TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 38 - : جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔ - The book of the sunnah - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 4 in this chapter
: جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ .
It was narrated from 'Ali that: The Prophet (ﷺ) said: ' Whoever narrates a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars. (Either the one who invents a lie or the one who repeats it; both are liars).
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۱؎۔
38
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 1, Hadith 38 Arabic reference : Book 1, Hadith 39
Conclusion
تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۲۱۲)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/العلم ۹ (۲۶۶۲)، مسند احمد (۵/۱۴، ۲۰) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۴۰)
Explanation
شرح و تفصیل
«الكاذبين» تثنیہ کے ساتھ یعنی دو جھوٹے، دو جھوٹوں سے مراد ایک تو وہ شخص ہے جو جھوٹی حدیثیں گھڑتا ہے، دوسرا وہ شخص ہے جو ان کی روایت کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ روایت کرنے والا بھی گناہ میں گھڑنے والے کے ساتھ شریک ہو گا، اور «الكاذبين» جمع کے ساتھ بھی آیا ہے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ بہت سارے جھوٹے لوگوں میں سے ایک جھوٹا آدمی احادیث کا گھڑنے والا بھی ہو گا۔

Related Chapters

315
1
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط
Sunnan Ibn e Maja
2
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
3
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
4
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
5
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
6
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
7
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
8
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
9
(9) CHAPTER. The Statement of the Prophet : It is probable that a person who receives a piece of information indirectly may comprehend it better than he who has heard it directly from its source.”
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے ( حدیث ) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ ( حدیث کو ) یاد رکھ لیتا ہے ۔
Sahih Bukhari
10
Chapter: The Obligation of Transmitting on Authority of Trustworthy Narrators and Abandoning the Liars
ثقہ راویوں سے حدیث بیان کرنا، کذابوں کو ترک کرنا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ باندھنے سے احتراز کرنا واجب ہے۔
Sahih Muslim
11
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ گھڑنے پر سخت گناہ (جہنم) کی وعید
Sunnan Ibn e Maja
12
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Judge
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About What The Messenger Of Allah (saws) Left Behind
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ترکہ کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Sword Of The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی تلوار کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Garment The Messenger Of Allah (saws) Like Most To Wear
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پسندیدہ کپڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Ate Upon
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Which Meat The Messenger Of Allah (saws) Used To Like Most
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا گوشت زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Which Drink Was The Most Beloved To The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
20
Chapter: Regarding Refraining From What Was Prohibited By The Messenger of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ
Jam e Tirmazi
21
Chapter: “Humiliated is a Man Before Whom I am Mentioned...”
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو …“
Jam e Tirmazi
22
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
24
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
25
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
26
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
27
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں
Musnad Ahmad
28
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
Musnad Ahmad
29
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
Musnad Ahmad
30
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
31
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
Musnad Ahmad
32
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
33
عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ولادت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
34
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بسیسہ نامی شخص کو جاسوس بنا کر بھیجنا تاکہ وہ ابو سفیان کے قافلہ پر نظر رکھے اور بعدازاں قتال کی اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
35
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس خواب کا بیان جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ احد سے قبل دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
36
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا ظہور
Musnad Ahmad
37
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
38
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
ان صحابہ کا بیان جنھوں نے یہ روایت کی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا نہیں کی
Musnad Ahmad
40
فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا بیان
Musnad Ahmad
41
مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
Musnad Ahmad
42
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہرقل کے نام مکتوب اور اس کی طرف سے اس کے جواب کا بیان
Musnad Ahmad
44
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
45
لوگوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آخری خطبہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
46
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بعض مخصوص صحابہ کرام کو بلوانے کا بیان تاکہ ان کے لیے کوئی تحریرلکھیں
Musnad Ahmad
47
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
48
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیماری کے دوران پیش آنے والے بعض امور کا بیان
Musnad Ahmad
49
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے امت کو آخری تاکید نماز کی تھی، نیز صحابہ کرام کا آپ کو آخری بار دیکھنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موت شہادت کی موت تھی
Musnad Ahmad
50
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

296
Sunnan Ibn e Maja
39
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ .
It was narrated from Samurah bin Jundub that: The Prophet (ﷺ) said: ' Whoever narrated a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔
Sunnan Ibn e Maja
40
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ .
It was narrated from `Ali that: The Prophet (ﷺ) said: Whoever narrates a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars. Another chain similar to the narration of Samurah bin Jundub.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کی کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔
Sahih Muslim
1
وَاعْلَمْ وَفَّقَكَ اللهُ تَعَالَى أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ عَرَفَ التَّمْيِيزِ بَيْنَ صَحِيحِ الرِّوَايَاتِ وَسَقِيمِهَا، وَثِقَاتِ النَّاقِلِينَ لَهَا مِنَ الْمُتَّهَمِينَ، أَنْ لَا يَرْوِيَ مِنْهَا إِلَّا مَا عَرَفَ صِحَّةَ مَخَارِجِهِ، وَالسِّتَارَةَ فِي نَاقِلِيهِ، وَأَنْ يَتَّقِيَ مِنْهَا مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ أَهْلِ التُّهَمِ وَالْمُعَانِدِينَ مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ‘وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الَّذِي قُلْنَا مِنْ هَذَا هُوَ اللَّازِمُ دُونَ مَا خَالَفَهُ، قَوْلُ اللهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: 6]، وَقَالَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: 282]، وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: 2]، فَدَلَّ بِمَا ذَكَرْنَا مِنْ هَذِهِ الْآيِ أَنَّ خَبَرَ الْفَاسِقِ سَاقِطٌ غَيْرُ مَقْبُولٍ، وَأَنَّ شَهَادَةَ غَيْرِ الْعَدْلِ مَرْدُودَةٌ، وَالْخَبَرُ وَإِنْ فَارَقَ مَعْنَاهُ مَعْنَى الشَّهَادَةِ فِي بَعْضِ الْوُجُوهِ، فَقَدْ يَجْتَمِعَانِ فِي أَعْظَمِ مَعَانِيهِمَا، إِذْ كَانَ خَبَرُ الْفَاسِقِ غَيْرَ مَقْبُولٍ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَمَا أَنَّ شَهَادَتَهُ مَرْدُودَةٌ عِنْدَ جَمِيعِهِمْ، وَدَلَّتِ السُّنَّةُ عَلَى نَفْيِ رِوَايَةِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْأَخْبَارِ كَنَحْوِ دَلَالَةِ الْقُرْآنِ عَلَى نَفْيِ خَبَرِ الْفَاسِقِ وَهُوَ الْأَثَرُ الْمَشْهُورُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ». حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَيْضًا، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ
Know - may Allah, exalted is He, grant you success – that what is obligatory upon everyone who is aware of the distinction between the Sahīh transmissions and their weak, the trustworthy narrators from those who stand accused, is to not transmit from them except what is known for the soundness of its emergence and the protection of its narrators; and that they fear what may be from those accused (of deficiency in narrating) and the stubborn people of innovation. The proof that what we have said is required above what opposes it is in the verse: {Oh you who believe! If a sinful person comes to you with news, then verify it lest you afflict people through ignorance then you become sorry about what you did}[al-Hujurāt: 6]; and the verse: {… from whom you are pleased with from the witnesses}[al-Baqarah: 282] and the verse: {And let two who possess integrity among you bare witness}[at-Talāq: 2]. Thus it demonstrates what we mentioned from these two verses that the report of the sinful is dropped and not accepted, and that the testimony [Shahādah] of one who does not possess integrity is rejected, and the report [Khabar] as well- even though its significance is separated from the meaning of testimony in some respects, they are in agreement regarding the overall conditions they share since the report of the sinful is not acceptable according to Ahl ul-Ilm just as his testimony is rejected according to all of them . The Sunnah demonstrates the prohibition of transmitting abominable transmissions just as in the example from the Qur’ān regarding the prohibition of the report of the sinful. There is a famous narration on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, that: ‘Whoever relates on my authority a narration while aware that it is a lie, then he is one of the liars’ . Abū Bakr ibn Abī Shaybah narrated it to us that Wakī narrated to us, on authority of Shu’bah, on authority of al-Hakam, on authority of Abd ir-Rahman ibn Abī Laylā, on authority of Samurah bin Jundab. And also Abū Bakr ibn Abī Shaybah narrated to us, that Wakī narrated to us, on authority of Shu’bah and Sufyān, on authority of Habīb, on authority of Maymūn ibn Abī Shabīb, on authority of al-Mughīrat ibn Shu’bah, they both said that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said the same thing.
جان تو! اللہ تجھ کو توفیق دے جو شخص صحیح اور ضعیف حدیث میں تمیز کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور ثقہ (‏‏‏‏معتبر) اور متہم (‏‏‏‏جن پر تہمت لگی ہو کذب وغیرہ کی) راویوں کو پہچانتا ہو اس پر واجب ہے کہ نہ روایت کرے مگر اس حدیث کو جس کے اصل کی صحت ہو اور اس کے نقل کرنے والے وہ لوگ ہوں جن کا عیب فاش نہ ہوا ہو، اور بچے ان لوگوں کی روایت سے جن پر تہمت لگائی ہے یا جو عناد رکھتے ہیں اہل بدعت میں سے۔ اور دلیل اس پر جو ہم نے کہا: یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ جا پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو پچھتاؤ اپنے کیے ہوئے پر“۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور گواہ کرو دو مردوں کو یا ایک مرد اور دو عورتوں کو جن کو تم پسند کرتے ہو“ (گواہی کیلئے یعنی جو سچے اور نیک معلوم ہوں) اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے گواہ کرو دو شخصوں کو جو عادل ہوں“ تو ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ فاسق کی بات بے اعتبار ہے اور اسی طرح حدیث شریف سے یہ بھی بات معلوم ہوتی ہے کہ منکر روایت کا بیان کرنا (جس کے غلط ہونے کا احتمال ہو) درست نہیں جیسے قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور وہ حدیث وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ شہرت منقول ہے کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔“ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی اسناد سے روایت کیا سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی وہی حدیث جو اوپر گزری کہ جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ سمجھتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے)۔
Sahih Muslim
637
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ بِلَالٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ». وَفِي حَدِيثِ عِيسَى، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، حَدَّثَنِي بِلَالٌ.
It is narrated from Bilal that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) wiped over the socks and turban, and in the hadith transmitted by 'Isa b. Yaunus the words are: Bilal narrated it to me. This tradition is transmitted by A'mash with this addition;, I saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
ابو معاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے ، انہوں نے حکم سے ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے ، انہوں نے کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے حضرت بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے موزوں پر اور سر ڈھانپنے والے کپڑے پر مسح کیا ۔ عیسیٰ کی حدیث میں ’’حکم سے ( روایات کی ) ‘ ‘ اور ’’بلال سے روایت کی ‘ ‘ کے بجائے مجھے حکم نے حدیث سنائی اور مجھے بلال نےحدیث سنائی ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔
Sunnan Abu Dawood
3099
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏بِمَعْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَذْكُرِ الْخَرِيفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ مَنْصُورٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَكَمِ أَبِي حَفْصٍ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ.
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ali from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم through a different chain of narrators to the same effect. This version does not mention the word garden (khartf). Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Mansur from al-Hakkam as narrated by Shubah.
علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس میں «خریف» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے منصور نے حکم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے شعبہ نے۔
Sunnan Ibn e Maja
570
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏ وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمَا سَأَلا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ التَّيَمُّمِ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّارًا أَنْ يَفْعَلَ هَكَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَفَضَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْحَكَمُ:‏‏‏‏ وَيَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ سَلَمَةُ:‏‏‏‏ وَمِرْفَقَيْهِ.
It was narrated from Hakam and Salamah in Kuhail that: They asked 'Abdullah bin Abi Awfa about dry ablution. He said: The Prophet commanded 'Ammar to do like this;' and he struck the ground with his palms, shook the dust off and wiped his face. (Da'if)Hakam said, and his hands, Salamah said, and his elbows.
حکم اور سلمہ بن کہیل نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے تیمم کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا، پھر عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، اور انہیں جھاڑ کر اپنے چہرے پر مل لیا۔ حکم کی روایت میں «يديه» اور سلمہ کی روایت میں «مرفقيه» کا لفظ ہے ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
715
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَهَانِي أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْعِشَاءِ .
It was narrated that Bilal said: The Messenger of Allah commanded me (with Tathwib) in the Adhan for Fajr, and he forbade me to do so in the Adhan for 'Isha'
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں فجر کی اذان میں «تثويب» ۱؎ کہوں، اور آپ نے عشاء کی اذان میں «تثويب» سے مجھے منع فرمایا ۲؎۔
Sunnan Ibn e Maja
1442
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ أَتَى أَخَاهُ الْمُسْلِمَ عَائِدًا، ‏‏‏‏‏‏مَشَى فِي خَرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ .
It was narrated that ‘Ali said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever comes to his Muslim brother and visits him (when he is sick), he is walking among the harvest of Paradise until he sits down, and when he sits down he is covered with mercy. If it is morning, seventy thousand angels will send blessing upon him until evening, and if it is evening, seventy thousand angels will send blessing upon him until morning.’”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے آئے وہ جنت کے کھجور کے باغ میں چل رہا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے، جب بیٹھ جائے، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، اگر صبح کے وقت عیادت کے لیے گیا ہو تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں، اور اگر شام کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔
Sunnan Ibn e Maja
2734
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْالْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بِنْتِ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَيْلَى وَهِيَ أُخْتُ ابْنِ شَدَّادٍ لِأُمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَاتَ مَوْلَايَ وَتَرَكَ ابْنَةً فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنَتِهِ فَجَعَلَ لِي النِّصْفَ وَلَهَا النِّصْفَ .
It was narrated that the daughter of Hamzah said: “My freed slave died, leaving behind a daughter. The Messenger of Allah (ﷺ) divided his wealth between myself and his daughter, giving me half and her half.”
عبداللہ بن شداد کی اخیافی بہن بنت حمزہ کہتی ہیں کہ میرا ایک غلام فوت ہو گیا، اس نے ایک بیٹی چھوڑی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کیا، اور مجھے اور اس کی بیٹی کو آدھا آدھا دیا، ( بیٹی کو بطور فرض اور بہن کو بطور عصبہ ) ۔

Turn any verse into a post or a reel

Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status — Arabic with English and Urdu translation, free on WizTools123.