TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of the sunnah - سنت کی اہمیت وفضیلت - Book 1 of Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Book 1 of Sunnan Ibn e Maja, with 45 chapters and 266 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

266 Hadith · 45 Chapters
All books
Previous Book Next Book
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ سَابِطٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَنَالَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَغَضِبَ سَعْدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
It was narrated that Sa`d bin Waqqas said: Mu`awiyah came on one of his pilgrimages and Sa`d entered upon him. They mentioned `Ali, and Mu`awiyah criticized him. Sa`d became angry and said: 'Are you saying this of a man of whom I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If I am a person's close friend, `Ali is also his close friend. And I heard him say: You are to me like Harun was to Musa, except that there will be no Prophet after me. And I heard him say: I will give the banner today to a man who loves Allah and His Messenger.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس کا مولیٰ میں ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ بھی سنا: تم ( یعنی علی ) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۳۹۰۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۹ (۳۷۰۶)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۴ (۲۴۰۴)، سنن الترمذی/المناقب ۲۱ (۳۷۲۴)، مسند احمد (۱/۸۴، ۱۱۸)
121
Sahih
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ:‏‏‏‏ مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الزُّبَيْرُ:‏‏‏‏ أَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الزُّبَيْرُ:‏‏‏‏ أَنَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ .
It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah said on the Day of Quraizah: 'Who will bring us news of the people?' Zubair said: 'I will.' The Prophet said: 'Who will bring us news of the people?' Zubair said: 'I will,' three times. Every Prophet has a Hawari (sincere supporter or disciple) and my Hawari is Zubair.'
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم ( یعنی یہود بنی قریظہ ) کی خبر لائے؟، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟ ، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری ( خاص مددگار ) ہوتے ہیں، اور میرے حواری ( خاص مددگار ) زبیر ہیں ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الجہاد ۴۱ (۲۸۴۶)، صحیح مسلم/فضائل الصحابہ ۶ (۲۴۱۵)، سنن الترمذی/المنا قب ۲۵ (۳۸۴۵)، (تحفة الأشراف: ۳۰۲۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۸۹، ۱۰۲، ۳/۳۰۷)
Explanation
یہ واقعہ غزوہ احزاب کا ہے جو سن (۵) ہجری میں واقع ہوا، جب کفار قریش قبائل عرب اور خیبر کے یہودی سرداروں کے ساتھ دس ہزار کی تعداد میں مدینہ پر چڑھ آئے، نبی اکرم ﷺ نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے خندق کھدوائی، اس لئے اس غزوہ کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے، مسلمان بڑی کس مپرسی کے عالم میں تھے، اور یہود بنی قریظہ نے بھی معاہدہ توڑ کر کفار مکہ کا ساتھ دیا، ایک دن بہت سردی تھی، نبی اکرم ﷺ نے صحابہ سے یہ چاہا کہ کوئی اس متحدہ فوج کی خبر لائے جن میں بنی قریظہ بھی شریک تھے، لیکن سب خاموش رہے، اور اس مہم پر زبیر رضی اللہ عنہ گئے، اور ان کو سردی بھی نہ لگی، اور خبر لائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حملہ آوروں پر بارش اور ٹھنڈی ہوا بھیج دی ہے جس سے ان کے خیمے اکھڑ گئے، ہانڈیاں الٹ گئیں، اور لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے۔
122
Sahih
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ .
It was narrated that Zubair said: The Messenger of Allah named his parents together for me on the Day of Uhud.
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد ۱؎ کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا ۲؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۱۳ (۳۷۲۰)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۶ (۲۴۱۶)، سنن الترمذی/المناقب ۲۳ (۳۷۴۳)، (تحفة الأشراف: ۳۶۲۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۶۴، ۱۶۶)
Explanation
تخریج میں مذکورہ مراجع میں یہ ہے کہ واقعہ غزوہ احزاب خندق کا ہے، اس لئے احد کا ذکر یہاں خطا اور وہم کے قبیل سے ہے۔ ۲؎: یعنی کہا: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ، یہ زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں بہت بڑا اعزاز ہے، آگے حدیث میں یہ فضیلت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، لیکن وہاں پر علی رضی اللہ عنہ نے اس فضیلت کو صرف سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کر دیا ہے، اس میں تطبیق کی صورت اس طرح ہے کہ یہ علی رضی اللہ عنہ کے علم کے مطابق تھا، ورنہ صحیح احادیث میں یہ فضیلت دونوں کو حاصل ہے، واضح رہے کہ ابن ماجہ میں زبیر رضی اللہ عنہ کی یہ بات غزوہ احد کے موقع پر منقول ہوئی ہے، جب کہ دوسرے مراجع میں یہ غزوہ احزاب کی مناسبت سے ہے، اور آگے آ رہا ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے آپ ﷺ نے یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا تھا
123
Sahih
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَهَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ يَا عُرْوَةُ كَانَ أَبَوَاكَ مِنْ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ سورة آل عمران آية 172:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ .
It was narrated from Hisham bin 'Urwah that his father said: ''Aishah said to me: 'O 'Urwah, your two fathers were of those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammed) after being wounded, (they were) Abu Bakr and Zubair.''
عروہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عروہ! تمہارے نانا ( ابوبکر ) اور والد ( زبیر ) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح» جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا ( سورة آل عمران: 172 ) ، یعنی ابوبکر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۶۹۳۹)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ۱۶ (۴۰۷۷)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۶ (۲۴۱۸)، مسند احمد (۱/۱۶۴، ۱۶۶)
Explanation
پوری آیت یوں ہے: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد مآ أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم» یعنی: جن لوگوں نے زخمی ہونے کے بعد اللہ اور رسول کا کہنا مانا، جو لوگ ان میں نیک و صالح اور پرہیز گار ہوئے ان کو بڑا ثواب ہے (سورة آل عمران: 172)۔ اس آیت کا شان نزول امام بغوی نے یوں ذکر کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور کفار مکہ جنگ احد سے واپس لوٹے، اور مقام روحا میں پہنچے تو اپنے لوٹنے پر نادم و شرمندہ ہوئے اور ملامت کی، اور کہنے لگے کہ ہم نے محمد کو نہ قتل کیا، نہ ان کی عورتوں کو قید کیا، پھر ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ دوبارہ واپس چل کر مسلمانوں کا کام تمام کر دیا جائے، جب یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے اپنی طاقت کے اظہار کے لئے صحابہ کرام کی ایک جماعت اکٹھا کی، اور ابوسفیان اور کفار مکہ کے تعاقب میں روانہ ہونا چاہا، اور اعلان کر دیا کہ ہمارے ساتھ غزوہ احد کے شرکاء کے علاوہ اور کوئی نہ نکلے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی، نبی کریم ﷺ، ابوبکر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن الیمان، اور ابوعبیدہ بن جراح وغیرہم کی معیت میں ستر آدمیوں کو لے کر روانہ ہوئے، اور حمراء الأسد (مدینہ سے بارہ میل (۱۹ کلومیٹر) کے فاصلے پر ایک مقام) پر پہنچے، اس کے بعد بغوی رحمہ اللہ نے یہی روایت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے، غرض وہاں معبد خزاعی نامی ایک آدمی تھا جو نبی کریم ﷺ سے محبت رکھتا تھا، اور وہاں کے بعض لوگ ایمان لا چکے تھے تو معبد نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ہم کو آپ کے اصحاب کے زخمی ہونے کا بہت رنج ہوا،غرض وہ وہاں سے ابوسفیان کے پاس آیا، اور ان کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شجاعت کی خبر دی، ابوسفیان اور ان کے ساتھی اس خبر کو سن کر ٹھنڈے ہو گئے، اور مکہ واپس لوٹ گئے، غرض اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فضیلت میں یہ آیت نازل فرمائی
124
Sahih
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الصَّلْتُ الْأَزْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ طَلْحَةَ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ شَهِيدٌ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ .
It was narrated from Jabir that: Talhah passed by the Prophet and he said: A martyr walking upon the face of the earth.
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید ہیں جو روئے زمین پر چل رہے ہیں ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/المناقب ۲۲ (۳۷۳۹)، (تحفة الأشراف: ۳۱۰۳)
125
Zaeef
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ .
It was narrated that Mu'awiyah bin Abu Sufyan said: The Prophet looked at Talhah and said: 'This is one of those who fulfilled their covenant.'
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کر دیا ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/تفسیر القرآن ۳۴ (۳۲۰۲)، المناقب ۲۲ (۳۷۴۰)، (تحفة الأشراف: ۱۱۴۴۵)
126
Sahih
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ .
It was narrated that Musa bin Talhah said: We were with Mu'awiyah and he said: I heard the Messenger of Allah say: 'Talhah is one of those who fulfilled their covenant.'
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ۱؎۔
Takhreej
«انظر ماقبلہ
Explanation
پوری آیت یوں ہے: «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا» یعنی مومنوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس وعدے کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا سچ کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا، اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں، اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی (سورة الأحزاب: 23)۔
127
Sahih
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ .
It was narrated that Qais said: I saw the paralyzed hand of Talhah, with which he had defended the Messenger of Allah on the Day of Uhud.
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ( بیکار ) ہو گیا تھا، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی۔
Takhreej
«صحیح البخاری/ فضائل أصحاب ۱۴ (۳۷۲۴)، المغازي ۱۸ (۴۰۶۳)، (تحفة الأشراف: ۵۰۰۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۶۱)
128
Sahih
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ:‏‏‏‏ ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي .
It was narrated that 'Ali said: I never saw the Messenger of Allah mention his parents together for anyone except Sa'd bin Malik. He said to him on the Day of Uhud: 'Shoot, Sa'd! May my father and mother be sacrificed for you!'
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سعد! تم تیر چلاؤ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الجہاد ۸۰ (۲۹۰۵)، الأدب ۱۰۳ (۶۱۸۴)، المغازي ۱۸ (۴۰۵۸، ۴۰۵۹)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۵ (۲۴۱۱)، سنن الترمذی/المناقب ۲۷ (۳۷۵۵)، (تحفة الأشراف: ۱۰۱۹۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۹۲، ۱۲۴، ۱۳۷، ۱۵۸)
Explanation
یہ فضیلت غزوہ احزاب کے موقع پر زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، اور حدیث میں علی رضی اللہ عنہ نے جو بیان کی وہ ان کے اپنے علم کے مطابق ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (۱۲۳)
129
Sahih
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏ وَإِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي .
It was narrated that Sa'eed bin Musayyab said: I heard Sa'd bin Abu Waqqas say: 'The Messenger of Allah mentioned his parents together for me on the Day of Uhud. He said: 'Shoot, Sa'd! May my father and mother be sacrificed for you!'
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے غزوہ احد کے دن اپنے والدین کو جمع کیا، اور فرمایا: اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/فضائل أصحاب النبي ﷺ ۱۵ (۳۷۲۵)، المغازي ۱۸ (۴۰۵۵، ۴۰۵۶، ۴۰۵۷)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۵ (۲۴۱۱، ۲۴۱۲)، سنن الترمذی/الأدب ۶۱ (۲۸۳۰)، المناقب ۲۷ (۳۷۵۴)، (تحفة الأشراف: ۳۸۵۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۷۴، ۱۸۰)
130
Sahih
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏وَخَالِي يَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏ وَوَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ .
It was narrated that Qais said: I heard Sa'd bin Abu Waqqas say: 'I am the first of the Arabs to shoot an arrow in the cause of Allah.'
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں پہلا عربی شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا۔
Takhreej
«صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۱۵ (۳۷۲۸)، الرقاق ۱۷ (۶۴۵۳)، صحیح مسلم/الزھد ۱۲ (۲۹۶۶)، سنن الترمذی/الزھد ۳۹ (۲۳۶۵)، (تحفة الأشراف: ۳۹۱۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۷۴، ۱۸۱، ۱۸۶)، سنن الدارمی/الفرائض ۲ (۲۹۰۲)
131
Sahih
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ:‏‏‏‏ مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي لَثُلُثُ الْإِسْلَامِ .
It was narrated that Hashim bin Hashim said: I heard Sa'eed bin Musayyab say: 'Sa'd bin Abu Waqqas said: 'No one else became Muslim on the same day as I did; for seven days I was one-third of Islam.'
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن میں نے اسلام قبول کیا اس دن کسی نے اسلام نہ قبول کیا تھا، اور میں ( ابتدائی عہد میں ) سات دن تک مسلمانوں کا تیسرا شخص تھا ۱؎۔
Explanation
۱؎: یعنی سات دن تک کوئی اور مسلمان نہ ہوا، یعنی میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اسلام لانے میں پہل کی، یہ بات ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے۔
132
Sahih
عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ مَنِ التَّاسِعُ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا .
It was narrated that Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail said: The Messenger of Allah was one of the Ten (given glad tidings of Paradise). He said: 'Abu Bakr will be in Paradise; 'Umar will be in Paradise; 'Uthman will be in Paradise; 'Ali will be in Paradise; Talhah will be in Paradise; Zubair will be in Paradise; Sa'd will be in Paradise; 'Abdur-Rahman will be in Paradise. He was asked: 'Who will be the ninth?' He said: 'I will.'
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، عبدالرحمٰن جنت میں ہیں ، سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: نواں کون تھا؟ بولے: میں ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/السنة ۹ (۴۶۵۰)، (تحفة الأشراف: ۴۴۵۵)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المنا قب ۲۶ (۳۷۴۸)، ۲۸ (۳۷۵۷)، مسند احمد (۱/ ۱۸۷)
Explanation
اس حدیث میں اور آگے کی حدیث (جس میں مذکور ہے کہ دسویں آدمی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہیں) میں کوئی تعارض نہیں، اس لئے کہ یہ دونوں الگ الگ مجلس کی حدیثیں ہیں۔
133
Sahih
عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ اثْبُتْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ صِدِّيقٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ شَهِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَطَلْحَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالزُّبَيْرُ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعْدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ .
It was narrated that Sa'eed bin Zaid: 'I bear witness that I heard the Messenger of Allah say: 'Stand firm, O (mountain of) Hira', for there is no one upon you but a Prophet, a Siddiq or a martyr.' Then he listed them as follows: The Messenger of Allah, Abu Bakr, 'Umar, 'Uthman, 'Ali, Talhah, Zubair, Sa'd, Ibn 'Awf and Sa'eed bin Zaid.
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ٹھہر، اے حرا! ۱؎ ( وہ لرزنے لگا تھا ) تیرے اوپر سوائے نبی، صدیق اور شہید کے کوئی اور نہیں ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام گنوائے: ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن زید رضی اللہ عنہم۔
Takhreej
«سنن ابی داود/السنة ۹ (۴۶۴۸)، سنن الترمذی/المناقب ۲۶ (۳۷۴۷)، ۲۸ (۳۷۵۷)، (تحفة الأشراف: ۴۴۵۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/ ۱۸۸، ۱۸۹)
Explanation
«حرا» مکہ میں ا یک پہاڑ کانام ہے، جو نبی اکرم ﷺ کی آمد کی خوشی میں جھومنے لگا تو آپ ﷺ نے یہ فرمایا، اور جو فرمایا وہ ہو کر رہا، سوائے سعد رضی اللہ عنہ کے جن کا انتقال اپنے قصر میں ہوا، یا یہ کہ ان کا انتقال کسی ایسے مرض میں ہوا جس سے وہ شہادت کا درجہ پا گئے، آپ ﷺ نے تغلیبا سب کو شہید کہا۔
134
Sahih
ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ:‏‏‏‏ سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَشَوَّفَ لَهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ .
It was narrated from Hudhaifah that: The Messenger of Allah said to the people of Najran: I will send you a trustworthy man with you, who is indeed trustworthy. The people craned their necks to see, and he sent Abu 'Ubaidah bin Jarrah.
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو انتہائی درجہ امانت دار ہے ، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ اس امین شخص کی جانب گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح کو بھیجا۔
Takhreej
«صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۲۱ (۳۷۴۵)، المغازي ۷۳ (۴۳۸۰)، أخبار الأحاد ۱ (۷۲۵۴)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۷ (۲۴۲۰)، سنن الترمذی/المناقب ۳۳ (۳۷۹۶)، (تحفة الأشراف: ۳۳۵۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۴۱۴، ۴/۹۰، ۵/ ۳۸۵، ۳۹۸، ۴۴۰، ۴۰۱)
135
Sahih
ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ:‏‏‏‏ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
It was narrated from 'Abdullah that: The Messenger of Allah said to Abu 'Ubaidah bin Jarrah: This is the trustworthy man of this Ummah.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: یہ اس امت کے امین ہیں ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۹۳۱۶)، مسند احمد (۱/۱۸، ۴۱۴، ۲/۱۲۵، وانظر ما قبلہ)
136
Sahih
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ كُنْتُ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ .
It was narrated that 'Ali said: The Messenger of Allah said: 'If I were to appoint anyone as my successor without consulting anyone, I would have appointed Ibn Umm 'Abd.'
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو خلیفہ مقرر کرتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو مقرر کرتا ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/المناقب ۳۸ (۳۸۰۸، ۳۸۰۹)، (تحفة الأشراف: ۱۰۰۴۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۷۶، ۹۵، ۱۰۷، ۱۰۸)
137
Zaeef
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَعُمَرَ بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ .
It was narrated from 'Abdullah bin Mas'ud that: Abu Bakr and 'Umar gave him the glad tidings that the Messenger of Allah had said: Whoever would like to recite the Qur'an as fresh as when it was revealed, let him recite it like Ibn Umm 'Abd.'
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بشارت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص چاہتا ہو کہ قرآن کو بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کے ویسے ہی پڑھے جیسے نازل ہوا ہے تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کی قراءت کے مطابق پڑھے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۹۲۰۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۷، ۲۶، ۳۸)
Explanation
اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کی فضیلت معلوم ہوئی، اور ان کا طرز قراءت بھی معلوم ہوا۔
138
Sahih
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ .
It was narrated that 'Abdullah said: The Messenger of Allah said to me: 'The sign that you have been permitted to come in is that you raise the curtain and that you hear me speaking quietly, until I forbid you.' (i.e. unless I forbid you).
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/السلام ۶ (۲۱۶۹)، (تحفة الأشراف: ۹۳۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۸۸، ۳۹۴، ۴۰۴)
Explanation
اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہے، چونکہ وہ خادم خاص تھے، اور برابر شریک مجلس رہا کرتے تھے، بار بار اجازت طلب کرنے میں حرج تھا، اس لئے نبی اکرم ﷺ نے ان کو یہ مخصوص اجازت عطا فرمائی
139
Sahih
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَبْرَةَ النَّخَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَلْقَى النَّفَرَ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فَيَقْطَعُونَ حَدِيثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَحَدَّثُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَوْا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّهُمْ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِقَرَابَتِهِمْ مِنِّي .
It was narrated that 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib said: We used to come across groups of Quraish who would be talking, but they would stop talking (when we approached). We mentioned that to the Messenger of Allah and he said: 'What is the matter with people who talk, then when they see a man from my family they stop talking? By Allah, faith will not enter a person's heart until he loves them for the sake of Allah and because of their closeness to me.'
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش کے ( کچھ لوگوں کا حال یہ تھا ) جب ہم ان سے ملتے اور وہ باتیں کر رہے ہوتے تو ہمیں دیکھ کر وہ اپنی بات بند کر دیتے، ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور جب میرے اہل بیت میں سے کسی کو دیکھتے ہیں تو چپ ہو جاتے ہیں، اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک گھر نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ میرے اہل بیت سے اللہ کے واسطے اور ان کے ساتھ میری قرابت کی بناء پر محبت نہ کرے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۵۱۳۷، مصباح الزجاجة: ۵۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۶۵)
Explanation
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل بیت کی محبت ایمان کی نشانی ہے، اور محبت ان کی یہی ہے کہ ایمان و عمل میں ان کی روش پر چلا جائے، اور ان کا طریقہ اختیار کیا جائے، رضی اللہ عنہم۔
140
Zaeef

Chapters

45
01
اتباع سنت کا بیان
11 Hadith
02
حدیث نبوی کی تعظیم و توقیر اور مخالفین سنت کے لیے سخت گناہ کی وعید
11 Hadith
03
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط
7 Hadith
04
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ گھڑنے پر سخت گناہ (جہنم) کی وعید
8 Hadith
05
: جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔
4 Hadith
06
ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع
3 Hadith
07
: بدعات اور جدال (بے جا بحث و تکرار) سے اجتناب و پرہیز
7 Hadith
08
رائے اور قیاس سے اجتناب و پرہیز
5 Hadith
09
: ایمان کا بیان
19 Hadith
10
قضا و قدر (تقدیر) کا بیان
17 Hadith
11
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
9 Hadith
12
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
7 Hadith
13
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
5 Hadith
14
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
8 Hadith
15
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
3 Hadith
16
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
4 Hadith
17
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
4 Hadith
18
عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب
2 Hadith
19
ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
2 Hadith
20
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
3 Hadith
21
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
2 Hadith
22
علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل
4 Hadith
23
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
3 Hadith
24
سلمان، ابوذر اور مقداد رضی اللہ عنہم کے مناقب و فضائل۔
1 Hadith
25
بلال رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
3 Hadith
26
خباب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
3 Hadith
27
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
1 Hadith
28
سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
2 Hadith
29
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
1 Hadith
30
اہل بدر کے مناقب و فضائل۔
3 Hadith
31
انصار رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب۔
3 Hadith
32
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل
1 Hadith
33
خوارج کا بیان۔
10 Hadith
34
جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ
26 Hadith
35
(دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام
6 Hadith
36
مردہ سنت کو زندہ کرنے والے کا ثواب
2 Hadith
37
قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب
9 Hadith
38
علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب و تشویق
10 Hadith
39
علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل
7 Hadith
40
خیر کی کنجی والی شخصیت کا بیان
2 Hadith
41
لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب۔
5 Hadith
42
اس کا ذکر جس کو یہ ناپسند ہو کہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلیں
3 Hadith
43
طالبان علم کی وصیت
3 Hadith
44
علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان
11 Hadith
45
علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.

Turn any verse into a post or a reel

Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status — Arabic with English and Urdu translation, free on WizTools123.