TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قیمت مقرر کرنے کی کراہت کا بیان

Chapter 27 of The chapters on business transactions in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 27 of 69 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَحُمَيْدٌ وَثَابِتٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ غَلَا السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي لَأَرْجُو، ‏‏‏‏‏‏أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ .
It was nanated that Anas bin Malik said: Prices rose during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and they said: 'O Messenger of Allah, prices have risen, so fix the prices for us.' He said: 'Indeed Allah is the Musa'ir, [1] the Qabid, (Restrainer) the Basit,[2] the Razzaq (Provider). And I am hopeful that I meet my Lord and none of you are seeking (recompense from) me for an injustice involving blood or wealth.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک دفعہ قیمتیں چڑھ گئیں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے ایک نرخ ( بھاؤ ) مقرر کر دیجئیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، کبھی کم کر دیتا ہے اور کبھی زیادہ کر دیتا ہے، وہی روزی دینے والا ہے، اور مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ کوئی مجھ سے جان یا مال میں کسی ظلم کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/البیوع ۵۱ (۳۴۵۱)، سنن الترمذی/البیوع ۷۳ (۱۳۱۴)،(تحفة الأشراف:۳۱۸،۶۱۴،۱۱۵۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۵۶)، سنن الدارمی/البیوع ۱۳ (۲۵۸۷)
Explanation
یعنی نہ مالی نہ جانی کسی طرح کا ظلم میں نے کسی پر نہ کیا ہو، حدیث میں اشارہ ہے کہ نرخ مقرر کرنا یعنی قیمتوں پر کنٹرول کرنا بیوپاریوں پر اور غلہ کے تاجروں پر ایک مالی ظلم ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس سے بچنے کی آرزو کی
2200
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ لَوْ قَوَّمْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو، ‏‏‏‏‏‏أَنْ أُفَارِقَكُمْ وَلَا يَطْلُبَنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمَظْلَمَةٍ ظَلَمْتُهُ .
It was narrated that Abu Sa'eed said: Prices rose at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and they said: 'Why do you not fix the food prices, O Messenger of Allah?' He said: 'I hope that when I leave you, no one among you will be demanding restitution for a wrong that I have done to him. '
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مہنگائی بڑھ گئی، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ نرخ مقرر کر دیں تو اچھا رہے گا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ میں تم سے اس حال میں جدا ہوں کہ کوئی مجھ سے کسی زیادتی کا جو میں نے اس پر کی ہو مطالبہ کرنے والا نہ ہو ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۳۸، ومصباح الزجاجة:۷۷۴)، مسند احمد (۳/۸۵)
Explanation
نبی کریم ﷺکے عہد مبارک میں غذائی اجناس کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں شاید اس کا سبب قحط سالی اور بارش کا نہ برسنا تھا، یا مدینہ اور شام کے درمیان راستے کا خراب ہونا جہاں سے مدینہ منورہ کو غلہ آتا تھا، لوگوں نے رسول اکرم ﷺ سے قیمتوں اور منافع پر کنٹرول کی گزارش کی تو نبی کریم ﷺ نے اس معاملے کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا دیا کہ وہی رزاق ہے اور اسی کے ہاتھ میں روزی کو کم اور زیادہ کرنا ہے، رسول اکرم ﷺ نے نرخ پر کنٹرول اس خیال سے نہ کیا کہ اس سے خواہ مخواہ کہیں لوگ ظلم و زیادتی کا شکار نہ ہو جائیں، لیکن حاکم وقت لوگوں کی خدمت کے لیے عادلانہ اور منصفانہ نرخ پر کنٹرول کا اقدام کر سکتا ہے، عام مصلحت کے پیش نظر علماء اسلام نے اس کی اجازت دی ہے، امام ابن القیم فرماتے ہیں کہ نرخ کے کنٹرول میں بعض چیزیں حرام کے قبیل سے ہیں، اور بعض چیزیں انصاف پر مبنی اور جائز ہیں، قیمتوں پر کنٹرول سے اگر لوگ ظلم کا شکار ہوں یا ناحق ان کو ایسی بیع پر مجبور کیا جائے، جو ان کے یہاں غیر پسندیدہ ہو یا ان کو مباح چیزوں سے روکنے والی ہو تو ایسا کنٹرول حرام ہے، اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کا ضامن کنٹرول جیسے لوگوں کو اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ وہی قیمت لیں جس کے وہ حقیقی طور پر حقدار ہیں، اور ان کو اس حقیقی قیمت سے زیادہ لینے سے روک دے جو ان کے لیے لینا حرام ہے، تو ایسا کنٹرول جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، خلاصہ کلام یہ کہ اگر لوگوں کی مصلحتیں قیمتوں پر کنٹرول کے بغیر نہ پوری ہو رہی ہوں تو منصفانہ طور پر ان کی قیمتوں کی تحدید کر دینی چاہئے اور اگر اس کی ضرورت نہ ہو اور اس کے بغیر کام چل رہا ہو تو قیمتوں پر کنٹرول نہ کرے۔ علامہ محمد بن ابراہیم آل الشیخ مفتی اکبر سعودی عرب فرماتے ہیں کہ ہم پر جو چیز واضح ہوئی اور جس پر ہمارے دلوں کو اطمینان ہے وہ وہی ہے جسے ابن القیم نے ذکر فرمایا ہے کہ قیمتوں کی تحدید میں سے بعض چیزیں ظلم ہیں، اور بعض چیزیں عدل و انصاف کے عین مطابق تو دوسری صورت جائز ہے، قیمتوں پر کنٹرول سے اگر لوگ ظلم کا شکار ہو رہے ہوں یا ناحق انہیں ایسی قیمت پر مجبور ہونا پڑے جس پر وہ راضی نہیں ہیں، یا اس سے وہ اللہ کی مباح کی ہوئی چیزوں سے روکے جا رہے ہوں تو ایسا کرنا حرام ہے، اور اگر قیمتوں پر کنٹرول سے لوگوں کے درمیان عدل کا تقاضا پورا ہو رہا ہے کہ حقیقی قیمت اور واجبی معاوضہ لینے پر ان کو مجبور کیا جا رہا ہو یا اس تدبیر سے ان کو اصلی قیمت سے زیادہ لینے سے روکا جا رہا ہو جس کا لینا ان کے لیے حرام ہے، تو یہ جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، پس قیمتوں پر کنٹرول دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ ایسی چیزوں کی قیمتوں پر کنٹرول ہو جن کے محتاج سارے لوگ ہوں، دوسری شرط یہ ہے کہ مہنگائی کا سبب بازار میں سامان کا کم ہونا ہے یا طلب کا زیادہ ہونا، تو جس چیز میں یہ دونوں شرطیں پائی جائیں اس میں قیمتوں کی تحدید عدل و انصاف اور عام مصلحتوں کی رعایت کے قبیل سے ہے، جیسے گوشت، روٹی اور دواؤں وغیرہ کی قیمتوں پر کنٹرول۔ مجمع الفقہ الإسلامی مکہ مکرمہ نے تاجروں کے منافع کے کنٹرول سے متعلق (۱۴۰۹) ہجری کی ایک قرارداد میں یہ طے کیا کہ حاکم صرف اس وقت مارکیٹ اور چیزوں کے بھاؤ کے سلسلے میں دخل اندازی کرے جب مصنوعی اسباب کی وجہ سے ان چیزوں میں واضح خلل پائے، تو ایسی صورت میں حاکم کو چاہئے کہ وہ ممکنہ عادلانہ وسائل اختیار کر کے اس مسئلے میں دخل اندازی کرے اور بگاڑ، مہنگائی اور غبن فاحش کے اسباب کا خاتمہ کرے۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام، تالیف عبداللہ بن عبدالرحمن البسام،۴/۳۲۹)
2201
Sahih

Chapters

69
01
روزی کمانے کی ترغیب
5 Hadith
02
روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان
3 Hadith
03
تجارت میں احتیاط برتنے کا بیان
2 Hadith
04
روزی کا کوئی ذریعہ مل جانے پر اسے پکڑے رہے
2 Hadith
05
پیشوں اور صنعتوں کا بیان
4 Hadith
06
ذخیرہ اندوزی اور جلب کا بیان
3 Hadith
07
جھاڑ پھونک کرنے والے کی اجرت کا بیان
1 Hadith
08
قرآن کریم کی تعلیم پر اجرت لینے کا بیان
2 Hadith
09
کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی، کاہن کی اجرت اور نر سے جفتی کرانے کی اجرت کے احکام کا بیان۔
3 Hadith
10
حجام (پچھنا لگانے والے) کی کمائی کا بیان
5 Hadith
11
حرام اور ناجائز چیزوں کی خرید و فروخت حلال نہیں ہے۔
2 Hadith
12
بیع منابذہ اور ملامسہ کی ممانعت
2 Hadith
13
نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا لگائے اور نہ اس کے دام پر دام لگائے
2 Hadith
14
بیع نجش کی ممانعت
2 Hadith
15
شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے
3 Hadith
16
بازار میں پہنچنے سے پہلے تاجروں سے جا کر ملنا اور ان سے سامان تجارت خریدنا منع ہے
3 Hadith
17
بیچنے اور خریدنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں دونوں کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے
3 Hadith
18
اختیاری خریداری کا بیان
2 Hadith
19
خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے تو وہ کیا کریں؟۔
1 Hadith
20
جو چیز پاس میں نہ ہو اس کا بیچنا اور جس چیز کا ضامن نہ ہو اس میں نفع لینا منع ہے
3 Hadith
21
جب دو بااختیار شخص کسی چیز کو بیچیں تو پہلے بیچنے والے کی بات معتبر ہو گی
2 Hadith
22
بیعانہ کا حکم
2 Hadith
23
بیع حصاۃ اور بیع غرر ممنوع ہے۔
2 Hadith
24
جانوروں کے پیٹ اور تھن میں جو ہو اس کی بیع یا غوطہٰ خور کے غوطہٰ کی بیع ممنوع ہے
2 Hadith
25
نیلام (بولی) کا بیان
1 Hadith
26
بیع فسخ کرنے کا بیان
1 Hadith
27
قیمت مقرر کرنے کی کراہت کا بیان
2 Hadith
28
خرید و فروخت میں نرمی اور آسانی برتنے کا بیان
2 Hadith
29
مول بھاؤ کرنے کا بیان
3 Hadith
30
خرید و فروخت میں حلف اٹھانے اور قسمیں کھانے کی کراہت
3 Hadith
31
قلم کئے ہوئے کھجور کے درخت کو بیچنے یا مالدار غلام کو بیچنے کا بیان
4 Hadith
32
استعمال کے لائق ہونے سے پہلے درخت کے کچے پھل کو بیچنا منع ہے
4 Hadith
33
کئی سال کے لیے پھلوں کے بیچنے اور پھلوں کو لاحق ہونے والی آفات کا بیان
2 Hadith
34
وزن کے وقت پلڑا جھکا کر (زیادہ) تولنے کا بیان
3 Hadith
35
ناپ تول میں احتیاط برتنے کا بیان
1 Hadith
36
دھوکا دینا منع ہے
2 Hadith
37
قبضے سے پہلے اناج بیچنا منع ہے
3 Hadith
38
بغیر ناپ تول کے اندازے سے بیچنے کا بیان
2 Hadith
39
اناج ناپنے میں برکت متوقع ہونے کا بیان
2 Hadith
40
بازار اور اس میں جانے کا بیان
3 Hadith
41
صبح کے وقت میں برکت متوقع ہونے کا بیان
3 Hadith
42
مصراۃ کی بیع کا بیان
3 Hadith
43
غلام کی کمائی اس کے ضامن مالک سے جڑی ہوئی ہے
2 Hadith
44
غلام کو واپس لینے کی ذمے داری کی مدت کا بیان
2 Hadith
45
بیچتے وقت خراب چیز کے عیب کو ظاہر کر دینے کا بیان
2 Hadith
46
قیدیوں کو الگ الگ بیچنے کی ممانعت
3 Hadith
47
غلام یا لونڈی خریدنے کا بیان
2 Hadith
48
بیع صرف (سونے چاندی کو سونے چاندی کے بدلے نقد بیچنے) کا بیان اور نقداً کمی و بیشی کر کے نہ بیچی جانے والی چیزوں کا بیان
4 Hadith
49
سود صرف ادھار میں ہے کے قائلین کی دلیل
2 Hadith
50
سونے کو چاندی کے بدلے بیچنے کا بیان
3 Hadith
51
چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی لینے کا بیان
1 Hadith
52
درہم و دینار (سونے اور چاندی کے سکوں) کو توڑنا اور پگھلانا منع ہے
1 Hadith
53
«رطب» (تازہ کھجور) کو سوکھی کھجور کے بدلے بیچنے کا بیان
1 Hadith
54
بیع مزابنہ (یعنی درخت کے اوپر کچے پھل کو سوکھے پھل کے بدلے بیچنے) اور بیع محاقلہ (یعنی غلہ کے بدلے زمین دینے) کا بیان
3 Hadith
55
عرایا کی بیع یعنی کھجور کے درخت کو انداز ے سے خشک کھجور کے بدلے خریدنے کا بیان
2 Hadith
56
حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے کی ممانعت
2 Hadith
57
جاندار کو جاندار کے بدلے زیادہ کر کے نقداً لینے کا بیان
1 Hadith
58
حرمت سود میں وارد وعید کا بیان
7 Hadith
59
متعین ناپ تول میں ایک مقررہ مدت کے وعدے پر بیع سلف کرنے کا بیان
3 Hadith
60
کسی چیز کی بیع سلم کر کے اس کو دوسری چیز سے نہ بدلنے کا بیان
1 Hadith
61
اگر کسی خاص درخت کی خریداری بیع سلم سے (یعنی پیشگی ادائیگی کے بعد) کی ہو اور اس میں پھل نہ آئے تو کیا حکم ہے؟۔
1 Hadith
62
حیوانات میں بیع سلم کا بیان
2 Hadith
63
شرکت و مضاربت کا بیان
3 Hadith
64
اولاد کے مال میں والدین کے حق کا بیان
3 Hadith
65
شوہر کے مال میں عورت کے حق کا بیان
3 Hadith
66
غلام کسی کو کیا دے سکتا ہے اور کیا صدقہ کر سکتا ہے؟۔
2 Hadith
67
کسی کے ریوڑ یا باغ سے گزر ہو تو کیا آدمی اس سے کچھ لے سکتا ہے؟۔
4 Hadith
68
مالک کی اجازت کے بغیر کسی کے ریوڑ یا باغ سے کچھ لینا منع ہے
2 Hadith
69
جانور پالنے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.