) who is under can sentence to death a person who deserve such punishement without consulting the Imam.
ماتحت حاکم قصاص کا حکم دے سکتا ہے بڑے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں
3 Hadith
13
(13) CHAPTER. Can a judge give a judgement or a formal legal opinion while he is in an angry mood?
قاضی کو فیصلہ یا فتویٰ غصہ کی حالت میں دینا درست ہے یا نہیں
3 Hadith
14
(14) CHAPTER. Whosoever thinks that a judge can give judgements for the people according to his knowledge if he is not afraid of being suspected or blamed.
قاضی کا اپنے ذاتی علم کی رو سے معاملات میں فیصلہ دینا درست ہے
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. To bear witness as to the writer of a stamped letter.
مہری خط پر گواہی دینے کا بیان
1 Hadith
16
(17) CHAPTER. The salaries of rulers and those employed to administer the funds.
حکام اور حکومت کے عاملوں کا تنخواہ لینا
2 Hadith
17
(18) CHAPTER. Whoever gave judgements of Lian in the mosque.
جو مسجد میں فیصلہ کرے یا لعان کرائے
3 Hadith
18
(19) CHAPTER. Whoever passed a judgement in the mosque and when the actual legal punishement was to be put to action,he ordered the guilty person to be taken outside the mosque so that the punishment might be carried out.
حدکا مقدمہ مسجد میں سننا پھر جب حد لگانے کا وقت آئے تو مجرم کو مسجد کے باہر لے جانا
1 Hadith
19
(20) CHAPTER. The advice of the Imam (ruler) to the litigants.
فریقین کو امام کا نصیحت کرنا
1 Hadith
20
(21) CHAPTER. If a judge has to witness in favour of a litigant when he is a judge or he had it before he became a judge (can he pass a judgement in his favour accordingly or should he refer the case to another judge before whom he would bear witness?).
جب حاکم اعلیٰ دو شخصوں کو کسی ایک جگہ ہی کا حاکم مقرر کرے تو انہیں یہ حکم دے کہ وہ مل کر رہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت نہ کریں
2 Hadith
21
(22) CHAPTER. The order of the Wali (chief ruler) sending two Amir (governors) to one place that they should coopertae and agree with each other and should not differ with one another.
حاکم دعوت قبول کر سکتا ہے
1 Hadith
22
(23) CHAPTER. The ruler's acceptance of invitation.
حاکموں کو جو ہدیے تحفے دیئے جائیں ان کا بیان
1 Hadith
23
(24) CHAPTER. The gifts taken by the employees.
آزاد شدہ غلام کو قاضی یا حاکم بنانا
1 Hadith
24
(25) CHAPTER. To appoint the Maula (freed slaves) as judges and officials.
لوگوں کے چودھری یا نقیب بنانا
1 Hadith
25
(26) CHAPTER. The Urafa appointed to look after the people's affairs.
بادشاہ کے سامنے منہ در منہ خوشامد کرنا ، پیٹھ پیچھے اس کو براکہنا منع ہے
4 Hadith
26
(28) CHAPTER. Passing a Judgement against an absent person.
ایک طرفہ فیصلہ کرنے کا بیان
3 Hadith
27
(30) CHAPTER. Judgement regarding cases involving wells, etc.
اگر کسی شخص کو حاکم دوسرے مسلمان بھائی کا مال ناحق دلا دے تو اس کو نہ لے کیونکہ حاکم کے فیصلہ سے نہ حرام حلال ہو سکتا ہے نہ حلال حرام ہو سکتا ہے
2 Hadith
28
(31) CHAPTER. To judge (all) cases involving wealth weather it is much or little in amount, in one and the same.
کنویں اور اس جیسی چیزوں کے مقدمات فیصل کرنا
1 Hadith
29
(32) CHAPTER. The selling of the people's real or personal estates by the ruler on their behalf.
ناحق مال اڑانے میں جو وعید ہے وہ تھوڑے اور بہت دونوں مالوں کو شامل ہے
1 Hadith
30
(33) CHAPTER. Whoever does not care slanders made by ignorant people against the Amirs (leaders).
حکم ( بیوقوف اور غائب لوگوں کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کو بیچ سکتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام بن نحام کے ہاتھ بیچ ڈالا
1 Hadith
31
(34) CHAPTER. The one who is the most contentious of enemies; and that is, the most quarrelsome person of the opponents.
الدالخصم کا بیان
1 Hadith
32
(35) CHAPTER. If a judge passes an unjust judgement or a judgement which differs from that of the learned religious men, such a judgement is to be rejected.
جب حاکم کا فیصلہ ظالمانہ ہو یا علماء کے خلاف ہو تو وہ رد کر دیا جائے گا
1 Hadith
33
(36) CHAPTER. The Imam (ruler) going to some people to establish peace among them.
امام کسی جماعت کے پاس آئے اور ان میں باہم صلح کرادے
1 Hadith
34
(37) CHAPTER. It is desirable that a scribe should be honest and wise.
فیصلہ لکھنے والا امانتدار اور عقلمند ہونا چاہئے
1 Hadith
35
(38) CHAPTER. The writing of a letter by the ruler to his representatives (in the provinces), and by judge to his workers who look after the problems of the people.
امام کا اپنے نائبوں کو اور قاضی کا اپنے عملہ کو لکھنا
1 Hadith
36
(39) CHAPTER. Is ir permissible for a ruler to send one man only to manage certain affairs?
کیا حاکم کیلئے جائز ہے کہ وہ کسی ایک شخص کو معاملات کی دیکھ بھال کیلئے بھیجے
2 Hadith
37
(40) CHAPTER. The translators of a ruler; and is it permissible to keep one translator?
حاکم کے سامنے مترجم کا رہنا اور کیا ایک ہی شخص ترجمانی کے لئے کافی ہے ۔
2 Hadith
38
(41) CHAPTER. The ruler calling his employees to account.
امام کا اپنے عاملوں سے حساب طلب کرنا
1 Hadith
39
(42) CHAPTER. The courtiers and advisers of the Imam (ruler).
امام کا خاص مشیر جسے بطانہ بھی کہتے ہیں یعنی راز دار دوست
1 Hadith
40
(43) CHAPTER. How do the people give the Baia (pledge) to the Imam (ruler).
امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے ؟
9 Hadith
41
(44) CHAPTER. Whosoever gave the Baia (pledge) twice.
جس نے دو مرتبہ بیعت کی
1 Hadith
42
(45) CHAPTER. The giving of the Baia (pledge) by the bedouins.
دیہاتیوں کا اسلام اور جہاد پر بیعت کرنا
1 Hadith
43
(46) CHAPTER. The Baia (pledge) of a child.
نابالغ لڑکے کا بیعت کرنا
1 Hadith
44
(47) CHAPTER. Whoever gave the Baia (pledge) and then cancelled it.
بیعت کرنے کے بعد اس کا فسخ کرانا
1 Hadith
45
(48) CHAPTER. The person who gives the Baia (pledge) to a man just for worldly benefits.
جس نے کسی سے بیعت کی اور مقصد خالص دنیا کمانا ہو اس کی برائی کا بیان
1 Hadith
46
(49) CHAPTER. The Baia (pledge) given by women.
عورتوں سے بیعت لینا
3 Hadith
47
(S0) CHAPTER. Whoever violates a Baia (pledge).
اس کا گناہ جس نے بیت توڑی
1 Hadith
48
(51) CHAPTER. The appointment of a caliph (to succeed another).
ایک خلیفہ مرتے وقت کسی اور کو خلیفہ کر جائے تو کیسا ہے ؟
5 Hadith
49
(51b) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
2 Hadith
50
(52) CHAPTER. The expulsion of quarrelsome people and people accused of something, from houses after having a firm proof against them.
جھگڑا اور فسق وفجور کرنے والوں کو معلوم ہونے کے بعد گھروں سے نکالنا
1 Hadith
51
(53) CHAPTER. Is it legal for the Imam to forbid the criminals and those who commit sin to talk to or visit him, etc.?
کیا امام کے لیے جائز ہے کہ وہ مجرموں اور گنہگاروں کو اپنے ساتھ بات چیت کرنے اور ملاقات وغیرہ کرنے سے روک دے ۔
1 Hadith
No chapter matched that.