It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet(ﷺ) said:
When one of you gets up from his spot, then comes back, he has more right to it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر چلا جائے، پھر واپس آئے تو وہ اپنی جگہ ( پر بیٹھنے ) کا زیادہ حقدار ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۶۲۱، ومصباح الزجاجة:۱۲۹۸)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ۱۲ (۲۱۷۹)، سنن ابی داود/الأدب ۳۰ (۴۸۵۳)، مسند احمد (۲/۳۴۲،۵۲۷)، سنن الدارمی/الإستئذان ۲۵ (۲۶۹۶)
It was narrated from Jawdan that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
If a man makes an excuse to his bother and he does not accept it, he will bear a burden of sin like that of the tax-collector.
جوذان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی سے معذرت کرے، اور پھر وہ اسے قبول نہ کرے تو اسے اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا محصول ( ٹیکس ) وصول کرنے والے کو اس کی خطا پر ہوتا ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۲۷۱، ومصباح الزجاجة:۱۲۹۹)
It was narrated that Umm Salamah said:
Abu Bakr went out to trade in Busra, one year before the Prophet (ﷺ) died, and with him were Nu`aiman and Suwaibit the sons of Harmalah, who had been present at Badr. Nu`aiman was in charge of the provisions, and Suwaibit was a man who joked a lot. He said to Nu`aiman: 'Feed me'. He said: 'Not until Abu Bakr comes'. He said: 'Then I will have to annoy you'. Then they passed by some people, and Suwaibit said to them: 'Will you buy a slave from me?' They said: 'Yes'. He said 'He is a slave who talks a lot and he will tell you, I am a free man . If you are going to let him go when he says that to you, do not bother buying him.' They said: 'We will buy him from you.' So they bought him from him in return for ten young she-camels, then they brought him and tied a turban or a rope around his neck. Nu`aiman said: 'This man is making fun of you. I am a free man, not a slave.' They said: 'He has already told us about you; and they took him off.' Then Abu Bakr came and he (Suwaibit) told him about that. So he followed those people and returned their camels to them, and took Nu`aiman back. When they came to the Prophet (ﷺ) they told him what had happened, and the Prophet (ﷺ) and his companions laughed about it for a year.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال پہلے بصریٰ تجارت کے لیے گئے، ان کے ساتھ نعیمان اور سویبط بن حرملہ ( رضی اللہ عنہما ) بھی تھے، یہ دونوں بدری صحابی ہیں، نعیمان رضی اللہ عنہ کھانے پینے کی چیزوں پر متعین تھے، سویبط رضی اللہ عنہ ایک پر مذاق آدمی تھے، انہوں نے نعیمان رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے کھانا کھلاؤ، نعیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آنے دیجئیے، سویبط رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں غصہ دلا کر پریشان کروں گا، پھر وہ لوگ ایک قوم کے پاس سے گزرے تو سویبط رضی اللہ عنہ نے اس قوم کے لوگوں سے کہا: تم مجھ سے میرے ایک غلام کو خریدو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، سویبط رضی اللہ عنہ کہنے لگے: وہ ایک باتونی غلام ہے وہ یہی کہتا رہے گا کہ میں آزاد ہوں، تم اس کی باتوں میں آ کر اسے چھوڑ نہ دینا، ورنہ میرا غلام خراب ہو جائے گا، انہوں نے جواب دیا: وہ غلام ہم تم سے خرید لیں گے، الغرض ان لوگوں نے دس اونٹنیوں کے عوض وہ غلام خرید لیا، پھر وہ لوگ نعیمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان کی گردن میں عمامہ باندھا یا رسی ڈالی تو نعیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے ( یعنی سویبط نے ) تم سے مذاق کیا ہے، میں تو آزاد ہوں، غلام نہیں ہوں، لوگوں نے کہا: یہ تمہاری عادت ہے، وہ پہلے ہی بتا چکا ہے ( کہ تم باتونی ہو ) ، الغرض وہ انہیں پکڑ کر لے گئے، اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو لوگوں نے انہیں اس واقعے کی اطلاع دی، وہ اس قوم کے پاس گئے اور ان کے اونٹ دے کر نعیمان کو چھڑا لائے، پھر جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( مدینہ ) آئے تو آپ اور آپ کے صحابہ سال بھر اس واقعے پر ہنستے رہے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۸۱۸۹، ومصباح الزجاجة:۱۳۰۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۳۱۶)
It was narrated that Abu Taiyah said:
I heard Anas Bin Malik say: The Messenger of Allah (ﷺ) used to mix with us so much that he said to a little brother of mine: O Abu `Umair, what happened to the Nughair (one of the narrators Waki` said that it means a bird that he used to play with).
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں سے ( یعنی بچوں سے ) میل جول رکھتے تھے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: «يا أبا عمير ما فعل النغير» اے ابوعمیر! تمہارا وہ «نغیر» ( پرندہ ) کیا ہوا؟ وکیع نے کہا «نغیر» سے مراد وہ پرندہ ہے جس سے ابوعمیر کھیلا کرتے تھے
Takhreej
«صحیح البخاری/الأدب ۸۱ (۶۱۲۹)، صحیح مسلم/الآداب ۵ (۲۱۵۰)، سنن ابی داود/الصلاة ۹۲ (۶۵۸)، سنن الترمذی/الصلاة ۱۳۱ (۳۳۳)،(تحفة الأشراف:۱۶۹۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۱۹،۱۷۱،۱۹۰،۲۱۲،۲۷۰)
It was narrated from 'Amr bin Sh'uaib from his father, that his grandfather said:
The Messenger of Allah(ﷺ) forbade plucking out white hairs and said: 'It is the light of the believer.'
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بال اکھیڑنے سے منع فرمایا، اور فرمایا کہ وہ مومن کا نور ہے ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الأدب ۵۹ (۲۸۲۱)،(تحفة الأشراف:۸۷۸۳)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الترجل ۱۷ (۴۲۰۲)، سنن النسائی/الزینة ۱۳ (۵۰۷۱)، مسند احمد (۲/۲۰۶،۲۰۷،۲۱۲)
It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that the Prophet(ﷺ) :
forbade sitting between the shade and sun.
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوپ اور سایہ کے درمیان میں بیٹھنے سے منع کیا ہے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۹۸۸، ومصباح الزجاجة:۱۳۰۲)
Explanation
یعنی اس طرح بیٹھنے سے کہ بدن کا ایک حصہ دھوپ میں رہے، اور ایک حصے پر سایہ، اس لئے کہ یہ امر طبی طور پر مضر ہے اور بیماری پیدا کرتا ہے، اور یہ ممانعت بھی تنزیہی ہے، نہ کہ تحریمی
It was narrated from Qais bin Tihfah Al-Ghifari that his father said:
The Messenger of Allah(ﷺ) found me sleeping in the masjid on my stomach. He nudged me with his foot and said: 'Why are you sleeping like this? This is a kind of sleep that Allah dislikes,' or 'that Allah hates.'
طخفہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسجد میں پیٹ کے بل ( اوندھے منہ ) سویا ہوا پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے ہلا کر فرمایا: تم اس طرح کیوں سو رہے ہو؟ یہ سونا اللہ کو ناپسند ہے ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الأدب ۱۰۳ (۵۰۴۰)،(تحفة الأشراف:۴۹۹۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۲۹)
It was narrated that Abu Dharr said:
The Prophet(ﷺ) passed by me and I was lying on my stomach. He nudged me with his foot and said: 'O Junaidib! This is how the people of Hell lie.'
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اس حال میں کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیر سے ہلا کر فرمایا: «جنيدب»! ( یہ ابوذر کا نام ہے ) سونے کا یہ انداز تو جہنمیوں کا ہے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۹۲۶، ومصباح الزجاجة:۱۳۰۳)
Explanation
پیٹ کے بل سونے میں جہنمیوں کی مشابہت ہے، قرآن میں ہے: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر» (سورة القمر: 48) یعنی اوندھے منہ جہنم میں کھینچے جائیں گے، یہ بھی ایک ممانعت کی وجہ ہے۔
It was narrated that Abu Umamah said:
The Prophet(ﷺ) passed by a man who was sleeping in the masjid, lying on his face. He struck him with his foot and said: 'Get up' or; 'Sit up, fo this is a hellish kind of sleep.'
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جو اوندھے منہ مسجد میں سو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیر سے ہلا کر فرمایا: اٹھ کر بیٹھو، اس طرح سونا جہنمیوں کا سونا ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۹۱۳، ومصباح الزجاجة:۱۳۰۴)
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
Whoever learns about the stars, he learns a branch of magic; the more he learns (of the former) the more he learns (of the latter).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم نجوم میں سے کچھ حاصل کیا، اس نے سحر ( جادو ) کا ایک حصہ حاصل کر لیا، اب جتنا زیادہ حاصل کرے گا گویا اتنا ہی زیادہ جادو حاصل کیا ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الطب ۲۲ (۳۹۰۵)،(تحفة الأشراف:۶۵۵۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۲۷،۳۱۱)
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
Do not curse the wind, for it is from the mercy of Allah, bringing Rahmah (i.e., rain and breezes), or destruction. But ask Allah for its goodness, and seek refuge with Allah from its evil.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ہوا کو برا نہ کہو، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے، وہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الأدب ۱۱۳ (۵۰۹۷)،(تحفة الأشراف:۱۲۲۳۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۵۰،۲۶۷،۴۰۹،۴۳۶،۵۱۸)
Explanation
اس معنی سے کہ انسان اور حیوان کی زندگی ہوا پر موقوف ہے، ان حیوانوں کی جو ہوائی ہیں اور بعض حیوان مائی ہیں، ان کی زندگی پانی پر موقوف ہے، اب بعض امتوں پر جو ہوا سے عذاب ہوا یہ اس کے خلاف نہیں ہے کیونکہ ہر ایک رحمت کی چیز جب اعتدال سے زیادہ ہو تو عذاب ہو جاتی ہے جیسے پانی وہ بھی رحمت ہے لیکن نوح علیہ السلام کی قوم کے لئے اور فرعون اور اس کی قوم کے لئے عذاب تھا۔ اور ابھی ماضی قریب میں سونامی کی لہروں سے جو تباہی دنیا نے دیکھی اس سے ہم سب کو عبرت ہونی چاہئے۔
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet(ﷺ) said:
The most beloved of names to Allah are 'Abdullah and 'Abdur-Rahman.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الآداب ۱ (۲۱۳۲)، سنن الترمذی/الأدب ۴۶ (۲۸۳۴)،(تحفة الأشراف:۷۷۲۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۴)، سنن الدارمی/ الاستئذان ۶۰ (۲۳۳۷)
Explanation
ان ناموں کے پسندیدہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں اللہ کی عبودیت کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دوسرے ناموں کے ساتھ بھی عبد یا عبید لگا کر نام رکھا جا سکتا ہے۔ انبیائے کرام علیہ السلام کے ناموں پر نام رکھنا بھی درست ہے۔
It was narrated from 'Umar ibn Al-Khattab that the Prophet(ﷺ) said:
If I live- if Allah wills - I will forbid the names Rabah(profit), Najih(saved), Aflah (Successful), Nafi (beneficial) and Yasar(prosperity).
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ «رباح» ( نفع ) ، «نجیح» ( کامیاب ) ، «افلح» ( کامیاب ) ، «نافع» ( فائدہ دینے والا ) اور «یسار» ( آسانی ) ، نام رکھنے سے منع کر دوں گا ۱؎۔
ایک حدیث میں اس ممانعت کی یہ حکمت بیان کی گئی ہے کیونکہ تو کہے گا: کیا وہ یہاں موجود ہے؟ وہ نہیں ہو گا تو (جواب دینے والا) کہے گا نہیں۔ (صحیح مسلم) مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی پوچھے کہ گھر میں نافع ہے اور جواب میں کہا جائے کہ موجود نہیں۔ گویا آپ نے یہ کہا کہ گھر میں فائدہ دینے والا کوئی شخص موجود نہیں، سب نکمے ہیں۔ اگرچہ متکلم کا مقصد یہ نہیں ہو گا، تاہم ظاہری طور پر ایک نامناسب بات بنتی ہے، لہذا ایسے نام رکھنا مکروہ ہے لیکن حرام نہیں
It was narrated that Samurah said:
The Messenger of Allah(ﷺ) forbade giving our slaves four names: Aflah (successful), Nafi' (beneficial), Rabah (profit) and Yasar(prosperity).
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے غلاموں کے چار نام رکھنے سے منع فرمایا ہے: «افلح»، «نافع»، «رباح» اور«یسار» ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الأداب ۲ (۲۱۳۶)، سنن ابی داود/الأدب ۷۰ (۴۹۵۸،۴۹۵۹)، سنن الترمذی/الأدب ۶۵ (۲۸۳۶)،(تحفة الأشراف:۴۶۱۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۷،۱۰،۱۲،۲۱)، سنن الدارمی/الاستئذان ۶۱ (۲۷۳۸)
It was narrated that Masruq said:
I met 'Umar bin Khattab and he said: 'Who are you?' I said: 'Masruq bin Adja'.' 'Umar said: 'I heard the Messenger of Allah(ﷺ) saying, Ajda' is a devil.
مسروق کہتے ہیں کہ میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا: میں مسروق بن اجدع ہوں، ( یہ سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اجدع ایک شیطان ہے ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الأدب ۷۰ (۴۹۵۷)،(تحفة الأشراف:۱۰۶۴۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۱)
It was narrated from Abu Hurairah that:
Zainab used to be called Barrah (good), and it was said that she was praising herself. So the Messenger of Allah(ﷺ) changed her name to Zainab.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں زینب کا نام بّرہ تھا ( یعنی نیک بخت اور صالحہ ) لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ اپنی تعریف آپ کرتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الأدب ۱۰۸ (۶۱۹۲)، صحیح مسلم/الآداب ۳ (۲۱۴۱)،(تحفة الأشراف:۱۴۶۶۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۴۳۰،۴۵۹)، سنن الدارمی/الاستئذان ۶۲ (۲۷۴۰)
Explanation
ام المؤمنین جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی پہلے برّہ تھا تو آپ ﷺ نے ان کانام بدل کر جویریہ رکھا، یہ رسول اکر م ﷺ کی سنت ہے اور ہر شخص کو لازم ہے کہ اگر والدین یا خاندان والوں نے جہالت سے بچپن میں کوئی برا نام رکھ دیا ہو تو جب بڑا ہو اور عقل آئے تو وہ نام بدل ڈالے۔
It was narrated from Ibn Umar that:
a daughter of 'Umar was Asiyah(disobedient) then the Messenger of Allah(ﷺ) named her 'Jamilah' (beautiful).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا ( یعنی گنہگار، نافرمان ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الآداب ۳ (۲۱۳۹)،(تحفة الأشراف:۷۸۷۶)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ۷۰ (۴۹۵۲)، سنن الترمذی/الأدب ۶۶ (۲۸۳۸)، سنن الدارمی/الاستئذان۶۲ (۲۷۳۹)
It was narrated that Abdullah bin Salam said:
I came to the Messenger of Allah(ﷺ), and my name was not Abdullah bin Salam. The Messenger of Allah(ﷺ) named me Abdullah bin Salam.
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرا نام اس وقت عبداللہ بن سلام نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی میرا نام عبداللہ بن سلام رکھا۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۳۴۵، ومصباح الزجاجة:۱۳۰۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۵،۵/۸۳،۴۵۱)
It was narrated from Muhammad that they heard Abu Hurairah say:
Abul Qasim(ﷺ) said: 'Call yourselves by my name but do not call yourselves by my Kunyah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ۔