حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ .
It was narrated from Abu Mas'ud that :
the Prophet (ﷺ) forbade the price of a dog, the payment (given to a prostitute) and the payment made to a soothsayer.
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا ہے۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/البیوع ۱۱۳ (۲۲۳۷)، الإجارة ۲۰ (۲۲۸۲)، الطلاق ۵۱ (۵۳۴۶)، الطب ۴۶ (۵۷۶۱)، صحیح مسلم/المساقاة ۹ (۱۵۶۷)، سنن ابی داود/البیوع ۴۱ (۳۴۲۸)،۶۵ (۳۴۸۱)، سنن الترمذی/البیوع ۴۶ (۱۲۷۶)، النکاح ۳۷ (۱۱۳۳)، الطب ۲۳ (۲۰۷۱)، سنن النسائی/الصید والذبائح ۱۵ (۴۲۹۷)،(تحفة الأشراف:۱۰۰۱۰)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ۲۹ (۶۸)، مسند احمد (۱/۱۱۸،۱۲۰،۱۴۰،۱۴۱)، سنن الدارمی/البیوع ۳۴ (۲۶۱۰)
Explanation
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتے کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے، مگر نسائی کی روایت کے مطابق شکاری کتا اس سے مستثنی ہے یعنی اس کی قیمت جائز اور نجومی میں وہ رمال، جفار اور جوتشی وغیرہ بھی شامل ہیں جو مستقبل کی باتیں بتاتے ہیں۔
2159
Sahih