TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of menstruation - کتاب: حیض کا معنی و مفہوم - Book 4 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 4 of Sahih Muslim, with 30 chapters and 158 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

158 Hadith · 30 Chapters
Chapter: Tayammum
تیمم (کابیان
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى، لِعَبْدِ اللهِ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا» وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ فَنَفَضَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ
This hadith is narrated by Shaqiq with the same chain of transmitters but with the alteration of these words: He (the Holy Prophet) struck hands upon the earth, and then shook them and then wiped his face and palm.
عبد الواحد نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ، کہا : ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا ... پھر ابو معاویہ کی ( سابقہ ) حدیث پورے واقعے سمیت بیان کی ، مگر یہ کہ انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا ۔ ‘ ‘ اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے ، ( پھر ) اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کیا ۔
819
Sahih
Chapter: Tayammum
تیمم (کابیان
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً فَقَالَ: لَا تُصَلِّ. فَقَالَ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الْأَرْضَ، ثُمَّ تَنْفُخَ، ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ، وَكَفَّيْكَ» فَقَالَ عُمَرُ: اتَّقِ اللهَ يَا عَمَّارُ قَالَ: إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ قَالَ الْحَكَمُ: وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، مِثْلَ حَدِيثِ ذَرٍّ قَالَ: وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ الَّذِي ذَكَرَ الْحَكَمُ، فَقَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ
Abd al-Rabmin b. Abza narrated It on the authority of his father that a man came to 'Umar and said: I am (at times) affected by seminal emission but find no water. He ('Umar) told him not to say prayer. 'Ammar then said. Do you remember,0 Commander of the Faithful, when I and you were in a military detachment and we had had a seminal emission and did not find water (for taking bath) and you did not say prayer, but as for myself I rolled in dust and said prayer, and (when it was mentioned before) the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It was enough for you to strike the ground with your hands and then blow (the dust) and then wipe your face and palms. Umar said: 'Ammar, fear Allah. He said: If you so like, I would not narrate it. A hadith like this has been transmitted with the same chain of transmitters but for the words: 'Umar said: We hold you responsible for what you claim.
۔ یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے حکم نے ذر ( بن عبد اللہ بن زرارہ ) سے ، انہوں نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آیا اور پوچھا : میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ۔ تو انہوں نے جواب دیا : نماز نہ پڑھ ۔ اس پر حضرت عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں ، جب میں اور آپ ایک فوجی دستے میں تھے تو ہم جنبی ہو گئے اور پانی نہ ملا تو آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا اور نماز پڑھ لی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے ، پھر ان میں پھونک مار کر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح کر لیتے ۔ ‘ ‘ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اے عمار! اللہ سے ڈرو ۔ ( عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) جواب دیا : اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ واقعہ بیان نہیں کرتا ۔ حکم نے کہا : یہی روایت مجھے ( ذر کے واسطے کے بغیر ) ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ نے اپنے والد سے براہ راست بھی سنائی جو بعینہ ذر کی حدیث کی طرح تھی ۔ کہا : مجھے سلمہ نے ذر کے حوالے سے حکم کی بیان کردہ سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : آپ نے جس چیز ( کی ذمہ داری ) کو اٹھا لیا ہے ہم اسے آپ ہی پر ڈالتے ہیں ( آپ اپنے اعتماد پر یہ روایت بیان کر سکتے ہیں ۔ )
820
Sahih
Chapter: Tayammum
تیمم (کابیان
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: قَالَ الْحَكَمُ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً. وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ عَمَّارٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ شِئْتَ لِمَا جَعَلَ اللهُ عَلَيَّ مِنْ حَقِّكَ لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا، وَلَمْ يَذْكُرْ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ
Abd al-Rahman b. Abza mnated it on the authority of his father that a man came to Umar and said: I have had a seminal emission but I found no water, and the rest of the hadith is the same but with this addition: 'Amr said: 0 Commander of the Faithful, because of the right given to you by Allah over me, if you desire, I would not narrate this hadith to anyone.
نضر بن شمیل نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آیا اور پوچھا : میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ۔ اس کے بعد ( مذکورہ بالا ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اے امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو آپ کے اس حق کی بنا پر جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رکھا ہے ، میں یہ حدیث کسی کو نہ سناؤں گا ۔ اور ( شعبہ نے یہاں ) مجھے سلمہ نے ذر حدیث بیان کی ( کے الفاظ ) کا ذکر نہیں کیا ۔
821
Sahih
Chapter: Tayammum
تیمم (کابیان
قَالَ مُسْلِمٌ، وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجَهْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجَهْمِ: «أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
Umair, the freed slave of Ibn 'Abbas, reported: I and 'Abd al-Rahmin b. Yasir, the freed slave of Maimuna, the wife of the Apostle (way peace be upon him). came to the house of Abu'l-Jahm b. al-Harith al-Simma Ansari and he said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came from the direction of Bi'r Jamal and a man met him; he saluted him but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made no response, till he (the Holy Prophet) came to the wall, wiped his face and hands and then returned his salutations.
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام عمیر بیان کرتے ہیں کہ میں اور عبد الرحمن بن یسار ، جو نبی اکرمﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ کے آزاد کردہ غلام تھے ، ابو جہم بن حارث بن صمہ انصاری کے پاس پہنچے تو ابو جہم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ بئر جمل ( نامی جگہ ) سے تشریف لائے تو آپ کو ایک آدمی ملا ، اس نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ ایک دیوار کی طرف بڑھے اور آپ نے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا ، پھر اس کے سلام کا جواب دیا ۔
822
Sahih
Chapter: Tayammum
تیمم (کابیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَجُلًا مَرَّ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ»
Ibn Umar reported: A person happened to pass by the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) when he was making water and saluted him, but he did not respond to his salutation.
حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، ایک آدمی گزرا جبکہ رسول اللہﷺ پیشاب کر رہے تھے ، تو اس نے سلام کہا ، آپ ﷺ نے اسے سلام کا جواب نہ دیا ۔
823
Sahih
Chapter: Evidence that the Muslim does not become impure
اس بات کی دلیل کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ، فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ. ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: كُنْتُ جُنُبًا. قَالَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ
Hudhaifa reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to meet him and he was (sexually) defiled, and he slipped away and took a bath and then came and said: I was (sexually) defiled. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: A Muslim is never defiled.
حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ وہ جنابت کی حالت میں تھے کہ رسول اللہﷺ مدینہ کے راستوں میں میں سے کسی راستے پر انہیں ملے تو وہ کھسک گئے اور جا کر غسل کیا ۔ نبیﷺ نے انہیں تلاش کروایا ۔ جب وہ آپ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا : ’’ابو ہریرہ! تم کہاں تھے؟ ‘ ‘ انہوں نے عرض کی! اے اللہ کے رسولﷺ! جب آپ مجھے ملے تو میں جنابت کی حالت میں تھا ، میں نے غسل کیے بغیر آپ کے پاس بیٹھنا پسند نہ کیا ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ! مومن ناپاک ( نجس ) نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘ ( یعنی اس طرح ناپاک نہیں ہوتا کہ اسے کوئی چھو جائے ، قریب بیٹھے یا اس سے ہاتھ ملائے تو وہ بھی ناپاک ہو جائے ۔ )
824
Sahih
Chapter: Evidence that the Muslim does not become impure
اس بات کی دلیل کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ، فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ. ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: كُنْتُ جُنُبًا. قَالَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ»
Hudhaifa reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to meet him and he was (sexually) defiled, and he slipped away and took a bath and then came and said: I was (sexually) defiled. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: A Muslim is never defiled.
حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ انہیں ملے جبکہ وہ جنبی تھے تو وہ آپﷺ سے دور ہٹ گئے اور غسل کیا ، پھر آ کر عرض کی کہ میں جنبی تھا ۔ آپﷺ نے فرمایا : ’’مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘
825
Sahih
Chapter: Remembering Allah, the Most High, when one is sexually impure, and at other times
جنابت وغیرہ کی صورت میں اللہ کا ذکر کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ»
A'isha said: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to remember Allah at all moments.
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے
826
Sahih
Chapter: It is permissible for one who has broken his wudu’ to eat, and there is nothing disliked about doing so, and wudu’ need not be done immediately
بے وضو شخص کے لیے کھانا جائز ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں اور وضو فوری طور پر کرنا ضروری نہیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، - قَالَ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ»، فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوءَ فَقَالَ: «أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ فَأَتَوَضَّأَ؟»
Ibn 'Abbas reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came out of the privy, and he was presented with some food, and the people reminded him about ablution, but he said: Am I to say prayer that I should perform ablution?
۔ حماد نے عمرو بن سے ، انہوں نے سعید بن حویرث سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کہ نبی اکرمﷺ ( ہاتھ دھو کر ) بیت الخلا سے نکلے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا ، لوگوں نے آپ سے وضو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( کیا ) میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کروں؟ ‘ ‘
827
Sahih
Chapter: It is permissible for one who has broken his wudu’ to eat, and there is nothing disliked about doing so, and wudu’ need not be done immediately
بے وضو شخص کے لیے کھانا جائز ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں اور وضو فوری طور پر کرنا ضروری نہیں
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ مِنَ الْغَائِطِ، وَأُتِيَ بِطَعَامٍ» فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: «لِمَ؟ أَأُصَلِّي فَأَتَوَضَّأَ؟
Ibn 'Abbas reported: We were with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he had come out of the privy. Food was presented to him. It was said to him (by the Companions around him): Wouldn't you perform ablution? Upon this he said: Why, am I to say prayer that I should perform ablution?
سفیان بن عیینہ نے عمرو سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہتے تھے کہ ہم نبی اکرمﷺ کے پاس تھے کہ آپ قضائے حاجت کی جگہ سے ( ہاتھ دھو کر ) آئے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا ، آپ سے عرض کی گئی : کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا : کس لیے؟ کیا مجھے نماز پڑھنی ہے کہ وضو کروں؟ ‘ ‘
828
Sahih
Chapter: It is permissible for one who has broken his wudu’ to eat, and there is nothing disliked about doing so, and wudu’ need not be done immediately
بے وضو شخص کے لیے کھانا جائز ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں اور وضو فوری طور پر کرنا ضروری نہیں
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، مَوْلَى آلِ السَّائِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: «ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا جَاءَ قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَوَضَّأُ؟ قَالَ: «لِمَ؟ أَلِلصَّلَاةِ؟»
Ibn 'Abbas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went to the privy and when he came back, he was presented with food. It was said to him; Messenger of Allah, wouldn't you perform ablution. He said: Why, am I to say prayer?
محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو ( یہ ) کہتے ہوئے سنا : اللہ کے رسولﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، جب آپ آئے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا ، آپ سے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گئے؟ آپ نے جواب دیا : ’’کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟ ‘ ‘
829
Sahih
Chapter: It is permissible for one who has broken his wudu’ to eat, and there is nothing disliked about doing so, and wudu’ need not be done immediately
بے وضو شخص کے لیے کھانا جائز ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں اور وضو فوری طور پر کرنا ضروری نہیں
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى حَاجَتَهُ مِنَ الْخَلَاءِ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَأَكَلَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً»، قَالَ: وَزَادَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: إِنَّكَ لَمْ تَوَضَّأْ؟ قَالَ: «مَا أَرَدْتُ صَلَاةً فَأَتَوَضَّأَ» وَزَعَمَ عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ
Ibn Abbas, reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came out of the privy after relieving himself, and food was brought to him and he took it, and did not touch water. In another narration transmitted by Sa'id b. al-Huwairith it is like this: It was said to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) You have not performed ablution. He said: I do not intend to say prayer that I should perform ablution.
اس نے سعید بن حویرث سے سنا ہے ۔
830
Sahih
Chapter: What should be said when entering the area in which one relieves himself
جب بیت الخلا میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو کیا کہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ يَحْيَى: أَيْضًا أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، - فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ وَفِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ، - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَنِيفَ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ»
Anas reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) entered the privy, and in the hadith transmitted by Hushaim (the words are): When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) entered the lavatory, be used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from wicked and noxious things.
یحییٰ بن یحییٰ نے حماد بن زید اور ہشیم سے ، ان دونوں نے عبد العزیز بن صہیب سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ( حماد کی حدیث میں ہے : رسول اللہﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور ہشیم کے الفاظ ہیں : جب کسی اوٹ والی جگہ میں داخل ہوتے ) تو فرماتے : ’’اے اللہ! میں نر اور مادہ دونوں قسم کی خبیث مخلوق سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ ‘ ‘
831
Sahih
Chapter: What should be said when entering the area in which one relieves himself
جب بیت الخلا میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو کیا کہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: «أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ»
This hadith is also transmitted by 'Abd al-'Aziz with the same chain of transmitters, and the words are: I seek refuge with Allah from the wicked and noxious things.
اسماعیل بن علیہ نے اسی مذکورہ بالا سند کے ساتھ عبد العزیز سے روایت بیان کی اور ( دعا کے ) یہ الفاظ بیان کیے : أعوذ بالله من الخبث والخبائث ’’میں نر اور مادہ دونوں قسم کی خبیث مخلوق سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔ ‘ ‘
832
Sahih
Chapter: Evidence that sleeping while sitting does not invalidate wudu’
اس بات کی دلیل کہ بیٹھے ہوئے انسان کے سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح، وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ - وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ: وَنَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي الرَّجُلَ - فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ
Anas reported: (The people) stood up for prayer and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was whispering to a man, and in the narration of 'Abd al-Warith (the words are): The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was having a private conversation with a man, and did not start the prayer till the people dozed off.
اسماعیل بن علیہ اور عبد الوارث دونوں نے عبد العزیز سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی اور رسول اللہﷺ ایک آدمی سے بہت قریب ہو کر آہستہ آہستہ بات کر رہے تھے ۔ ( عبد الوارث کی روایت میں ورسول الله ﷺ نجي لرجل کے بجائے ونبی اللہ ﷺ یناجی الرجل آپ ایک آدمی سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے ہے ۔ مفہوم ایک ہے ) تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ ( بیٹھےبیٹھے ) سو گئے ۔
833
Sahih
Chapter: Evidence that sleeping while sitting does not invalidate wudu’
اس بات کی دلیل کہ بیٹھے ہوئے انسان کے سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: «أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي رَجُلًا فَلَمْ يَزَلْ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِهِمْ»
Anas b. Malik reported: (The people) stood up for prayer and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was talking in whispers with a man, and he did not discontinue the conversation till his Companions dozed off; he then came and led the prayer.
شعبہ نے عبد العزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو کہتے ہوئے سنا : نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی جبکہ رسول اللہﷺ ایک آدمی سے شرگوشی فرما رہے تھے ۔ آپ اس سے سرگوشی فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ کے ساتھی ( بیٹھے بیٹھے ) سو گئے ، اس کےبعد آپ آئے اور انہیں نماز پڑھائی ۔
834
Sahih
Chapter: Evidence that sleeping while sitting does not invalidate wudu’
اس بات کی دلیل کہ بیٹھے ہوئے انسان کے سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: «كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ» قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ: إِي وَاللهِ
Qatida reported: I heard Anas as saying that the Companion of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) dozed off and then offered prayer and did not perform ablution. He (the narrator) said: I asked him if he had actually heard it from Anas. He said: By Allah. yes.
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ ( بیٹھے بیٹھے ) سو جاتے تھے ، پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھ لیتے ۔ ( شعبہ کہتے ہیں : ) میں نے ( قتادہ سے ) پوچھا : آپ نے یہ حدیث انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں! اللہ کی قسم!
835
Sahih
Chapter: Evidence that sleeping while sitting does not invalidate wudu’
اس بات کی دلیل کہ بیٹھے ہوئے انسان کے سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ: لِي حَاجَةٌ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ - أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ - ثُمَّ صَلَّوْا
Anas reported: (The people) stood up for the night prayer when a man spoke forth: I need to say something. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) entered into secret conversation with him, till the people dozed off or some of the people (dozed off), and then they said the prayer.
ثابت نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی تو ایک آدمی نے ( رسول اللہ سے ) کہا : میرا ایک کام ہے ، چنانچہ آپﷺ کھڑے ہو کر اس سے سرگوشی کرنے لگے حتیٰ کہ لوگ یا کچھ لوگ ( بیٹھے بیٹھے ) سو گئے ، پھر سب نے نماز پڑھی ۔
836
Sahih

Chapters

30
01
Chapter: Touching a menstruating woman above the izar (waist wrapper)
حیض کے دوران میں کپڑوں میں ملبوس بیوی کے ساتھ لیٹنا
3 Hadith
02
Chapter: Lying down with a menstruating woman under a single cover
اوڑھنے کے ایک کپڑے میں حائضہ بیوی کے ساتھ ایک بستر میں لیٹنا
3 Hadith
03
Chapter: It is permissible for a menstruating woman to wash her husband’s head, and comb his hair; her leftovers are pure (tahir); and regarding reclining in her lap and reciting Qur’an
خصوصی ایام میں عورت کے لیےجائز ہے کہ وہ اپنے خاوند کا سر دھوئے اور اسے کنگھی کرے، اس کا جھوٹا پا ک ہے ، اس کی گود میں سر رکھنا اور اس (عالم) میں قرآن پڑھنا جائز ہے
10 Hadith
04
Chapter: Madhi (prostatic fluid)
مذی کا حکم
3 Hadith
05
Chapter: Washing the face and hands when waking from sleep
نیند سے بیدار ہو کر ہاتھ منہ دھونا
1 Hadith
06
Chapter: It is permissible for one who is junub to sleep, but it is recommended for him to perform wudu’, and wash his private parts if he wants to eat, drink, sleep, or have intercourse
حالت جنابت میں سونے کا جواز اور (اگر انسان کا) کچھ کھانے پینے ، سونے یا مجامعت کا ارادہ ہو تواعضائے مخصوصہ دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے
10 Hadith
07
Chapter: Women are obliged to perform ghusl if they emit fluid
عورت کی منی نکلے ( احتلام ہو ) تو اس پر نہانا لازم ہے
17 Hadith
08
Chapter: The amount of water with which it is recommended to perform ghusl in the case of janabah; a man and woman washing from a single vessel; one of them washing with the left-over water of the other
غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک ( ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا
14 Hadith
09
Chapter: It is recommended to pour water over the head, and elsewhere, three times
سر اور باقی جسم پر تین دفعہ پانی بہانا مستحب ہے
4 Hadith
10
Chapter: Ruling on the braids of a woman who is doing ghusl
غسل کرنے والی عورت کی چوٹیوں کا حکم
4 Hadith
11
Chapter: It is recommended for the woman who is performing ghusl following menses to apply a piece of cloth scented with musk to the site of the bleeding
حیض غسل کرنے والی عورت کے لیے مستحب ہے کہ وہ خون کی جگہ پر کستوری لگاروئی کا ٹکڑا استعمال کرے
5 Hadith
12
Chapter: The ghusl and the prayer of a woman who is suffering prolonged vaginal bleeding (istihadah)
مستحاضہ ( جس عورت کو استحاضہ ہو جائے )، اس کاغسل اور اس کی نماز
8 Hadith
13
Chapter: A menstruating woman is obliged to make up missed fasts but not prayers
حائضہ ے لیے روزے کی قضا واجب ہے ، نماز کی نہیں
3 Hadith
14
Chapter: Covering oneself with a garment and the like while performing ghusl
غسل کرنے والے کا کپڑے وغیرہ کے ذریعے سے پردہ کرنا
4 Hadith
15
Chapter: The prohibition of looking at `awrah
ستر کو دیکھنا حرام ہے
2 Hadith
16
Chapter: It is permissible to bathe naked when one is alone
تنہائی میں بے لباس ہو کر نہانا جائز ہے
1 Hadith
17
Chapter: Taking care to conceal one’s `awrah
ستر کی حفاظت پر توجہ دینا
3 Hadith
18
Chapter: Screening oneself when urinating
قضائے حاجت کرتے وقت کس چیز سے خود کو چھپایا جائے
1 Hadith
19
Chapter: At the beginning of Islam, intercourse did not necessitate ghusl unless semen was emitted, then that was abrogated and ghusl becomes obligatory for intercourse
پانی ( سے غسل) صرف (منی کے ) پانی ( کی وجہ ) سے ہے
8 Hadith
20
Chapter: Abrogation of “water is for water”, and that it is obligatory to perform ghusl when the two circumcised parts meet
’’پانی ، صرف پانی سے ہے ‘‘ منسوخ ہے اور ختنے کے مقاماتے کےملنے سے غسل ضروری ہے
4 Hadith
21
Chapter: Performing wudu’ after eating something that has been touched by fire
۔ ایسی چیز سے وضو (کا حکم) منسو ہونا جسے آگ نے چھوا ہو
4 Hadith
22
Chapter: (Performing) wudu’ after eating camel meat
اونٹ کے گوشت سے وضو کرنا
13 Hadith
23
Chapter: Evidence that if a person is certain that he is in a state of purity, then he doubts whether he has committed hadith (broken his wudu’), then he prays with his purity like that
اس امر کی دلیل کہ جسے (پہلے) طہارت کا یقین ہو، پھر اسے بے وضو ہونے کا شک گزرے تو اس کے لیے اسی طہارت کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے۔
2 Hadith
24
Chapter: Hides of dead animals are purified by tanning
مرے ہوئے جانور کا چمڑہ رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے:
10 Hadith
25
Chapter: Tayammum
تیمم (کابیان
8 Hadith
26
Chapter: Evidence that the Muslim does not become impure
اس بات کی دلیل کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا
2 Hadith
27
Chapter: Remembering Allah, the Most High, when one is sexually impure, and at other times
جنابت وغیرہ کی صورت میں اللہ کا ذکر کرنا
1 Hadith
28
Chapter: It is permissible for one who has broken his wudu’ to eat, and there is nothing disliked about doing so, and wudu’ need not be done immediately
بے وضو شخص کے لیے کھانا جائز ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں اور وضو فوری طور پر کرنا ضروری نہیں
4 Hadith
29
Chapter: What should be said when entering the area in which one relieves himself
جب بیت الخلا میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو کیا کہے
2 Hadith
30
Chapter: Evidence that sleeping while sitting does not invalidate wudu’
اس بات کی دلیل کہ بیٹھے ہوئے انسان کے سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
4 Hadith
No chapter matched that.