حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْلُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: بَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي ثَوْبَكَ، وَالْبَسْ ثَوْبًا غَيْرَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا يُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ، وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى .
It was narrated that Lubabah bint Harith said:
Husain bin 'Ali urinated in the lap of the Prophet and I said: 'O Messenger of Allah, give me your garment and put on another garment.' He said: 'Water should be sprinkled on the urine of a baby boy, and the urine of a baby girl should be washed away.'
لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنا کپڑا دے دیجئیے اور دوسرا کپڑا پہن لیجئیے ( تاکہ میں اسے دھو دوں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ پانی چھڑکا جاتا ہے، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الطہارة ۱۳۷ (۳۷۵)، (تحفة الأشراف: ۱۸۰۵۵)، ویأتی عند المؤلف في تعبیر الرؤیا (۳۹۲۳)
Explanation
ابوداؤد کی ایک روایت میں «مالم يطعم» (جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے) کی قید ہے، اس لئے جو روایتیں مطلق ہیں مقید پر محمول کی جائیں گی، مؤلف نے ترجمۃ الباب میں «الصبى الذي لم يطعم» کہہ کر اسی جانب اشارہ کیا ہے۔ابوداؤد کی ایک روایت میں «مالم يطعم» (جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے) کی قید ہے، اس لئے جو روایتیں مطلق ہیں مقید پر محمول کی جائیں گی، مؤلف نے ترجمۃ الباب میں «الصبى الذي لم يطعم» کہہ کر اسی جانب اشارہ کیا ہے۔
522
Sahih