TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بیعت کا بیان

Chapter 41 of The chapters on jihad in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 41 of 46 · 4 Hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏ وَابْنُ عَجْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَثَرَةِ عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ نَقُولَ الْحَقَّ حَيْثُمَا كُنَّا، ‏‏‏‏‏‏لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ .
It was narrated that ‘Ubadah bin Samit said: “We gave our pledge to the Messenger of Allah (ﷺ), pledging to listen and obey in times of hardship and times of ease, willingly or reluctantly, and when others are shown preference over us, and that we would not dispute the order of those in charge, that we would speak the truth wherever we are, and that we would not fear the blame of anyone when acting or speaking for the sake of Allah.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی اور فراخی، خوشی و ناخوشی، اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کی حالت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، نیز اس بات پر بیعت کی کہ حکمرانوں سے نہ جھگڑیں، اور جہاں بھی ہوں حق بات کہیں، اور اللہ کے سلسلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الفتن ۲ (۷۰۵۶)، الأحکام ۴۳ (۷۱۹۹،۷۲۰۰)، صحیح مسلم/الإمارة ۸ (۱۷۰۹)، سنن النسائی/البیعة ۱ (۴۱۵۴،۴۱۵۵)،(تحفة الأشراف:۵۱۱۸)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد۱ (۵)، مسند احمد (۴/۳۱۴،۳۱۸،۳۱۹،۳۲۱،۳۲۵)
Explanation
یعنی جس بات میں اللہ کی خوشی ہو یعنی ثواب اور عبادت کے کام میں کسی کی بدگوئی سے ہم کو ڈر نہ ہو، یہ مومنین کاملین کی شان ہے کہ وہ سنت پر چلنے میں کسی سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی جاہلوں اور اہل بدعت کے غلط پروپگنڈہ سے متاثر ہوتے ہیں، جاہل اور بدعتی حدیث سے محبت رکھنے اور ان پر عمل کرنے والوں کو برے القاب اور خطابات سے پکارتے اور انہیں طرح طرح سے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب یہ محبان رسول نماز میں زورسے آمین، رفع یدین اور امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی قرأت کرتے ہیں، تو جاہل مقلد اور بدعتی ان کو لا مذہب کہتے ہیں اور جب شرک کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، اور غیر اللہ کے پکارنے یا ماسوا اللہ کی عبادت کرنے یا مدد مانگنے سے خود رکتے ہیں اور دوسروں کو روکتے ہیں، تو یہ لوگ انہیں وہابی کے نام سے بدنام کرتے ہیں، اور جب یہ محبان رسول، اللہ تعالیٰ کی صفات جیسے استواء علی العرش، ضحک، (ہنسنا) نزول (آسمان دنیا پر اترنا) وغیرہ وغیرہ ثابت کرتے ہیں تو یہ انہیں مشبہہ کہتے ہیں، اور جب ید (ہاتھ)، وجہ (چہرہ)، عین (آنکھ)، قدم، صوت (آواز) جیسی صفات کا اثبات کرتے ہیں تو وہ انہیں مجسمہ کا لقب دیتے ہیں، لیکن ان سب تہمتوں سے حق پرستوں کو کوئی ڈر نہیں، اور وہ جاہلوں اور بدعتیوں کی عیب جوئی، اور گالی گلوج اور غلط پروپگنڈے سے ڈرتے اور گھبراتے نہیں بلکہ بلا کھٹکے احادیث صحیحہ پر عمل کرتے ہیں، اس حدیث میں آپ ﷺ نے صبر و ثبات پر اور شرع کی اطاعت اور حاکم کی اطاعت پر بیعت لی۔
2866
Sahih
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ أَمَّا هُوَ إِلَيَّ فَحَبِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ ، ‏‏‏‏‏‏فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَائِلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏وَتُقِيمُوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا وَأَسَرَّ كَلِمَةً خُفْيَةً، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ.
‘Awf bin Malik Al-Ashja’i said: “We were with the Prophet (ﷺ) – seven or eight or nine of us – and he said: ‘Will you not give pledge to the Messenger of Allah?’ So we stretched forth our hands and someone said: ‘O Messenger of Allah, we have already given you our pledge. On what basis shall we give this pledge?’ He said: ‘(On the basis that) you will worship Allah and not associate anything with Him, you will establish the five daily prayers, you will listen and obey’ – then he spoke some words under his breath – ‘and you will not ask the people for anything.’ He said: ‘I saw some of that group. If he dropped his whip he would not ask anyone to pick it up for him.’”
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم سات یا آٹھ یا نو آدمی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے ؟ ہم نے بیعت کے لیے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے ( بیعت کرنے کے بعد ) ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت تو کر چکے لیکن یہ کس بات پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کرو، حکم سنو اور مانو ، پھر ایک بات چپکے سے فرمائی: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو ، راوی کا بیان ہے کہ ( اس بات کا ان لوگوں پر اتنا اثر ہوا کہ ) میں نے ان میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا بھی گر جاتا تو کسی سے یہ نہ کہتا کہ کوڑا اٹھا کر مجھے دو ۱؎۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الزکاة ۳۵ (۱۰۴۳)، سنن ابی داود/الزکاة ۲۷ (۱۶۴۲)، سنن النسائی/الصلاة ۵ (۴۶۱)،(تحفة الأشراف:۱۰۹۱۹)
Explanation
یہ بات عادت میں داخل ہے کہ جب آدمی گھوڑے یا کسی دوسری سواری پر ہو اور اس کا کوڑا گر پڑے تو کسی سے بھی کہتا ہے کہ بھائی ذرا میرا کوڑا اٹھا دو، اور ہر ایک راہ چلتا یہ کام کر دیتا ہے، بلکہ اگر کوئی نہ کرے تو لوگ اس کو برا کہیں گے، مگر ان لوگوں نے جن کو آپ ﷺ نے بیعت میں یہ فرمایا تھا کہ کسی سے کچھ مت مانگنا، اتنا کام بھی اپنا کسی اور سے کرانا گوارا نہ کیا، یہ بہت بڑا مرتبہ ہے کہ آدمی سوا اپنے مالک کے کسی سے درخواست نہ کرے، نہ کسی سے کچھ مانگے اور چونکہ یہ کام بہت مشکل تھا اور ہر ایک شخص اس کو نہیں کر سکتا تھا، لہذا آپ ﷺ نے آہستہ سے اس کو فرمایا۔
2867
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَتَّابٍ مَوْلَى هُرْمُزَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ .
It was narrated that ‘Attab, the freed slave of Hurmuz, said: “I heard Anas bin Malik say: ‘We gave our pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) on the basis that we would listen and obey. He (ﷺ) said: “As much as you can.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، تو آپ نے فرمایا: جہاں تک تم سے ہو سکے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۸۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۱۹،۱۷۲،۱۸۵)
Explanation
سبحان اللہ، آپ ﷺ ماں باپ سے زیادہ اپنی امت پر مہربان تھے، آپﷺ نے فرمایا: جہاں تک تم سے ہو سکے تاکہ وہ لوگ جھوٹے نہ ہوں جب کسی ایسی بات کا ان کو حکم دیا جائے جو ان کی طاقت سے خارج ہو۔
2868
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَشْعُرِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِعْنِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَسْأَلَهُ:‏‏‏‏ أَعَبْدٌ هُوَ؟.
It was narrated that Jabir said: “A slave came and gave his pledge to the Prophet (ﷺ), pledging to emigrate, and the Prophet (ﷺ) did not realize that he was a slave. Then his master came looking for him, and the Prophet (ﷺ) said: ‘Sell him to me,’ and he brought him in exchange for two black slaves. Then after that he did not accept the pledge from anyone until he had asked whether he was a slave.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے غلام ہونے کا معلوم ہی نہ ہوا، چنانچہ اس کا مالک جب اسے لینے کے مقصد سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ غلام مجھے بیچ دو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد کسی سے بھی یہ معلوم کئے بغیر بیعت نہیں کرتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے؟۔
Takhreej
«صحیح مسلم/المساقاة ۲۳ (۱۶۰۲)، سنن ابی داود/البیوع ۱۷ (۳۳۵۸مختصرا)، سنن الترمذی/البیوع ۲۲ (۱۲۳۹)، السیر ۳۶ (۱۵۹۶)، سنن النسائی/البیعة ۲۱ (۴۱۸۹)، البیوع ۶۴ (۴۶۲۵)،(تحفة الأشراف:۲۹۰۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۴۹،۳۷۲)
2869
Sahih

Chapters

46
01
اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت
2 Hadith
02
اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت
3 Hadith
03
مجاہد کو سامان جہاد فراہم کرنے کی فضیلت
2 Hadith
04
اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
2 Hadith
05
جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان
2 Hadith
06
جو شخص عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
07
اللہ کے راستے میں مورچہ بندی کی فضیلت
3 Hadith
08
اللہ کی راہ میں پہرہ داری اور تکبیر کی فضیلت
3 Hadith
09
عام اعلان جہاد کے وقت فوراً نکلنے کا بیان
4 Hadith
10
سمندری جہاد کی فضیلت
3 Hadith
11
دیلم کا ذکر اور قزوین کی فضیلت
2 Hadith
12
ماں باپ کی زندگی میں جہاد کرنے کا حکم
2 Hadith
13
جہاد کی نیت کا بیان
3 Hadith
14
اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑے رکھنے کا ثواب
6 Hadith
15
اللہ کی راہ میں لڑنے کا ثواب
6 Hadith
16
اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت
5 Hadith
17
شہادت کی انواع و اقسام کا بیان
2 Hadith
18
اسلحہ کا بیان
6 Hadith
19
اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان
5 Hadith
20
(جنگ میں) بڑے اور چھوٹے جھنڈوں کے استعمال کا بیان
3 Hadith
21
جنگ میں حریر و دیبا (ریشمی کپڑوں) کے پہننے کا بیان
2 Hadith
22
جنگ میں عمامہ (پگڑی) پہننے کا بیان۔
2 Hadith
23
جنگ میں خرید و فروخت کا بیان
1 Hadith
24
غازیوں کو الوداع کہنے (رخصت کرنے) کا بیان
3 Hadith
25
سریہ (فوجی دستوں) کا بیان
3 Hadith
26
کفار و مشرکین کی ہانڈیوں (برتنوں) میں کھانے کا بیان
2 Hadith
27
جنگ میں کفار و مشرکین سے مدد لینے کا بیان
1 Hadith
28
جنگ میں دھوکہ اور فریب کا بیان۔
2 Hadith
29
دشمن کو دعوت مبارزت دینے (مقابلے کے لیے للکارنے) اور سامان جنگ لوٹنے کا بیان
4 Hadith
30
دشمن پر حملہ کرنے، شبخون (رات میں چھاپہ) مارنے، ان کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے احکام کا بیان
4 Hadith
31
دشمن کی سر زمین کو آگ لگانے کا بیان
3 Hadith
32
(جنگی) قیدیوں کو فدیہ میں دینے کا بیان
1 Hadith
33
دشمن نے مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لیا پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے اور وہی مال ان کے ہاتھ لگ گیا تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
34
مال غنیمت میں خیانت اور چوری کا بیان۔
3 Hadith
35
مال غنیمت میں سے ہبہ کرنے کا بیان۔
3 Hadith
36
مال غنیمت کی تقسیم کا بیان
1 Hadith
37
مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں غلام اور عورتوں کی شرکت
2 Hadith
38
مجاہدین کو امام اور حاکم کی وصیت
2 Hadith
39
امام کی اطاعت و فرماں برداری کا بیان
4 Hadith
40
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
41
بیعت کا بیان
4 Hadith
42
بیعت پوری کرنے کا بیان
4 Hadith
43
عورتوں کی بیعت کا بیان
2 Hadith
44
گھوڑ دوڑ میں مقابلہ کا بیان
3 Hadith
45
دشمن کے ملک میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت
2 Hadith
46
(مال غنیمت میں سے) خمس کی تقسیم کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.