حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ: عِنْدَكَ طَهُورٌ ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا شَيْءٌ مِنْ نَبِيذٍ فِي إِدَاوَةٍ، قَالَ: تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ ، فَتَوَضَّأَ هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.
It was narrated from 'Abdullah bin Mas'ud that :
On the night of the jinn, the Messenger of Allah said to him: Do you have water for ablution? He said: No, I have nothing, but some Nabidh in a vessel. He said: Good dates and pure water (i.e. there is no harm from the mixing of the two). So he performed ablution with it. This is the narration of Waki'.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے «لیلۃالجن» ( جنوں سے ملاقات والی رات ) میں فرمایا: کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟ ، انہوں نے کہا: برتن میں تھوڑے سے نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی کا شربت ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ۱؎۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الطہارة ۴۲ (۸۴)، سنن الترمذی/الطہارة ۶۵ (۸۸)، (تحفة الأشراف: ۹۶۰۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۴۰۲، ۴۴۹، ۴۵۰، ۴۵۸)
Explanation
یہ حدیث اور بعد کی حدیث تمام محدثین کے نزدیک سخت ضعیف ہے، اور بقول امام طحاوی قابل استدلال نہیں، خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ «لیلۃ الجن» میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ تھے، لہذا نبیذ سے وضو درست نہیں، جمہور کا مذہب یہی ہے۔
384
Zaeef