TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مجاہدین کو امام اور حاکم کی وصیت

Chapter 38 of The chapters on jihad in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 38 of 46 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ الْحَارِثِ أَبُو رُوقٍ الْهَمْدَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو الْغَرِيفِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ خَلِيفَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سِيرُوا بِاسْمِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَمْثُلُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَغْدِرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَغُلُّوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا .
It was narrated that Safwan bin ‘Assil said: “The Messenger of Allah (ﷺ) sent us in a military detachment and said: ‘Go in the Name of Allah, and in the cause of Allah. Fight those who disbelieve in Allah. Do not mutilate, do not be treacherous, do not steal from the spoils of war, and do not kill children.’”
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوجی دستے میں بھیجا تو فرمایا: اللہ کے نام پر، اللہ کے راستے میں جاؤ، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑو، لیکن مثلہ نہ کرنا، ( ناک کان مت کاٹنا ) عہد شکنی نہ کرنا، مال غنیمت میں چوری نہ کرنا، اور بچے کو قتل نہ کرنا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۹۵۳، ومصباح الزجاجة:۱۰۱۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۴۰)
Explanation
دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے: اور نہ عورت کو نہ شیخ فانی کو قتل کرنا یعنی ایسے بوڑھے کو جو لڑائی کے قابل نہ رہا ہو۔
2857
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اغْزُوا وَلَا تَغْدِرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَمْثُلُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَنْتَ لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِلَالٍ أَوْ خِصَالٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَيَّتُهُنَّ أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَكُفَّ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَجَابُوكَ، ‏‏‏‏‏‏فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَكُفَّ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَبَوْا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ هُمْ أَبَوْا أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ فَسَلْهُمْ إِعْطَاءَ الْجِزْيَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ فَعَلُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَكُفَّ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ وَقَاتِلْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّكَ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَذِمَّةَ أَبِيكَ، ‏‏‏‏‏‏وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا ذِمَّتَكُمْ وَذِمَّةَ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ فِيهِمْ حُكْمَ اللَّهِ أَمْ لَا؟ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلْقَمَةُ:‏‏‏‏ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُقَاتِلَ بْنَ حَيَّانَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: “Whenever he appointed a man to lead a military detachment, the Messenger of Allah (ﷺ) would advise him especially to fear Allah and treat the Muslims with him well. He (ﷺ) said: ‘Fight in the Name of Allah and in the cause of Allah. Fight those how disbelieve in Allah. Fight but do not be treacherous, do not steal from the spoils of war, do not mutilate and do not kill children. When you meet your enemy from among the polytheists, call them to one of three things. Whichever of them they respond to, accept it from them and refrain from fighting them. Invite them to accept Islam, and if they respond then accept it from them and refrain from fighting them. Then invite them to leave their land and move to the land of the polytheists. Tell them that if they do that, then they will have the same rights and duties as the polytheists. If they refuse, then tell them that they will be like the Muslim Bedouins (who live in the desert), subject to the same rulings of Allah as the believers. But they will have no share of Fay’* or war spoils, unless they fight alongside the Muslims. If they refuse to enter Islam, then ask them to pay the Poll-tax. If they do that, then accept it from them and refrain from fighting them. But if they refuse, then seek the help of Allah against them and fight them. If you lay siege to them and they want you to give them the protection of Allah and your Prophet, do not give them the protection of Allah and your Prophet, rather give them your protection and the protection of your father and your Companions, for if you violate your protection and the protection of your fathers, that is easier than violating the protection of Allah and the protection of His Messenger. If you lay siege to them and they want you to let them come out with a promise of the judgement of Allah and His Messenger (ﷺ), do not offer them a promise of the judgement of Allah and His Messenger (ﷺ), rather offer them your judgement, because you do not know if you will actually pass (the same as) Allah’s judgement regarding them or not.’”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی فوجی دستے پر کسی شخص کو امیر متعین فرماتے تو اسے ذاتی طور پر اللہ سے ڈرتے رہنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتے، اور فرماتے: اللہ کے راستے میں اللہ کا نام لے کر لڑنا، جو اللہ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑنا، اور بدعہدی نہ کرنا، ( مال غنیمت میں ) خیانت نہ کرنا، مثلہ نہ کرنا، اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا، جب مشرکوں میں سے اپنے دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو انہیں تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دینا، ان میں سے جس بات پر وہ راضی ہو جائیں اسے قبول کرنا، اور ان سے جنگ سے رک جانا ( سب سے پہلے ) انہیں اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ قبول کر لیں تو ان کا اسلام قبول کرنا، اور ان کے قتل سے باز رہنا، پھر انہیں گھربار چھوڑ کر مہاجرین کے ساتھ رہنے کی دعوت دینا، اور انہیں بتانا کہ اگر وہ ایسا گریں گے تو انہیں مہاجرین جیسے حقوق حاصل ہوں گے، اور جرم و سزا کا جو قانون مہاجرین کے لیے ہے وہی ان کے لیے بھی ہو گا، اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو انہیں بتانا کہ ان کا حکم اعرابی ( دیہاتی ) مسلمانوں جیسا ہو گا، اللہ تعالیٰ کے جو احکام مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں ان پر بھی جاری ہوں گے، لیکن مال غنیمت میں اور اس مال میں جو کافروں سے جنگ کے بغیر ہاتھ آ جائے، ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا، مگر اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اگر وہ اسلام میں داخل ہونے سے انکار کریں، تو ان سے جزیہ دینے کا مطالبہ کرنا، اگر وہ جزیہ دیں تو ان سے قبول کرنا، اور ان سے اپنا ہاتھ روک لینا، اور اگر وہ انکار کریں تو ( کامیابی کے لیے ) اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا، اور ان سے جنگ کرنا، اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کر لو اور قلعہ والے تم سے اللہ اور نبی کا عہد کرانا چاہیں تو اللہ اور نبی کا عہد مت دینا، بلکہ اپنا، اپنے باپ کا، اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دینا، کیونکہ تم اپنا اور اپنے باپ کا ذمہ اللہ اور رسول کے ذمہ کے مقابلے میں آسانی سے توڑ سکتے ہو، اگر تم نے کسی قلعے کا محاصرہ کر لیا، اور وہ اللہ کے حکم پر اترنا چاہیں تو انہیں اللہ کے حکم پہ مت اتارنا، بلکہ اپنے حکم پہ اتارنا کیونکہ تمہیں کیا معلوم کہ ان کے بارے میں تم اللہ کے حکم پر چل رہے ہو یا نہیں ۱؎۔ علقمہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے بیان کی، انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم بن ہیضم نے بیان کی، مسلم نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الجہاد ۲ (۱۷۳۱)، سنن ابی داود/الجہاد ۹۰ (۲۶۱۲،۲۶۱۳)، سنن الترمذی/السیر ۴۸ (۱۶۱۷)،(تحفة الأشراف:۱۹۲۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۵۲،۳۵۸)، سنن الدارمی/السیر ۵ (۲۴۸۳)
Explanation
امام نووی کہتے ہیں: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ فئی اور غنیمت میں دیہات کے مسلمانوں کا حصہ نہیں جو اسلام لانے کے بعد اپنے ہی وطن میں رہے، بشرطیکہ وہ جہاد میں شریک نہ ہوں، دوسرے یہ کہ ہر ایک کافر سے جزیہ لینا جائز ہے عربی ہو یا عجمی، کتابی ہو یا غیر کتابی۔
2858
Sahih

Chapters

46
01
اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت
2 Hadith
02
اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت
3 Hadith
03
مجاہد کو سامان جہاد فراہم کرنے کی فضیلت
2 Hadith
04
اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
2 Hadith
05
جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان
2 Hadith
06
جو شخص عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
07
اللہ کے راستے میں مورچہ بندی کی فضیلت
3 Hadith
08
اللہ کی راہ میں پہرہ داری اور تکبیر کی فضیلت
3 Hadith
09
عام اعلان جہاد کے وقت فوراً نکلنے کا بیان
4 Hadith
10
سمندری جہاد کی فضیلت
3 Hadith
11
دیلم کا ذکر اور قزوین کی فضیلت
2 Hadith
12
ماں باپ کی زندگی میں جہاد کرنے کا حکم
2 Hadith
13
جہاد کی نیت کا بیان
3 Hadith
14
اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑے رکھنے کا ثواب
6 Hadith
15
اللہ کی راہ میں لڑنے کا ثواب
6 Hadith
16
اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت
5 Hadith
17
شہادت کی انواع و اقسام کا بیان
2 Hadith
18
اسلحہ کا بیان
6 Hadith
19
اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان
5 Hadith
20
(جنگ میں) بڑے اور چھوٹے جھنڈوں کے استعمال کا بیان
3 Hadith
21
جنگ میں حریر و دیبا (ریشمی کپڑوں) کے پہننے کا بیان
2 Hadith
22
جنگ میں عمامہ (پگڑی) پہننے کا بیان۔
2 Hadith
23
جنگ میں خرید و فروخت کا بیان
1 Hadith
24
غازیوں کو الوداع کہنے (رخصت کرنے) کا بیان
3 Hadith
25
سریہ (فوجی دستوں) کا بیان
3 Hadith
26
کفار و مشرکین کی ہانڈیوں (برتنوں) میں کھانے کا بیان
2 Hadith
27
جنگ میں کفار و مشرکین سے مدد لینے کا بیان
1 Hadith
28
جنگ میں دھوکہ اور فریب کا بیان۔
2 Hadith
29
دشمن کو دعوت مبارزت دینے (مقابلے کے لیے للکارنے) اور سامان جنگ لوٹنے کا بیان
4 Hadith
30
دشمن پر حملہ کرنے، شبخون (رات میں چھاپہ) مارنے، ان کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے احکام کا بیان
4 Hadith
31
دشمن کی سر زمین کو آگ لگانے کا بیان
3 Hadith
32
(جنگی) قیدیوں کو فدیہ میں دینے کا بیان
1 Hadith
33
دشمن نے مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لیا پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے اور وہی مال ان کے ہاتھ لگ گیا تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
34
مال غنیمت میں خیانت اور چوری کا بیان۔
3 Hadith
35
مال غنیمت میں سے ہبہ کرنے کا بیان۔
3 Hadith
36
مال غنیمت کی تقسیم کا بیان
1 Hadith
37
مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں غلام اور عورتوں کی شرکت
2 Hadith
38
مجاہدین کو امام اور حاکم کی وصیت
2 Hadith
39
امام کی اطاعت و فرماں برداری کا بیان
4 Hadith
40
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
41
بیعت کا بیان
4 Hadith
42
بیعت پوری کرنے کا بیان
4 Hadith
43
عورتوں کی بیعت کا بیان
2 Hadith
44
گھوڑ دوڑ میں مقابلہ کا بیان
3 Hadith
45
دشمن کے ملک میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت
2 Hadith
46
(مال غنیمت میں سے) خمس کی تقسیم کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.