It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (ﷺ) said:
O Allah, bless my nation in their early mornings. . It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: Whoever buys a Musarrah, he has the choice (of annulling the deal) for three days. If he returns it, then he must also give a Sa' of dates, not Samra'. Meaning wheat.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما ۔
Abdullah bin 'Umar said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever buys a Muhaffalah, (1) he has the choice (of annulling the deal) for three days. If he returns it, then he must also give wheat equal to twice, the amount of its milk, or equal to the amount of its milk. '
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے «مصّراۃ» خریدی تو اسے تین دن تک اختیار ہے، چاہے تو واپس کر دے، چاہے تو رکھے، اگر واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی واپس کرے ، «سمراء» ( یعنی گیہوں ) کا واپس کرنا ضروری نہیں ۱؎۔
«مصراۃ»: ایسی بکری یا دودھ والا جانور جس کا دودھ ایک یا دو یا تین دن تک نہ دوہا جائے تاکہ دودھ تھن میں جمع ہو جائے اور خریدار دھوکہ کھا کر زیادہ قیمت میں اس جانور کو اس دھوکہ میں خرید لے کہ یہ بہت دودھ دینے والا جانور ہے۔
Abdullah bin 'Umar said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever buys a Muhaffalah, (1) he has the choice (of annulling the deal) for three days. If he returns it, then he must also give wheat equal to twice, the amount of its milk, or equal to the amount of its milk. '
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اگر کوئی «محفَلہ» ( «مصّراۃ» ) کو بیچے تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر وہ اسے واپس کر دے تو اس کے دودھ کے دوگنا یا برابر گیہوں اس کو دے ۔
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said:
I bear witness that the true and truly inspired one Abul-Qasim (ﷺ) told us: 'Selling a Muhaffalah is Khilabah, and Khilabah is not lawful for the Muslim. ' (Ibn Majah said: Meaning: 'Deception. )
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں صادق و مصدوق ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ہم سے بیان کیا، اور فرمایا: «محفّلات» کا بیچنا فریب اور دھوکہ ہے، اور مسلمان کو دھوکہ دینا حلال اور جائز نہیں ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۹۵۸۳، ومصباح الزجاجة:۷۸۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۴۳۰،۴۳۳)
Explanation
«محفّلات»: جمع ہے «محفلہ» کی یعنی ایسے جانور جن کو کئی دنوں تک دوہا نہ گیا ہو، اور دودھ ان کے تھنوں میں جمع رہے۔
It was narrated from Aishah that :
the Messenger of Allah (ﷺ) ruled that what a slave earns belongs to his guarantor
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ غلام کی کمائی اس کی ہے، جو اس کا ضامن ہو ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/البیوع ۷۳ (۳۵۰۸،۳۵۰۹)، سنن الترمذی/البیوع ۵۳ (۱۲۸۵)، سنن النسائی/البیوع ۱۳ (۴۴۹۵)،(تحفة الأشراف:۱۶۷۵۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/ ۴۹،۲۰۸،۲۳۷)
Explanation
اس مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ کئی دن تک اس کے پاس رہا، پھر عیب کی وجہ سے یا شرط خیار کی بناء پر اس کو واپس کر دیا،تو جتنے دن وہ غلام خریدار کے پاس رہا اتنے دن کی کمائی خریدار ہی کی ہوگی، اس لئے کہ خریدار ہی ان دنوں میں اس کا ضامن تھا، اگر وہ غلام خریدار کے پاس ہلاک ہو جاتا تو اسی کا نقصان ہوتا، بیچنے والے کا نقصان نہ ہوتا۔
It was narrated from 'Aishah that:
a man bought a slave and put him to work, then he found some defect in him, so he returned him. He (the seller) said: O Messenger of Allah he put my slave to work. The Messenger of Allah (ﷺ) said: A slave's earnings belong to his guarantor.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، پھر اس سے مزدوری کرائی، بعد میں اسے اس میں کوئی عیب نظر آیا، اسے بیچنے والے کو واپس کر دیا، بیچنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام سے مزدوری کرائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فائدہ اسے ضمانت کی وجہ سے ہے ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/البیوع ۷۳ (۳۵۱۰)، سنن الترمذی/البیوع ۵۳ (۱۲۸۶ تعلیقاً)،(تحفة الأشراف:۱۷۲۴۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۸۰،۱۱۶)
Explanation
تو وہ اجرت خریدنے والے ہی کا حق ہے، اس لئے کہ وہ اس غلام کا ضامن تھا اگر وہ غلام اس کے پاس مر جاتا تو کیا اس کو قیمت واپس کر دیتا۔
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The Muslim is the brother of another Muslim, and it is not permissible for a Muslim to sell his brother goods in which there is a defect, without pointing that out to him. '
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/النکاح ۶ (۱۴۱۴)،(تحفة الأشراف:۹۹۳۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۵۸)
Explanation
عیب بیان کر دینے کے بعد خریدار اس مال کو خریدے تو اس کو پھیرنے کا اختیار نہ ہو گا، اگر عیب نہ بیان کرے تو اختیار ہو گا، جب عیب معلوم ہو تو اس کو پھیر دے۔
It was narrated that Wathilah bin Asqa' said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever sells defective goods without pointing it out, he will remain subject to the wrath of Allah, and the angels will continue to curse him.'
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی عیب دار چیز بیچے اور اس کے عیب کو بیان نہ کرے، تو وہ برابر اللہ تعالیٰ کے غضب میں رہے گا، اور فرشتے اس پر برابر لعنت کرتے رہیں گے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ما جة،(تحفة الأشراف:۱۱۷۴۰،۱۱۷۵۲، ومصباح الزجاجة:۷۹۲)
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said:
When captives were brought to him, the Prophet (ﷺ) would give the members of one family together (to one person), not wanting to separate them.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب قیدی ( جو آپس میں قریبی عزیز ہوتے ) لائے جاتے، تو آپ ان سب کو ایک گھر کے لوگوں کو دے دیتے، اس لیے کہ آپ ان کے درمیان جدائی ڈالنے کو ناپسند فرماتے۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۹۳۶۹، ومصباح الزجاجة:۷۹۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۸۹)
It was narrated that 'Ali said:
The Messenger of Allah (ﷺ) gave me two slaves who were brothers, and I sold one of them. He said: 'What happened with the two slaves?' I said: 'I sold one of them.' He said: 'Take him back. '
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام ہبہ کئے جو دونوں سگے بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: دونوں غلام کہاں گئے ؟ میں نے عرض کیا: میں نے ایک کو بیچ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو واپس لے لو ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/البیوع ۵۲ (۱۲۸۴)،(تحفة الأشراف:۱۰۲۸۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۰۲)
It was narrated that 'Abdul-Majid bin Wahb said:
Adda' bin Khalid bin Hawdhah said to me: 'Shall I not read to you a letter that the Messenger of Allah (ﷺ), wrote to me?' I said: 'Yes.' So he took out a letter. In it was: 'This is what 'Adda' bin Khalid bin Hawdhah bought [from] Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ) He bought from him a slave' or 'a female slave, having no ailments, nor being a runaway, not having any malicious behavior. Sold by a Muslim to a Muslim.'
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو وہ تحریر پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ ضرور سنائیں، تو انہوں نے ایک تحریر نکالی، میں نے جو دیکھا تو اس میں لکھا تھا: یہ وہ ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا، عداء نے آپ سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی، اس میں نہ تو کوئی بیماری ہے، نہ وہ چوری کا مال ہے، اور نہ وہ مال حرام ہے، مسلمان سے مسلمان کی بیع ہے ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib from his father that his grandfather told that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
When anyone of you buys a slave woman let him say: 'Allahumma inni as'aluka khairaha wa khaira ma jabaltaha alaihi, wa a'udhu bika min sharriha wa sharri ma jabaltaha alaihi (O Allah, I ask You for the goodness within her and the goodness that You have made her inclined towards, and I seek refuge with You from the evil within her and the evil that You have made her inclined towards).' And he should pray for blessing. And if anyone of you buys a camel then he should take hold of its hump and pray for. blessing and say similar words.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لونڈی خریدے تو کہے: «اللهم إني أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلتها عليه» اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا طالب ہوں، اور اس چیز کی بھلائی کا جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس کی برائی سے، اور اس چیز کی برائی سے جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے اور برکت کی دعا کرے، اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کے اوپر کا حصہ پکڑ کر برکت کی دعا کرے، اور ایسا ہی کہے ۔
It was narrated that Malik bin Aws bin Hadathan Nasri said:
I heard 'Umar bin Al-Khattab say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: Exchanging gold for gold is usury unless it is done on the spot. (Exchanging) wheat for wheat is usury, unless it is done on the spot. (Exchanging) barley for barley is usury unless it is done on the spot. (Exchanging) dates for dates is usury, unless it is done on the spot.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور کھجور کا کھجور سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد ۱؎۔
اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے، لیکن ابوسعید کی روایت میں جو صحیحین میں وارد ہے، دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں تفاضل (کمی بیشی) اور نسیئہ (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو درست ہے، اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہو جائے گا۔
Muslim bin Yasar and 'Abdullah bin 'Ubaid said :
Ubadah bin Samit and Mu'awiyah happened to meet, either in a church or in a synagogue. 'Ubadah bin Samit narrated to them and said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) forbade us from selling silver for silver, gold for gold, wheat for wheat, barley for barley, and dates for dates.'I one of them said: And salt for salt, but the other did not say it. And he commanded us to sell wheat for barley, or barley for wheat, hand-to-hand, however we wished.
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں کسی کلیسا یا گرجا میں اکٹھا ہوئے، تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کو چاندی سے، اور سونے کو سونے سے، اور گیہوں کو گیہوں سے، اور جو کو جو سے، اور کھجور کو کھجور سے بیچنے سے منع کیا ہے۔ ( مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید ان دونوں میں سے ایک نے کہا ہے: اور نمک کو نمک سے اور دوسرے نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے ) اور ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم گیہوں کو جو سے اور جو کو گیہوں سے نقدا نقد ( برابر یا کم و بیش ) جس طرح چاہیں بیچیں۔
Takhreej
سنن النسائی/البیوع ۴۱ (۴۵۶۴)،۴۲ (۴۵۶۶)،(تحفة الأشراف:۵۱۱۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۲۰)، سنن الدارمی/البیوع ۴۱ (۲۶۲۱)
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
'(Sell) silver for silver, gold for gold, barley for barley, wheat for wheat, like for like.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی کو چاندی سے، اور سونے کو سونے سے، اور جو کو جو سے اور گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچیں ۱؎۔
Takhreej
«صحیح مسلم/المساقاة ۱۵ (۱۵۸۸)، سنن النسائی/البیوع ۴۴ (۴۵۷۳)،(تحفة الأشراف:۱۳۶۲۵)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ۱۲ (۲۰)، مسند احمد (۲/۲۳۲)
It was narrated that Abu Sa’eed said:
“The Prophet used to give us dates from the collection (mixed) [1] dates, and we would exchange them for dates that were better, and we add to the price. [2] The Messenger of Allah said: ‘It is not right to give one Sa of dates for two Sa, nor one Dirham for two Dirham. A Dirham for a Dirham and a Dinar for a Dinar is allowed: the only difference between them is in weight (i.e., the weight must be equal.)’” Sahih
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مختلف قسم کی مخلوط کھجوریں کھانے کو دیتے تھے، تو ہم انہیں عمدہ کھجور سے بدل لیتے تھے، اور اپنی کھجور بدلہ میں زیادہ دیتے تھے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور سے اور ایک درہم کو دو درہم سے بیچنا درست نہیں، درہم کو درہم سے، اور دینار کو دینار سے، برابر برابر وزن کر کے بیچو، ان میں کمی بیشی جائز نہیں ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/البیوع ۲۰ (۲۰۸۰)، صحیح مسلم/البیوع ۳۹ (۱۵۸۸)، سنن النسائی/البیوع ۳۹ (۴۵۵۹)،(تحفة الأشراف:۴۴۲۲)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ۱۲ (۲۱)، مسند احمد (۳/۴۹،۵۰،۵۱)
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for
YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status —
Arabic with English and Urdu translation, free on
WizTools123.