TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2218 صحیح مسلم

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 10 in this chapter
Chapter: Standing for funerals
جنازے کے لیے کھڑے ہونا
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجَنَازَةَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تُخَلِّفَهُ أَوْ تُوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ
It is narrated on the authority of 'Amir ibn Rabi'a (may Allah be pleased with him) that the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Should any one of you come across a funeral procession, and if he does not intend to accompany it, he must stand up until it passes by him or is placed upon the ground before it passes him.
لیث اور یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی ہے اور یونس کی حدیث میں ہے کہ انھوں ( عامر بن ربعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ، آپ فرمارہے تھے ۔ ( اسی طرح ) قتیبہ بن سعید اور ابن رمح نے لیث سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت عامر بن ربعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص جنازے کو دیکھے ، تو اگر وہ جنازے کے ساتھ چل نہیں رہا ، تو کھڑا ہوجائے حتیٰ کہ وہ ( جنازہ ) اس کو پیچھے چھوڑ دے یا اس کو پیچھے چھوڑنے سے پہلے اس کو رکھ دیا جائے ۔ "
2218
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

1,116
1
Chapter: What Has Been Related About Standing For The Funeral (Procession)
باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: Abrogation of standing for funerals
جنازے کے لیے قیام کا منسوخ ہو جانا
Sahih Muslim
3
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
4
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
Musnad Ahmad
5
Chapter: Prohibition of women attending funerals
عورتوں کےلیے جنازے کے پیچھے (ساتھ)جانے کی ممانعت میت کو غسل دینا
Sahih Muslim
6
CHAPTER: Standing Up For A Funeral.
باب: میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ ۔
Sunnan Abu Dawood
7
CHAPTER: Standing to receive someone.
باب: استقبال کے لیے کھڑے ہونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
8
باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہونے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
Chapter: What Has Been Related About The Salat While Sitting Is Half Of The Salat While Standing
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: About It Being Disliked For The People To Wait For The Imam While They Are Standing At The Beginning Of The Prayer
باب: نماز شروع کرنے کے وقت کھڑے ہو کر امام کے انتظار کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Regarding Permission To Not Stand For It
باب: جنازے کے لیے کھڑا نہ ہونے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Man To Don Sandals While Standing
باب: کھڑے ہو کر جوتے پہننے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Drinking While Standing
باب: کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Permission For Drinking While Standing
باب: کھڑے ہو کر پینے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What has been Related About 'There Will be a Fitnah in Which The One Sitting is Better Than The Standing'
باب: اس فتنے کا بیان جس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا
Jam e Tirmazi
18
باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About What To Say When Standing For Prayer In The Night
باب: رات میں نماز تہجد پڑھنے کے لیے اٹھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
20
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
Musnad Ahmad
21
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
Musnad Ahmad
22
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
Musnad Ahmad
23
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
Musnad Ahmad
24
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
Musnad Ahmad
25
حشر والوں کے لیے شفاعت عظمیٰ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاص ہونا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے پہلا سفارشی ہونا
Musnad Ahmad
26
(45) CHAPTER Whosoever, while standing, asked a religious learned man who was sitting (on a pulpit or a similar thing, about something).
کھڑے ہو کر کسی عالم سے سوال کرنا جو بیٹھا ہوا ہو ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
27
(60) CHAPTER. To pass urine while standing and sitting.
کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پیشاب کرنا ( حسب موقع ہر دو طرح سے جائز ہے )
Sahih Bukhari
28
(76) CHAPTER. To stand shoulder to shoulder and foot to foot in the row.
صف میں کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونا
Sahih Bukhari
29
(95) CHAPTER. Recitation of the Quran (Surat Al-Fatiha) is compulsory for the Imam and the followers, at home and on journey, in all As-Salat (the prayers) whether the recitation is done silently or aloud.
امام اور مقتدی کے لیے قرآت کا واجب ہونا ، حضر اور سفر ہر حالت میں ، سری اور جہری سب نمازوں میں
Sahih Bukhari
30
(27) CHAPTER. To deliver the Khutba (religious talk) while standing.
خطبہ کھڑے ہو کر پڑھنا
Sahih Bukhari
31
(7) CHAPTER. Walking and riding for the Eid prayer. The Eid prayer is offered before delivering the Khutba (religious talk) and there is no Adhan or Iqama for it.
نمازعید کے لیے پیدل یا سوار ہو کر جانا اور نماز کا خطبہ سے پہلے اذان اور اقامت کے بغیر ہونا
Sahih Bukhari
32
(15) CHAPTER. To invoke Allah for rain while standing.
استسقاء میں کھڑے ہو کر خطبہ میں دعا مانگنا
Sahih Bukhari
33
(20) CHAPTER. Whoever starts his Salat (prayer) sitting (because of ailment) and then during the Salat (prayer) feels better, can finish the rest while standing. 138
اگر کسی شخص نے نماز بیٹھ کر شروع کی لیکن دوران نماز میں وہ تندرست ہو گیا یا مرض میں کچھ کمی محسوس کی تو باقی نماز کھڑے ہو کر پوری کرے
Sahih Bukhari
34
(6) CHAPTER. Standing of the Prophet [for the Salat (prayer)] at night.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز میں اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ پاؤں سوج جاتے
Sahih Bukhari
35
(46) CHAPTER. Standing for the funeral procession.
جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا
Sahih Bukhari
36
(55) CHAPTER. The lining up of boys in rows with men in the funeral prayer.
جنازے کی نماز میں بچے بھی مردوں کے برابر کھڑے ہوں
Sahih Bukhari
37
(56) CHAPTER. The legal way of offering the funeral prayer.
جنازے پر نماز کا مشروع ہونا
Sahih Bukhari
38
(22) CHAPTER. Riding alone or with somebody else during Hajj.
حج کے لیے سوار ہونا یا سواری پر کسی کے پیچھے بیٹھنا درست ہے
Sahih Bukhari
39
(113) CHAPTER. The covering (sheet) of the Budn (camels for sacrifice).
قربانی کے جانوروں کے لیے جھول کا ہونا
Sahih Bukhari
40
(15) CHAPTER. Whoever thinks that Itikaf can be practised without fasting.
اعتکاف کے لیے روزہ کا ضروری نہ ہونا
Sahih Bukhari
41
(7) CHAPTER. A servant for one's wife.
عورت کے لیے خادم کا ہونا ۔
Sahih Bukhari
42
(8) CHAPTER. The Prophet re-allowed the use of (certain kinds of) bowl and containers after he had forbidden their use.
ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگو نے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا
Sahih Bukhari
43
(16) CHAPTER. To drink while standing.
کھڑے کھڑے پانی پینا
Sahih Bukhari
44
(9) CHAPTER. There will be Fitnah (trial and affliction) during which a sitting person will be better than standing one.
ایک ایسا فتنہ اٹھے گا جس سے بیٹھنے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر ہوگا
Sahih Bukhari
45
Chapter: The Virtue Of the Adhan, And The Shaitan Flees When He Hears It
اذان کی فضیلت اور شیطان کا اس کو سنتے ہی بھاگ کھڑے ہونا
Sahih Muslim
46
Chapter: The Praying Person Standing Close To The Sutrah
نمازی کا سترے کے قریب کھڑا ہونا
Sahih Muslim
47
Chapter: When should the people stand up to pray?
لوگ نماز کے لیے کب کھڑے ہوں
Sahih Muslim
48
Chapter: It is permissible to offer voluntary prayers standing or sitting, and to stand and sit in the same rak`ah
نفل نماز کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پڑھنا اور رکعت کا کچھ حصہ کھڑے ہو کر اور کچھ بیٹھ کر ادا کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
49
Chapter: Hastening with the funeral
جنازے کو جلدی لیے جانا
Sahih Muslim
50
Chapter: The Standing and the Saying of Allah, The Most High: Then depart from the place whence all the people depart
وقوف (عرفہ )اور اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’پھر تم وہاں سے (طواف کے لیے )چلو جہاں سے دوسرے لوگ چلیں
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,069
Sahih Muslim
4179
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، فَفِي حَدِيثِهِمَا: «أَكُلَّ بَنِيكَ»، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ»، وَرِوَايَةُ اللَّيْثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ بَشِيرًا، جَاءَ بِالنُّعْمَانِ
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with different chains of transmitters and a slight variation of words.
) ابن عیینہ ، لیث بن سعد ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ یونس اور معمر کی حدیث میں " تمام بیٹوں کو " کے الفاظ ہیں اور لیث اور ابن عیینہ کی حدیث میں " تمام اولاد کو " ہے اور محمد بن نعمان اور حمید بن عبدالرحمان سے روایت کردہ لیث کی روایت ( یوں ) ہے کہ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ ( اپنے بیٹے ) نعمان رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے
Sahih Muslim
4210
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ،
This hadith is narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
سفیان بن عیینہ ، یونس اور معمر سب نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی
Jam e Tirmazi
805
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا اعْتَكَفَ الرَّجُلُ أَنْ لَا يَخْرُجَ مِنَ اعْتِكَافِهِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَاجْتَمَعُوا عَلَى هَذَا أَنَّهُ يَخْرُجُ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَشُهُودِ الْجُمُعَةِ وَالْجَنَازَةِ لِلْمُعْتَكِفِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَعُودَ الْمَرِيضَ وَيُشَيِّعَ الْجَنَازَةَ وَيَشْهَدَ الْجُمُعَةَ إِذَا اشْتَرَطَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَفْعَلَ شَيْئًا مِنْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَوْا لِلْمُعْتَكِفِ إِذَا كَانَ فِي مِصْرٍ يُجَمَّعُ فِيهِ أَنْ لَا يَعْتَكِفَ إِلَّا فِي مَسْجِدِ الْجَامِعِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُمْ كَرِهُوا الْخُرُوجَ لَهُ مِنْ مُعْتَكَفِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرَوْا لَهُ أَنْ يَتْرُكَ الْجُمُعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ لَا يَعْتَكِفُ إِلَّا فِي مَسْجِدِ الْجَامِعِ حَتَّى لَا يَحْتَاجَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ مُعْتَكَفِهِ لِغَيْرِ قَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ خُرُوجَهُ لِغَيْرِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ قَطْعٌ عِنْدَهُمْ لِلِاعْتِكَافِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ لَا يَعُودُ الْمَرِيضَ وَلَا يَتْبَعُ الْجَنَازَةَ عَلَى حَدِيثِ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ إِنِ اشْتَرَطَ ذَلِكَ فَلَهُ أَنْ يَتْبَعَ الْجَنَازَةَ وَيَعُودَ الْمَرِيضَ.
That was narrated to us by Quraibah : From Al-Laith (a similar narration as no. 804)
ہم سے اسے قتیبہ نے بسند «الليث بن سعد عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة» روایت کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ جب آدمی اعتکاف کرے تو انسانی ضرورت کے بغیر اپنے معتکف سے نہ نکلے، اور ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ پاخانہ پیشاب جیسی اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نکل سکتا ہے، ۲- پھر معتکف کے لیے مریض کی عیادت کرنے، جمعہ اور جنازہ میں شریک ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے ہے کہ وہ مریض کی عیادت کر سکتا ہے، جنازہ کے ساتھ جا سکتا ہے اور جمعہ میں شریک ہو سکتا ہے جب کہ اس نے اس کی شرط لگا لی ہو۔ یہ سفیان ثوری اور ابن مبارک کا قول ہے، ۳- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے ان میں سے کوئی بھی چیز کرنے کی اجازت نہیں، ان کا خیال ہے کہ معتکف کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ کسی ایسے شہر میں ہو جہاں جمعہ ہوتا ہو تو مسجد جامع میں ہی اعتکاف کرے۔ اس لیے کہ یہ لوگ جمعہ کے لیے اپنے معتکف سے نکلنا اس کے لیے مکروہ قرار دیتے ہیں اور اس کے لیے جمعہ چھوڑنے کو بھی جائز نہیں سمجھتے، اس لیے ان کا کہنا ہے کہ وہ جامع مسجد ہی میں اعتکاف کرے تاکہ اسے انسانی حاجتوں کے علاوہ کسی اور حاجت سے باہر نکلنے کی ضرورت نہ باقی رہے، اس لیے کہ بغیر کسی انسانی ضرورت کے مسجد سے نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے۔ ۴- اور احمد کہتے ہیں: عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کی رو سے نہ وہ مریض کی عیادت کرے گا، نہ جنازہ کے ساتھ جائے گا۔ ۵- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اگر وہ ان چیزوں کی شرط کر لے تو اسے جنازے کے ساتھ جانے اور مریض کی عیادت کرنے کی اجازت ہے۔
Jam e Tirmazi
1042
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Amir bin Rabi'ah narrated that: The Messenger of Allah said: Whenever you see a funeral (procession), stand up until it goes ahead of you or it is put down.
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو یہاں تک کہ وہ تمہیں چھوڑ کر آگے نکل جائے یا رکھ دیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عامر بن ربیعہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، جابر، سہیل بن حنیف، قیس بن سعد اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1044
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدٍ وَهُوَ:‏‏‏‏ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْقِيَامُ فِي الْجَنَائِزِ حَتَّى تُوضَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ . وَفِي الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ رِوَايَةُ أَرْبَعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا الْحَدِيثُ نَاسِخٌ لِلْأَوَّلِ إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ إِنْ شَاءَ قَامَ وَإِنْ شَاءَ لَمْ يَقُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَامَ ثُمَّ قَعَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ:‏‏‏‏ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ مَعْنَى قَوْلِ عَلِيٍّ:‏‏‏‏ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَازَةِ ثُمَّ قَعَدَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْجَنَازَةَ قَامَ ثُمَّ تَرَكَ ذَلِكَ بَعْدُ فَكَانَ لَا يَقُومُ إِذَا رَأَى الْجَنَازَةَ .
Mas'ud bin Al-Hakim narrated that standing for the funeral (procession) until it is put down was mentioned, and 'Ali bin Abi Talib mentioned and 'Ali bin Abi Talib said: The Messenger of Allah (ﷺ) stood, then (later) he sat . (Sahih) There are narrations on this topic from Al-Hasan bin 'Ali, and Ibn 'Abbas. Abu Eisa said: The Hadith of 'Ali is a Hasan Sahih Hadith, regarding which there are narrations from four of the Tabi'in narrating it from each other. This is acted upon according to some of the people of knowledge. Ash-Shafi'i said: This is the most correct thing on this topic This Hadith abrogates first Hadith: Whenever you see a funeral (procession), stand up [for it]. Ahmad said: If he wants, he stands, and if he wants, he does not stand. His proof is that it has been reported that the Prophet (ﷺ) stood, then sat, and this is what Ishaq bin Ibrahim said. (Abu Eisa said:) As for the saying of 'Ali: The Prophet (ﷺ) stood for the funeral and then sat, he means that the Prophet (ﷺ) would stand when he saw a funeral (procession), then he did not do so later, so he would not stand when he saw the funeral (procession).
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک کہ وہ رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا تو علی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہتے تھے پھر آپ بیٹھنے لگے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس میں چار تابعین کی روایت ہے جو ایک دوسرے سے روایت کر رہے ہیں، ۳- شافعی کہتے ہیں: اس باب میں یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ یہ حدیث پہلی حدیث ”جب تم جنازہ دیکھو، تو کھڑے ہو جاؤ“ کی ناسخ ہے، ۴- اس باب میں حسن بن علی اور ابن عباس سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۶- احمد کہتے ہیں کہ چاہے تو کھڑا ہو جائے اور چاہے تو کھڑا نہ ہو۔ انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مروی ہے کہ آپ کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے۔ اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۷- علی رضی الله عنہ کے قول ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر آپ بیٹھے رہنے لگے کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے پھر بعد میں آپ اس سے رک گئے۔ جب کوئی جنازہ دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے ) ۔
Jam e Tirmazi
1255
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَخَرَزٌ فَفَصَلْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفْصَلَ . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى 12:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَرَوْا أَنْ يُبَاعَ السَّيْفُ مُحَلًّى، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مِنْطَقَةٌ مُفَضَّضَةٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مِثْلُ هَذَا بِدَرَاهِمَ حَتَّى يُمَيَّزَ وَيُفْصَلَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ ابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ.
Narrated Fadalah bin 'Ubaidah: On the Day of Khaibar I purchased a necklace that contained gold and jewels for twelve Dinar. I separated it and found that it was worth more than twelve Dinar. I mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said: 'Do not sell it until it is separated.'
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا، جس میں سونے اور جواہرات جڑے ہوئے تھے، میں نے انہیں ( توڑ کر ) جدا جدا کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ ملے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ” ( سونے اور جواہرات جڑے ہوئے ہار ) نہ بیچے جائیں جب تک انہیں جدا جدا نہ کر لیا جائے“۔ اسی طرح مؤلف نے قتیبہ سے اسی سند سے حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ چاندی جڑی ہوئی تلوار یا کمر بند یا اسی جیسی دوسرے چیزوں کو درہم سے فروخت کرنا درست نہیں سمجھتے ہیں، جب تک کہ ان سے چاندی الگ نہ کر لی جائے۔ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے۔
Jam e Tirmazi
1433
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَغَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،‏‏‏‏ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَشِبْلٍ،‏‏‏‏ أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ،‏‏‏‏ فَقَامَ إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا،‏‏‏‏ وَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ لَمَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ:‏‏‏‏ أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَائْذَنْ لِي فَأَتَكَلَّمَ،‏‏‏‏ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا،‏‏‏‏ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ،‏‏‏‏ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ،‏‏‏‏ فَفَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ لَقِيتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ فَزَعَمُوا أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ،‏‏‏‏ وَتَغْرِيبَ عَامٍ،‏‏‏‏ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا،‏‏‏‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ،‏‏‏‏ الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ،‏‏‏‏ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ،‏‏‏‏ وَتَغْرِيبُ عَامٍ،‏‏‏‏ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا،‏‏‏‏ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ،‏‏‏‏ فَارْجُمْهَا ،‏‏‏‏ فَغَدَا عَلَيْهَا،‏‏‏‏ فَاعْتَرَفَتْ،‏‏‏‏ فَرَجَمَهَا. حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَعْنٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ،‏‏‏‏ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ بِمَعْنَاهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ،‏‏‏‏ وَهَزَّالٍ،‏‏‏‏ وَبُرَيْدَةَ،‏‏‏‏ وَسَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ،‏‏‏‏ وَأَبِي بَرْزَةَ،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ وأبي هريرة،‏‏‏‏ وأبي سعيد،‏‏‏‏ وابن عباس،‏‏‏‏ وجابر بن سمرة،‏‏‏‏ وهزال،‏‏‏‏ وبريدة،‏‏‏‏ وسلمة بن المحبق،‏‏‏‏ وأبي برزة،‏‏‏‏ وعمران بن حصين. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَمَعْمَرٌ،‏‏‏‏ وَغَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَرَوَوْا بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا،‏‏‏‏ فَإِنْ زَنَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ ،‏‏‏‏ وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَشِبْلٍ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا رَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَشِبْلٍ،‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ وَهِمَ فِيهِ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ أَدْخَلَ حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ،‏‏‏‏ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ،‏‏‏‏ وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ،‏‏‏‏ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا ،‏‏‏‏ وَالزُّهْرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ شِبْلِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَوْسِيِّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ ،‏‏‏‏ وَهَذَا الصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وَشِبْلُ بْنُ خَالِدٍ،‏‏‏‏ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ إِنَّمَا رَوَى شِبْلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَوْسِيِّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا الصَّحِيحُ،‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ،‏‏‏‏ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ شِبْلُ بْنُ حَامِدٍ،‏‏‏‏ وَهُوَ خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ:‏‏‏‏ شِبْلُ بْنُ خَالِدٍ وَيُقَالُ أَيْضًا:‏‏‏‏ شِبْلُ بْنُ خُلَيْدٍ.
Narrated 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Uthbah: That he heard from Abu Hurairah, Zaid bin Khalid, and Shibl, that they were with the Prophet (ﷺ) and two men came to him disputing. So one of them stood before him and said: I ask you by Allah, O Messenger of Allah! Only that you would judge between us by the book of Allah. So his disputant said - and he was more eloquent that him: I agree of O Messenger of Allah! Judge between us by the Book of Allah, and allow me to speak. My son was a servant for this man and he committed adultery with his wife. So they told me that my son was to be stoned. I paid him one hundred female sheep and a female slave. Then I met some people from the people of knowledge and they said that my son was to be lashed one hundred times, and to be banished for a year and that stoning is only for this man's wife. So the Prophet (ﷺ) said: By the One in Whose Hand is my soul! I will judge between you two by the Book of Allah. The one hundred female sheep and the female slave should be returned to you. For your son is one hundred lashes and banishment for a year. O Unais! Go to this Man's wife, and if she confesses then stone her. He went to her and she confessed, so he stoned her.
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اسی دوران آپ کے پاس جھگڑتے ہوئے دو آدمی آئے، ان میں سے ایک کھڑا ہوا اور بولا: اللہ کے رسول! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں! آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کیجئے ( یہ سن کر ) مدعی علیہ نے کہا اور وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا، ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان آپ کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کیجئے، اور مجھے مدعا بیان کرنے کی اجازت دیجئیے، ( چنانچہ اس نے بیان کیا ) میرا لڑکا اس کے پاس مزدور تھا، چنانچہ وہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر بیٹھا ۱؎، لوگوں ( یعنی بعض علماء ) نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم واجب ہے، لہٰذا میں نے اس کی طرف سے سو بکری اور ایک خادم فدیہ میں دے دی، پھر میری ملاقات کچھ اہل علم سے ہوئی تو ان لوگوں نے کہا: میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی واجب ہے ۲؎، اور اس کی بیوی پر رجم واجب ہے ۳؎، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے موافق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکری اور خادم تمہیں واپس مل جائیں گے، ( اور ) تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے اسے شہر بدر کیا جائے گا، انیس! ۴؎ تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو“، چنانچہ انیس اس کے گھر گئے، اس نے اقبال جرم کر لیا، لہٰذا انہوں نے اسے رجم کر دیا ۵؎۔ اس سند سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی سے، اسی جیسی اسی معنی کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ اس سند سے بھی مالک کی سابقہ حدیث جیسی اسی معنی کی حدیث روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ اور زید بن خالد کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح مالک بن انس، معمر اور کئی لوگوں نے بطریق: «الزهري، عن عبيد الله بن عتبة، عن أبي هريرة و زيد بن خالد، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- کچھ اور لوگوں نے بھی اسی سند سے ۶؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں ہے کہ ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی مرتبہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، خواہ قیمت میں گندھے ہوئے بالوں کی رسی ہی کیوں نہ ملے“، ۴- اور سفیان بن عیینہ زہری سے، زہری عبیداللہ سے، عبیداللہ ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں، ان لوگوں نے کہا: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ۵- ابن عیینہ نے اسی طرح دونوں حدیثوں کو ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے، ابن عیینہ کی حدیث میں سفیان بن عیینہ سے وہم ہوا ہے، انہوں نے ایک حدیث کو دوسری حدیث کے ساتھ خلط ملط کر دیا ہے، صحیح وہ حدیث ہے جسے محمد بن ولید زبیدی، یونس بن عبید اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے ابوہریرہ اور زید بن خالد سے اور ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ“، ۶- اور زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے شبل بن خالد سے، شبل نے عبداللہ بن مالک اوسی سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے“، ۷- اہل حدیث کے نزدیک ( شبل کی روایت بواسطہ عبداللہ بن مالک ) یہی صحیح ہے، کیونکہ شبل بن خالد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ہے، بلکہ شبل، عبداللہ بن مالک اوسی سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، یہی صحیح ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی روایت میں ”شبل بن حامد“ کہا ہے، یہ غلط ہے، صحیح ”شبل بن خالد“ ہے اور انہیں ”شبل بن خلید“ بھی کہا جاتا ہے، ۸- اس باب میں ابوبکرہ، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، ابوسعید، ابن عباس، جابر بن سمرہ، ہزال، بریدہ، سلمہ بن محبق، ابوبرزہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2194
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ عِنْدَ فِتْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي وَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ لِيَقْتُلَنِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْ كَابْنِ آدَمَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَخَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي وَاقِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَخَرَشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
Busr bin Sa'eed said: During the Fitnah(in the time) of 'Uthman bin 'Affan, Sa'd bin Abi Waqqas said: I testify that the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'There will be a Fitnah during which the sitting person is better than the standing(person) is better than the walking, and the walking(person) is better than the running. ' He said: What do you see(I should do) if he entered upon me in my homeand extended hos hand to kill me? He said: 'Be as Adam's son. '
بسر بن سعید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے دور خلافت میں ہونے والے فتنہ کے وقت کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جس میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا“، میں نے عرض کیا: آپ بتائیے اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے اور قتل کرنے کے لیے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”آدم کے بیٹے ( ہابیل ) کی طرح ہو جانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے لیث بن سعد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «رجلا» ( ایک آدمی ) کا اضافہ کیا ہے، ۳- سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کی روایت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۴- اس باب میں ابوہریرہ، خباب بن ارت، ابوبکرہ، ابن مسعود، ابوواقد، ابوموسیٰ اشعری اور خرشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
390
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح، وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، ح، وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: «إِمَامًا مُقْسِطًا، وَحَكَمًا عَدْلًا» وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ: «حَكَمًا عَادِلًا»، وَلَمْ يَذْكُرْ «إِمَامًا مُقْسِطًا»، وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ: «حَكَمًا مُقْسِطًا»، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ: وَفِي حَدِيثِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ: «وَحَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ
The same hadith is transmitted from Zuhri with the same chain of transmission. But in the tradition narrated by Ibn 'Uyaina the words are: impartial leader and just judge and in the tradition narrated by Yunus: the judge judging with justice and impartial leader are not mentioned. And in the hadith narrated by Salih like the one transmitted by Laith the words are: impartial judge . And in the hadith transmitted by Ziyad the words are: Till one sajda is better than the worldand what it contains. Then Abu Huraira used to say, recite if you like: Not one of the People of the Book will fail to believe in him before his death.
سفیان بن عیینہ ، یونس اور صالح نے ( ابن شہاب ) زہری سے ( ان کی ) اسی سند سے روایت نقل کی ۔ ابن عیینہ کی روایت میں ہے : ’’ انصاف کرنے والے پیشوا ، عادل حاکم ‘ ‘ اور یونس کی روایت میں : ’’عادل حاکم ‘ ‘ ہے ، انہوں نے ’’انصاف کرنے والے پیشوا ‘ ‘ کا تذکرہ نہیں کیا ۔ اور صالح کی روایت میں لیث کی طرح ہے : ’’انصاف کرنےوالے حاکم ‘ ‘ اور یہ اضافہ بھی ہے : ’’حتی کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہو گا ۔ ‘ ‘ ( کیونکہ باقی انبیاء کےساتھ محمدرسول اللہ ﷺ پرمکمل ایمان ہو گا ، او راولو العزم نبی جو صاحب کتاب و شریعت تھا ۔ آپ کی امت میں شامل ہو گا اور اسی کے مطابق فیصلے فرما رہا ہو گا ۔ ) پھر ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( آخر میں ) کہتے ہیں : چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : ’’ اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہو گا مگر عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا ( اور انہی کے ساتھ امت محمدیہ میں شامل ہو گا ۔ ) ‘ ‘