It was narrated that Miqdam Abu Karimah said:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: ' Putting up a guest for one night is obligatory. If you find a guest at your door in the morning, then this (hospitality) is (like) a debt that you (the host) owe him. If he (the guest) wants, he may request it, and if he wants, he may leave it'
مقدام ابوکریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کے یہاں رات کو کوئی مہمان آئے تو اس رات اس مہمان کی ضیافت کرنی واجب ہے، اور اگر وہ صبح تک میزبان کے مکان پر رہے تو یہ مہمان نوازی میزبان کے اوپر مہمان کا ایک قرض ہے، اب مہمان کی مرضی ہے چاہے اپنا قرض وصول کرے، چاہے چھوڑ دے ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الأطعمة ۵ (۳۷۵۰)،(تحفة الأشراف:۱۱۵۶۸)
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
O Allah, bear witness that I have issued a warning concerning (failure to fulfill) the rights of the two weak ones: Orphans and women.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں ایک یتیم اور ایک عورت کا حق مارنے کو حرام قرار دیتا ہوں ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۰۴۷، ومصباح الزجاجة:۱۲۸۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۴۳۹)
Explanation
بیوہ اور یتیم دونوں کا مال کھا جانا اور اس میں الٹ پھیر کرنا سخت گناہ ہے، اگرچہ اور کسی کا مال کھا جانا حرام اور گناہ ہے، مگر ان دونوں کا مال ناجائز طور پر کھانا نہایت سخت گناہ ہے، اس لئے کہ یہ دونوں ناتواں اور کمزور ہیں، روزی کمانے کی ان میں قدرت نہیں ہے، تو ان کو اور دینا چاہیے نہ کہ انہی کا مال لے لینا، بہت بدبخت ہیں وہ لوگ جو یتیم اور بیوہ کا مال ناحق کھا لیں۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
The best house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated well. And the worst house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated badly.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ( پرورش پاتا ) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۹۰۹، ومصباح الزجاجة:۲۸۲)
It was narrated from `Abdullah bin `Abbas that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
Whoever raises three orphans, is like the one who spends his nights in prayer and fasts during the day, and goes out morning and evening drawing his sword in the cause of Allah. In Paradise, he and I will be brothers like these two sisters,'and he held up his forefinger and middle finger together.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین یتیموں کی پرورش کی تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ رات میں تہجد پڑھتا رہا، دن میں روزے رکھتا رہا، اور صبح و شام تلوار لے کر جہاد کرتا رہا، میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہو کر رہیں گے جیسے یہ دونوں بہنیں ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملایا ( اور دکھایا ) ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۸۸۰، ومصباح الزجاجة:۱۲۸۳)
It was narrated that Abu Barzah Al-Aslami said:
O Messenger of Allah! Tell me of an action by which I may benefit.' He said: 'Remove harmful things from the path of the Muslims.'
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے میں فائدہ اٹھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۵۹۴، ومصباح الزجاجة:۱۲۸۴)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة ۳۶ (۲۶۱۸)، مسند احمد (۴/۴۲۰،۴۲۲،۴۲۳)
Explanation
جیسے کانٹا اور کوڑا کرکٹ وغیرہ، اگر راستہ میں گڑھا ہو تو اس کو برابر کر دے یا اس پر روک لگا دے تاکہ کوئی آدمی اندھیرے میں اس میں گر نہ جائے، مفید عام کاموں کے ثواب میں یہ حدیث اصل ہے جیسے سڑک کا بنانا، سڑک پر روشنی کرنا، سرا ئے بنانا، کنواں بنانا، یہ سب اعمال اس قسم کے ہیں۔
It was narrated from Abu Hurayrah that the Prophet(ﷺ) said:
There was a branch of a tree that annoyed the people. A man removed it, so he was admitted to Paradise.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستے میں ایک درخت کی شاخ ( ٹہنی ) پڑی ہوئی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک شخص نے اسے ہٹا دیا ( تاکہ مسافروں اور گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو ) اسی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۴۳۲)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ۳۲ (۶۵۲)، المظالم ۲۸ (۲۴۷۲)، صحیح مسلم/البر الصلة ۳۶ (۱۹۱۴)، الإمارة ۵۱ (۱۹۱۴)، سنن ابی داود/الأدب ۱۷۲ (۵۲۴۵)، سنن الترمذی/البر والصلة ۳۸ (۱۹۵۸)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ۲ (۶)، مسند احمد (۲/۴۹۵)
It was narrated from Abu Dharr that the Prophet(ﷺ) said:
My nation was shown to me with their good deeds and bad deeds. Among their good deeds I saw a harmful thing being removed from the road. And among their bad deeds I saw sputum in the mosque that had not been removed.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۹۹۲)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ۱۳ (۵۵۳)، مسند احمد (۵/۱۷۸)
It was narrated that Sad bin Ubadah said:
I said: 'O Messenger of Allah, what charity is best?' He said: 'Giving water to drink.'
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پلانا ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الزکاة ۴۱ (۱۶۷۹،۱۶۸۰)، سنن النسائی/الوصایا ۸ (۳۶۹۴)،(تحفة الأشراف:۳۸۳۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۸۵،۶/۷)
Explanation
جہاں پر لوگوں کو پانی کی حاجت ہو، وہاں سبیل لگانا، یا کنواں یا حوض بنا دینا، اسی طرح جہاں جس چیز کی ضرورت ہو، وہاں اسی کا صدقہ افضل ہو گا، حاصل یہ کہ اللہ تعالی کی مخلوق کو راحت پہنچانے سے زیادہ ثواب کسی چیز میں نہیں، یہاں تک کہ جانوروں کو راحت پہنچانے میں بڑا اجر ہے۔
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
On the Day of Resurrection, people will be lined up in rows, (one of the narrators) Ibn NUmair said: i.e., the people of Paradise, and a man from among the people of Hell will pass by a man (from the people of Paradise) and say: 'O so and so! Do you not remember the day when you asked for water and I gave you water to drink? So he will intercede for him. And another man will come and say: Do you not remember the day when I gave you water with which to purify yourself? and he will intercede for him. (In his narration, one of the narrators) Ibn NUmair said: And he will remember the day when you sent me to do such and such for you, and I went and did it for you?' and he will intercede for him.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کی صف بندی ہو گی ( ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ اہل جنت کی صف بندی ہو گی ) پھر ایک جہنمی ایک جنتی کے پاس گزرے گا اور اس سے کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن تم نے پانی مانگا تھا اور میں نے تم کو ایک گھونٹ پانی پلایا تھا؟ ( وہ کہے گا: ہاں، یاد ہے ) وہ جنتی اس بات پر اس کی سفارش کرے گا، پھر دوسرا جہنمی ادھر سے گزرے گا، اور اہل جنت میں سے ایک شخص سے کہے گا: تمہیں یاد نہیں کہ میں نے ایک دن تمہیں طہارت و وضو کے لیے پانی دیا تھا؟ تو وہ بھی اس کی سفارش کرے گا۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ وہ شخص کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ تم نے مجھے فلاں اور فلاں کام کے لیے بھیجا تھا، اور میں نے اسے پورا کیا تھا؟ تو وہ اس بات پر اس کی سفارش کرے گا۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۶۸۷، ومصباح الزجاجة:۱۲۸۶)
It was narrated that Suraqah bin Ju'shum said:
I asked the Messenger of Allah(ﷺ) about a lost camel that comes to my cisterns that I have prepared for my own camels - will I be rewarded if I give it some water to drink? He said: Yes, in every living being there is reward.'
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹوں کے متعلق پوچھا کہ وہ میرے حوض پر آتے ہیں جس کو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے تیار کیا ہے، اگر میں ان اونٹوں کو پانی پینے دوں تو کیا اس کا بھی اجر مجھے ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ہر کلیجہ والے جانور کے جس کو پیاس لگتی ہے، پانی پلانے میں ثواب ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۸۲۰، ومصباح الزجاجة:۱۲۸۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۷۵)
It was narrated from Jarir bin Abdullah Al-Bajali that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
Whoever is deprived of gentleness, he is deprived of goodness.
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نرمی ( کی خصلت ) سے محروم کر دیا جاتا ہے، وہ ہر بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/البر والصلة ۲۳ (۱۵۹۲)، سنن ابی داود/الأدب ۱۱ (۴۸۰۹)،(تحفة الأشراف:۳۲۱۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۶۲،۳۶۶)
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
Allah is Gentle and loves gentleness, and He grants reward for it that He does not grant for harshness.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ مہربان ہے، اور مہربانی اور نرمی کرنے کو پسند فرماتا ہے، اور نرمی پر وہ ثواب دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۴۹۱، ومصباح الزجاجة:۱۲۸۸)
Explanation
نرمی یہ ہے کہ اپنے نوکروں، خادموں، بال بچوں اور دوستوں سے آہستگی اور لطف و مہربانی کے ساتھ گفتگو کرے، ان پر غصہ نہ ہو جیسے نبی اکرم ﷺ کا حال تھا کہ انس رضی اللہ عنہ نے آپ کی دس برس خدمت کی لیکن آپ ﷺ نے کبھی نہ ان کو سخت لفظ کہا، نہ گھورا، نہ جھڑکا۔
It was narrated from Aishah that the Prophet(ﷺ) said:
Allah is Gentle and loves gentleness in all things.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور سارے کاموں میں نرمی کو پسند کرتا ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۶۵۲۷)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ۳۵ (۶۰۲۴)، الاستئذان ۲۰ (۶۲۵۴)، الدعوات ۵۷ (۶۳۹۱)، صحیح مسلم/السلام ۴ (۲۱۶۵)، البر والصلة ۲۳ (۲۵۹۳)، سنن الترمذی/الاستئذان ۱۲ (۲۷۰۱)، مسند احمد (۶/۸۵)، سنن الدارمی/الرقاق ۷۵ (۲۸۳۶)
It was narrated that Abu Dhar said:
The Messenger of Allah said: '(Slaves are) your brothers whom Allah has put under your control, so feed them with the same food that you eat, clothe them with the same clothes you wear, and do not burden them with so much that htey are overwhelmed; if you do burden them, then help them.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ( حقیقت میں لونڈی اور غلام ) تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کیا ہے، اس لیے جو تم کھاتے ہو وہ انہیں بھی کھلاؤ، اور جو تم پہنتے ہو وہ انہیں بھی پہناؤ، اور انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان کی قوت و طاقت سے باہر ہو، اور اگر کبھی ایسا کام ان پر ڈالو تو تم بھی اس میں شریک رہ کر ان کی مدد کرو ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الإیمان ۲۲ (۳۰)، صحیح مسلم/الأیمان ۱۰ (۱۶۶۱)، سنن ابی داود/الأدب ۱۳۳ (۵۱۵۸)، سنن الترمذی/البر والصلة ۲۹ (۱۹۴۵)،(تحفة الأشراف:۱۱۹۸۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۱۵۸،۱۶۱،۱۷۳)
It was narrated from Abu Bakr Siddiq(RA) that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
No person who mistreats his slave will enter Paradise. They said: O Messenger of Allah, did you not tell us that this nation will have more slaves and orphans than any other nation? He said: Yes, so be as kind to them as you are to your own children, and feed them with the same food that you eat. They said: What will benefit us in this world? He said: A horse that is kept ready for fighting in the cause of Allah, and your slave to take care of you, and if he performs prayer, then he is your brother(in Islam).
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدخلق شخص جو اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ بدخلقی سے پیش آتا ہو، جنت میں داخل نہ ہو گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت کے اکثر افراد غلام اور یتیم ہوں گے؟ ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ لیکن تم ان کی ایسی ہی عزت و تکریم کرو جیسی اپنی اولاد کی کرتے ہو، اور ان کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو ، پھر لوگوں نے عرض کیا: ہمارے لیے دنیا میں کون سی چیز نفع بخش ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: گھوڑا جسے تم جہاد کے لیے باندھ کر رکھتے ہو، پھر اس پر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہو ( اس کی جگہ ) تمہارا غلام تمہارے لیے کافی ہے، اور جب نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۶۱۸)، ومصباح الزجاجة:۱۲۸۹)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة ۲۹ (۱۹۴۶ مختصراً)، مسند احمد (۱/۱۲)
It was narrated from Abu Hurairah(RA) that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
By the One in Whose Hand is my soul, you will not enter Paradise until you believe, and you will not believe until you love one another. Shall I not tell you of something which, if you do it, you will love one another? Spread (the greeting of) peace among yourselves.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم مومن نہ بن جاؤ، اور اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے ہو جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے ( وہ یہ کہ ) آپس میں سلام کو عام کرو اور پھیلاؤ ۔
Takhreej
«حدیث أبي معاویة تقد م تخریجہ في السنة برقم:(۶۸)، حدیث عبداللہ بن نمیر تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۴۳۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد۲/۳۹۱،۴۹۵)
It was narrated that Abu Umamah said:
Our Prophet(ﷺ) commanded us to spread (the greeting of) peace.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سلام کو عام کریں اور پھیلائیں ۱؎۔
Takhreej
«تفردبہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۹۲۸، ومصباح الزجاجة:۱۲۹۰)
Explanation
یعنی آپس میں جب ایک دوسرے سے ملو تو السلام علیکم کہو خواہ اس سے تعارف ہو یا نہ ہو، تعارف کا سب سے پہلا ذریعہ سلام ہے، اور محبت کی کنجی ہے، اور ہر مسلمان کو ضروری ہے کہ جب دوسرے مسلمان سے ملے تو اس کے سلام کا منتظر نہ رہے بلکہ خود پہلے سلام کرے خواہ وہ ادنی ہو یا اعلی یا ہمسر، کمال ایمان کا یہی تعارف ہے۔
It was narrated from Abdullah bin 'Amr that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
Worship the Most Merciful and spread (the greeting of) peace.'
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، اور سلام کو عام کرو ۱؎۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الأطعمة ۴۵ (۱۸۵۵)،(تحفة الأشراف:۸۶۴۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۷۰،۱۹۶)، سنن الدارمی/الأطعمة ۳۹ (۲۱۲۶)
Explanation
عمار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جس نے تین باتیں کیں اس نے ایمان اکٹھا کر لیا: ایک تو اپنے نفس سے انصاف، دوسرے ہر شخص کو سلام کرنا، تیسرے تنگی کے وقت خرچ کرنا۔ (صحیح بخاری تعلیقاً)
It was narrated from Abu Hurairah that:
a man entered the masjid, and the Messenger of Allah(ﷺ) was sitting in a corner of the mosque. He prayed, then he came and greeted him with Salam(peace), and he said: 'Wa 'alaikassalm.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وعلیک السلام» ( اور تم پر بھی سلامتی ہو ) ۔
It was narrated from Abu Salamah that 'Aishah told him that the Messenger of Allah(ﷺ) said to her:
Jibrail send (greetings of) Salam to you. She said: Wa 'alahisalam wa rahmatullah (and upon him be peace and mercy of Allah).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں ( یہ سن کر ) انہوں نے جواب میں کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» ( اور ان پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو ) ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/بدء الخلق ۶ (۳۲۱۷)، فضائل الصحابة ۳۰ (۳۷۶۸)، الأدب ۱۱۱ (۶۲۰۱)، الإستئذان ۱۶ (۶۲۴۹)،۱۹ (۶۲۵۳)، صحیح مسلم/فضائل ۱۳ (۲۴۴۷)، سنن الترمذی/الإستئذان ۵ (۲۶۹۳)، سنن ابی داود/الآدب ۱۶۶ (۵۲۳۲)، سنن النسائی/عشرة النساء ۳ (۳۴۰۵)،(تحفة الأشراف:۱۷۷۲۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۴۶،۱۵۰،۲۰۸،۲۲۴)، سنن الدارمی/الاستئذان ۱۰ (۲۶۸۰)
Explanation
اس حدیث میں غائبانہ سلام کے جواب دینے کے طریقے کا بیان ہے کہ جواب میں «وعلیکم» کے بجائے «علیہ السلام» ضمیر غائب کے ساتھ کہا جائے، یہاں اس حدیث سے ام المؤمنین عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کی عظمت شان بھی معلوم ہوئی کہ سیدالملائکہ جبریل علیہ السلام نے ان کو سلام پیش کیا۔
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for
YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status —
Arabic with English and Urdu translation, free on
WizTools123.