TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Introduction - مقدمہ صحیح مسلم - Book 1 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 1 of Sahih Muslim, with 5 chapters and 93 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

93 Hadith · 5 Chapters
All books
Previous Book Next Book
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ: «اكْتُبْ عَنْ بَقِيَّةَ، مَا رَوَى عَنِ الْمَعْرُوفِينَ، وَلَا تَكْتُبْ عَنْهُ مَا رَوَى عَنْ غَيْرِ الْمَعْرُوفِينَ، وَلَا تَكْتُبْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، مَا رَوَى عَنِ الْمَعْرُوفِينَ، وَلَا عَنْ غَيْرِهِمْ»
Abd Allah bin Abd ar-Rahman ad-Dārimī narrated to us, Zakariyyā’ bin Adī informed us, he said, Abū Ishāq al-Fazarī said to me: ‘Write from Baqiyyah what he transmits on authority of those who are well-known, and do not write from him what he transmits on authority of those who are not; do not write from Ismā’īl bin Ayyāsh what he transmits on authority of those who are well-known or otherwise ’.
زکریا بن عدی نے کہا : مجھ سے ابو اسحاق فزاری نے کہا : بقیہ سے وہی احادیث لکھو جو اس نے معروف لوگوں سے روایت کی ہیں ، وہ نہ لکھو جو اس نے غیر معروف لوگوں سے روایت کی ہیں اور اسماعیل بن عیاش سے ، جو اس نے معروف لوگوں سے روایت کیں یا غیر معروف سے ، کچھ نہ لکھو ۔
80
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ بَعْضَ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: «نِعْمَ الرَّجُلُ بَقِيَّةُ لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ يُكَنِّي الْأَسَامِيَ، وَيُسَمِّي الْكُنَى، كَانَ دَهْرًا يُحَدِّثُنَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْوُحَاظِيِّ فَنَظَرْنَا فَإِذَا هُوَ عَبْدُ الْقُدُّوسِ»
Ishāq bin Ibrāhīm al-Hanthalī [bin Rāhwayh] narrated to us, he said, I heard one of the companions of Abd Allah [bin al-Mubārak] say, Ibn al-Mubārak said: ‘What an excellent man is Baqiyyah, if it were not for the fact that he would provide a nickname for [those who were better-known by] the birth name, and he would provide the birth name for [those who were better-known by] a nickname. For a long time he would narrated to us on authority of Abī Sa’īd al-Wuhāthī, then when we investigated [we were surprised that] he was Abd ul-Quddūs ’.
اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا ، کہا : میں نے عبد اللہ کے اصحاب ( شاگردوں ) میں سے ایک سے سنا ، کہا : ابن مبارک نے فرمایا : بقیہ اچھا آدمی ہے اگر یہ نہ ہوتا کہ وہ ناموں کو کنیتوں سے بدل دیتا ہے اور کنیتوں کو ناموں سے ۔ وہ ایک زمانے تک ہمیں ابو سعید وحاظی سے روایتیں سناتا رہا ، ہم نے اچھی طرح غور کیا تو وہ عبد القدوس نکلا ۔
81
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يُفْصِحُ بِقَوْلِهِ كَذَّابٌ إِلَّا لِعَبْدِ الْقُدُّوسِ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ: «كَذَّابٌ»
Ahmad bin Yūsuf al-Azdī narrated to me, he said, I heard Abd ar-Razzāq saying: ‘I did not see Ibn al-Mubārak express so plainly the charge of ‘lying’ except towards Abd ul-Quddūs; for indeed I heard him saying to him ‘[You are] a liar’.’
عبد الرزاق کہتے ہیں : میں نے ابن مبارک کو ( ایسا کرتے ) نہیں دیکھا کہ وہ کھل کر اپنی یہ بات ( رائے ) کہہ دیں کہ فلاں جھوٹا ہے ، سوائے عبد القدوس کے ۔ میں نے انہیں خود یہ کہتے سنا کہ وہ جھوٹا ہے ۔
82
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نُعَيْمٍ، وَذَكَرَ الْمُعَلَّى بْنَ عُرْفَانَ، فَقَالَ: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا ابْنُ مَسْعُودٍ بِصِفِّينَ فَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: «أَتُرَاهُ بُعِثَ بَعْدَ الْمَوْتِ؟»
Abd Allah bin Abd ar-Rahman ad-Dārimī narrated to me, he said: ‘I heard Abū Nu’aym and he mentioned al-Mu’allā bin Urfān, so [Abū Nu’aym] said, [al-Mu’allā] said: ‘Abū Wā’il narrated to us, he said ‘Ibn Mas’ūd attacked us on the day of Siffīn’. So Abū Nu’aym said: ‘Do you think he was raised after death? [Ibn Mas’ūd passed away in 32 or 33H, several years before the day in question]
۔ عبد اللہ بن عبد الرحمن دارمی نے مجھ سے بیان کیا ، کہا : میں نے ابو نعیم سے سنا ( اور انہوں نے معلی بن عرفان کا ذکر کیا ) اور کہا : اس نے کہا : ہم سے ابو وائل نے بیان کیا ، کہا : صفین میں ابن مسعود ہمارے سامنے نکلے تو ابو نعیم نے کہا : ان کے بارے میں تمہاری رائے ہے کہ وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو گئے تھے؟
83
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ عَفَّانَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، فَحَدَّثَ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِثَبْتٍ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: اغْتَبْتَهُ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: «مَا اغْتَابَهُ، وَلَكِنَّهُ حَكَمَ أَنَّهُ لَيْسَ بِثَبْتٍ»
Amr bin Alī and Hasan al-Hulwānī narrated to me, both of them on authority of Affān bin Muslim, he said: ‘We were near Ismā’īl bin Ulayyah, and a man narrated on authority of another man, so I said: ‘Indeed this is not reliable (Thabt)’. So the man said: ‘Are you backbiting him?’ Ismā’īl said: ‘He is not backbiting him; rather he is judging him unreliable’.
۔ عفان بن مسلم سے روایت ہے ، کہا : ہم اسماعیل بن عُلیہ کے ہاں تھے تو ایک آدمی نے ایک دوسرے آدمی سے روایت ( بیان ) کی ۔ میں نے کہا : ہ مضبوط ( ثقہ کا ہم پلہ ) نہیں ۔ تو اس آدمی نے کہا : تم نے اس کی غیبت کی ہے ۔ اسماعیل کہنے لگے : انہوں نے اس کی غیبت نہیں کی بلکہ حَکم ( فیصلہ ) بیان کیا ہے وہ ثبت نہیں ہے ۔
84
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الَّذِي يَرْوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: «لَيْسَ بِثِقَةٍ»، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، فَقَالَ: «لَيْسَ بِثِقَةٍ»، وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، فَقَالَ: «لَيْسَ بِثِقَةٍ»، وَسَأَلْتُهُ عَنْ شُعْبَةَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، فَقَالَ: «لَيْسَ بِثِقَةٍ»، وَسَأَلْتُهُ عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: «لَيْسَ بِثِقَةٍ»، وَسَأَلْتُ مَالِكًا عَنْ هَؤُلَاءِ الْخَمْسَةِ، فَقَالَ: «لَيْسُوا بِثِقَةٍ فِي حَدِيثِهِمْ»، وَسَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ آخَرَ نَسِيتُ اسْمَهُ، فَقَالَ: «هَلْ رَأَيْتَهُ فِي كُتُبِي؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «لَوْ كَانَ ثِقَةً لَرَأَيْتَهُ فِي كُتُبِي»
Abū Ja’far ad-Dārimī narrated to us, Bishr bin Umar narrated to us, he said: ‘I asked Mālik bin Anas about Muhammad bin Abd ar-Rahman who transmits on authority of Sa’īd bin al-Musayyib, so he said: ‘He is not trustworthy ‘. I asked him about Sālih, a freed slave of at-Taw’amah, then he said: ‘He is not trustworthy’. I asked him about Abūl-Huwayrith , and he said: ‘He is not trustworthy’. I asked him about Shu’bah on whose authority Ibn Abī Dhi’b transmitted, and he said: ‘He is not trustworthy’. I asked him about Harām bin Uthmān , and he said ‘He is not trustworthy’. I asked Mālik about these five and he said: ‘They are not trustworthy in terms of their Ḥadīth’. I asked him about another man whose name I forget just now, and he said: ‘Did you see him in my book?’ I said: ‘No’. [Then] he said: ‘If he was trustworthy you would see him in my book’.
بشر بن عمر بنے ہم سے بیان کیا ، کہا : میں نے امام مالک بن انس سے محمد بن عبد الرحمن کے بارے میں پوچھا جو سعید بن مسیب سے احادیث روایت کرتا ہے تو انہوں نے کہا : وہ ثقہ نہیں ۔ میں نے مالک بن انس سے ابو حویرث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : وہ ثقہ نہیں ۔ ( پھر ) میں نے ان سے اس شعبہ کے بارے میں سوال کیا جس سے ابن ابی ذئب روایت کرتے ہیں تو فرمایا : وہ ثقہ نہیں ۔ میں نے ان سے صالح مولیٰ تَواَمَہ کے بارے میں سوال کیا تو کہا : ثقہ نہیں ۔ میں نے ان سے حرام بن عثمان کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : ثقہ نہیں ۔ میں نے امام مالک سے ان پانچوں کے بارے میں پوچھا ، انہوں نے فرمایا : یہ سب حدیث کے بیان کرنے میں ثقہ نہیں ۔ میں نے ان سے ایک اور شخص کے بارے میں پوچھا جس کا ( اب ) میں نام بھول گیا ہوں تو انہوں نے کہا : کیا تم نے میری کتابوں میں اس کا نام دیکھا ہے ۔ میں نے عرض کی : نہیں ۔ فرمایا : اگر ثقہ ہوتا تو تم اس کا ذکر میری کتابوں میں دیکھتے
85
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، «عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ وَكَانَ مُتَّهَمًا
Al-Faḍl bin Sahl narrated to me, he said: ‘Yahyā bin Ma’īn narrated to me, Hajjāj narrated to us, Ibn Abī Dhi’b narrated to us on authority of Shurahbīl bin Sa’d , and he was imputed [with lying regarding Ḥadīth near the end of his life]’.
ہم حجاج نے بیان کیا ، کہا : ہم سے ابن ابی ذئب نے شرحبیل بن سعد کے حوالے سے حدیث بیان کی اور وہ متہم تھا
86
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: «لَوْ خُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ أَنْ أَلْقَى عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَرَّرٍ لَاخْتَرْتُ أَنْ أَلْقَاهُ، ثُمَّ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ كَانَتْ بَعْرَةٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ
Muhammad bin Abd Allah bin Quhzādh narrated to me, he said, I heard Abū Ishāq at-Tālqānī saying, I heard Ibn al-Mubārak saying: ‘If I had to choose between entering Paradise and meeting Abd Allah bin Muharrar, I would have chosen to meet him, then enter Paradise. Then when I saw him, dung was more preferred to me than him’.
ابو اسحاق طالقانی کہتے ہیں : میں نے عبد اللہ بن مبارک سے سنا ، کہہ رہے تھے : ( ایک وقت تھا ) اگر مجھے اختیار دیا جاتا کہ جنت میں داخل ہوں یا عبد اللہ بن محرر سے ملوں تو میں اس کا انتخاب کرتا کہ پہلے میں اس سے مل لوں پھر جنت میں جاؤں گا ، پھر جب میں نے اسے دیکھ لیا تو اس کے مقابلے میں ایک مینگنی بھی مجھے زیادہ محبوب تھی ۔ طالقانی کہتے ہیں : میں نے عبد اللہ بن مبارک سے سنا ، کہہ رہے تھے : ( ایک وقت تھا ) اگر مجھے اختیار دیا جاتا کہ جنت میں داخل ہوں یا عبد اللہ بن محرر سے ملوں تو میں اس کا انتخاب کرتا کہ پہلے میں اس سے مل لوں پھر جنت میں جاؤں گا ، پھر جب میں نے اسے دیکھ لیا تو اس کے مقابلے میں ایک مینگنی بھی مجھے زیادہ محبوب تھی ۔
87
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا وَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ: «لَا تَأْخُذُوا عَنْ أَخِي
Al-Faḍl bin Sahl narrated to me, Walīd bin Sālih narrated to us, he said, Ubayd Allah bin Amr said, Zayd- meaning Ibn Abī Unaysah – said: ‘Do not take [Ḥadīth] from my brother ’.
۔ ولید بن صالح نے بیان کیا ابواسحاق ، کہا : عبید اللہ بن عمرو نے کہا : زید ، یعنی ابن ابی انیسہ نے کہا : میرے بھائی ( یحییٰ بن ابی انیسہ ) سے روایت نہ لو ۔
88
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ الْوَابِصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «كَانَ يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ كَذَّابًا
Ahmad bin Ibrāhīm ad-Dawraqī narrated to me, he said, Abd us-Salām al-Wābisī narrated to me, he said, Abd Allah bin Ja’far ar-Raqqī narrated to me, on authority of Ubayd Allah bin Amr, he said: ‘Yahyā bin Abī Unaysah was a liar’.
عبد اللہ بن جعفر رقی نے عبید اللہ بن عمرو کے حوالے سے بیان کیا ، کہا : یحییٰ بن ابی انیسہ جھوٹا تھا ۔
89
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: ذُكِرَ فَرْقَدٌ عِنْدَ أَيُّوبَ، فَقَالَ: «إِنَّ فَرْقَدًا لَيْسَ صَاحِبَ حَدِيثٍ
Ahmad bin Ibrāhīm narrated to me, he said, Sulaymān bin Harb narrated to me, on authority of Hammād bin Zayd, he said, Farqad was mentioned near Ayyūb, so he said: ‘Indeed Farqad is not a companion of Ḥadīth’.
حماد بن زید سے روایت ہے ، کہا : ایوب سختیانی کے سامنے فرقد کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا : فرقد حدیث ( کی مہارت رکھنے ) والا نہیں ۔
90
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ذُكِرَ عِنْدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيُّ فَضَعَّفَهُ جِدًّا، فَقِيلَ لِيَحْيَى: أَضْعَفُ مِنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، ثُمَّ قَالَ: «مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَرْوِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ
Abd ur-Rahman bin Bishr al-Abdī narrated to me, he said, I heard Muhammad bin Abd Allah bin Ubayd bin Umayr al-Laythī was mentioned near Yahyā bin Sa’īd al-Qattān, so he weakened him severely. Then it was said to Yahyā: ‘More weak than Ya’qūb bin Atā ’?’ He said: ‘Yes’. Then he said: ‘I did not see anyone transmitting on authority of Muhammad bin Abd Allah bin Ubayd bin Umayr’.
۔ مجھ سے عبد الرحمان بن بشر عبدی نے بیان کیا ، کہا : میں نے یحییٰ بن سعیدقطان سے سنا ، جب ان کے سامنے محمد بن عبد اللہ بن عبید بن عمیر لیثی کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اسے انتہائی ضعیف قرار دیا ۔ ( امام ) یحییٰ سے کہا گیا : ہاں ۔ پھر کہا : میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایک انسان بھی محمد بن عبد اللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کر سکتا ہے ۔
91
Sahih
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ضَعَّفَ حَكِيمَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَعَبْدَ الْأَعْلَى، وَضَعَّفَ يَحْيَى بْنَ مُوسَى بْنَ دِينَارٍ قَالَ: «حَدِيثُهُ رِيحٌ». وَضَعَّفَ مُوسَى بْنَ دِهْقَانَ، وَعِيسَى بْنَ أَبِي عِيسَى الْمَدَنِيَّ قَالَ: وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عِيسَى، يَقُولُ: قَالَ لِي ابْنُ الْمُبَارَكِ: «إِذَا قَدِمْتَ عَلَى جَرِيرٍ فَاكْتُبْ عِلْمَهُ كُلَّهُ إِلَّا حَدِيثَ ثَلَاثَةٍ، لَا تَكْتُبْ حَدِيثَ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ، وَالسَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ»
Bishr bin al-Hakam narrated to me, he said, I heard Yahyā bin Sa’īd al-Qattān weaken Hakīm bin Jubayr and Abd al-A’lā; and he weakened Yahyā Mūsā bin Dīnār [there is no ‘bin’ between ‘Yahyā’ and ‘Mūsā’]; [Yahyā] said: ‘His Ḥadīth are Rīh or ‘wind’ [i.e., not established and weak]. [Yahyā] weakened Mūsā bin Dihqān and Īsā bin Abī Īsā al-Madanī. [Muslim] said, ‘I heard al-Hasan bin Īsā saying ‘Ibn al-Mubārak said to me: ‘When you go to Jarīr then write down all of his knowledge except the Ḥadīth of 3 [people] - do not write the Ḥadīth of Ubaydah bin Mu’attib, as-Sarī bin Ismā’īl, or Muhammad bin Sālim’.’
بشر بن حکم نے بیان کیا ، کہا : میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے سنا ، انہوں نے حکیم بن جبیر اور عبد الاعلیٰ کو ضعیف قرار دیا اور ( اسی طرح ) یحییٰ نے موسیٰ بن دینار کو بھی ضعیف قرار دیا ( اور ) کہا : اس کی ( بیان کردہ ) حدیث ہوا ( جیسی ) ہے اور موسیٰ بن دہقان اور عیسیٰ ابی عیسیٰ مدنی کو ( بھی ) ضعیف قرار دیا ۔ کہا : اور میں نے حسن بن عیسیٰ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھ سے ابن مبارک نے فرمایا : تم جب جریر کے پاس پہنچو تو تین ( راویوں ) کی احادیث کے سوا اس کا سارا علم لکھ لینا ۔ عبیدہ بن معتب ، سری بن اسماعیل اور محمد بن سالم کی احادیث اس سے نہ لکھنا ۔
92
Sahih