حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا أَخْرَجَتْ جُبَّةً مُزَرَّرَةً بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ هَذِهِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ .
It was narrated from Abu ‘Umar, the freed slave of Asma’, from Asma’ bint Abi Bakr, that she brought out a cloak edged with brocade and said:
“The Prophet (ﷺ) used to wear this when he met the enemy.”
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ریشم کی گھنڈیاں لگا ہوا جبہ نکالا اور کہنے لگیں: دشمن سے مقابلہ کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے ۱؎۔
Takhreej
«صحیح مسلم/اللباس و الزینة ۲ (۲۰۶۹)، سنن ابی داود/اللباس ۱۲ (۴۰۵۴)، سنن النسائی/الکبری الزینة (۹۶۱۹)،(تحفة الأشراف:۱۵۷۲۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۴۷،۳۴۸،۳۵۳)، الأدب المفرد (۳۴۸)
Explanation
اکثر اہل علم کے نزدیک لڑائی میں ریشمی کپڑا پہننا جائز ہے کیونکہ تلوار ریشم کو مشکل سے کاٹتی ہے، حریر اور دیباج میں یہ فرق ہے کہ دیباج خالص ریشم ہوتا ہے اور حریر میں ریشم ملا ہوتا ہے۔
2819
Zaeef