TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْأمان امان دینے کا بیان

Chapter 6 of جہاد کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 11 · 8 Hadith
عَن أم هَانِئ بنت أَي طالبٍ قالتْ: ذهبتُ إِلى رسولِ الله عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ» فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانَ بْنَ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أم هَانِئ» قَالَت أُمَّ هَانِئٍ وَذَلِكَ ضُحًى. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: قَالَتْ: أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قد أمنا من أمنت»
ام ہانی بنت ابی طالب ؓ بیان کرتی ہیں ، میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا جبکہ آپ کی بیٹی فاطمہ ایک کپڑے سے آپ کو پردہ کیے ہوئے تھیں ، میں نے سلام عرض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کون ہے ۔‘‘ میں نے (خود) عرض کیا : میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ام ہانی کے لیے خوش آمدید ۔‘‘ جب آپ ﷺ غسل سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے ، اور ایک کپڑے میں لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ماں کے بیٹے علی ارادہ رکھتے ہیں ، کہ وہ ایک شخص فلان بن ہبیرہ کو قتل کر دیں جبکہ میں نے اس کو پناہ دی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ام ہانی ! تم نے جسے پناہ دی ، ہم نے بھی اسے پناہ دی ۔‘‘ ام ہانی بیان کرتی ہیں : یہ چاشت کا وقت تھا ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے : وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے خاوند کے رشتہ داروں میں سے دو آدمیوں کو امان دی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے جسے امان دی ، ہم نے بھی اسے امان دی ۔‘‘ متفق علیہ و الترمذی ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۱۷۱) و مسلم (۸۲ / ۳۳۶) و الترمذی (۱۵۷۹) ۔
3977
Sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَأْخُذُ لِلْقَوْمِ» يَعْنِي تُجيرُ على الْمُسلمين. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک عورت ، قوم کفار کو مسلمانوں کی طرف سے پناہ دے سکتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۵۷۹ وقال : حسن غریب) ۔
3978
Sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «من أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقَيَامَةِ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
عمرو بن حمق ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے کسی شخص کو جان کی امان دی اور پھر اسے قتل کر دیا تو روزِ قیامت اسے عہد شکنی کا پرچم دیا جائے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۱ / ۹۱ ح ۲۷۱۷) [و ابن ماجہ (۲۶۸۸) و احمد (۵ / ۲۲۳ ۔ ۲۲۴)] ۔
3979
Sahih
وَعَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَهْدٌ وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ أَغَارَ عَلَيْهِمْ فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ أَوْ بِرْذَوْنٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لَا غدر فَنظر فَإِذا هُوَ عَمْرو ابْن عَبَسَةَ فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يَحُلَّنَّ عَهْدًا وَلَا يَشُدَّنَّهُ حَتَّى يُمْضِيَ أَمَدَهُ أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ» . قَالَ: فَرَجَعَ مُعَاوِيَة بِالنَّاسِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
سلیم بن عامر ؒ بیان کرتے ہیں ، معاویہ ؓ اور رومیوں کے درمیان عہد تھا ، معاویہ ؓ ان کے شہروں کی طرف سفر جاری رکھتے حتی کہ جب مدتِ معاہدہ پوری ہو جاتی تو آپ ان پر حملہ کر دیتے ، ایک آدمی گھوڑے یا ترکی گھوڑے پر یہ کہتا ہوا آیا : اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، وفا کرو ، عہد شکنی نہ کرو ، لشکر معاویہ ؓ نے دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ ؓ تھے ، معاویہ ؓ نے اس بارے میں ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص کا کسی قوم سے کوئی عہد ہو تو وہ عہد کو توڑے نہ اسے منعقد کرے (کوئی تبدیلی یا تجدید نہ کرے) حتی کہ اس کی مدت گزر جائے یا وہ برابری کی سطح پر ان کی طرف معاہدہ توڑنے کا پیغام بھیج دے ۔‘‘ چنانچہ معاویہ ؓ لوگوں کو لے کر واپس آ گئے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۱۵۸۰ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۲۷۵۹) ۔
3980
Sahih
وَعَن أبي رافعٍ قَالَ: بعثَني قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِيَ الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا قَالَ: «إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِكَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الْآنَ فَارْجِعْ» . قَالَ: فَذَهَبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَأسْلمت. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، قریش نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا ، جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت و صداقت ڈال دی گئی ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی ان کی طرف لوٹ کر نہیں جاؤں گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں عہد شکنی نہیں کروں گا ، نہ قاصد کو روکوں گا ، تم واپس چلے جاؤ ، اگر تمہارے دل میں وہ چیز ہوئی جو اب تمہارے دل میں ہے تو پھر لوٹ آنا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں گیا اور پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۷۵۸) ۔
3981
Sahih
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلَيْنِ جَاءَا مِنْ عِنْدِ مُسَيْلِمَةَ: «أَمَّا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد
نعیم بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسیلمہ (کذاب) کی طرف سے آئے ہوئے دو آدمیوں سے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! اگر قاصدوں کو قتل کرنا روا ہوتا تو میں تمہاری گردنیں اڑا دیتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۳ / ۴۸۷ ۔ ۴۸۸ ح ۱۶۰۸۵) و ابوداؤد (۲۷۶۱) ۔
3982
Sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خطْبَة: «أَوْفوا بِحلف الْجَاهِلِيَّة فَإِنَّهُ لَا يزِيد يَعْنِي الْإِسْلَامَ إِلَّا شِدَّةً وَلَا تُحْدِثُوا حَلِفًا فِي الإِسلامِ» . رَوَاهُ الترمذيُّ من طريقِ ابنِ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرٍو وَقَالَ: حَسَنٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ عليٍّ: «المسلمونَ تَتَكَافَأ» فِي «كتاب الْقصاص»
عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا :’’ جاہلیت کے عہد پورے کرو ، کیونکہ اسلام اسے مضبوط کرتا ہے لیکن اسلام میں کوئی اور نیا عہد نہ کرو ۔‘‘ (اسے امام ترمذی نے حسین بن ذکوان عن عمرو کے طریق سے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن ہے) اور علی ؓ سے مروی حدیث :’’ مسلمان برابر ہیں .....‘‘ کتاب القصاص میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۵۸۵) 0 حدیث علی تقدم (۳۴۷۵) ۔
3983
Sahih
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ وَابْنُ أُثَالٍ رَسُولَا مُسَيْلِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا: «أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟» فَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَقَتَلْتُكُمَا» . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الرَّسول لَا يُقتَلُ. رَوَاهُ أَحْمد
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ابن نواحہ اور ابن اثال مسیلمہ کے قاصد بن کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟‘‘ انہوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں ، اگر میں کسی قاصد کو قتل کرنے والا ہوتا تو میں تمہیں قتل کر دیتا ۔‘‘ عبداللہ ؓ نے فرمایا : یہ سنت بن گئی کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جائے ۔ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ احمد (۱ / ۳۹۰ ۔ ۳۹۱ ح ۳۷۰۸) * المسعودی اختلط : روی عنہ یزید بن ھارون و ابو النضر ھاشم بن القاسم و عبد الرحمن بن مھدی و تابعہ سفیان الثوری و سندہ ضعیف و لحدیثہ شواھد ضعیفۃ عند ابی داود (۲۷۶۲) وغیرہ ۔
3984
Zaeef