It was narrated from Abu Hurairah that :
The Prophet said I do not want to hear of anyone of you who, upon hearing a Hadith narrated from me, says while reclining on his pillow: 'Recite Qur'an (to verify this Hadith).' (Here the Propher SAW said) Any excellent word that is said, it is I who have said it. [How can you reject what I have said?]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ ہرگز نہ پاؤں کہ تم میں سے کسی سے میری حدیث بیان کی جا رہی ہو اور وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے یہ کہتا ہو: قرآن پڑھو، سنو! جو بھی اچھی بات کہی گئی ہے وہ میری ہی کہی ہوئی ہے ۔
It was narrated from Abu Salamah that :
Abu Hurairah said to a man O son of my brother, when I narrate a Hadith of the Messenger of Allah (ﷺ), to you, then do not try to make any examples for it.
ابوسلمہ (ابوسلمہ ابن عبدالرحمٰن بن عوف) سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا: میرے بھتیجے! جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم اس پر کہاوتیں اور مثالیں نہ بیان کیا کرو۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۵۰۳۲، ۱۵۰۷۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/ ۳۳۲) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۴۸۵)
Amr bin Maimun said :
I used to visit Ibn Mas'ud every Thursday afternoon but he never uttered the words: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said.' Then one evening, he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said,' then he let his head hang down. He said: I looked at him and saw his shirt was unfastened; his eyes were filled with tears, and his veins were bulging out (with fear). He said:' Or more than that, or less than that, or close to that or something similar.'
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں بلا ناغہ ہر جمعرات کی شام کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا تھا، میں نے کبھی بھی آپ کو کسی چیز کے بارے میں «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» کہتے نہیں سنا، ایک شام آپ نے کہا: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» اور اپنا سر جھکا لیا، میں نے ان کو دیکھا کہ اپنے کرتے کی گھنڈیاں کھولے کھڑے ہیں، آنکھیں بھر آئی ہیں اور گردن کی رگیں پھول گئی ہیں اور کہہ رہے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کم یا زیادہ یا اس کے قریب یا اس کے مشابہ فرمایا ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۹۴۹۲، ومصباح الزجاجة: ۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۴۵۲)، سنن الدارمی/ المقدمة ۲۸ (۲۷۸)
Explanation
یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کمال ادب تھا کہ حدیث کی روایت میں نبی اکرم ﷺ کی طرف اس وقت تک نسبت نہ کرتے تھے جب تک خوب یقین نہ ہو جاتا کہ یہی آپ ﷺ کا فرمان ہے، اور جب ذرا سا بھی گمان اور شبہہ ہوتا تو اس خوف سے ڈر جاتے کہ کہیں آپ ﷺ پر جھوٹ نہ باندھ دیں، کیونکہ جو آپ ﷺ پر جھوٹ باندھے صحیح حدیث کی روشنی میں اس پر جہنم کی وعید ہے۔
Muhammad bin Sirin said :
Whenever Anas bin Malik finished narrating a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ), he would say, 'Or as the Messenger of Allah (ﷺ) said.'
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے، اور اس سے فارغ ہوتے تو کہتے: «أو كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» یا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۴۶۹، ومصباح الزجاجة: ۱۰)، وقد أخرجہ: دي المقدمة ۲۸ (۲۸۴)
Explanation
گویا یہ کہہ کر وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ ہم نے تم سے جو یہ حدیث بیان کی ہے وہ روایت بالمعنی ہے، رہے الفاظ تو ہو سکتا ہے کہ ہو بہو یہی الفاظ رہے ہوں یا الفاظ کچھ بدلے ہوں۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Abi Laila said:
We said to Zaid bin Arqam: 'Tell us a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'We have grown old and have forgotten, and (narrating) Ahadith from the Messenger of Allah (ﷺ) is difficult (not a simple matter).'
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہم نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کریں، تو وہ کہنے لگے: ہم بوڑھے ہو گئے ہیں، ہم پر نسیان غالب ہو گیا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا مشکل کام ہے۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۳۶۷۴، ومصباح الزجاجة: ۱۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۷۰، ۳۷۲)
It was narrated that 'Abdullah bin Abu Safar said:
I heard Ash-Sha'bi saying: 'I sat with Ibn 'Umar for a year and I did not hear him narrate anything from the Messenger of Allah (ﷺ)
عبداللہ بن ابی السفر کہتے ہیں کہ میں نے شعبی کو کہتے سنا: میں سال بھر ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مجلسوں میں رہا لیکن میں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔
Takhreej
صحیح البخاری/أخبار الآحاد ۶ (۷۲۶۷)، صحیح مسلم/الصید ۷ (۱۹۴۴)، (تحفة الأشراف: ۷۱۱۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۸۴، ۱۳۷، ۱۵۷)
It was narrated from Ibn Tawus that his father said:
I heard Ibn 'Abbas saying: 'We used to memorize Ahadith, and Ahadith were memorized from the Messenger of Allah (ﷺ). But if you go to the extremes of either exaggeration or negligence (in narrating Ahadith), there is no way we can trust your Ahadith.'
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: ہم تو بس حدیثیں یاد کرتے تھے اور حدیث رسول تو یاد کی ہی جاتی ہے، لیکن جب تم مشکل اور آسان راستوں پر چلنے لگے تو ہم نے دوری اختیار کر لی ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/المقدمة ۴ (۲۰)، (تحفة الأشراف: ۵۷۱۷)
Explanation
یہ کنایہ ہے افراط و تفریط سے، یعنی جب تم نقل میں افراط و تفریط سے کام لینے لگے اور احتیاط کا دامن چھوڑ دیا، تو ہم نے بھی احتیاط کی روش اختیار کی۔
It was narrated that Qarazah bin Ka'b said:
Umar bin Al-Khattab sent us to Kufah, and he accompanied us as far as a place called Sirar. He said: 'Do you know why I walked with you?' We said: 'Because of the rights of the Messenger of Allah (ﷺ) and because of the rights of the Ansar.' He said: 'No, rather it is because of words that I wanted to say to you. I wanted you to memorize it due to my walking with you. You are going to people in whose hearts the Qur'an bubbles like water in a copper cauldron. When they see you, they will look up at you, saying: The Companions of Muhammad! But do not recite many reports from the Messenger of Allah (ﷺ), then I will be your partner.
قرظہ بن کعب کہتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کوفہ بھیجا، اور ہمیں رخصت کرنے کے لیے آپ ہمارے ساتھ مقام صرار تک چل کر آئے اور کہنے لگے: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیوں چل کر آیا ہوں؟ قرظہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے حق اور انصار کے حق کی ادائیگی کی خاطر آئے ہیں، کہا: نہیں، بلکہ میں تمہارے ساتھ ایک بات بیان کرنے کے لیے آیا ہوں، میں نے چاہا کہ میرے ساتھ آنے کی وجہ سے تم اسے یاد رکھو گے: تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے سینوں میں قرآن ہانڈی کی طرح جوش مارتا ہو گا، جب وہ تم کو دیکھیں گے تو ( مارے شوق کے ) اپنی گردنیں تمہاری طرف لمبی کریں گے ۱؎، اور کہیں گے: یہ اصحاب محمد ہیں، تم ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں کم بیان کرنا، جاؤ میں بھی تمہارا شریک ہوں ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۶۲۵، ومصباح الزجاجة: ۱۲)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة ۲۸ (۶۸۷)
Explanation
تاکہ وہ تمہاری باتیں سن سکیں اور تم سے استفادہ کر سکیں۔ اس سے مراد احادیث کے بیان کرنے میں احتیاط کو ملحوظ رکھنے کی طرف توجہ مبذول کرانا تھا، اور یہ ایسی بات ہے جس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ گویا اس سے اصل مقصد احادیث کو تحقیق کے ساتھ بیان کرنے کی اہمیت کو بیان کرنا تھا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت نہ ہو۔
It was narrated that Sa'ib bin Yazid said:
I accompanied Sa'd bin Malik from Al-Madinah to Makkah and I did not hear him narrate a single Hadith from the Prophet (ﷺ).
سائب بن یزید کہتے ہیں کہ میں سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ تک گیا، لیکن راستے بھر میں نے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔
اس کی وجہ وہی احتیاط ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عادت تھی، تاہم وہ لوگوں کو مسائل بیان فرماتے اور ان کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور یہ سب کچھ احادیث ہی سے ماخوذ ہوتا تھا۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin 'Abdullah bin Mas'ud that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever tells lies about me deliberately, let him take his place in Hell.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ گھڑا تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۹۳۶۸)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفتن ۷۰ (۲۲۵۷)، العلم ۸ (۲۶۵۹)، مسند احمد (۱/۳۸۹، ۳۹۳، ۴۰۱، ۴۳۶، ۴۴۹) (وأولہ: إنکم منصورون....)
Explanation
چاہے اس سے کوئی نیک مقصد ہی کیوں نہ ہو، جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کی قید سے وہ شخص اس وعید سے نکل گیا ہے جس نے غلطی سے یا بھول سے کوئی بات رسول اکرم ﷺ کی طرف منسوب کی ہو۔
It was narrated that Anas bin Malik said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever tells lies about me', I (the narrator) think that he also said 'deliberately', let him take his place in Hell.'
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اوپر جھوٹ باندھے ( انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ) میرا خیال ہے کہ آپ نے «متعمدا» بھی فرمایا یعنی جان بوجھ کر ۱؎ تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔
Takhreej
سنن الترمذی/العلم ۸ (۲۶۶۱)، (تحفة الأشراف: ۱۵۲۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ العلم ۳۹ (۱۰۸)، صحیح مسلم/المقدمة ۲ (۳)، مسند احمد (۳/۹۸، ۱۱۳، ۱۱۶، ۱۷۲، ۱۷۶، ۲۰۳، ۲۰۹، ۲۲۳، ۲۷۹، ۲۸۰)، سنن الدارمی/المقدمة ۲۵ (۲۴۴)، ۴۶ (۵۵۹)
Explanation
یعنی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ شک ہے کہ «متعمدا» کا لفظ بھی فرمایا یا نہیں، اور باقی حدیث میں کوئی شک نہیں ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever attributes to me something that I have not said, let him take his place in Hell.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گھڑ کر میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
Takhreej
: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۵۰۸۹، ومصباح الزجاجة: ۱۴)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم ۳۹ (۱۰۹)، صحیح مسلم/المقدمة ۲ (۳)، مسند احمد (۲/۳۲۱)
It was narrated that Abu Qatadah said:
While he was on this pulpit, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: ' Beware of narrating too many Ahadith from me. Whoever attributes something to me, let him speak the truth faithfully. Whoever attributes to say something that I did not say, let him take his place in Hell.
ابوقتادۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے سنا: تم مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرنے سے بچو، اگر کوئی میرے حوالے سے کوئی بات کہے تو وہ صحیح صحیح اور سچ سچ کہے، اور جو شخص گھڑ کر میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۲۱۳۰، ومصباح الزجاجة: ۱۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۹۷، ۳۱۰)، سنن الدارمی/المقدمة ۲۵ (۲۴۳)
It was narrated from 'Amir bin 'Abdullah bin Zubair that his father said:
I said to Zubair bin Awwam: 'Why do I not hear you narrating Ahadith from the Messenger of Allah (ﷺ) as I hear Ibn Mas'ud and so-and-so and so-and-so?' He said: 'I never left him from the time I became Muslim, but I heard him say a word: 'Whoever tells a lie about me deliberately, let him take his place in Hell.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنتا جس طرح ابن مسعود اور فلاں فلاں کو سنتا ہوں؟ تو انہوں نے کہا: سنو! جب سے میں اسلام لایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوا، لیکن میں نے آپ سے ایک بات سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جو شخص میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔
Takhreej
صحیح البخاری/العلم ۳۸ (۱۰۷)، سنن ابی داود/العلم ۴ (۳۶۵۱)، (تحفة الأشراف: ۳۶۲۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۶۵، ۱۶۶)، سنن الدارمی/المقدمة ۲۵ (۲۳۹)
It was narrated from Abu Sa'eed said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever tells lies about me deliberately, let him take his place in Hell.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۴۲۴۵)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزہد والر قائق ۱۶ (۳۰۰۴)، مسند احمد (۲/۴۷، ۳ /۳۹، ۴۴)
Explanation
ان حدیثوں میں نبی ﷺ پر جھوٹ باندھنے کا عذاب مذکور ہے، اور حقیقت میں یہ بہت بڑا گناہ اور سنگین دینی جریمہ ہے۔
It was narrated from 'Ali that:
The Prophet (ﷺ) said: ' Whoever narrates a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars. (Either the one who invents a lie or the one who repeats it; both are liars).
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۲۱۲)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/العلم ۹ (۲۶۶۲)، مسند احمد (۵/۱۴، ۲۰) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۴۰)
Explanation
«الكاذبين» تثنیہ کے ساتھ یعنی دو جھوٹے، دو جھوٹوں سے مراد ایک تو وہ شخص ہے جو جھوٹی حدیثیں گھڑتا ہے، دوسرا وہ شخص ہے جو ان کی روایت کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ روایت کرنے والا بھی گناہ میں گھڑنے والے کے ساتھ شریک ہو گا، اور «الكاذبين» جمع کے ساتھ بھی آیا ہے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ بہت سارے جھوٹے لوگوں میں سے ایک جھوٹا آدمی احادیث کا گھڑنے والا بھی ہو گا۔
It was narrated from Samurah bin Jundub that:
The Prophet (ﷺ) said: ' Whoever narrated a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔
Takhreej
صحیح مسلم/المقدمة ۱ (۱) (تحفة الأشراف: ۴۶۲۷)، و سنن الترمذی/العلم ۹ (۲۶۶۲)، مسند احمد (۵/۱۴، ۱۹، ۲۰)
It was narrated from `Ali that:
The Prophet (ﷺ) said: Whoever narrates a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars. Another chain similar to the narration of Samurah bin Jundub.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کی کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for
YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status —
Arabic with English and Urdu translation, free on
WizTools123.