۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الَّذِي يَرْوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: «لَيْسَ بِثِقَةٍ»، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، فَقَالَ: «لَيْسَ بِثِقَةٍ»، وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، فَقَالَ: «لَيْسَ بِثِقَةٍ»، وَسَأَلْتُهُ عَنْ شُعْبَةَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، فَقَالَ: «لَيْسَ بِثِقَةٍ»، وَسَأَلْتُهُ عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: «لَيْسَ بِثِقَةٍ»، وَسَأَلْتُ مَالِكًا عَنْ هَؤُلَاءِ الْخَمْسَةِ، فَقَالَ: «لَيْسُوا بِثِقَةٍ فِي حَدِيثِهِمْ»، وَسَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ آخَرَ نَسِيتُ اسْمَهُ، فَقَالَ: «هَلْ رَأَيْتَهُ فِي كُتُبِي؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «لَوْ كَانَ ثِقَةً لَرَأَيْتَهُ فِي كُتُبِي»
Abū Ja’far ad-Dārimī narrated to us, Bishr bin Umar narrated to us, he said:
‘I asked Mālik bin Anas about Muhammad bin Abd ar-Rahman who transmits on authority of Sa’īd bin al-Musayyib, so he said: ‘He is not trustworthy ‘. I asked him about Sālih, a freed slave of at-Taw’amah, then he said: ‘He is not trustworthy’. I asked him about Abūl-Huwayrith , and he said: ‘He is not trustworthy’. I asked him about Shu’bah on whose authority Ibn Abī Dhi’b transmitted, and he said: ‘He is not trustworthy’. I asked him about Harām bin Uthmān , and he said ‘He is not trustworthy’. I asked Mālik about these five and he said: ‘They are not trustworthy in terms of their Ḥadīth’. I asked him about another man whose name I forget just now, and he said: ‘Did you see him in my book?’ I said: ‘No’. [Then] he said: ‘If he was trustworthy you would see him in my book’.
بشر بن عمر بنے ہم سے بیان کیا ، کہا : میں نے امام مالک بن انس سے محمد بن عبد الرحمن کے بارے میں پوچھا جو سعید بن مسیب سے احادیث روایت کرتا ہے تو انہوں نے کہا : وہ ثقہ نہیں ۔ میں نے مالک بن انس سے ابو حویرث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : وہ ثقہ نہیں ۔ ( پھر ) میں نے ان سے اس شعبہ کے بارے میں سوال کیا جس سے ابن ابی ذئب روایت کرتے ہیں تو فرمایا : وہ ثقہ نہیں ۔
میں نے ان سے صالح مولیٰ تَواَمَہ کے بارے میں سوال کیا تو کہا : ثقہ نہیں ۔ میں نے ان سے حرام بن عثمان کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : ثقہ نہیں ۔ میں نے امام مالک سے ان پانچوں کے بارے میں پوچھا ، انہوں نے فرمایا : یہ سب حدیث کے بیان کرنے میں ثقہ نہیں ۔ میں نے ان سے ایک اور شخص کے بارے میں پوچھا جس کا ( اب ) میں نام بھول گیا ہوں تو انہوں نے کہا : کیا تم نے میری کتابوں میں اس کا نام دیکھا ہے ۔ میں نے عرض کی : نہیں ۔ فرمایا : اگر ثقہ ہوتا تو تم اس کا ذکر میری کتابوں میں دیکھتے