TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Introduction - مقدمہ صحیح مسلم - Book 1 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 1 of Sahih Muslim, with 5 chapters and 93 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

93 Hadith · 5 Chapters
All books
Previous Book Next Book
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَفَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَمْ نَرَ الصَّالِحِينَ فِي شَيْءٍ أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ» [ص:18] قَالَ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ: فَلَقِيتُ أَنَا مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، «لَمْ تَرَ أَهْلَ الْخَيْرِ فِي شَيْءٍ أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ». قَالَ مُسْلِمٌ: يَقُولُ: يَجْرِي الْكَذِبُ عَلَى لِسَانِهِمْ، وَلَا يَتَعَمَّدُونَ الْكَذِبَ
Muhammad bin Abī Attāb narrated to me, he said Affān narrated to me, on authority of Muhammad bin Yahyā bin Sa’īd al-Qattān, on authority of his father, he said: ‘We do not see the righteous more false in anything than they are regarding Ḥadīth’. Ibn Abī Attāb said: ‘So Muhammad bin Yahyā bin Sa’īd al-Qattān and I met and I asked him about it and he said on authority of his father: ‘You will not see the people of good (Ahl ul-Khayr) more false in anything than they are regarding Ḥadīth.’ Muslim said: ‘He was saying that falsehood flows upon their tongues although they do not intend to lie’.
محمد بن ابی عتاب نے کہا : مجھ سے عفان نے محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ہم نے نیک لوگوں ( صوفیا ) کو حدیث سے بڑھ کر کسی اور چیز میں جھوٹ بولنے والا نہیں پایا ۔ ابن ابی عتاب نے کہا : میں محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے ملا تو اس ( بات کے ) بارے میں پوچھا ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا : تم اہل خیر ( زہد و ورع والوں ) کو حدیث سے زیادہ کسی اور چیز میں جھوٹا نہیں پاؤ گے ۔ امام مسلم نے کہا کہ یحییٰ بن سعید نے فرمایا : ان کی زبان پر جھوٹ جاری ہو جاتا ہے ، وہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے ۔
40
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خَلِيفَةُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ فَجَعَلَ يُمْلِي عَلَيَّ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، فَأَخَذَهُ الْبَوْلُ، فَقَامَ فَنَظَرْتُ فِي الْكُرَّاسَةِ، فَإِذَا فِيهَا حَدَّثَنِي أَبَانُ، عَنْ أَنَسٍ، وَأَبَانُ عَنْ فُلَانٍ، فَتَرَكْتُهُ، وَقُمْتُ‘قَالَ: وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيَّ، يَقُولُ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ عَفَّانَ، حَدِيثَ هِشَامٍ أَبِي الْمِقْدَامِ، حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ هِشَامٌ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ يَحْيَى بْنُ فُلَانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَفَّانَ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ هِشَامٌ، سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا ابْتُلِيَ مِنْ قِبَلِ هَذَا الْحَدِيثِ، كَانَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ ادَّعَى بَعْدُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ
Al-Faḍl bin Sahl narrated to me, he said Yazīd bin Hārūn narrated to us, he said Khalīfah bin Mūsā informed me, he said: ‘I entered upon Ghālib bin Ubayd Allah so he began dictating to me ‘Mak’hūl narrated to me this’ and ‘Mak’hūl narrated to me that’. So he prepared to answer the call of nature and stood up, then I looked in his notebook and in it was ‘Abān narrated to me, on authority of Anas’ and ‘Abān on authority of so-and-so’. So I abandoned [listening to his Ḥadīth] and stood up [to leave]’. I heard al-Hasan bin Alī al-Hulwānī saying: ‘I saw in one of the books of Affān a Ḥadīth of Hishām Abīl-Miqdām meaning a Ḥadīth of Umar bin Abd il-Azīz. [In it was written] ‘Hishām said: ‘A man said to be Yahyā bin so-and-so narrated to me, on authority of Muhammad bin Ka’b…’ [Al-Hulwānī] said, I said to Affān: ‘They would say Hishām heard it [directly] from Muhammad bin Ka’b’. So [Affān] said: ‘Indeed Hishām was stricken [with accusations of lying] with regards to this Ḥadīth for he would say ‘Yahyā narrated to me on authority of Muhammad’, then he claimed afterwards that he heard it from Muhammad [directly]’.’
خلیفہ بن موسیٰ نے خبر دی ، کہا : میں غالب بن عبید اللہ کے ہاں آیا تو اس نے مجھے لکھوانا شروع کیا : مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی ، مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی ۔ اسی اثنا میں پیشاب نے اسے مجبور کیا تو وہ اٹھ گیا ، میں نے ( جو ) اس کی کاپی دیکھی تو اس میں اس طرح تھا : مجھے ابان نے انس سے یہ حدیث سنائی ، ابان نے فلاں سے حدیث روایت کی ۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ ( امام مسلم نے کہا : ) اور میں نے حسن بن علی حلوانی سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عفان کی کتاب میں ابو مقدام ہشام کی ( وہ ) روایت دیکھی ( جو عمر بن عبد العزیز کی حدیث ہے ) ( اس میں تھا : ) ہشام نے کہا : مجھ سے ایک شخص نے جسے یحییٰ بن فلاں کہا جاتا تھا ، محمد بن کعب سے حدیث بیان بیان کی ، کہا : میں نے عفان سے کہا : ( اہل علم ) کہتے ہیں : ہشام نے یہ ( حدیث ) محمد بن کعب سے سنی تھی ۔ تو وہ کہنے لگے : وہ ( ہشام ) اسی حدیث کی وجہ سے فتنے میں پڑے ۔ ( پہلے ) وہ کہا کرتے تھے : مجھے یحییٰ نے محمد ( بن کعب ) سے روایت کی ، بعد ازاں یہ دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے یہ ( حدیث براہ راست ) محمد سے سنی ہے ۔
41
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي رَوَيْتَ عَنْهُ حَدِيثَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو يَوْمُ الْفِطْرِ يَوْمُ الْجَوَائِزِ؟ قَالَ: «سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَجَّاجِ انْظُرْ مَا وَضَعْتَ فِي يَدِكَ مِنْهُ‘قَالَ ابْنُ قُهْزَاذَ: وَسَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ زَمْعَةَ، يَذْكُرُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ: «رَأَيْتُ رَوْحَ بْنَ غُطَيْفٍ صَاحِبَ الدَّمِ قَدْرِ الدِّرْهَمِ، وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ مَجْلِسًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَحْيِي مِنْ أَصْحَابِي أَنْ يَرَوْنِي جَالِسًا مَعَهُ كُرْهَ حَدِيثِهِ
Muhammad bin Abd Allah bin Quhzādh narrated to me, he said I heard Abd Allah bin Uthmān bin Jabalah saying, I said to Abd Allah bin al-Mubārak: ‘Who is this man from whom you transmit the Ḥadīth of Abd Allah bin Amr, ‘The day of Fitr is the day of prizes…’?’ [Abd Allah] said: ‘Sulaymān bin al-Hajjāj. Look at what I placed in your hands [of praise] about him’. Ibn Quhzādh said I heard Wahb bin Zam’ah mentioning about Sufyān bin Abd il-Mālik, he said, Abd Allah –meaning Ibn al-Mubārak- said: ‘I saw Rawh bin Ghutayf, the companion of blood the amount of a Dirham , and I took a seat in one of his audiences. Then I began to become ashamed for my companions to see me sitting with him while his Ḥadīth are disapproved of.’
مجھے محمد بن عبد اللہ قہزاذ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبد اللہ بن عثمان بن جبلہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عبد اللہ بن مبارک سے کہا : یہ کون ہے جس سے آپ نے عبد اللہ بن عمرو کی حدیث : ’’ عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے ۔ ‘ ‘ روایت کی؟ کہا : سلیمان بن حجاج ، ان میں سے جو ( احادیث ) تم نے اپنے پاس ( لکھ ) رکھی ہیں ( یا میں نے تمہیں اس کی جو حدیثیں دی ہیں ) ان میں ( اچھی طرح ) نظر کرنا ( غور کر لینا ۔ ) ابن قہزاذ نے کہا : میں نے وہب بن زمعہ سے سنا ، وہ سفیان بن عبد الملک سے روایت کر رہے تھے ، کہا : عبد اللہ ، یعنی ابن مبارک نے کہا : میں نے ایک درہم کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا ہے ۔ میں اس کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تو میں اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے اس سے حدیث بیان کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث ناپسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نہ مقبولی کی وجہ سے-
42
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنِي ابْنُ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبًا، يَقُولُ: عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: بَقِيَّةُ صَدُوقُ اللِّسَانِ، وَلَكِنَّهُ يَأْخُذُ عَمَّنْ أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ
Ibn Quhzādh narrated to me, he said, I heard Wahb [bin Zam’ah] saying, on authority of Sufyān [bin Abd il-Mālik], on authority of Ibn al-Mubārak, he said: ‘Baqiyyah [bin al-Walīd] is truthful of tongue however he transmits [Ḥadīth] from those who approach [the Muhaddithīn, i.e. are trustworthy] and from those who turn their backs on [the Muhaddithīn, i.e. and are weak]’.
ابن قہزاذ نے کہا ، میں نے وہب سے سنا ، انہوں نے سفیان سے اور انہوں نے عبد اللہ بن مبارک سے روایت کی ، کہا : بقیہ زبان کے سچے ہیں لیکن وہ ہر آنے جانے والے ( علم حدیث میں مہارت رکھنے والے اور نہ رکھنے والے ہر شخص ) سے حدیث لے لیتے ہیں ۔
43
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ، وَكَانَ كَذَّابًا
Qutaybah bin Sa’īd narrated to us, Jarīr narrated to us, on authority of Mughīrah, on authority of ash-Sha’bī, he said: ‘al-Hārith al-A’war ul-Hamdānī narrated to me, and he is a liar’.
قتیبہ بن سعید ‘ جریر نے مغیرہ سے ، انہوں نے شعبی سے روایت کی ، کہا : مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث سنائی اور وہ کذاب تھا ۔
44
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُفَضَّلٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ
Abū Āmir Abd Allah bin Barrād al-Ash’arī narrated to us, Abū Usāmah narrated to us, on authority of Mufaḍḍal, on authority of Mughīrah, he said I heard ash-Sha’bī saying: ‘al-Hārith al-A’war narrated to me,’ and he [ash-Sha’bī] was testifying that he was one of the liars’.
ابو عامر عبداللہ بن براداشعری ‘ ابو اسامہ ‘ مفضل بن مغیرہ سے روایت کی ، کہا : میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا : مجھ سے حارث اعور نے روایت کی بیان کی اور ( یہ کہ ) وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ ( حارث ) جھوٹوں میں سے ایک تھا ۔
45
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَلْقَمَةُ: «قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ» فَقَالَ الْحَارِثُ: «الْقُرْآنُ هَيِّنٌ الْوَحْيُ أَشَدُّ»
Qutaybah bin Sa’īd narrated to us, Jarīr narrated to us, on authority of Mughīrah, on authority of Ibrāhīm [bin Yazīd an-Nakhā’ī], he said, Alqamah said: ‘I memorized the Qur’ān in two years’. Al-Hārith said: ‘The Qur’ān is easy; the revelation [i.e. the secret revelation to Alī in the belief of the Shī’ah] is more difficult ’.
قتیبہ بن سعید ‘ جریر ‘ مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی ، کہا : علقمہ نے کہا : میں نے دو سال میں قرآن پڑھا ( تدبر کرتے ہوئے ختم کیا ۔ ) تو حارث نے کہا : قرآن آسان ہے ، وحی اس سے زیادہ مشکل ہے ۔
46
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الْحَارِثَ، قَالَ: «تَعَلَّمْتُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ، وَالْوَحْيَ فِي سَنَتَيْنِ» أَوْ قَالَ «الْوَحْيَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ، والْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ»
Hajjāj bin ash-Shā’ir narrated to me, Ahmad- meaning Ibn Yūnus- narrated to us, Zā’idah narrated to us, on authority of al-A’mash, on authority of Ibrāhīm that al-Hārith said: ‘I studied the Qur’ān for three years and the revelation for two years’; or he said: ‘…the revelation in three years and the Qur’ān in two years
حجاج بن شاعر ‘ احمد بن یونس نے ابراہیم نخعی سے روایت کی کہ حارث ( اعور ) نے کہا : میں نے قرآن تین سال میں سیکھا اور وحی دو سال میں ( یا کہا ) : وحی تین سال میں اور قرآن دو سال میں ۔ لغت میں وحی کے کئی معانی ہیں ، مثلاً : اشارہ کرنا ، کتابت ، الہام اور خفیہ کلام وغیرہ ، مگر اسلامی اصطلاح میں وحی اللہ کی طرف سے مقررہ طریقوں میں سے کسی طریقے سے ، اپنے رسول کی طرف کلام ، پیغام وغیرہ بھجوانا ہے ۔ حارث کی اس بات سے اسلامی اصطلاحات کے معاملے میں اس کی جہالت کا پتہ چلتا ہے ۔
47
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، «أَنَّ الْحَارِثَ اتُّهِمَ
Hajjāj narrated to me, he said Ahmad- and he is Ibn Yūnus- narrated to me, Zā’idah narrated to us, on authority of Mansūr and al-Mughīrah, on authority of Ibrāhīm that al-Hārith was imputed.
۔ منصور اور مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی کہ حارث متہم راوی ہے
48
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، قَالَ: سَمِعَ مُرَّةُ الْهَمْدَانِيُّ، مِنَ الْحَارِثِ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ: «اقْعُدْ بِالْبَابِ»، قَالَ: فَدَخَلَ مُرَّةُ، وَأَخَذَ سَيْفَهُ، قَالَ: وَأَحَسَّ الْحَارِثُ بِالشَّرِّ، فَذَهَبَ
Qutaybah bin Sa’īd narrated to us, Jarīr narrated to us, on authority of Hamzah az-Zayyāt, he said: ‘Murrah al-Hamdānī heard something from al-Hārith and said to him: ‘sit by the door’. [Hamzah] said: ‘So Murrah went inside and took his sword and al-Hārith sensed evil and left’.
۔ حمزہ زیات سے روایت ہے ، کہا : مرہ ہمدانی نے حارث سے کوئی بات سنی تو اس سے کہا : تم دروازے ہی پر بیٹھو ( اندر نہ آؤ ) ۔ پھر وہ ( گھر میں ) داخل ہوئے اور اپنی تلوار اٹھا لی تو حارث نے برا انجام محسوس کر لیا اور چل دیا ۔
49
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا إِبْرَاهِيمُ: «إِيَّاكُمْ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ سَعِيدٍ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحِيمِ، فَإِنَّهُمَا كَذَّابَانِ»
Ubayd Allah bin Sa’īd narrated to me, Abd ur-Rahman- meaning Ibn Mahdī- narrated to us, Hammād bin Zayd narrated to us, on authority of Ibn Awn, he said, Ibrāhīm said to us: ‘Beware of al-Mughīrah bin Sa’īd and Abū Abd ar-Rahīm for they are both liars’.
۔ ( عبد اللہ ) بن عون سے روایت ہے ، کہا : ابراہیم ( نخعی ) نے ہم سے کہا : تم لوگ مغیرہ بن سعید اور ابو عبد الرحیم سے بچ کر رہو ، وہ کذاب ہیں
50
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
دَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ وَنَحْنُ غِلْمَةٌ أَيْفَاعٌ، فَكَانَ يَقُولُ لَنَا: «لَا تُجَالِسُوا الْقُصَّاصَ غَيْرَ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَإِيَّاكُمْ وَشَقِيقًا»، قَالَ: «وَكَانَ شَقِيقٌ هَذَا يَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ، وَلَيْسَ بِأَبِي وَائِلٍ»
Abū Kāmil al-Jahdarī narrated to us, Hammād- and he is Ibn Zayd- narrated to us, he said Āsim [bin Bahdalah] narrated to us, he said: ‘We would catch up with Abū Abd ar-Rahman as-Sulamī and at the time we were young men, so he would say to us: ‘Do not sit with story-tellers other than Abūl-Ahwas and beware of Shaqīq [Abū Abd ar-Rahīm]’. [Muslim] said: ‘This Shaqīq held the view of the Khawārij and is not Abū Wā’il [Shaqīq bin Salamah, the righteous Tabi’ī]’.
ہمیں عاصم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم بالکل نو عمر لڑکے تھے جو ابو عبد الرحمن سلمی کے پاس حاضر ہوتے تھے ، وہ ہم سے کہا کرتے تھے : ابو احوص کے سوا دوسرے قصہ گوؤں ( واعظوں ) کی مجالس میں مت بیٹھو اور شقیق سے بچ کر رہو ۔ شقیق خوارج کا نقطہ نظر رکھتا تھا ، یہ ابو وائل نہیں ( بلکہ شقیق ضبی ہے ۔ )
51
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرًا، يَقُولُ: «لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ الْجُعْفِيَّ فَلَمْ أَكْتُبْ عَنْهُ، كَانَ يُؤْمِنُ بِالرَّجْعَةِ
Abū Ghassān Muhammad bin Amr ar-Rāzī narrated to us, he said, I heard Jarīr [bin Abd al-Hamīd bin Qurt aḍ-Ḍabbī] saying: ‘I met Jābir bin Yazīd al-Ju’fī and did not write [Ḥadīth] from him; he believed in ar-Raj’ah’ [A Rāfiḍī belief regarding Alī returning].
جریر کہتے ہیں : میں جابر بن یزید جعفی سے ملا تو میں نے اس سے حدیث نہ لکھی ، وہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا ۔
52
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ: «حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ، قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ مَا أَحْدَثَ»
Al-Hasan al-Hulwānī narrated to us, Yahyā bin Ādam narrated to us, Mis’ar narrated to us, he said: ‘Jābir bin Yazīd narrated to us before there took place what happened [i.e. before his false beliefs] ’.
۔ مسعر نے کہا : ہم سے جابر بن یزید ( جعفی ) نے ان بدعتوں سے پہلے ، جو اس نے گھڑیں ، حدیث بیان کی ۔
53
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: «كَانَ النَّاسُ يَحْمِلُونَ عَنْ جَابِرٍ قَبْلَ أَنْ يُظْهِرَ مَا أَظْهَرَ، فَلَمَّا أَظْهَرَ مَا أَظْهَرَ اتَّهَمَهُ النَّاسُ فِي حَدِيثِهِ، وَتَرَكَهُ بَعْضُ النَّاسِ»، فَقِيلَ لَهُ: وَمَا أَظْهَرَ؟ قَالَ: «الْإِيمَانَ بِالرَّجْعَةِ»
Salamah bin Shabīb narrated to me, al-Humaydī narrated to us, Sufyān narrated to us, he said: ‘The people would transmit from Jābir before there appeared what appeared, then when there appeared what appeared, the people imputed him in his Ḥadīth and some of the people abandoned him’. So it was said to [Sufyān]: ‘What appeared?’ [Sufyān] said: ‘Belief in ar-Raj’ah’.
سفیان نے کہا : جابر نے جس ( عقیدے ) کا اظہار کیا اس کے اظہار سے پہلے لوگ اس سے حدیث لیتے تھے ، جب اس نے اس کا اظہار کر دیا تو لوگوں نے اسے اس کی ( بیان کردہ ) حدیث کے بارے میں مطعون کیا اور بعض نے اسے چھوڑ دیا ۔ ان سے پوچھا گیا : اس نے کس چیز کا
54
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، وَأَخُوهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الْجَرَّاحَ بْنَ مَلِيحٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: «عِنْدِي سَبْعُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا»
Hasan al-Hulwānī narrated to us, Abū Yahyā al-Himmānī narrated to us, Qabīsah and his brother [Sufyān bin Uqbah] narrated to us, that they heard al-Jarrāh bin Malīh saying, I heard Jābir say: ‘I have 70,000 Ḥadīth all of which are on authority of Abū Ja’far on authority of the Prophet, peace and blessings upon him’.
۔ جراح بن ملیح کہتے ہیں : میں نے جابر بن یزید ( جعفی ) کو یہ کہتے سنا : میرے ابو جعفر ( محمد باقر بن علی بن حسین بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کی ستر ہزار حدیثیں ہیں جو سب کی سب رسول اللہﷺ سے ( روایت کی گئی ) ہیں ۔
55
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: سَمِعْتُ زُهَيْرًا، يَقُولُ: قَالَ جَابِرٌ - أَوْ سَمِعْتُ جَابِرًا - يَقُولُ: «إِنَّ عِنْدِي لَخَمْسِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ، مَا حَدَّثْتُ مِنْهَا بِشَيْءٍ»، قَالَ: ثُمَّ حَدَّثَ يَوْمًا بِحَدِيثٍ، فَقَالَ: «هَذَا مِنَ الْخَمْسِينَ أَلْفًا»
Hajjāj bin ash-Shā’ir narrated to me, Ahmad bin Yūnus narrated to us, he said, I heard Zuhayr saying, Jābir said, or, I heard Jābir saying: ‘Indeed I have fifty thousand Ḥadīth that I have not narrated from at all’. [Zuhayr] said: ‘Then that day he related a Ḥadīth and said, ‘This is from the fifty thousand’.
۔ زہیر کہتے ہیں : جابر نے کہا یا میں نے جابر ( بن یزید ) کو یہ کہتے سنا : بلاشبہ میرے پاس پچاس ہزار حدیثیں ( ایسی ) ہیں جن میں سے میں نے کوئی حدیث بیان نہیں کی ، پھر ایک دن اس نے ایک حدیث بیان کی اور کہا : یہ ( ان ) پچاس ہزار حدیثوں میں سے ( ایک ) ہے ۔
56
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ أَبِي مُطِيعٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا الْجُعْفِيَّ، يَقُولُ: «عِنْدِي خَمْسُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
Ibrāhīm bin Khālid al-Yashkurī narrated to me, he said, I heard Abūl-Walīd saying, I heard Sallām bin Abī Mutī’ saying, I heard Jābir al-Ju’fī saying: ‘I have fifty thousand Ḥadīth on authority of the Prophet, peace and blessings upon him’.
سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں : میں نے جابر جعفی کو یہ کہتے سنا : میرے پاس رسول اللہﷺ سے ( روایت کردہ ) پچاس ہزار احادیث ہیں ۔
57
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ جَابِرًا عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ [ص:21]: {فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ} [يوسف: 80]، فَقَالَ جَابِرٌ: «لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ»، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَذَبَ، فَقُلْنَا لِسُفْيَانَ: وَمَا أَرَادَ بِهَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ الرَّافِضَةَ تَقُولُ: إِنَّ عَلِيًّا فِي السَّحَابِ، فَلَا نَخْرُجُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مِنْ وَلَدِهِ حَتَّى يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ يُرِيدُ عَلِيًّا أَنَّهُ يُنَادِي اخْرُجُوا مَعَ فُلَانٍ، يَقُولُ جَابِرٌ: «فَذَا تَأْوِيلُ هَذِهِ الْآيَةِ، وَكَذَبَ، كَانَتْ فِي إِخْوَةِ يُوسُفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Salamah bin Shabīb narrated to me, al-Humaydī narrated to us, Sufyān narrated to us, he said, I heard a man ask Jābir about the verse: {Thus I will never depart from the land until my father permits me or Allah decides for me, and He is the best of Judges}[Yūsuf: 80]. Jābir said: ‘An interpretation has not come to me about these [verses]’. Sufyān said: ‘He lied’. We said to Sufyān: ‘What did he mean by this?’ [Sufyān] said: ‘Indeed the Rāfiḍah say, ‘Alī is in the clouds and we will not emerge along with he who will emerge from his children [the Khalīfah] until a caller calls from the heaven, meaning Alī: ‘Ride out along with so-and-so [meaning the promised Mahdī]’. Jābir said, ‘that is an interpretation for these verses’, and he would lie as they were regarding the brothers of Yūsuf, peace be upon him’.
سفیان ( بن عیینہ ) نے کہا : میں نے ایک آدمی سے سنا ، اس نے جابر سے ارشاد ربانی : ﴿فلن أبرح الأرض حتى يأذن لي أبي أو يحكم الله لي وهو خير الحاكمين﴾ ’’اب میں اس زمین سے ہرگز نہ ہلوں گا یہاں تک کہ میرا باپ مجھے اجازت دے یا اللہ میرے لیے فیصلہ کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے ۔ ‘ ‘ کے بارے میں سوال ، تو جابر نے کہا : اس کی تفسیر ابھی ظاہر نہیں ہوئی ۔ سفیان نے کہا : اور اس نے یہ جھوٹ بولا ۔ تو ہم نے سفیان سے کہا : اس سے مراد اس کی کیا تھی؟ انہوں نے کہا : روافض کہتے ہیں : حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بادلوں میں ہیں ۔ ان کی اولاد میں سے جو کوئی خروج کرے گا ہم اس کے ساتھ خروج نہیں کریں گے حتیٰ کہ آسمان کی طرف سے پکارنے والا ( اس کی مراد علی سے ہے ) پکارے ۔ یقیناً وہی پکارے گا کہ فلاں کے ساتھ ( مل کر ) خروج کرو ۔ جابر کہتا تھا : یہ اس آیت کی تفسیر ہے اور اس نے جھوٹ کہا ۔ یہ آیت حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے بارے میں ( نازل ہوئی ) تھی ۔
58
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: «سَمِعْتُ جَابِرًا، يُحَدِّثُ بِنَحْوٍ مِنْ ثَلَاثِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ، مَا أَسْتَحِلُّ أَنْ أَذْكُرَ مِنْهَا شَيْئًا، وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا‘قَالَ مُسْلِمٌ: وَسَمِعْتُ أَبَا غَسَّانَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو الرَّازِيَّ، قَالَ: سَأَلْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ، فَقُلْتُ: الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ لَقِيتَهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، شَيْخٌ طَوِيلُ السُّكُوتِ، يُصِرُّ عَلَى أَمْرٍ عَظِیم
Salamah narrated to me, al-Humaydī narrated to us, Sufyān narrated to us, he said: ‘I heard Jābir talking about something like 30,000 Ḥadīth [that] I did not regard as permissible to mention anything from, and that to me was like this and that [Ḥadīth].’ Muslim said, I heard Abū Ghassān Muhammad bin Amr ar-Rāzī say, ‘I asked Jarīr bin Abd il-Hamīd: ‘Did you meet al-Hārith bin Hasīrah? He said: ‘Yes, [he is a] Shaykh of lengthy silence; he persisted in a grave matter.’
سفیان سے روایت ہے ، کہا : میں نے جابر کو تقریباً تیس ہزار احادیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ میں ان میں سے ایک حدیث بیان کرنا بھی حلال نہیں سمجھتا ، چاہے ( اس کے بدلے ) میرے لیے اتنا اور اتنا ہو ۔ ( امام ) مسلم نے کہا : میں نے ابو غسان محمد بن عمرو رازی سے سنا ، کہا : میں نے جریر بن عبد الحمید سے پوچھا ، میں نے کہا : ( یہ جو ) حارث بن حصیرہ ہے ، آپ اس سے ملے ہیں؟ کہا : ہاں ، لمبی خاموشی والا بوڑھا ہے ۔ ایک بہت بڑی بات پر اصرار کرتا ہے ۔
59
Sahih