It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“For every traitor a banner will be set up on the Day of Resurrection, commensurate with his treachery.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے اس کی دغا بازی کے بقدر ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۳۶۸، ومصباح الزجاجة:۱۰۱۴)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجہاد ۴ (۱۷۳۸)، سنن الترمذی/الفتن ۲۶ (۲۱۹۱)
Muhammad bin Munkadir said that he heard Umaimah bint Ruqaiqah say:
“I came to the Prophet (ﷺ) with some other women, to offer our pledge to him. He said to us: ‘(I accept your pledge) with regard to what you are able to do. But I do not shake hands with women.’”
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے آئی، تو آپ نے ہم سے فرمایا: ( امام کی بات سنو اور مانو ) جہاں تک تمہارے اندر طاقت و قوت ہو، میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا ۱؎۔
Takhreej
«سنن الترمذی/السیر ۳۷ (۱۰۹۷)، سنن النسائی/البیعة ۱۸ (۴۱۸۶)،(تحفة الأشراف:۱۵۷۸۱)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیعة ۱ (۲)مسند احمد (۵/۳۲۳،۶/۳۵۷)
Explanation
جب نبی معصوم ﷺ نے غیر عورتوں سے ہاتھ نہیں ملایا تو پیروں اور مرشدوں کے لیے کیونکر جائز ہو گا کہ وہ غیر عورتوں سے ہاتھ ملائیں یا محرم کی طرح بے حجاب ہو کر ان سے خلوت کریں، اور جو کوئی پیر اس زمانہ میں ایسی حرکت کرتا ہے، تو یقین جان لیں کہ وہ شیطان کا مرید ہے۔
‘Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) said:
“When the believing women emigrated to the Messenger of Allah (ﷺ), they would be tested in accordance with Allah’s saying: ‘O Prophet! When believing women come to you to give you the pledge...’”[60:12]
‘Aishah said: “Whoever among the believing women affirmed this, passed the test. When they affirmed that, the Messenger of Allah (ﷺ) would say to them: ‘Go, for you have given your pledge.’ No, by Allah! The hand of the Messenger of Allah (ﷺ) never touched the hand of any woman, rather he accepted their pledge in words only.” ‘Aishah said: “By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) did not demand of women (in their pledge) anything other than that which Allah had commanded, and the hand of the Messenger of Allah (ﷺ) never touched the hand of a woman. He would say to them, when he had accepted their pledge: ‘You have given your pledge,’ verbally.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مومن عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آتیں تو اللہ تعالیٰ کے فرمان: «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» ( سورة الممتحنة: 12 ) اے نبی! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی چوری نہ کریں گی، زناکاری نہ کریں گی، اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں گی، اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی، جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بےحکمی نہ کریں گی، تو آپ ان سے بیعت کر لیا کریں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے اور معاف کرنے والا ہے کی رو سے ان کا امتحان لیا جاتا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مومن عورتوں میں سے جو اس آیت کے مطابق اقرار کرتی وہ امتحان میں پوری اتر جاتی، عورتیں اپنی زبان سے جب اس کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: جاؤ میں نے تم سے بیعت لے لی ہے اللہ کی قسم، رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہرگز کسی عورت کے ہاتھ سے کبھی نہیں لگا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں سے بیعت لیتے تو صرف زبان سے اتنا کہتے: میں نے تم سے بیعت لے لی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف وہی عہد لیا جس کا حکم آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہتھیلی نے کبھی کسی ( نامحرم ) عورت کی ہتھیلی کو مس نہ کیا، آپ ان سے عہد لیتے وقت یہ فرماتے: میں نے تم سے بیعت لے لی صرف زبانی یہ کہتے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever enters a horse (in a race) between two other horses, not knowing whether it will win, that is not gambling. But whoever enters a horse (in race) between two other horses, certain that it will win, that is gambling.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دو گھوڑوں کے مابین ایک گھوڑا داخل کیا، اور اسے جیتنے کا یقین نہیں تو یہ جوا نہیں ہے، لیکن جس شخص نے دو گھوڑوں کے مابین ایک گھوڑا داخل کیا، اور اسے جیتنے کا یقین ہے تو یہ جوا ہے ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الجہاد ۴۹ (۲۵۷۹)،(تحفة الأشراف:۱۳۱۲۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۵۰۵)
It was narrated that Ibn ‘Umar said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) made a horse lean, and he would send the horse that he had made lean from Hafya’ to Thaniyyatul-Wada’, and (he would send) the horse that he had not made lean from Thaniyyatul-Wada’ to the mosque of Banu Zuraiq.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کو پھرتیلا بنایا، آپ پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کو مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک اور غیر پھرتیلے گھوڑوں کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑاتے تھے ۱؎۔
«تضمیر» (پھرتیلا بنانا) یہ ہے کہ گھوڑے کو پہلے خوب کھلایا جائے یہاں تک کہ موٹا ہو جائے، پھر اس کا چار ہ آہستہ آہستہ کم کر دیا جائے، اور اسے ایک کوٹھری میں بند کر کے اس پر جھول ڈال دی جائے تاکہ گرم ہو اور اسے خوب پسینہ آ جائے، ایسا کرنے سے گھوڑا سبک اور تیز رفتار ہو جاتا ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“There should be no prizes for racing except races with camels and horses.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسابقت ( آگے بڑھنے ) کی شرط گھوڑے اور اونٹ کے علاوہ کسی میں جائز نہیں ۱؎۔
Takhreej
«سنن النسائی/الخیل ۱۳ (۳۶۱۵)،(تحفة الأشراف:۱۴۸۷۷)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد ۶۷ (۲۵۷۴)، سنن الترمذی/الجہاد ۲۲ (۱۷۰۰)، مسند احمد (۲/۲۵۶،۳۵۸،۴۲۵،۴۷۴)
Explanation
ترمذی اور ابوداود کی روایت میں «أو نصل» (یا تیر میں) زیادہ ہے،مطلب یہ ہے کہ ان تینوں میں آگے بڑھنے کی شرط لگانا اور جیتنے پر مال لینا جائز ہے، تیر میں یہ شرط ہے کہ کس کا دور جاتا ہے، علامہ طیبی کہتے ہیں کہ گدھے اور خچر بھی گھوڑے کی طرح ہیں، ان میں بھی شرط درست ہو گی، لیکن حدیث میں یہ تین چیزیں مذکور ہیں: «نصل» یعنی تیر، «خف» یعنی اونٹ، «حافر» یعنی گھوڑا، ایک شخص نے حدیث میں اپنی طرف سے یہ بڑھا دیا «أو جناح» یعنی پرندہ اڑانے میں شرط لگانا درست ہے جیسے کبوتر باز کیا کرتے ہیں اور یہ لفظ اس وقت روایت کیا جب ایک عباسی خلیفہ کبوتر بازی کر رہا تھا، یہ شخص خلیفہ کے پاس گیا اور اس کا دل خوش کرنے اور کبوتر بازی کو جائز کرنے کی خاطر حدیث میں یہ لفظ اپنی طرف سے بڑھا دیا اور اللہ کا خوف بالکل نہ کیا، اللہ تعالیٰ ائمہ حدیث کو جزائے خیر دے اگر وہ محنت کر کے صحیح حدیثوں کو جھوٹی اور ضعیف حدیثوں سے الگ نہ کرتے تو دین برباد ہو جاتا، حدیث سے یہ اہتمام اس امت سے خاص ہے، اگلی امتوں والے کتاب الہی کی بھی اچھی طرح حفاظت نہ کر سکے حدیث کا کیا ذکر «ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم» (سورة الجمعة: 4)۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade traveling with the Qur’an to the land of the enemy, lest the enemy gets hold of it.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت اس خطرے کے پیش نظر فرمائی کہ کہیں اسے دشمن پا نہ لیں ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الجہاد ۱۲۹ (۲۹۹۰)، صحیح مسلم/الإمارة ۲۴ (۱۸۶۹)، سنن ابی داود/الجہاد ۸۸ (۲۶۱۰)،(تحفة الأشراف:۸۳۴۷)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد ۲ (۷)، مسند احمد (۲/۶،۷،۱۰،۵۵،۶۳،۷۶،۱۲۸)
Explanation
اور اس کو ضائع کر دیں یا اس کی اہانت اور بے حرمتی کریں، ممکن ہے کہ یہ ممانعت نبی کریم ﷺ کے عہد سے خاص ہو جب مصحف کے نسخے بہت کم تھے، اور اکثر ایسا تھا کہ مصحف کی بعض آیتیں یا بعض سورتیں خاص خاص لوگوں کے پاس تھیں اور پورا مصحف کسی کے پاس نہ تھا تو آپ ﷺ کو یہ ڈر ہوا کہ کہیں یہ مصحف تلف ہو جائیں اور قرآن کا کوئی جزء مسلمانوں سے بالکل اٹھ جائے، لیکن اس زمانہ میں جب قرآن مجید کے لاکھوں نسخے چھپے موجود ہیں اور قرآن کے ہزاروں بلکہ لاکھوں حفاظ موجود ہیں، یہ اندیشہ بالکل نہیں رہا، جب کہ قرآن کریم کی اہانت اور بے حرمتی کا اندیشہ اب بھی باقی ہے، سبحان اللہ، اگلی امتوں میں سے کسی بھی امت میں ایک شخص بھی ایسا نہیں ملتا تھا جو پوری تورات یا انجیل کا حافظ ہو، اب مسلمانوں میں ہر بستی میں سینکڑوں حافظ موجود ہیں، یہ فضیلت بھی اللہ تعالی نے اسی امت کو دی ہے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) used to forbid traveling with the Qur’an to the land of the enemy, lest the enemy gets hold of it.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے سے منع فرماتے تھے، کیونکہ یہ خطرہ ہے کہ کہیں دشمن اسے پا نہ لیں ۱؎۔
It was narrated from Sa’eed bin Musayyab that Jubair bin Mut’im told him that he and ‘Uthman bin ‘Affan came to the Messenger of Allah (ﷺ) to speak to him about the way in which the one fifth from Khaibar had been distributed to Banu Hashim and Banu Muttalib. They said:
“You have distributed it to our brothers Banu Hashim and Banu Muttalib, but we are related to you (to Banu Hashim) in the same way (as Banu Muttalib).” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Rather I think that Banu Hashim and Banu Muttalib are the same.”*
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور خیبر کے خمس مال میں سے جو حصہ آپ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا اس کے بارے میں گفتگو کرنے لگے، چنانچہ انہوں نے کہا: آپ نے ہمارے بھائی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو تو دے دیا، جب کہ ہماری اور بنی مطلب کی قرابت بنی ہاشم سے یکساں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کو ایک ہی سمجھتا ہوں ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الخمس ۱۷ (۳۱۴۰)، المناقب ۲ (۳۵۰۲)، المغازي ۳۹ (۴۲۲۹)، سنن ابی داود/الخراج ۲۰ ۲۹۷۸،۲۹۸۹)، سنن النسائی/قسم الفئی ۱ (۴۱۴۱)،(تحفة الأشراف:۳۱۸۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۸۱،۸۳،۸۵)
Explanation
عبد مناف کے چار بیٹے تھے: ہاشم، مطلب، نوفل اور عبد شمس، جبیر نوفل کی اولاد میں سے تھے اور عثمان عبد شمس کی اولاد میں سے، تو نبی کریم ﷺ نے ذوی القربی کا حصہ ہاشم اور مطلب کو دیا، اس وقت ان دونوں نے اعتراض کیا کہ بنی ہاشم کی فضیلت کا تو ہمیں انکار نہیں کیونکہ آپ ﷺ بنی ہاشم کی اولاد میں سے ہیں، لیکن بنی مطلب کو ہمارے اوپر ترجیح کی کوئی وجہ نہیں، ہماری اور ان کی قرابت آپ ﷺ سے یکساں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: سچ یہی ہے لیکن بنی مطلب ہمیشہ یہاں تک کہ جاہلیت کے زمانہ میں بھی بنی ہاشم کے ساتھ رہے تو وہ اور بنی ہاشم ایک ہی ہیں، برخلاف بنی امیہ کے یعنی عبدشمس کی اولاد کے کیونکہ امیہ عبد شمس کا بیٹا تھا جس کی اولاد میں عثمان اور معاویہ اور تمام بنی امیہ تھے کہ ان میں اور بنی ہاشم میں کبھی اتفاق نہیں رہا، اور جب قریش نے قسم کھائی تھی کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ میل جول رکھیں گے جب تک وہ نبی کریم ﷺ کو ہمارے حوالہ نہ کر دیں، اس وقت بھی بنی مطلب اور بنی ہاشم ساتھ ہی رہے، پس اس لحاظ سے آپ ﷺ نے ذوی القربی کا حصہ دونوں کو دلایا۔
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for
YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status —
Arabic with English and Urdu translation, free on
WizTools123.