TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of menstruation - کتاب: حیض کا معنی و مفہوم - Book 4 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 4 of Sahih Muslim, with 30 chapters and 158 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

158 Hadith · 30 Chapters
Chapter: (Performing) wudu’ after eating camel meat
اونٹ کے گوشت سے وضو کرنا
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو ح، وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ح، وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated by another chain of transmitters.
عمرو ، اوزاعی اور یونس سب نے عقیل والی سندکے ساتھ زہری سے اسی طرح روایت بیان کی ۔
799
Sahih
Chapter: (Performing) wudu’ after eating camel meat
اونٹ کے گوشت سے وضو کرنا
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأُتِيَ بِهَدِيَّةٍ خُبْزٍ وَلَحْمٍ، فَأَكَلَ ثَلَاثَ لُقَمٍ، ثُمَّ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَمَا مَسَّ مَاءً»
Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) dressed himself, and then went out for prayer, when he was presented with bread and meat. He took three morsels out of that, and then offered prayer along with other people and did not touch water.
محمد بن عمرو بن حلحلہ نے محمد بن عمرو بن عطاء سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے اپنے کپڑے زیب تن فرمائے ، پھر نماز کے لیے نکلے تو آپ کو روٹی اور گوشت کا تحفہ پیش کیا گیا ، آپ نے تین لقمے تناول فرمائے ، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور پانی کو نہیں چھوا ۔
800
Sahih
Chapter: (Performing) wudu’ after eating camel meat
اونٹ کے گوشت سے وضو کرنا
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ حَلْحَلَةَ، وَفِيهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، شَهِدَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَلَّى وَلَمْ يَقُلْ بِالنَّاسِ
This hadith is narrated by Muhammad b. 'Amr b. Ata' with these words: I was with Ibn 'Abbas, and Ibn 'Abbas saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) doing like this, and it is also said that the words are: He (the Holy Prophet) offered prayer; and the word people is not mentioned.
امام مسلم نے ایک دوسری سند سے ولید بن کثیر کے واسطے سے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا : میں ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ تھا .... اس کے بعد انہوں نے ابن حلحلہ کی روایت کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عباس ؓ موجود تھے اور یہ کہ انہوں نے ( ابن عباس ) نے صلى بالناس ( آپﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ) کے بجائے صلى ( آپﷺ نے نماز پڑھی ) کہا ۔
801
Sahih
Chapter: (Performing) wudu’ after eating camel meat
اونٹ کے گوشت سے وضو کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَوَضَّأْ» قَالَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: «نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: «لَا»
Jabir b. Samura reported: A man asked the Messenger of Allah (may peace he upon him) whether he should perform ablution after (eating) mutton. He (the Messenger of Allah) said: Perform ablution it you so desire, and if you do not wish, do not perform it. He (again) asked: Should I perform ablution (after eating) camel's flesh? He said: Yes, perform ablution (after eating) camel's flesh. He (again) said: May I say prayer in the sheepfolds? He (the Messenger of Allah) said: Yes. He (the narrator) again said: May I say prayer where camels lie down? He (the Holy Prophet) said: No.
ابو کامل فضیل بن حسین جحدری نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے عثمان بن عبد اللہ بن موہب سے حدیث سنائی ، انہوں نے جعفر بن ابی ثور سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے پوچھا : کیا میں بکری کے گوشت سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا : چاہو تو وضو کر لو اور چاہو تو نہ کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اونٹ کے گوشت سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، اونٹ کے گوشت سے وضو کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : کیا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اونٹوں کے بٹھانے ک جگہ میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا : ’’نہیں ۔ ‘ ‘
802
Sahih
Chapter: (Performing) wudu’ after eating camel meat
اونٹ کے گوشت سے وضو کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، ح وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، كُلُّهُمْ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ
This hadith is also narrated by another chain of transmitters.
سماک ، عثمان بن عبد اللہ بن موہب اور اشعث بن ابی شعثاء سب نے جعفر بن ابی ثور سے ، انہوں نے جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ابو عوانہ سے ابو کامل نے روایت کی ۔
803
Sahih
Chapter: Evidence that if a person is certain that he is in a state of purity, then he doubts whether he has committed hadith (broken his wudu’), then he prays with his purity like that
اس امر کی دلیل کہ جسے (پہلے) طہارت کا یقین ہو، پھر اسے بے وضو ہونے کا شک گزرے تو اس کے لیے اسی طہارت کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ، يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: «لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ
Abbad b. Tamim reported from his uncle that a person made a complaint to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he entertained (doubt) as it something had happened to him breaking his ablution. He (the Holy Prophet) said: He should not return (from prayer) unless he hears a sound or perceives a smell (of passing wind). Abu Bakr and Zuhair b. Harb have pointed out in their narrations that it was 'Abdullah b. Zaid.
عمرو ناقد ، زہیر بن حرب اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے سعید ( بن مسیب ) اور عباد بن تمیم سے اور انہوں نے ان ( عباد ) کے چچا سے روایت کی کہ نبیﷺ سے ایک آدمی کے حوالے سے شکایت کی گئی کہ اسے یہ خیال آتا رہتا ہے کہ وہ نماز کے دوران میں کوئی چیز محسوس کرتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( وہ نماز سے ) نہ ہٹے یہاں تک کہ کوئی آواز سنے یا کوئی بو محسوس کرے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور زہیر بن حرب نے اپنی روایت میں ( عباد بن تمیم کے چچا کے بارے میں ) بتایا کہ وہ عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ہیں ۔
804
Sahih
Chapter: Evidence that if a person is certain that he is in a state of purity, then he doubts whether he has committed hadith (broken his wudu’), then he prays with his purity like that
اس امر کی دلیل کہ جسے (پہلے) طہارت کا یقین ہو، پھر اسے بے وضو ہونے کا شک گزرے تو اس کے لیے اسی طہارت کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے۔
) وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا، فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا، فَلَا يَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If any one of you has pain in his abdomen, but is doubtful whether or not anything has issued from him, be should not leave the mosque unless he hears a sound or perceives a smell.
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں تو ہر گز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کر لے ۔ ‘ ‘
805
Sahih
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: تُصُدِّقَ عَلَى مَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ بِشَاةٍ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ فَانْتَفَعْتُمْ بِهِ؟» فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ: «إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا
The freed slave-girl of Maimuna was given a goat in charity but it died. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to pass by that (carcass). Upon this be said: Why did you not take off its skin? You could put it to use, after tanning it. They (the Companions) said: It was dead. Upon, this he (the Messenger of Allah) said: Only its eating is prohibited. Abu bakr and Ibn Umar in their narrations said: It is narrated from Maimuna (may Allah be pleased with her).
یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، عن میمونہ کہا ( سند میں روایت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔ )
806
Sahih
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا» قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ. فَقَالَ: «إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا»
Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw a dead goat, which had been given in charity to the freed slave-girl of Maimuna. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Why don't you make use of its skin? They (the Companions around the Holy Prophet) said: It is dead. Upon this he said: It is the eating (of the dead animal) which is prohibited.
یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، عن میمونہ کہا ( سند میں روایت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔ )
807
Sahih
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِ رِوَايَةِ يُونُسَ
This hadith is narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters as transmitted by Yunus.
۔ ابن شہاب کے ایک اور شاگرد صالح نے بھی اسی سند سے یونس کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ۔ 809 ۔ سفیان نے عمرو
808
Sahih
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ -، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَطْرُوحَةٍ أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَّا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ؟»
Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to pass by a goat thrown (away) which had been in fact given to the freed slave-girl of Maimuna as charity. Upon this the Messenger of Allah (way peace he upon him) said: Why did they not get its skin? They had better tan it and make use of it.
سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے عطاء سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ ایک مردہ پڑی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جو میمونہؓ کی باندی کو بطور صدقہ دی گئی تھی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’انہوں نے اس کے چمڑے کو کیوں نہ اتارا ، وہ اس کو رنگ لیتے اور فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘
809
Sahih
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، مُنْذُ حِينٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ دَاجِنَةً كَانَتْ لِبَعْضِ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَاتَتْ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ؟»
Ibn'Abbas reported on the authority of Maimuna that someone amongst the wives of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had a domestic animal and it died. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Why did you not take off its skin and make use of that?
ابن جریج نے عمرو بن دینار سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ حضرت میمونہؓ نے انہیں بتایا کہ ایک بکری ، جو رسول اللہﷺ کی ایک بیوی کی تھی ، مر گئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تم نے اس کا چمڑا اتار کر اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا! ‘ ‘
810
Sahih
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ. فَقَالَ: «أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟»
Ibn 'Abbas reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to pass by (the dead body) of the goat which belonged to the freed slave-girl of Maimuna and said: Why did you not make use of its skin?
عبد الملک بن ابی سلیمان نے عطاء کے حوالے سے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ سیدہ میمونہؓ کی باندی کی ( مردہ ) بکری کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا! ‘ ‘
811
Sahih
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ وَعْلَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ»
Abdullah b. Abbas said: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: When the skin is tanned it becomes purified.
سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے ، انہوں نے عبد الرحمن بن وعلہ سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے حوالے سے خبر دی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ نے فرمایا : ’’جب چمڑے کو رنگ لیا جاتا ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘
812
Sahih
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ يَعْنِي حَدِيثَ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn 'Abbas by another chain of transmitters.
سفیان بن عیینہ ، عبد العزیز بن محمد اور سفیان ثوری نے مختلف سندوں کے ساتھ زید بن اسلم کی سابقہ سند کے ساتھ نبیﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی ، یعنی یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کی طرح ۔
813
Sahih
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، - قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ: - أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَئِيِّ، فَرْوًا فَمَسِسْتُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ تَمَسُّهُ؟ قَدْ سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ. وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ قَدْ ذَبَحُوهُ، وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ، وَيَأْتُونَا بِالسِّقَاءِ يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ، فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ، قَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «دِبَاغُهُ طَهُورُهُ
Abu al-Khair reported: I saw Ibn Wa'la al-Saba'i wear a fur. I touched it. He said: Why do you touch it? I asked Ibn 'Abbas saying: We are the inhabitants of the western regions, and there (live) with us Berbers and Magians. They bring with them rams and slaughter them, but we do not eat (the meat of the animals) slaughtered by them, and they come with skins full of fat. Upon this Ibn 'Abbas said: We asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about this and he said: Its tanning makes it pure.
۔ یزید بن ابی حبیب نے ابو خیر سے روایت کی کہ میں نے علی بن وعلہ سبائی کو ایک پوستین ( چمڑے کا کوٹ ) پہنے ہوئے دیکھا ، میں نے اسے چھوا تو اس نے کہا : اسے کیوں چھوتے ہو؟ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا تھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں اور ہمارے ساتھ بربر اور مجوسی ہوتے ہیں ، ہمارے پاس مینڈھا لایا جاتا ہے جسے انہوں نے ذبح کیا ہوتا ہے اور ہم ان کے ذبح کیے ہوئے جانور نہیں کھاتے ، وہ ہمارے پاس مشکیزہ لاتے ہیں جس میں وہ چربی ڈالتے ہیں ۔ تو ابن عباسؓ نے جواب دیا : ہم نے رسول اللہﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
814
Sahih
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَعْلَةَ السَّبَإِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ فَيَأْتِينَا الْمَجُوسُ بِالْأَسْقِيَةِ فِيهَا الْمَاءُ وَالْوَدَكُ، فَقَالَ: اشْرَبْ. فَقُلْتُ: أَرَأْيٌ تَرَاهُ؟ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «دِبَاغُهُ طَهُورُهُ»
Ibn Wa'la al-Saba'i reported: I asked 'Abdullah b. 'Abbas saying: We are the inhabitants of the western regions. The Magians come to us with skins full of water and fat. He said: Drink. I said to him: Is it your own opinion? Ibn Abbas said: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: Tanning purifies it (the skin).
۔ جعفر بن ربیعہ نے ابو خیر سے روایت کی ، کہا : مجھ سے ابن وعلہ سبائی نے بیان کیا کہ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں تو مجوسی ہمارے پاس پانی اور چربی کے مشکیزے لاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : پی لیا کرو ۔ میں نے پوچھا : کیا آپ اپنی رائےبتا رہے ہیں؟ ابن عباسؓ نے جواب دیا : میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سناے : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
815
Sahih
Chapter: Tayammum
تیمم (کابیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ - أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ - انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، «فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ»، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالُوا: أَلَا تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ «أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ»، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ «، قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي،» فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ: - وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ - «مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ»
A'isha reported: We went with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on one of his journeys and when we reached the place Baida' or Dhat al-jaish, my necklace was broken (and fell somewhere). The Messenger of Allah (way peace be upon him) along with other people stayed there for searching it. There was neither any water at that place nor was there any water with them (the Companions of the Holy Prophet). Some persons came to my father Abu Bakr and said: Do you see what 'A'isha has done? She has detained the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and persons accompanying him, and there is neither any water here or with them. So Abu Bakr came there and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was sleeping with his head on my thigh. He (Abu Bakr) said: You have detained the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and other persons and there is neither water here nor with them. She ('A'isha) said: Abu Bakr scolded me and uttered what Allah wanted him to utter and nudged my hips with his hand. And there was nothing to prevent me from stirring but for the fact that the messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was lying upon my thigh. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) slept till it was dawn at a waterless place. So Allah revealed the verses pertaining to tayammum and they (the Prophet and his Companions) performed tayammum. Usaid b. al-Hudair who was one of the leaders said: This is not the first of your blessings,0 Family to Abu Bakr. 'A'isha said: We made the came) stand which was my mount and found the necklace under it.
۔ عبد الرحمان بن قاسم ( بن محمد ) نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہﷺ کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ نکلے ، جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا ، رسول اللہﷺ اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے ، صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی آپ کے ساتھ رک گئے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر تھے نہ ان کے پاس پانی ( بچا ہوا ) تھا ۔ لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آئے اور کہا : کیا آپ کو پتہ نہیں ، عائشہؓ نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھ ( دوسرے ) لوگوں کو روک رکھا ہے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر ہیں اور نہ لوگوں کے پاس پانی بچا ہے ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تشریف لائے ( اس وقت ) رسول اللہﷺ میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے اور کہا : تم نے رسول اللہﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ نہ وہ پانی والی جگہ پر ہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے ۔ عائشہؓ نے فرمایا : حضرت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ کو منظور رتھا کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے ، مجھے صرف اس بات نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسو ل اللہﷺ کا سر میری ران پر تھا ، رسول اللہﷺ سوئے رہے اور پانی کے بغیر ہی صبح ہو گی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے تیمم کیا ۔ اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ، جو نقباء میں سے تھے ، کہا : اے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے خاندان! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا : ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا ۔
816
Sahih
Chapter: Tayammum
تیمم (کابیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ بِشْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ، «فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ» فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: «جَزَاكِ اللهُ خَيْرًا، فَوَاللهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ، إِلَّا جَعَلَ اللهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً»
A'isha reported she had borrowed from Asma' (her sister) a necklace and it was lost. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent men to search for it. As it was the time for prayer, they offered prayer without ablution (as water was not available there). When they came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), they made a complaint about it, and the verses pertaining to tayammum were revealed. Upon this Usaid b. Hadair said (to 'A'isha): May Allah grant you a good reward! Never has been there an occasion when you were beset with difficulty and Allah did not make you come out of that and made it an occasion of blessing for the Muslims.
ہشام کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء ؓ سے عاریتاً ہار لیا ، وہ گم ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا ۔ ان کی نماز کا وقت آ گیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی اور جب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس بات کی شکایت کی ، ( اس پر ) تیمم کی آیت اتری تو اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ( حضرت عائشہؓ سے ) کہا : اللہ آپ کو بہترین جزا دے ، اللہ کی قسم! آپ کو کبھی کوئی مشکل معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی سبیل پیدا کر دی اور اسی میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھ کر دی ۔
817
Sahih
Chapter: Tayammum
تیمم (کابیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا كَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا. فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: 43]. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى، لِعَبْدِ اللهِ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا» ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ، وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ، وَوَجْهَهُ فَقَالَ: عَبْدُ اللهِ أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ؟
Shaqiq reported: I was sitting in the company of Abdullah and Abu Musa when Abu Musa said: 0 'Abd al-Rahman (kunya of 'Abdullah b. Mas'ud), what would you like a man to do about the prayer if he experiences a seminal emission or has sexual intercourse but does not find water for a month? 'Abdullah said: He should not perform tayammum even if he does not find water for a month. 'Abdullah said: Then what about the verse in Sura Ma'ida: If you do not find water, betake yourself to clean dust ? 'Abdullah said: If they were granted concession on the basis of this verse, there is a possibility that they would perform tayammum with dust on finding water very cold for themselves. Abu Musa said to Abdullah: You have not heard the words of 'Ammar: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent me on an errand and I had a seminal emission, but could find no water, and rolled myself in dust just as a beast rolls itself. I came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then and made a mention of that to him and he (the Holy Prophet) said: It would have been enough for you to do thus. Then he struck the ground with his hands once and wiped his right hand with the help of his left hand and the exterior of his palms and his face. 'Abdullah said: Didn't you see that Umar was not fully satisfied with the words of 'Ammar only?
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) اور ابو موسیٰ ؓ کے بیٹھا ہوا تھا ۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا : ابو عبد الرحمن! بتائیےاگر انسان حالت جنابت میں ہو اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ اس پر حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے جواب دیا : وہ تیمم نہ کرے ، چاہے اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے ۔ اس پر ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہے : ’’تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو؟ ‘ ‘ اس پر عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جواب دیا : اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی گئی تو خطرہ ہے جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے ۔ ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے کہا : کیا آپ نے عمار کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام کے لیے بھیجا ، مجھے جنابت ہو گئی اور پانی نہ ملا تو میں چوپائے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا ( اور نماز پڑھ لی ) ، پھر میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا ۔ ‘ ‘ پھر آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ ایک بار زمین پر مارے ، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا ۔ تو عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے جواب دیا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ عمار کی بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے ۔ ( تفصیل آگے حدیث : 820 میں ہے ۔ )
818
Sahih

Chapters

30
01
Chapter: Touching a menstruating woman above the izar (waist wrapper)
حیض کے دوران میں کپڑوں میں ملبوس بیوی کے ساتھ لیٹنا
3 Hadith
02
Chapter: Lying down with a menstruating woman under a single cover
اوڑھنے کے ایک کپڑے میں حائضہ بیوی کے ساتھ ایک بستر میں لیٹنا
3 Hadith
03
Chapter: It is permissible for a menstruating woman to wash her husband’s head, and comb his hair; her leftovers are pure (tahir); and regarding reclining in her lap and reciting Qur’an
خصوصی ایام میں عورت کے لیےجائز ہے کہ وہ اپنے خاوند کا سر دھوئے اور اسے کنگھی کرے، اس کا جھوٹا پا ک ہے ، اس کی گود میں سر رکھنا اور اس (عالم) میں قرآن پڑھنا جائز ہے
10 Hadith
04
Chapter: Madhi (prostatic fluid)
مذی کا حکم
3 Hadith
05
Chapter: Washing the face and hands when waking from sleep
نیند سے بیدار ہو کر ہاتھ منہ دھونا
1 Hadith
06
Chapter: It is permissible for one who is junub to sleep, but it is recommended for him to perform wudu’, and wash his private parts if he wants to eat, drink, sleep, or have intercourse
حالت جنابت میں سونے کا جواز اور (اگر انسان کا) کچھ کھانے پینے ، سونے یا مجامعت کا ارادہ ہو تواعضائے مخصوصہ دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے
10 Hadith
07
Chapter: Women are obliged to perform ghusl if they emit fluid
عورت کی منی نکلے ( احتلام ہو ) تو اس پر نہانا لازم ہے
17 Hadith
08
Chapter: The amount of water with which it is recommended to perform ghusl in the case of janabah; a man and woman washing from a single vessel; one of them washing with the left-over water of the other
غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک ( ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا
14 Hadith
09
Chapter: It is recommended to pour water over the head, and elsewhere, three times
سر اور باقی جسم پر تین دفعہ پانی بہانا مستحب ہے
4 Hadith
10
Chapter: Ruling on the braids of a woman who is doing ghusl
غسل کرنے والی عورت کی چوٹیوں کا حکم
4 Hadith
11
Chapter: It is recommended for the woman who is performing ghusl following menses to apply a piece of cloth scented with musk to the site of the bleeding
حیض غسل کرنے والی عورت کے لیے مستحب ہے کہ وہ خون کی جگہ پر کستوری لگاروئی کا ٹکڑا استعمال کرے
5 Hadith
12
Chapter: The ghusl and the prayer of a woman who is suffering prolonged vaginal bleeding (istihadah)
مستحاضہ ( جس عورت کو استحاضہ ہو جائے )، اس کاغسل اور اس کی نماز
8 Hadith
13
Chapter: A menstruating woman is obliged to make up missed fasts but not prayers
حائضہ ے لیے روزے کی قضا واجب ہے ، نماز کی نہیں
3 Hadith
14
Chapter: Covering oneself with a garment and the like while performing ghusl
غسل کرنے والے کا کپڑے وغیرہ کے ذریعے سے پردہ کرنا
4 Hadith
15
Chapter: The prohibition of looking at `awrah
ستر کو دیکھنا حرام ہے
2 Hadith
16
Chapter: It is permissible to bathe naked when one is alone
تنہائی میں بے لباس ہو کر نہانا جائز ہے
1 Hadith
17
Chapter: Taking care to conceal one’s `awrah
ستر کی حفاظت پر توجہ دینا
3 Hadith
18
Chapter: Screening oneself when urinating
قضائے حاجت کرتے وقت کس چیز سے خود کو چھپایا جائے
1 Hadith
19
Chapter: At the beginning of Islam, intercourse did not necessitate ghusl unless semen was emitted, then that was abrogated and ghusl becomes obligatory for intercourse
پانی ( سے غسل) صرف (منی کے ) پانی ( کی وجہ ) سے ہے
8 Hadith
20
Chapter: Abrogation of “water is for water”, and that it is obligatory to perform ghusl when the two circumcised parts meet
’’پانی ، صرف پانی سے ہے ‘‘ منسوخ ہے اور ختنے کے مقاماتے کےملنے سے غسل ضروری ہے
4 Hadith
21
Chapter: Performing wudu’ after eating something that has been touched by fire
۔ ایسی چیز سے وضو (کا حکم) منسو ہونا جسے آگ نے چھوا ہو
4 Hadith
22
Chapter: (Performing) wudu’ after eating camel meat
اونٹ کے گوشت سے وضو کرنا
13 Hadith
23
Chapter: Evidence that if a person is certain that he is in a state of purity, then he doubts whether he has committed hadith (broken his wudu’), then he prays with his purity like that
اس امر کی دلیل کہ جسے (پہلے) طہارت کا یقین ہو، پھر اسے بے وضو ہونے کا شک گزرے تو اس کے لیے اسی طہارت کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے۔
2 Hadith
24
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
10 Hadith
25
Chapter: Tayammum
تیمم (کابیان
8 Hadith
26
Chapter: Evidence that the Muslim does not become impure
اس بات کی دلیل کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا
2 Hadith
27
Chapter: Remembering Allah, the Most High, when one is sexually impure, and at other times
جنابت وغیرہ کی صورت میں اللہ کا ذکر کرنا
1 Hadith
28
Chapter: It is permissible for one who has broken his wudu’ to eat, and there is nothing disliked about doing so, and wudu’ need not be done immediately
بے وضو شخص کے لیے کھانا جائز ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں اور وضو فوری طور پر کرنا ضروری نہیں
4 Hadith
29
Chapter: What should be said when entering the area in which one relieves himself
جب بیت الخلا میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو کیا کہے
2 Hadith
30
Chapter: Evidence that sleeping while sitting does not invalidate wudu’
اس بات کی دلیل کہ بیٹھے ہوئے انسان کے سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
4 Hadith
No chapter matched that.