TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of jihad and expeditions - کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے اختیار کردہ طریقے - Book 34 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 34 of Sahih Muslim, with 50 chapters and 181 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

181 Hadith · 50 Chapters
Chapter: The Battle of Hunain
غزوہ حنین
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً، فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَى عَنِّي، فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ، وَنَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى، فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا، وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِيًا بِالْأُخْرَى، فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا، وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ رَأَى ابْنُ الْأَكْوَعِ فَزَعًا»، فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ، فَقَالَ: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ»، فَمَا خَلَقَ اللهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ، فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ، فَهَزَمَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ
This tradition has been narrated on the authority of Salama who said: We fought by the side of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) at Hunain. When we encountered the enemy, I advanced and ascended a hillock. A man from the enemy side turned towards me and I shot him with an arrow. He (ducked and) hid himself from me. I could not understand what he did, but (all of a sudden) I saw that a group of people appeared from the other hillock. They and the Companions of the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) met in combat, but the Companions of the Prophet turned back and I too turned back defeated. I had two mantles, one of which I was wrapping round the waist (covering the lower part of my body) and the other I was putting around my shoulders. My waist-wrapper got loose and I held the two mantles together. (In this downcast condition) I passed by the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) who was riding on his white mule. He said: The son of Akwa' finds himself to be utterly perplexed. Wher. the Companions gathered round him from all sides. the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) got down from his mule. picked up a handful of dust from the ground, threw it into their (enemy) faces and said: May these faces be deformed 1 There was no one among the enemy whose eyes were not filled with the dust from this handful. So they turned back fleeing. and Allah the Exalted and Glorious defeated them, and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) distributed their booty among the Muslims.
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حنین کی جنگ لڑی ، جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو میں آگے بڑھا پھر میں ایک گھاٹی پر چڑھ جاتا ہوں ، میرے سامنے دشمن کا آدمی آیا تو میں اس پر تیر پھینکتا ہوں ، وہ مجھ سے چھپ گیا ، اس کے بعد مجھے معلوم نہیں اس نے کیا کیا ۔ میں نے ( اُن ) لوگوں کا جائزہ لیا تو دیکھا وہ ایک دوسری گھاٹی کی طرف ظاہر ہوئے ، ان کا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا ٹکراؤ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی پیچھے ہٹ گئے اور میں بھی شکست خودرہ لوٹتا ہوں ۔ مجھ ( میرے جسم ) پر دو چادریں تھیں ، ان میں سے ایک کا میں نے تہبند باندھا ہوا تھا اور دوسری کو اوڑھ رکھا تھا تو میرا تہبند کھل گیا ، میں نے ان دونوں کو اکٹھا کیا اور شکست خوردگی کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، آپ اپنے سفید خچر پر تھے ۔ ( مجھے دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اکوع کا بیٹا گھبرا کو لوٹ آیا ہے ۔ " جب وہ ہر طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوئے تو آپ خچر سے نیچے اترے ، زمین سے مٹی کی ایک مٹھی لی ، پھر اسے سامنے کی طرف سے ان کے شہروں پر پھینکا اور فرمایا : " چہرے بگڑ گئے ۔ " اللہ نے ان میں سے کسی انسان کو پیدا نہیں کیا تھا مگر اس ایک مٹھی سے اس کی آنکھیں بھر دیں ، سو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے ، اللہ نے اسی ( ایک مٹھی خاک ) سے انہیں شکست دی اور ( بعد ازاں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اموالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کیے
4619
Sahih
Chapter: The Battle of At-Ta'if
غزوہ طائف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَاصَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ، فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ: «إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللهُ»، قَالَ أَصْحَابُهُ: نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ»، فَغَدَوْا عَلَيْهِ، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا»، قَالَ: فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
It has been narrated on the authority of Ibn 'Amr who said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) besieged the people of Ta'if, but did get victory over them. He said: God willing, we shall return. His Companions said: Shall we depart without having conquered it? The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: (All right) make a raid in the morning. They did so. and were wounded (with the arrows showered upon them). So the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: We shall depart tomorrow. (The narrator says): (Now) this (announcement) pleased them, and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) laughed at (their waywardness).
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا اور ان میں سے کسی کی جان نہ لے سکے تو آپ نےفرمایا : " ان شاءاللہ ہم کل لوٹ جائیں گے ۔ " آپ کے صحابہ نے کہا : ہم لوٹ جائیں جبکہ ہم نے اسے فتح نہیں کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " صبح جنگ کے لیے نکلو ۔ " وہ صبح نکلے تو انہیں زخم لگے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " ہم کل واپس لوٹ جائیں گے ۔ " کہا : تو انہیں یہ بات اچھی لگی ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے
4620
Sahih
Chapter: The Battle of Badr
غزوہ بدر
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حِينَ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَعْرَضَ [ص:1404] عَنْهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ: إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا، قَالَ: فَنَدَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا بَدْرًا، وَوَرَدَتْ عَلَيْهِمْ رَوَايَا قُرَيْشٍ، وَفِيهِمْ غُلَامٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ، فَأَخَذُوهُ، فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَصْحَابِهِ، فَيَقُولُ: مَا لِي عِلْمٌ بِأَبِي سُفْيَانَ، وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ، وَعُتْبَةُ، وَشَيْبَةُ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ، فَقَالَ: نَعَمْ، أَنَا أُخْبِرُكُمْ، هَذَا أَبُو سُفْيَانَ، فَإِذَا تَرَكُوهُ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ، وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ، وَعُتْبَةُ، وَشَيْبَةُ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، فِي النَّاسِ، فَإِذَا قَالَ هَذَا أَيْضًا ضَرَبُوهُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ انْصَرَفَ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَضْرِبُوهُ إِذَا صَدَقَكُمْ، وَتَتْرُكُوهُ إِذَا كَذَبَكُمْ»، قَالَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ»، قَالَ: وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ «هَاهُنَا، هَاهُنَا»، قَالَ: فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
It has been narrated on the authority of Anas that when (the news of) the advance of Abu Sufyan (at the head of a force) reached him. the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) held consultations with his Companions. The narrator said: Abu Bakr spoke (expressing his own views), but he (the Holy Prophet) did not pay heed to him. Then spoke 'Umar (expressing his views), but he (the Holy Prophet) did not pay heed to him (too). Then Sa'd b. 'Ubada stood up and said: Messenger of Allah, you want us (to speak). By God in Whose control is my life, if you order us to plunge our horses into the sea, we would do so. If you order us to goad our horses to the most distant place like Bark al-Ghimad, we would do so. The narrator said: Now the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) called upon the people (for the encounter). So they set out and encamped at Badr. (Soon) the water-carriers of the Quraish arrived. Among them was a black slave belonging to Banu al-Hajjaj. The Companions of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) caught him and interrogated him about Abu Sufyan and his companions. He said: I know nothing about Abu Sufyan, but Abu Jahl, Utba, Shaiba and Umayya b. Khalaf are there. When he said this, they beat him. Then he said: All right, I will tell you about Abu Sufyan. They would stop beating him and then ask him (again) about Abu Sufyan. He would again say', I know nothing about Abu Sufyan, but Abu Jahl. 'Utba, Shaiba and Umayya b. Khalaf are there. When he said this, they beat him likewise. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was standing in prayer. When he saw this he finished his prayer and said: By Allah in Whose control is my life, you beat him when he is telling you the truth, and you let him go when he tells you a lie. The narrator said: Then the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: This is the place where so and so would be killed. He placed his hand on the earth (saying) here and here; (and) none of them fell away from the place which the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had indicated by placing his hand on the earth.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی آمد کی خبر ملی تو آپ نے مشورہ کیا ، کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو آپ نے ان سے اعراض فرمایا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو آپ نے ان سے اعراض فرمایا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو آپ نے ان سے بھی اعراض فرمایا ۔ اس پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! کیا آپ ہم سے ( مشورہ کرنا ) چاہتے ہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں ( اپنے گھوڑے ) سمندر میں ڈال دینے کا حکم دیں تو ہم انہیں ڈال دیں گے اور اگر آپ ہم کو انہیں ( معمورہ اراضی کے آخری کونے ) برک غماد تک دوڑانے کا حکم دیں تو ہم یہی کریں گے ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا ، اور وہ چل پڑے حتی کہ بدر میں پڑاؤ ڈالا ۔ ان کے پاس قریش کے پانی لانے والے اونٹ آئے ، ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا تو انہوں نے اسے پکڑ لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے لگے تو وہ کہنے لگا : مجھے ابوسفیان کا تو پتہ نہیں ہے ، البتہ ابوجہل ، عتبہ ، شیبہ ، اور امیہ بن خلف یہاں ( قریب موجود ) ہیں ۔ جب اس نے یہ کہا ، وہ اسے مارنے لگے ۔ تو اس نے کہا : ہاں ، تمہیں بتاتا ہوں ، ابوسفیان ادھر ہے ۔ جب انہوں نے اسے چھوڑا اور ( دوبارہ ) پوچھا ، تو اس نے کہا : ابوسفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے ، البتہ ابوجہل ، عتبہ ، شیبہ ، اور امیہ بن خلف یہاں لوگوں میں موجود ہیں ۔ جب اس نے یہ ( پہلے والی ) بات کی تو وہ اسے مارنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، آپ نے جب یہ صورت حال دیکھی تو آپ ( سلام پھیر کر ) پلٹے اور فرمایا : "" اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب وہ سچ کہتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب وہ تم سے جھوٹ بولتا ہے تو اسے چھوڑ دیتے ہو ۔ "" کہا : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ فلاں کے مرنے کی جگہ ہے ۔ "" آپ زمین پر اپنا ہاتھ رکھتے تھے ( اور فرماتے تھے ) یہاں اور یہاں ۔ کہا : ان میں سے کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی جگہ سے ( ذرہ برابر بھی ) اِدھر اُدھر نہیں ہوا
4621
Sahih
Chapter: The conquest of Makkah
فتح مکہ
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَكَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ، فَقُلْتُ: أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى رَحْلِي؟ فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ، ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعَشِيِّ، فَقُلْتُ: الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ، فَقَالَ: سَبَقْتَنِي، قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَوْتُهُمْ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ ذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ، فَقَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ، وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى، وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ، فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَةٍ، قَالَ: فَنَظَرَ فَرَآنِي، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «لَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ» - زَادَ غَيْرُ شَيْبَانَ -، فَقَالَ: «اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ»، قَالَ: فَأَطَافُوا بِهِ، وَوَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا، وَأَتْبَاعًا، فَقَالُوا: نُقَدِّمُ هَؤُلَاءِ، فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ، وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ، وَأَتْبَاعِهِمْ»، ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ قَالَ: «حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا»، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فَمَا شَاءَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ، وَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ [ص:1406] يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا، قَالَ: فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ»، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَجَاءَ الْوَحْيُ وَكَانَ إِذَا جَاءَ الْوَحْيُ لَا يَخْفَى عَلَيْنَا، فَإِذَا جَاءَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ، فَلَمَّا انْقَضَى الْوَحْيُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ» قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: قُلْتُمْ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ؟ قَالُوا: قَدْ كَانَ ذَاكَ، قَالَ: «كَلَّا، إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، هَاجَرْتُ إِلَى اللهِ وَإِلَيْكُمْ، وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ»، فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ وَيَقُولُونَ: وَاللهِ، مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ، وَيَعْذِرَانِكُمْ»، قَالَ: فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى دَارِ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ، قَالَ: وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ، فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، قَالَ: فَأَتَى عَلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ كَانُوا يَعْبُدُونَهُ، قَالَ: وَفِي يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ، فَلَمَّا أَتَى عَلَى الصَّنَمِ جَعَلَ يَطْعُنُهُ فِي عَيْنِهِ، وَيَقُولُ: {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ} [الإسراء: 81]، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَى الصَّفَا، فَعَلَا عَلَيْهِ حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللهَ وَيَدْعُو بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ
It has been narrated by 'Abdullah b. Rabah from Abu Huraira, who said: Many deputations came to Mu'awiya. This was in the month of Ramadan. We would prepare food for one another. Abu Huraira was one of those who frequently invited us to his house. I said: Should I not prepare food and invite them to my place? So I ordered meals to be prepared Then I met Abu Huraira in the evening and said: (You will have) your meals with me tonight. He said: You have forestalled me. I said: Yes, and invited them. (When they had finished with the meals) Abu Huraira said: Should I not tell yon a tradition from your traditions, O ye assembly of the Ansar? He then gave an account of the Conquest of Mecca and said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) advanced until he reached Mecca. He deputed Zubair on his right flank and Khalid on the left, and he despatched Abu Ubaida with the force that had no armour. They advanced to the interior of the valley. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was in the midst of a large contingent of fighters. He saw me and said: Abu Huraira. I said: I am here at your call, Messenger of Allah I He said: Let no one come to me except the Ansar, so call to me the Ansar (only). Abu Huraira continued: So they gathered round him. The Quraish also gathered their ruffians and their (lowly) followers, and said: We send these forward. If they get anything, we shall be with them (to share it), and if misfortune befalls them, we shall pay (as compensation) whatever we are asked for. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said (to the Ansar): You see the ruffians and the (lowly) followers of the Quraish. And he indicated by (striking) one of his hands over the other that they should be killed and said: Meet me at as-Safa. Then we went on (and) if any one of us wanted that a certain person should be killed, he was killed, and none could offer any resistance. Abu Huraira continued: Then came Abu Sufyan and said: Messenger of Allah, the blood of the Quraish has become very cheap. There will be no Quraish from this day on. Then he (the Holy Prophet) said: Who enters the house of Abu Sufyan, he will be safe. Some of the Ansar whispered among themselves: (After all), love for his city and tenderness towards his relations have overpowered him. Abu Huraira said: (At this moment) revelation came to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and when he was going to receive the Revelation, we understood it, and when he was (actually) receiving it, none of us would dare raise his eyes to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) until the revelation came to an end. When the revelation came to an end, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: O ye Assembly of the Ansar! They said: Here we are at your disposal, Messenger of Allah. He said: You were saying that love for his city and tenderness towards his people have overpowered this man. They said: So it was. He said: No, never. I am a bondman of God and His Messenger. I migrated towards God and towards you. I will live with you and will die with you. So, they (the Ansar) turned towards him in tears and they were saying: By Allah, we said what we said because of our tenacious attachment to Allah and His Messenger. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Surely, Allah and His Messenger testify to your assertions and accept your apology. The narrator continued: People turned to the house of Abu Sufyan and people locked their doors. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) proceeded until he approached the (Black) Stone. He kissed it and circumambulated the Ka'ba. He reached near an idol by the side of the Ka'ba which was worshipped by the people. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had a bow in his hand, and he was holding it from a corner. When he came near the idol, he began to pierce its eyes with the bow and (while doing so) was saying: Truth has been established and falsehood has perished. When he had finished the circumambulation, he came to Safa', ascended it to a height from where he could see the Ka'ba, raised his hands (in prayer) and began to praise Allah and prayed what he wanted to pray.
شیبان بن فروخ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ثابت بنانے نے عبداللہ بن رباح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : کئی وفود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، یہ رمضان کا مہینہ تھا ۔ ( عبداللہ بن رباح نے کہا : ) ہم ایک دوسرے کے لیے کھانا تیار کرتے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو ہمیں اکثر اپنی قیام گاہ پر بلاتے تھے ۔ ایک ( دن ) میں نے کہا : میں بھی کیوں نہ کھانا تیار کروں اور سب کو اپنی قیام گاہ پر بلاؤں ۔ میں نے کھانا بنانے کا کہہ دیا ، پھر شام کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا : آج کی رات میرے یہاں دعوت ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو نے مجھ سے پہلے کہہ دیا ۔ ( یعنی آج میں دعوت کرنے والا تھا ) میں نے کہا : ہاں ، پھر میں نے ان سب کو بلایا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے انصار کی جماعت! کیا میں تمہیں تمہارے متعلق احادیث میں سے ایک حدیث نہ بتاؤں؟ پھر انہوں نے مکہ کے فتح ہونے کا ذکر کیا ۔ اس کے بعد کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ مکہ میں داخل ہو گئے ، پھر دو میں سے ایک بازو پر زبیر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور دوسرے بازو پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ، ابوعبیدہ ( بن جراح ) رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کا سردار کیا جن کے پاس زرہیں نہ تھیں ۔ انہوں نے گھاٹی کے درمیان والا راستہ اختیار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دستے میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا : "" ابوہریرہ! "" میں نے کہا : حاضر ہوں ، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میرے ساتھ انصاری کے سوا کوئی نہ آئے ۔ "" شیبان کے علاوہ دوسرے راویوں نے اضافہ کیا : آپ نے فرمایا : "" میرے لیے انصار کو آواز دو ۔ "" انصار آپ کے اردگرد آ گئے ۔ اور قریش نے بھی اپنے اوباش لوگوں اور تابعداروں کو اکٹھا کیا اور کہا : ہم ان کو آگے کرتے ہیں ، اگر کوئی چیز ( کامیابی ) ملی تو ہم بھی ان کے ساتھ ہیں اور اگر ان پر آفت آئی تو ہم سے جو مانگا جائے گا دے دیں گے ۔ ( دیت ، جرمانہ وغیرہ ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم قریش کے اوباشوں اور تابعداروں ( ہر کام میں پیروی کرنے والوں ) کو دیکھ رہے ہو؟ "" پھر آپ نے دونوں ہاتھوں سے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر ( مارتے ہوئے ) اشارہ فرمایا : "" ( ان کا صفایا کر دو ، ان کا فتنہ دبا دو ) ، پھر فرمایا : "" یہاں تک کہ تم مجھ سے صفا پر آ ملو ۔ "" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر ہم چلے ، ہم میں سے جو کوئی ( کافروں میں سے ) جس کسی کو مارنا چاہتا ، مار ڈالتا اور کوئی ہماری طرف کسی چیز ( ہتھیار ) کو آگے تک نہ کرتا ، یہاں تک کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول! قریش کی جماعت ( کے خون ) مباح کر دیے گئے اور آج کے بعد قریش نہ رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنا سابقہ بیان دہراتے ہوئے ) فرمایا : "" جو شخص ابوسفیان کے گھر کے اندر چلا جائے اس کو امن ہے ۔ "" انصار ایک دوسرے سے کہنے لگے : ان کو ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ) اپنے وطن کی الفت اور اپنے کنبے والوں پر شفقت آ گئی ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اور وحی آنے لگی اور جب وحی آنے لگتی تھی تو ہم سے مخفی نہ رہتی ۔ جب وحی آتی تو وحی ( کا نزول ) ختم ہونے تک کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنی آنکھ نہ اٹھاتا تھا ، غرض جب وحی ختم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اے انصار کے لوگو! انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم نے یہ کہا : اس شخص ( کے دل میں ) اپنے گاؤں کی الفت آ گئی ہے ۔ "" انہوں نے کہا : یقینا ایسا تو ہوا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بفرمایا : "" ہرگز نہیں ، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت کی اور تمہاری طرف ( آیا ) اب میری زندگی بھی تمہاری زندگی ( کے ساتھ ) ہے اور موت بھی تمہارے ساتھ ہے ۔ "" یہ سن کر انصار روتے ہوئے آگے بڑھے ، وہ کہہ رہے تھے : اللہ تعالیٰ کی قسم! ہم نے کہا جو کہا محض اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شدید چاہت ( اور ان کی معیت سے محرومی کے خوف ) کی وجہ سے کہا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں ۔ "" پھر لوگ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف آ گئے اور لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجراسود کے پاس تشریف لے آئے اور اس کو چوما ، پھر بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر آپ بیت اللہ کے پہلو میں ایک بت کے پاس آئے ، لوگ اس کی پوجا کیا کرتے تھے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کمان تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک طرف سے پکڑا ہوا تھا ، جب آپ بت کے پاس آئے تو اس کی آنکھ میں چبھونے لگے اور فرمانے لگے : "" حق آ گیا اور باطل مٹ گیا ۔ "" جب اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو کوہِ صفا پر آئے ، اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کی طرف نظر اٹھائی اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے لگے اور اللہ سے جو مانگنا چاہا وہ مانگنے لگے
4622
Sahih
Chapter: The conquest of Makkah
فتح مکہ
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى «احْصُدُوهُمْ حَصْدًا»، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قَالُوا: قُلْنَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَمَا اسْمِي إِذًا؟ كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ
The tradition has been narrated by a different chain of transmitters with the following additions: (i) Then be (the Messenger of Allah) said with his hands one upon the other: Kill them (who stand in your way).... (ii) They (the Ansar) replied: We said so, Messenger of Allah! He said: What is my name? I am but Allah's bondman and His Messenger.
بہز نے کہا : سلیمان بن مغیرہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، انہوں نے حدیث میں ( یہ ) اضافہ کیا : آپ نے دونوں ہاتھوں سے ، ایک کو دوسرے کے ساتھ پھیرتے ہوئے اشارہ کیا : ان کو اسی طرح کاٹ ڈالو جس طرح فصل کاٹی جاتی ہے انہوں نے حدیث میں ( یہ بھی ) کہا : ان لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول! ہم نے یہ کہ تھا ۔ آپ نے فرمایا : " تو پھر میرا نام کیا ہو گا؟ ہرگز نہیں ، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں
4623
Sahih
Chapter: The conquest of Makkah
فتح مکہ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَكَانَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَصْنَعُ طَعَامًا يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ، فَكَانَتْ نَوْبَتِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، الْيَوْمُ نَوْبَتِي، فَجَاءُوا إِلَى الْمَنْزِلِ وَلَمْ يُدْرِكْ طَعَامُنَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، لَوْ حَدَّثْتَنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُدْرِكَ طَعَامُنَا، فَقَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَى، وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْبَيَاذِقَةِ، وَبَطْنِ الْوَادِي، فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ادْعُ لِي الْأَنْصَارَ»، فَدَعَوْتُهُمْ، فَجَاءُوا يُهَرْوِلُونَ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، هَلْ تَرَوْنَ أَوْبَاشَ قُرَيْشٍ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «انْظُرُوا، إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا أَنْ تَحْصُدُوهُمْ حَصْدًا»، وَأَخْفَى بِيَدِهِ وَوَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ، وَقَالَ: «مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا»، قَالَ: فَمَا أَشْرَفَ يَوْمَئِذٍ لَهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَنَامُوهُ، قَالَ: وَصَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا، وَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَأَطَافُوا بِالصَّفَا، فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُبِيدَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابهُ فَهُوَ آمِنٌ»، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ، وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُمْ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ، وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، أَلَا فَمَا اسْمِي إِذًا؟ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، هَاجَرْتُ إِلَى اللهِ وَإِلَيْكُمْ، فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ قَالُوا: وَاللهِ، مَا قُلْنَا إِلَّا ضَنًّا بِاللهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ: «فَإِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ
It has been narrated on the authority of Abdullah b. Rabah who said: We came to Mu'awiya b. Abu Sufyan as a deputation and Abu Huraira was among us. Each of us would prepare food for his companions turn by turn for a day. (Accordingly) when it was my turn I said: Abu Huraira, it is my turn today. So they came to my place. The food was not yet ready, so I said to Abu Huraira: I wish you could narrate to us a tradition from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) until the food was ready. (Complying with my request) Abu Huraira said: We were with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the day of the Conquest of Mecca. He appointed Khalid b. Walid as commander of the right flank, Zubair as commander of the left flank, and Abu 'Ubaida as commander of the foot-soldiers (who were to advance) to the interior of the valley. He (then) said: Abu Huraira, call the Ansar to me. So I called out to them and they came hurriedly. He said: O ye Assembly of the Ansaar, do you see the ruffians of the Quraish? They said: Yes. He said: See, when you meet them tomorrow, wipe them out. He hinted at this with his hand, placing his right hand on his left and said: You will meet us at as-Safa'. (Abu Huraira continued): Whoever was seen by them that day was put to death. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) ascended the mount of as-Safa'. The Ansar also came there and surrounded the mount. Then came Abu Sufyan and said: Messenger ot Allah, the Quraish have perished. No member of the Quraish tribe will survive this day. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Who enters the house of Abu Safyin will be safe, who lays down arms will be safe, who locks his door will be safe. (some of) the Ansar said: (After all) the man has been swayed by tenderness towards his family and love for his city. At this, Divine inspiration descended upon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said: You were saying that the man has been swayed by tenderness towards his family and love for his city. Do you know what my name is? I am Muhammad, the bondman of God and His Messenger. (He repeated this thrice.) I left my native place for the take of Allah and joined you. So I will live with you and die with you. Now the Ansar said: By God, we said (that) only out of our greed for Allah and His Messenger. He said: Allah and His Apostle testify to you and accept your apology.
ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ثابت نے عبداللہ بن رباح سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ہم بطور وفد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اور ہم لوگوں میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ہم میں سے ہر آدمی ایک دن اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا بناتا ، ایک دن میری باری تھی ، میں نے کہا : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! آج میری باری ہے ، وہ سب میرے ٹھکانے پر آئے اور ابھی کھانا نہیں آیا تھا ۔ میں نے کہا : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! کاش آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنائیں یہاں تک کہ کھانا آ جائے ۔ انہوں نے کہا : ہم فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دائیں بازو ( میمنہ ) پر ( امیر ) مقرر کیا اور زبیر رضی اللہ عنہ کو بائیں بازو ( میسرہ ) پر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو پیادوں پر اور وادی کے اندر ( کے راستے ) پر تعینات کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوہریرہ! انصار کو بلاؤ ۔ " میں نے ان کو بلایا ، وہ دوڑتے ہوئے آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انصار کے لوگو! کیا تم قریش کے اوباشوں کو دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دیکھو! کل جب تمہارا ان سے سامنا ہو تو ان کو اس طرح کاٹ دینا جس طرح فصل کاٹی جاتی ہے " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوشیدہ رکھتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا اور داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا ۔ اور فرمایا : " اب تم سے ملاقات کا وعدہ کوہِ صفا پر ہے ۔ " حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو اس روز جس کسی نے سر اٹھایا ، انہوں نے اس کو سلا دیا ، ( یعنی مار ڈالا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھے ، انسار آئے ، انہوں نے صفا کو گھیر لیا ، اتنے میں ابوسفیان رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! قریش کی جمعیت مٹا دی گئی ، آج سے قریش نہ رہے ۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو کوئی ابوسفیان کے گھر میں چلا گیا اس کو امن ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو بھی امن ہے اور جو اپنا دروازہ بند کے لے اس کو بھی امن ہے ۔ " انصار نے کہا : آپ پر اپنے عزیزوں کی محبت اور اپنے شہر کی الفت غالب آ گئی ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں نے کہا : مجھ پر کنبے والوں کی محبت اور اپنے شہر کی الفت غالب آ گئی ہے ، دیکھو! پھر ( اس صورت میں ) میرا نام کیا ہو گا؟ " آپ نے تین بار فرمایا : ۔ ۔ " میں محمد اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ میں نے اللہ کے لیے تمہاری طرف ہجرت کی ، تو اب زندگی تمہاری زندگی ( کے ساتھ ) ہے اور موت تمہاری موت ( کے ساتھ ) ہے ۔ " انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! ہم نے یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید چاہت ( اور آپ کی معیت سے محرومی کے خوف ) کے علاوہ کسی وجہ سے نہیں کہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو اللہ اور اس کا رسول دونوں تم کو سچا جانتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں
4624
Sahih
Chapter: Removal of Idols from around the Ka'bah
کعبہ کے چاروں طرف سے بتوں کی صفائی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} [الإسراء: 81] {جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ} [سبأ: 49]، زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: يَوْمَ الْفَتْحِ
It has been narrated by Ibn Abdullah who said: The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) entered Mecca. There were three hundred and sixty idols around the Ka'ba. He began to thrust them with the stick that was in his hand saying: Truth has come and falsehood has vanished. Lo! falsehood was destined to vanish (xvii. 8). Truth has arrived, and falsehood can neither create anything from the beginning nor can It restore to life
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے ۔ ۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن ابی نجیح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے ابومعمر سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کو اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لکڑی سے کچوکا دے کر گرانے لگے اور یہ فرمانے لگے : " حق آ گیا اور باطل مٹ گیا ، بلاشبہ باطل مٹنے والا ہے ۔ حق آ گیا اور باطل نہ آغاز کرتا ہے اور نہ لوٹاتا ہے " ( بلکہ دونوں اللہ عزوجل جلالہ کے کام ہیں ۔ ) ابن ابی عمر نے اضافہ کیا : فتح مکہ کے دن
4625
Sahih
Chapter: Removal of Idols from around the Ka'bah
کعبہ کے چاروں طرف سے بتوں کی صفائی
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: زَهُوقًا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْآيَةَ الْأُخْرَى، وَقَالَ: بَدَلَ نُصُبًا صَنَمًا
This tradition has been narrated by Ibn Abu Najah through a different chain of transmitters up to the word: Zahaqa, (This version) does not contain the second verse and substitutes Sanam for Nusub (both the words mean idol or image that is worshipped).
ثوری نے ابن ابی نجیح سے اسی سند کے ساتھ زهوقا ( پہلی آیت کے آخر ) تک روایت کی ، دوسری آیت بیان نہیں کی اور ۔ ۔ نصبا کے بجائے ‘ صنما کہا : ( دونوں کے معنی بت کے ہیں
4626
Sahih
Chapter: No man if Quraish is to be captured then killed, after the conquest
فتح مکہ کے بعد(کبھی ) کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کرنے کا حکم
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
It has been narrated on the authority of Abdullah b. Muti' who heard from his father and said: I heard the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say on the day of the Conquest of Mecca: No Quraishite will be killed hound hand and foot from this day until the Day of judgment.
علی بن مسہر اور وکیع نے زکریا سے ، انہوں نے شعبی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن مطیع نے اپنے باپ ( مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : جس دن مکہ فتح ہوا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا : " آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر قتل نہ کیا جائے
4627
Sahih
Chapter: No man if Quraish is to be captured then killed, after the conquest
فتح مکہ کے بعد(کبھی ) کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کرنے کا حکم
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ، كَانَ اسْمُهُ الْعَاصِي، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا
The same tradition has been narrated on the authority of Zakriyya through the same chain of transmitters with the following addition: No rebellious Quraishite with al-Asi as his name embraced Islam that day except Muti. His name-was al-Asi, but the Messenger of Allah (way peace be upon him) changed his name to Muti.
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں زکریا نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث سنائی اور یہ اضافہ کیا ، کہا : اس دن قریش کے عاص ( نافرمان ) نام کے لوگوں میں سے ، مطیع کے سوا ، کوئی مسلمان نہیں ہوا ۔ اس کا نام ( تخفیف کے ساتھ عاص اور تخفیف کے بغیر ) عاصی تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ( بدل کر ) مطیع رکھ دیا
4628
Sahih
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الصُّلْحَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَكَتَبَ: «هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ»، فَقَالُوا: لَا تَكْتُبْ رَسُولُ اللهِ، فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ لَمْ نُقَاتِلْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «امْحُهُ»، فَقَالَ: مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ، فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، قَالَ: وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطُوا أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ فَيُقِيمُوا بِهَا ثَلَاثًا، وَلَا يَدْخُلُهَا بِسِلَاحٍ إِلَّا جُلُبَّانَ السِّلَاحِ، قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: وَمَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ؟ قَالَ: «الْقِرَابُ وَمَا فِيهِ
It has been narrated on the authority of al-Bara' b. 'Azib who said: 'Ali b. Abu Talib penned the treaty between the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and the polytheists on the Day of Hudaibiya. He wrote: This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has settled. They (the polytheists) said: Do not write words the Messenger of Allah . If we knew that you were the Messenger of Allah, we would not fight against you. The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to 'Ali: Strike out these words. He (Ali) said: I am not going to strike them out. So the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) struck them out with his own hand. The narrator said that the conditions upon which the two sides had agreed included that the Muslims would enter Mecca (next year) and would stay there for three days, and that they would not enter bearing arms except in their sheaths or bolsters.
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس صلح کا معاہدہ لکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں کے درمیان حدیبیہ کے دن ہوئی تھی ۔ انہوں نے لکھا : "" یہ ( معاہدہ ) ہے جس پر تحریری صلح کی اللہ کے رسول ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ "" ان لوگوں ( مشرکوں ) نے کہا : "" اللہ کے رسول "" مت لکھیے ، اس لیے کہ اگر ہم یقین جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ سے نہ لڑتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : "" اس لفظ کو مٹا دو ۔ "" انہوں نے عرض کی : جو اس ( لفظ ) کو مٹائے گا وہ میں نہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دیا ، کہا : انہوں نے جو شرطیں رکھیں ان میں یہ بھی تھا کہ ( مسلمان ) مکہ میں آئیں اور تین دن تک مقیم رہیں اور ہتھیار لے کر مکہ میں داخل نہ ہوں ، الا یہ کہ چمڑے کے تھیلے میں ہوں ۔ ( شعبہ نے کہا ) میں نے ابواسحاق سے کہا : چمڑے کے تھیلے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا : نیام اور جو اس کے اندر ہے
4629
Sahih
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ كَتَبَ عَلِيٌّ كِتَابًا بَيْنَهُمْ، قَالَ: فَكَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ: هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ
It has been narrated on the authority of Abu Ishaq, who heard Bars' b. Azib say: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made peace with the people of Hudaibiya, 'Ali drew up the agreement between them, and so he wrote: Muhammad, the Messenger of Allah. (This is followed by the same wording as we have in the previous tradition except the omission of the words: This is what he has settled.)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحٰق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ ( میں آ کر صلح کی گفتگو کرنے ) والوں سے صلح کی تو ان کے مابین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تحریر لکھی ، کہا : انہوں نے " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " لکھا ، پھر معاذ کی حدیث کی طرح بیان کیا ، مگر انہوں نے : " یہ ہے جس پر تحریر صلح کی " ( کا جملہ ) بیان نہیں کیا
4630
Sahih
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَمَّا أُحْصِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْتِ، صَالَحَهُ أَهْلُ مَكَّةَ عَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا فَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثًا، وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ، السَّيْفِ وَقِرَابِهِ، وَلَا يَخْرُجَ بِأَحَدٍ مَعَهُ مِنْ أَهْلِهَا، وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا يَمْكُثُ بِهَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ، قَالَ لِعَلِيٍّ: «اكْتُبِ الشَّرْطَ بَيْنَنَا، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ»، فَقَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ: لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ تَابَعْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، فَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَمْحَاهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَا وَاللهِ، لَا أَمْحَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرِنِي مَكَانَهَا»، فَأَرَاهُ مَكَانَهَا فَمَحَاهَا، وَكَتَبَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ، فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ قَالُوا لِعَلِيٍّ: هَذَا آخِرُ يَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِكَ، فَأْمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: «نَعَمْ»، فَخَرَجَ، وقَالَ ابْنُ جَنَابٍ فِي رِوَايَتِهِ مَكَانَ تَابَعْنَاكَ: بَايَعْنَاكَ
It has been narrated on the authority of Bara' who said: When the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was checked from going to the Ka'ba, the people of Mecca made peace with him'on the condition that he would (be allowed to) enter Mecca (next year) and stay there for three days, that he would not enter (the city) except with swords in their sheaths and arms encased in their covers, that he would not take eway with him anyone from its dwellers, nor would he prevent anyone from those with him to stay on in Mecca (if he so desired). He said to 'Ali: Write down the terms settled between us. (So 'Ali wrote): In the name of Allah, most Gracious and most Merciful. This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has settled (with the Meccans), The polytheists said to him: If we knew that thou art the Messenger of of Allah, we would follow you. But write: Muhammad b. 'Abdullah. So he told 'Ali to strike out these words. 'Ali said: No, by Allah, I will not strike them out. The Messenger of Allah (may Peace be upon him) said: Show me their place (on the parchment). So he ('Ali) showed him their place and he (the Holy Prophet) struck them out; and 'Ali wrote: Ibn 'Abdullah. (According to the terms of the treaty, next year) the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stayed there for three days When it was the third day, they said to 'Ali: This is the last day according to the terms of your companion. So tell him to leave. 'Ali informed the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) accordingly. He said: Yes, and left (the city). Ibn Janab in his version of the tradition used: we would swear allegiance to you instead of we would follow you .
اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور احمد بن جناب مصیصی دونوں نے عیسیٰ بن یونس سے ۔ ۔ لفظ اسحاق کے ہیں ۔ ۔ روایت کی ، کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، ہمیں زکریا نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے پاس روک لیا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ والوں نے اس بات پر صلح کی کہ ( آئندہ سال ) مکہ میں داخل ہوں اور تین دن تک اس میں رہیں اور ہتھیار رکھنے کے تھیلوں : تلوار اور اس کے نیام کے علاوہ ( کوئی ہتھیار لے کر ) اس شہر میں داخل نہ ہوں اور کسی مکہ والے کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں اور ان کے ساتھ آنے والوں میں سے جو وہاں رہ جائے ( مشرکوں کا ساتھ قبول کر لے ) تو اس کو منع نہ کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : "" اس شرط کو ہمارے درمیان لکھو بسم الله الرحمن الرحيم یہ ہے جس پر باہمی فیصلہ کیا اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ "" مشرک بولے : اگر ہم یہ یقین جانتے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو آپ کی پیروی کرتے ، بلکہ یوں لکھیے : "" محمد بن عبداللہ نے ۔ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ان ( الفاظ ) کو مٹا دیں ۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! میں ( اپنے ہاتھ سے ) نہ مٹاؤں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اچھا ، مجھے اس ( جملے ) کی جگہ دکھاؤ ۔ "" حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دکھا دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مٹا دیا اور ابن عبداللہ لکھ دیا ( جب حسبِ معاہدہ اگلے سال آ کر عمرہ ادا فرمایا ) تو تین روز ہی مکہ معظمہ میں رہے ۔ جب تیسرا دن ہوا تو مشرکوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : یہ تمہارے صاحب کی شرط کا آخری دن ہے ، ان سے کہو : اب وہ چلے جائیں ، انہوں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اچھا ۔ "" اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ سے ) نکل آئے ۔ ابن جناب نے "" ہم آپ کی پیروی کرتے "" کے بجائے "" ہم آپ کی بیعت کرتے ۔ "" کہا
4631
Sahih
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «اكْتُبْ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»، قَالَ سُهَيْلٌ: أَمَّا بِاسْمِ اللهِ، فَمَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَلَكِنِ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِكَ اللهُمَّ، فَقَالَ: «اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ»، قَالُوا: لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ لَاتَّبَعْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبِ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ»، فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ، وَمَنْ جَاءَكُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَكْتُبُ هَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللهُ، وَمَنْ جَاءَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا
It has been narrated on the authority of Anas that the Quraish made peace with the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Among them was Suhail b. Amr. The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to 'Ali: Write In the name of Allah, most Gracious and most Merciful. Suhail said: As for Bismillah, we do not know what is meant by Bismillah-ir-Rahman-ir-Rahim (In the name of Allah most Gracious and most Merciful). But write what we understand, i. e. Bi ismika allahumma (in thy name. O Allah). Then, the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Write: From Muhammad, the Messenger of Allah. They said: If we knew that thou welt the Messenger of Allah, we would follow you. Therefore, write your name and the name of your father. So the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Write From Muhammad b. 'Abdullah. They laid the condition on the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that anyone who joined them from the Muslims, the Meccans would not return him, and anyone who joined you (the Muslims) from them, you would send him back to them. The Companions said: Messenger of Allah, should we write this? He said: Yes. One who goes away from us to join them-may Allah keep him away! and one who comes to join us from them (and is sent back) Allah will provide him relief and a way of escape.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مصالحت کی ، ان میں سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : " لکھو : بسم الله الرحمن الرحيم سہیل کہنے لگے : جہاں تک بسم اللہ کا تعلق ہے تو ہم بسم الله الرحمن الرحيم کو نہیں جانتے ، لیکن وہ لکھو جسے ہم جانتے ہیں : باسمك اللهم پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لکھو : محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ۔ " وہ لوگ کہنے لگے : اگر ہم یقین جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کی پیروی کرتے ، لیکن اپنا اور اپنے والد کا نام لکھو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لکھو : محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ۔ " ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شرط لگائی کہ آپ لوگوں میں سے ( ہمارے پاس ) آ جائے گا ہم اسے آپ لوگوں کو واپس نہ کریں گے اور ہم میں سے جو آپ کے پاس آیا آپ اسے ہم کو واپس کر دیں گے ۔ ( صحابہ نے ) پوچھا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ لکھ دیں؟ فرمایا : " ہاں ، ہم میں سے جو شخص ان کے پاس چلا گیا تو اسے اللہ نے ہم سے دور کر دیا اور ان میں سے جو ہمارے پاس آئے گا اللہ اس کے لیے کشادگی اور نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا
4632
Sahih
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَوْمَ صِفِّينَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا، وَذَلِكَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ قَالَ: «بَلَى»، قَالَ: أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: «بَلَى»، قَالَ: فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، وَنَرْجِعُ، وَلَمَّا يَحْكُمِ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَقَالَ: «يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنِّي رَسُولُ اللهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللهُ أَبَدًا»، قَالَ: فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا، فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللهُ أَبَدًا، قَالَ: فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَتْحِ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ، فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَوْ فَتْحٌ هُو؟ قَالَ: «نَعَمْ»، فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ
It has been narrated on the authority of Abu Wa'il who said: Sahal b. Hunaif stood up on the Day of Siffin and said: O ye people, blame yourselves (for want of discretion) ; we were with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the Day of Hudaibiya. If we had thought it fit to fight, we could fight. This was in the truce between the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and the polytheists. Umar b. Khattab came, approached the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Messenger of Allah, aren't we fighting for truth and they for falsehood? He replied: By all means. He asked: Are not those killed from our side in Paradise and those killed. from their side in the Fire? He replied: Yes. He said: Then why should we put a blot upon our religion and return, while Allah has not decided the issue between them and ourselves? He said: Son of Khattab, I am the Messenger of Allah. Allah will never ruin me. (The narrator said): Umar went away, but he could not contain himself with rage. So he approached Abu Bakr and said: 'Abu Bakr, aren't we fighting for truth and they for falsehood? He replied: Yes. He asked: Aren't those killed from our side in Paradise and those killed from their side in the Fire? He replied: Why not? He (then) said: Why should we then disgrace our religion and return while God has not yet decided the issue between them and ourselves? Abu Bakr said: Son of Khattab, verily, he is the Messenger of Allah, and Allah will never ruin him. (The narrator continued): At this (a Sura of) the Qur'an (giving glad tidings of the victory) was revealed to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He sent for Umar and made him read it. He asked: Is (this truce) a victory? He (the Messenger of Allah) replied: Yes. At this Umar was pleased, and returned.
حبیب بن ابی ثابت نے ابووائل ( شقیق ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے روز کھڑے ہوئے اور ( لوگوں کو مخاطب کر کے ) کہا : لوگو! ( امیر المومنین پر الزام لگانے کے بجائے ) خود کو الزام دو ( صلح کو مسترد کر کے اللہ اور اس کے بتائے ہوئے راستے سے تم ہٹ رہے ہو ) ہم حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور اگر ہم جنگ ( ہی کو ناگزیر ) دیکھتے تو جنگ کر گزرتے ۔ یہ اس صلح کا واقعہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی ۔ ( اب تو مسلمانوں کے دو گروہوں کا معاملہ ہے ۔ ) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ آپ نے فرمایا : " کیوں نہیں! " عرض کی : کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول آگ میں نہ جائیں گے؟ فرمایا : " کیوں نہیں! " عرض کی : تو ہم اپنے دین میں نیچے لگ کر ( صلح ) کیوں کریں ( نیچے لگ کر کیوں صلح کریں؟ ) اور اس طرح کیوں لوٹ جائیں کہ اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " خطاب کے بیٹے! میں اللہ کا رسول ہوں ، ( اس کے حکم سے صلح کر رہا ہوں ) اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا ۔ " کہا : عمر رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں چل پڑے اور صبر نہ کر سکے ۔ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ کہا : کیوں نہیں! کہا : کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول آگ میں نہیں؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو ہم اپنے دین میں نیچے لگ کر ( جیسی صلح وہ چاہتے ہیں انہیں ) کیوں دیں؟ اور اس طرح کیوں لوٹ جائیں کہ اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ تو انہوں نے کہا : ابن خطاب! وہ اللہ کے رسول ہیں ، اللہ انہیں ہرگز کبھی ضائع نہیں کرے گا ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح ( کی خوشخبری ) کے ساتھ قرآن اترا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں ( جو نازل ہوا تھا ) وہ پڑھوایا ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " تو ( اس پر ) عمر رضی اللہ رنہ کا دل خوش ہو گیا اور وہ لوٹ آئے
4633
Sahih
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، يَقُولُ بِصِفِّينَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ، وَاللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ، وَلَوْ أَنِّي أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ، وَاللهِ، مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ قَطُّ، إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلَّا أَمْرَكُمْ هَذَا»، لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ نُمَيْرٍ إِلَى أَمْرٍ قَطُّ
It has been narrated on the authority of Shaqiq who said: I heard Sahl b. Hunaif say at Siffin: O ye people, find fault with your (own) discretion. By Allah, on the Day of Abu Jandal (i. e. the day of Hudaibiya), I thought to myself that, if I could, I would reverse the order of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (the terms of the truce being unpalatable). By Allah, we have never hung our swords on our shoulders in any situation whatsoever except when they made easy for us to realise the goal envisaged by us, but this battle of yours (seems to be an exception). Ibn Numair (in his version) did not mention the words: In any situation whatsoever
ابوکریب محمد بن علاء اور محمد بن عبداللہ بن نمیر دونوں نے کہا : ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق ( بن سلمہ ابو وائل ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے صفین میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : لوگو! اپنی رائے پر ( غلط ہونے کا ) الزام لگاؤ ۔ اللہ کی قسم! میں نے ابوجندل ( کے واقعے ) کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( صلح کے ) معاملے کو رد کر سکتا تو رد کر دیتا ۔ اللہ کی قسم! ہم نے کبھی کسی کام کے لیے اپنے کندھوں پر تلواریں نہیں رکھیں تھیں مگر ان تلواروں نے ہمارے لیے ایسے معاملے تک پہنچنے میں آسانی کر دی جس کو ہم جانتے تھے ، سوائے تمہارے موجودہ معاملے کے ۔ ابن نمیر نے " کبھی کسی معاملے کے لیے " کے الفاظ بیان نہیں کیے
4634
Sahih
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا
The same tradition has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of A'mash. This version contains the words: Ila amrin yofzi'una instead of Ila amrin na'rifuhu.
جریر اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں : " ایسے کام کی طرف جو ہمیں مشکل میں مبتلا کر رہا تھا
4635
Sahih
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ بِصِفِّينَ، يَقُولُ: «اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَتَحْنَا مِنْهُ فِي خُصْمٍ، إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ
It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Abu Wa'il who said: I heard Sahl b. Hunaif say at Siffin: Blame (the hollowness) of your views about your religion. I thought to myself on the day of Abu Jandal that if I could turn down the order of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), I would. The situation was so difficult that if we mended it at one place, it was rent at another.
ابوحصین نے ابووائل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے صفین میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : اپنے دین کے مقابلے میں اپنی رائے پر الزام دھرو ۔ ابوجندل ( کے واقعے ) کے دن میں نے خود کو اس حالت میں دیکھا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو رد کر سکتا ( تو حاشا و کلا رد کر دیتا ۔ ) لیکن یہ معاملہ ایسا ہے کہ ہم اس کے ایک کونے کو مضبوط نہیں کر پاتے کہ ہمارے سامنے اس کا دوسرا کونا کھل جاتا ہے ۔ ( کیونکہ یہ مسلمانوں کا آپس میں اختلاف ہے
4636
Sahih
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ} [الفتح: 2] إِلَى قَوْلِهِ {فَوْزًا عَظِيمًا} [النساء: 73] مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَهُمْ يُخَالِطُهُمُ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ، وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ: «لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا»،
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik who said: When they (Companions of the Holy Prophet) were overwhelmed with grief and distress on his return from Hudaibiya where he had slaughtered his sacrificial beasts (not being allowed to proceed to Mecca), the Qur'anic verse: Inna fatahna... laka fathan mobinan to fauzan 'aziman, was revealed to him. (At this) he said: On me has descended a verse that is dearer to me than the whole world.
سعید بن ابی عروبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث سنائی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی ، کہا : جب آیت : ( إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ لِّيَغْفِرَ لَكَ ٱللَّـهُ ۔ ۔ ۔ فَوْزًا عَظِيمًا ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ ) تک اتری ( تو یہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیبیہ سے واپسی کا موقع تھا اور لوگوں کے دلوں میں غم اور دکھ کی کیفیت طاری تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں قربانی کے اونٹ نحر کر دیے تھے تو ( اس موقع پر ) آپ نے فرمایا : " مجھ پر ایک ایسی آیت نازل کی گئی ہے جو مجھے پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے
4637
Sahih
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ
This tradition has been narrated through a different chain of transmitters.
معتمر کے والد ( سلیمان ) ، ہمام اور شیبان سب نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کی طرح روایت کی
4638
Sahih

Chapters

50
01
Chapter: Permissibility of raiding the Kuffar, who have been reached with the call of Islam, without giving prior warning
حملے کی پیشگی اطلاع دیے بغیر ان کافرو ں پر دھاوا بولنا جائز ہے جن کو اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہے اور وہ (ابھی تک شرارت پر امادہ ہیں)
2 Hadith
02
Chapter: Ruler appointing leaders of expeditions and advising them of the etiquette of war, etc.
بھیجے گے دستو ں پر امام کا امیر مقرر کرنا اور ان کو جنگ کے آداب وغیرہ کی تلقین کرنا
4 Hadith
03
Chapter: The command to show leniency and avoid causing aversion (towards Islam)
آسانی پیدا کرنے اور دور نہ بھاگنے کا حکم
4 Hadith
04
Chapter: The prohibition of betrayal
بد عہدی کی حرمت
10 Hadith
05
Chapter: Permissibility of deceit in war
جنگ میں چال چلنا جائز ہے
2 Hadith
06
Chapter: It is disliked to wish to meet the enemy, and the command to be steadfast when meeting the enemy
جنگ میں دشمن سے مقابلہ کرنے کی آرزو کرنے کی ممانعت اور اگر مقابلہ ہو جائے تو صبر کرنے کیا حکم
2 Hadith
07
Chapter: It is recommended to pray for victory when meeting the enemy
دشمن سے مقابلہ کے وقت فتح کی دعا کرنا مستحب ہے
4 Hadith
08
Chapter: The prohibition of killing women and children in war
جنگ میں عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی حرمت
2 Hadith
09
Chapter: Permissibility of killing women and children in night raids, so long as it is not done deliberately
شب خون میں عورتوں اور بچوں کے بلا ارادہ قتل ہو جانے کا جواز
3 Hadith
10
Chapter: Permissibility of cutting down the trees of the Kuffar and burning them
کافروں کے درختوں کو کاٹنا اور جلانا جائز ہے
3 Hadith
11
Chapter: War booty has been made permissible for this Ummah only
اموال غنیمت کو خاص کر اس امت کے لیے حلال کیا گیا ہے
1 Hadith
12
Chapter: Spoils of War
اموال غنیمت کا بیان
10 Hadith
13
Chapter: The killer is entitled to the belongings of the one who is killed
مقتول سے چھینے گے مال کا حقدار اس کا قاتل ہے
7 Hadith
14
Chapter: Additional rewards, and ransoming muslims in return for prisoners
زائد عطیہ دینا اور قیدیوں کے ذریعے سے مسلمانوں کا فدیہ دینا
1 Hadith
15
Chapter: Ruling on Fai' (Booty acquired without fighting)
فے کا حکم
5 Hadith
16
Chapter: How booty is to be shared among the fighters
(جنگ میں)میں حاضر ہونے والوں میں غنیمت کا مال تقسیم کرنے کی کیفیت
2 Hadith
17
Chapter: The support of the angels during the Battle of Badr, and the permissibility of the spoils
غزوہ بدر میں فرشتوں کے ذریعے مدد اور مال غنیمت کے استعمال کی اجازت
1 Hadith
18
Chapter: Tying up and detaining captives, and the permissibility of releasing them without a ransom
قیدی کو باندھنے ‘اس کو محبوس کرنے اور اس پر احسان کرنے کا جواز
2 Hadith
19
Chapter: Expulsion of the Jews from the Hijaz
حجاز سے یہود کو جلاوطن کرنا
3 Hadith
20
Chapter: Expulsion of Jews and Christians from the Arabian Peninsula
یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکالنا
2 Hadith
21
Chapter: Permissibility of fighting those who break a treaty; Permissibility of letting besieged people surrender, subject to the judgement of a just person who is qualified to pass judgement
جو عہد شکنی کرے اس سے جنگ اور قلعہ بند لوگوںکو کسی باصلاحیت اور عادل حاکم(منصف )کے فیصلے کے سپرد کرنے کا جواز
6 Hadith
22
جنگ کے لیے فوری اقدام اور دو باہم مختلف کاموں میں سے زیادہ اہم کو مقدم رکھنا
1 Hadith
23
Chapter: The Muhajirun returned to the Ansar the gifts of trees and fruits when they became independent of means through the conquests
جب فتوحات کی وجہ سے مہاجرین کو ضرورت نہ رہی تو انھوں نے عطیے میں دیےدرخت اور پھل انصار کو واپس کر دیے
2 Hadith
24
دار الحرب میں سے غنیمت میں ملی خوراک میں سے کھانا جائز ہے
2 Hadith
25
Chapter: The Prophet (saws) wrote to Heraclius, the ruler of Syria, inviting him to Islam
شام کےباد شاہ ہرقل کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا نامئہ مبارک
2 Hadith
26
Chapter: The Prophet (saws) wrote to the Kings of the Kuffar, inviting them to Islam
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے کافروں کے باد شاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط لکھ بھیجے
3 Hadith
27
Chapter: The Battle of Hunain
غزوہ حنین
8 Hadith
28
Chapter: The Battle of At-Ta'if
غزوہ طائف
1 Hadith
29
Chapter: The Battle of Badr
غزوہ بدر
1 Hadith
30
Chapter: The conquest of Makkah
فتح مکہ
3 Hadith
31
Chapter: Removal of Idols from around the Ka'bah
کعبہ کے چاروں طرف سے بتوں کی صفائی
2 Hadith
32
Chapter: No man if Quraish is to be captured then killed, after the conquest
فتح مکہ کے بعد(کبھی ) کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کرنے کا حکم
2 Hadith
33
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
10 Hadith
34
Chapter: Upholding Covenants
ایفائے عہد
1 Hadith
35
Chapter: The Battle of Al-Ahzab (The Confederates)
غزوہ احزاب
1 Hadith
36
Chapter: The Battle of Uhud
غزوہ احد
7 Hadith
37
Chapter: The intense wrath of Allah towards the one who was killed by the messenger of Allah (saws)
جس شخص کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ قتل کریں اس پر اللہ کا شدید غضب (نازل ہوتا ہے )
1 Hadith
38
Chapter: The persecution suffered by the prophet (saws) at the hands of the idolaters and hypocrites
مشرکو ں اور منافقوں کی طرف سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کوپہنچنے والی ایذاء
10 Hadith
39
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) and his steadfastness in the face of the hypocrites' persecution
منافقوں کی اذیت رسانی پر نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی دعا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا صبر
3 Hadith
40
Chapter: The slaying of Abu Jahl
ابو جہل کا قتل
2 Hadith
41
Chapter: The slaying of Ka'b Bin Al-Ashraf, the Tagut of the Jews
یہود کے شیطان کعب بن اشرف کا قتل
1 Hadith
42
Chapter: The Battle of Khaibar
غزوہ خیبر
5 Hadith
43
Chapter: The Battle of Al-Ahzab (The Confederates), also known as Al-Khandaq (The Ditch)
غزوہ احزاب اور وہی غزوہ خندق ہے
7 Hadith
44
Chapter: The Battle of Dhu Qarad and other battles
ذی ‌قرد ‌لڑائیوں ‌كا ‌بیان
2 Hadith
45
Chapter: Women participating in military expeditions with the men
عورتوں کا مردو کے ساتھ مل کر جہاد کرنا
4 Hadith
46
Chapter: Women who take part in military expeditions are to be given a reward but not a regular share; And the prohibition of killing children of the enemy
جہاد میں شریک عورتوں کو عطیہ دیا دائے گا اور (باقاعدہ) حصہ نہیں نکالا جائے گانیز جنگ کرنے والوں کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت
8 Hadith
47
Chapter: The number of campaigns of the Prophet (saws)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے غزوات کی تعداد
7 Hadith
48
Chapter: The campaign of Dhat Ar-Riqa
غزوہ ذات الرقاع
1 Hadith
49
Chapter: It is disliked to seek the help of a disbeliever in wars (except in cases of necessity, or if he thinks well of the Muslims)
جہاد میں ضرورت کے سوا کسی کافل سے مدد لینا اور مسلمانوں میں اصس کا صائب الرائے سمجھا جانا ناپسندیدہ ہے
1 Hadith
50
Chapter: The words of the Prophet (saws): We (Prophets) have no heirs and whatever we leave behind is charity.
رسول اﷲ ﷺ کا قول کہ جو مال ہم چھوڑ جائیں اس کا کوئی وارب نہیں بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے۔
7 Hadith
No chapter matched that.