TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 7447 صحیح مسلم

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 31 of 47 in this chapter
دنیا میں مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ ثَلَاثًا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ
A'isha reported: Never could the family of Muhammad (may peace. be upon him) (afford to eat) the bread of wheat for three (successive days) until he ran the course of his life
حفص بن غیاث نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھو ں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی تین دن سیر ہو کر گندم کی روٹی کھائی یہاں تک کہ آپ اپنی راہ پر روانہ ہو گئے ۔
7447
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

290
1
Chapter: What Has Been Related About 'The World Is A Prison For The Believer And A Paradise For The Disbeliever
باب: دنیا مومن کے لیے قید خانہ (جیل) اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے
Jam e Tirmazi
2
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
Musnad Ahmad
3
Chapter: The Vastaess Of Allah's Mercy, Which Prevails Over His Wrath
مومنوں پر اللہ کی رحمت کی وسعت اور دوزخ سے نجات کے لیے ہر مسلمان کے عوض ایک کافر کا فدیہ
Sahih Muslim
4
Chapter: The Believer Is Rewarded For His Good Deeds In This World, And In The Hereafter, And The Disbeliever Is Rewarded For His Good Deeds In This World
مومن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دینا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کو اس کی نیکیوں کا صلہ فوری طور پر دنیا ہی میں مل جاتا ہے
Sahih Muslim
5
Chapter: What Has Been Related About One Who Fights For Show And For Worldly Matters
باب: ریا و نمود اور دنیا طلبی کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About: The Believer Eats With One Intestine [And The Disbeliever Eats With Seven Intestines]
باب: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنت میں
Jam e Tirmazi
7
باب: آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان​
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About What Suffices A Man From All His Wealth
باب: دنیا میں آدمی کے لیے صرف خادم اور جہاد کے لیے سواری کافی ہے
Jam e Tirmazi
9
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
10
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
Musnad Ahmad
11
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
12
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
Musnad Ahmad
13
ذوالخلصہ نامی بت خانہ کو منہدم کرنے کے لیے سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مہم کا بیان
Musnad Ahmad
14
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
15
(19) CHAPTER. What the Prophet (p.b.u.h) used to give to those Muslims whose faith was not so firm, and to other Muslims, from the Khumus or other resources.
تالیف قلوب کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض کافروں وغیرہ نو مسلموں یا پرانے مسلمانوں کو خمس میں سے دینا
Sahih Bukhari
16
(12) CHAPTER. A believer eats in one intestine (i.e., he is satisfied with a little food).
مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ( اور کافر سات آنتوں میں ) اس باب میں ایک حدیث مرفوع حضرت ابوہریرہ رضیاللہعنہ سے مروی ہے
Sahih Bukhari
17
(35) CHAPTER. Whoever invited a man to a meal and then went to carry on his job.
صاحب خانہ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ مہمان کے ساتھ آپ بھی وہ کھائے ۔
Sahih Bukhari
18
(2) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) sent Az-Zubair alone to get information regarding the enemy.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زبیر رضیاللہعنہ کو اکیلے کافروں کی خبر لانے کے لیے بھیجنا
Sahih Bukhari
19
Chapter: Clarifying that no one will enter paradise but the believers; loving the believers is part of faith and spreading Salam is a means of attaining that
جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا مومنوں سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے اور اسلام کوعام کرنے اس محبت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے
Sahih Muslim
20
Chapter: Emphatic prohibition against stealing from the spoils of war; and that no one will enter paradise except the believers
مال غنیمت میں خیانت کی شدید حرمت اور یہ کہ جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے
Sahih Muslim
21
Chapter: Regarding the saying of the Prophet (saws): I will be the first of the people to intercede concerning Paradise, and I will be the Prophet with the Greatest Number of Followers.
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان ہے :’’میں لوگوں میں سب سے پہلا ہوں جوجنت کے بارے میں سفارش کرے گا، اور سب انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے
Sahih Muslim
22
Chapter: The Prophet (saws) wrote to the Kings of the Kuffar, inviting them to Islam
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے کافروں کے باد شاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط لکھ بھیجے
Sahih Muslim
23
Chapter: The Prohibition Of Suspicion, Spying, Competition, Artificial Inflation Of Prices, And So On
باب: بدگمانی، تجسس، دنیاوی معاملات میں مقابلہ بازی اور دھوکے سے ایک دوسرے کے لیے قیمتیں بڑھانے وغیرہ کی ممانعت
Sahih Muslim
24
Chapter: Glad Tidings That Whomever Allah Conceals In This World He Will Conceal Him In The Hereafter
جس کی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پردہ پوشی کی اس کے لیے بشارت ہے کہ وہ آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا
Sahih Muslim
25
Chapter: The Most Affluent Of People In This World Will Be Dipped In The Fire, And The Most Destitute Will Be Dipped In Paradise
دنیاوالوں میں سب سے زیادہ نعمتوں والے کو جہنم میں ایک ڈبکی لگانا اور ان میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانے والے کو جنت(کی نہروں) میں ایک غوطہ لگانا
Sahih Muslim
26
Chapter: The Believer Is Like A Plant And The Hypocrite And The Disbeliever Are Like Cedars
مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے اور کافر ومنافق کی دیوار درخت کی طرح ہے
Sahih Muslim
27
Chapter: Rivers Of Paradise In This World
دنیا میں جنت کی(طرف سےآئی ہوئی )جو نہریں ہیں
Sahih Muslim
28
Chapter: The Arrogant Will Enter The Fire, And The Humble Will Enter Paradise
آگ میں سرکش اور جبر کرنے والے لوگ داخل ہوں گے اور جنت میں(اسباب دنیا کے لحاظ سے) کمزور لوگ داخل ہوں گے
Sahih Muslim
29
Chapter: Attributes By Which The People Of Paradise And The People Of The Fire May Be Recognized In This World
وہ صفات جن کے ذریعے سے دنیا میں اہل جنت اور اہل جہنم کی پہچان ہو سکتی ہے
Sahih Muslim
30
CHAPTER: Seclusion While Relieving Oneself
باب: قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے تنہائی کی جگہ میں جانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
31
CHAPTER: Ragarding The Judgement For The Spy When He Is A Muslim.
باب: جاسوس اگر مسلمان ہو اور کافروں کے لیے جاسوسی کرے تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: Regarding A Spy Who Is Under Protection (In A Muslim Territory).
باب: جو کافر امن لے کر مسلمانوں میں جاسوسی کے لیے آیا ہو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: Making Endowments Of The Lands Of As-Sawad, And The Lands That Were Conquered By Force.
باب: کافروں سے جنگ میں ہاتھ آ نے والی نیز سواد نامی علاقے کی زمینوں کو مصالح عامہ کے لیے روک رکھنے اور اسے غنیمت میں تقسیم نہ کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
34
پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
35
مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنت میں کھاتا ہے
Sunnan Ibn e Maja
36
جس نے دنیا میں شراب پی اسے آخرت میں جنت کی (پاک) شراب نہ ملے گی
Sunnan Ibn e Maja
37
باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہونے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
39
(4)Chapter: What Is Said When entering The Toilet
باب: بیت الخلاء (پاخانہ) میں داخل ہونے کے وقت کی دعا​
Jam e Tirmazi
40
5)Chapter: What Is Said When Exiting The Toilet
باب: بیت الخلاء (پاخانہ) سے نکلتے وقت کی دعا​
Jam e Tirmazi
41
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
42
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنے کی رخصت​
Jam e Tirmazi
43
(108)Chapter: What Has Been Related About When Standing For The Prayer, And One Of You Finds That He Has To Relieve Himself, [Then Let Him Relieve Himself First].
باب: جب نماز کھڑی ہو جائے اور آدمی کو پاخانے کی حاجت ہو تو پہلے پاخانہ جائے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About 'All Of The Earth Is A Masjid, Except For The Graveyard And Washroom'
باب: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے علاوہ پوری زمین سجدہ گاہ ہے
Jam e Tirmazi
45
Chapter: [What Had Been Related] About The Lord Blessed And Exalted Is He, Descending To The Earth's Heaven Every Night
باب: اللہ عزوجل کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Dying With Sweat On Ones Brow
باب: موت کے وقت مومن کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے
Jam e Tirmazi
47
Chapter: Hope In Allah And Fear Of Ones Sins In The Presence Of Death
باب: مومن کی موت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About: The Believer's Soul Is Suspended By His Debt Until It Is Settled For Him
باب: مومن کی جان قرض کی وجہ سے اٹکی رہتی ہے جب تک کہ وہ ادا نہ ہو جائے
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About A Married Couple Who Are Idolaters, Then One Of Them Accepted Islam
باب: اگر مشرک و کافر میاں بیوی میں سے کوئی اسلام لے آئے تو اس کا کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Killing A Believer
باب: مومن کے قتل ناحق پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

723
Sunnan Ibn e Maja
1469
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ، ‏‏‏‏‏‏لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا عِمَامَةٌ ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لِعَائِشَةَ:‏‏‏‏ إِنَّهُمْ كَانُوا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ كُفِّنَ فِي حِبَرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ قَدْ جَاءُوا بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَلَمْ يُكَفِّنُوهُ .
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) was shrouded in three white Yemeni cloths, among which there was no shirt and no turban. It was said to ‘Aishah: “They used to claim that he was shrouded in Hibarah.” ‘Aishah said: “They brought a Hibarah Burd, but they did not shroud him in it.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا، جس میں کرتہ اور عمامہ نہ تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگ دھاری دار چادر لائے تھے مگر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں نہیں کفنایا ۱؎۔
Sahih Bukhari
6792
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ يَدَ السَّارِقِ لَمْ تُقْطَعْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا فِي ثَمَنِ مِجَنٍّ حَجَفَةٍ أَوْ تُرْسٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : مِثْلَهُ .
Narrated `Aisha: The hand of a thief was not cut off during the lifetime of the Prophet except for stealing something equal to a shield in value.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چور کا ہاتھ بغیر لکڑی کے چمڑے کی ڈھال یا عام ڈھال کی چوری پر ہی کاٹا جاتا تھا۔ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح ( بیان کیا ) ۔
Sahih Muslim
1739
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ وَيُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَقِيَ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِكَ وَأَخْبَرُوهُ أَنَّ رَهْطًا سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ فِي حَيَاةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ فَلَمَّا حَدَّثُوهُ بِذَلِكَ رَاجَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا وَأَشْهَدَ عَلَى رَجْعَتِهَا فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ عَائِشَةُ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ائْتِنِي فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا لِأَنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا قَالَ فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا فَأَذِنَتْ لَنَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَحَكِيمٌ فَعَرَفَتْهُ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ مَنْ مَعَكَ قَالَ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ خَيْرًا قَالَ قَتَادَةُ وَكَانَ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَمُوتَ ثُمَّ بَدَا لِي فَقُلْتُ أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا وَأَمْسَكَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ التَّخْفِيفَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّ التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا سَنَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَهُ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ الْأَوَّلِ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقَتْ لَوْ كُنْتُ أَقْرَبُهَا أَوْ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي بِهِ قَالَ قُلْتُ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُكَ حَدِيثَهَا و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارَهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْوِتْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَقَالَ فِيهِ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ ابْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ كَانَ جَارًا لَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سَعِيدٍ وَفِيهِ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ أُصِيبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَفِيهِ فَقَالَ حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ أَمَا إِنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا أَنْبَأْتُكَ بِحَدِيثِهَا
Sa'd b. Hisham b. 'Amir decided to participate in the expedition for the sake of Allah, so he came to Medina and he decided to dispose of his property there and buy arms and horses instead and fight against the Romans to the end of his life. When he came to Medina, he met the people of Medina. They dissuaded him to do such a thing, and informed him that a group of six men had decided to do so during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade them to do it, and said: Is there not for you a model pattern in me? And when they narrated this to him (Sa'd b. Hisham), he returned to his wife, though he had divorced her and made (people) witness to his reconciliation. He then came to Ibn 'Abbas and asked him about the Witr of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Ibn 'Abbas said: Should I not lead you to one who knows best amongst the people of the world about the Witr of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )? He said: Who is it? He (Ibn 'Abbas) said: It is 'A'isha. So go to her and ask her (about Witr) and then come to me and inform me about her answer that she would give you. So I came to Hakim b. Aflah and requested him to take me to her. He said: I would not go to her, for I forbade her to speak anything (about the conflict) between the two groupS, but she refused (to accept my advice) and went (to participate in that corflict). I (requested) him (Hakim) with an oath to lead me to her. So we went to 'A'isha and we begged permission to meet her. She granted us permission and we went in. She said: Are you Hakim? (She recognised him.) He replied: Yes. She said: Who is there with you? He said: He is Sa'd b. Hisham. She said: Which Hisham? He said: He is Hisham b. 'Amir. She blessed him ('Amir) with mercy from Allah and spoke good of him (Qatada said that he died as a martyr in Uhud). I said: Mother of the Faithful, tell me about the character of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). She said: Don't you read the Qur'an? I said: Yes. Upon this she said: The character of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was the Qur'an. He said: I felt inclined to get up and not ask anything (further) till death. But then I changed my mind and said: Inform me about the observance (of the night prayer) of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). She said: Did you not recite: O thou wrapped up ? He said: Yes. She said: Allah, the Exalted and the Glorious, made the observance of the night prayer at the beginning of this Surah obligatory. So the Messenger of Allah (may peace be upon him and his Companions around him observed this (night prayer) for one year. Allah held back the concluding portion of this Surah for twelve months in the Heaven till (at the end of this period) Allah revealed the concluding verses of this Surah which lightened (the burden of this prayer), and the night prayer became a supererogatory prayer after being an obligatory one. I said: Mother of the Faithful, inform me about the Witr of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). She said: I used to prepare tooth stick for him and water for his ablution, and Allah would rouse him to the extent He wished during the night. He would use the tooth stick, and perform ablution, and would offer nine rak'ahs, and would not sit but in the eighth one and would remember Allah, and praise Him and supplicate Him, then he would get up without uttering the salutation and pray the ninth rak'ah. He would then sit, remember, praise Him and supplicate Him and then utter a salutation loud enough for us to hear. He would then pray two rak'ahs sitting after uttering the salutation, and that made eleven rak'ahs. O my son, but when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) grew old and put on flesh, he observed Witr of seven, doing in the two rak'ahs as he had done formerly, and that made nine. O my son, and when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed prayer, he liked to keep on observing it, and when sleep or pain overpowered him and made it impossible (for him) to observe prayer in the night, he prayed twelve rak'ahs daring the day. I am not aware of Allah's Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having recited the whole Qur'an during one single night, or praying through the night till morning, or fasting a complete month, except Ramadan. He (the narrator) said: I then went to Ibn 'Abbas and narrated to him the hadith (transmitted from her), and he said: She says the truth If I went to her and got into her presence, I would have listened to it orally from her. He said: If I were to know that you do not go to her. I would not have transmitted this hadith to you narrated by her.
ابن ابی عدی نے سعید ( ابن ابی عروبہ ) سے ، انھوں نے قتادہ سے اور انھوں نے زرارہ سے روایت کی کہ ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قریبی عزیز ) سعد بن ہشام بن عامر نے ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ ( جہاد ) کریں ، وہ مدینہ منورہ آگئے اور وہاں ا پنی ایک جائیداد فروخت کرنی چاہی تاکہ اس سے ہتھیار اور گھوڑے مہیا کریں اور موت آنے تک رومیوں کے خلاف جہاد کریں ، چنانچہ جب مدینہ آئے تو اہل مدینہ میں سے کچھ لوگوں سے ملے ، انھوں نے اس کو اس ارادے سے روکا اور ان کو بتایا کہ چھ افراد کے ایک گروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایسا کرنے کاارادہ کیاتھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا تھا ۔ آپ نے فرمایا تھا : "" کیا میرے طرز عمل میں تمھارے لئے نمونہ نہیں ہیں؟ "" چنانچہ جب ان لوگوں نے انھیں یہ بات بتائی تو انھوں نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا جبکہ وہ اسے طلاق دے چکے تھے ، اور اس سے رجو ع کے لئے گواہ بنائے ۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر ( بشمول قیام اللیل ) کے بارے میں سوال کیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا میں تمھیں اس ہستی سے آگاہ نہ کروں ۔ جو روئے زمین کے تمام لوگوں کی نسبت ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کو زیادہ جاننے والی ہے؟سعد نے کہا : وہ کون ہیں؟انھوں نےکہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کے پاس جاؤ اور پوچھو ، پھر ( دوبارہ ) میرے پاس آنا اور ان کا جواب مجھے بھی آکر بتانا ، ( سعدنے کہا : ) میں ان کی طرف چل پڑا اور ( پہلے ) حکیم بن افلح کے پاس آیا اور انھیں اپنے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس چلنے کو کہا تو انھوں نے کہا : میں ان کے پاس نہیں جاؤں گا کیونکہ میں نے انھیں ( آپس میں لڑنے والی ) ان دو جماعتوں کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے روکا تھا ۔ تو وہ ان دونوں کے بارے میں اسی طریقے پر چلتے رہنے کے سوا اور کچھ نہ مانیں ۔ ( سعد نے ) کہا : تو میں نے انھیں قسم دی تو وہ آگئے ، پس ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف چل پڑے ، اور ان سے حاضری کی اجازت طلب کی ، انھوں نے اجازت مرحمت فرمادی اور ہم ان کے گھر ( دروازے ) میں داخل ہوئے ، انھوں نے کہا : کیا حکیم ہو؟انہوں نے اسے پہچان لیا ، اس نے کہا : جی ہاں ۔ تو انھوں نے کہا : تمہارے ساتھ کون ہے؟اس نے کہا : سعد بن ہشام ۔ انھوں نے پوچھا : ہشام کون؟ اس نے کہا : عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن امیہ انصاری ) کے بیتے ۔ تو انہوں نے ان کے لئے رحمت کی دعا کی اور کلمات خیر کہے ۔ قتادہ نے کہا : وہ ( عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے ۔ میں نے کہا : ام المومنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق مبارک کے بارے میں بتایئے ۔ انھوں نے کہا : کیاتم قرآن نہیں پڑھتے؟میں نے عرض کی : کیوں نہیں !انھوں نے کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تھا ( آپ کی سیرت وکردار قرآن کا عملی نمونہ تھی ) کہا : اس پر میں نے یہ چاہا کہ اٹھ ( کر چلا ) جاؤں اور موت تک کسی سے کچھ نہ پوچھوں ، پھر اچانک زہن میں آیا تو میں نے کہامجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( رات کے ) قیام کے بارے میں بتائیں ، تو انھوں نے کہا : کیا تم ( يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ) نہیں پڑ ھتے؟ میں نے عرض کی کیوں نہیں!انھوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں رات کا قیام فرض قرار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے سال بھر قیام کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آخری آیات بارہ ماہ تک آسمان پر روکے رکھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف کا حکم نازل فرمایاتو رات کا قیام فرض ہونے کے بعد نفل ( میں تبدیل ) ہوگیا ۔ سعد نے کہا : میں نے عرض کی : اے ام المومنین ! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتایئے ۔ تو انھوں نے کہا : ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آپ کی مسواک اور آپ کے وضو کا پانی تیار کرکے رکھتے تھے اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا ، آپ کو بیدار کردیتا تو آپ مسواک کرتے ، وضو کرتے اور پھر نو رکعتیں پڑھتے ، ان میں آپ آٹھویں کے علاوہ کسی رکعت میں نہ بیٹھتے ، پھر اللہ کا ذکر کرتے ، اس کی حمد بیان کرتے اور دعا فرماتے ، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے ، پھر کھڑے ہوکرنویں رکعت پڑھتے ، پھر بیٹھتے اللہ کا ذکر اور حمد کرتے اور اس سے دعا کرتے ، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے جو ہمیں سناتے پھر سلام ے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے ، تو میرے بیٹے! یہ گیارہ رکعتیں ہوگئیں ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک بڑھی اور ( جسم پر کسی حد تک ) گوشت چڑھ گیا ( جسم مبارک بھاری ہوگیا ) تو آپ سات وتر پڑھنے لگ گئے اور دو رکعتوں میں وہی کرتے جو پہلے کرتے تھے ( بیٹھ کر پڑھتے ) تو بیٹا!یہ نو رکعتیں ہوگئیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو آپ پسند کرتے کہ اس پرقائم رہیں اور جب نیند یا بیماری غالب آجاتی اور رات کا قیام نہ کرسکتے تو آپ دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے ۔ میں نہیں جانتی کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو اور نہ ہی آپ نے کسی رات صبح تک نماز پڑھی اور نہ رمضان کے سوا کبھی پورے مہینے کے روزے رکھے ۔ ( سعد نے ) کہا : پھر میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف گیا اور انھیں ان ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کی حدیث سنائی تو انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سچ کہا ، اگر میں ان کے قریب ہوتا یا ان کے گھر جاتا ہوتا تو ان کے پاس جاتا تاکہ وہ مجھے یہ حدیث رو برو سناتیں ۔ ( سعد نے ) کہا : میں نےکہا : اگر مجھے علم ہوتا ہے کہ آپ ان کے ہاں حاضر نہیں ہوتے تو میں آپ کو ان کی حدیث نہ سناتا ( یہ سعد بالآخر سرزمین ہند میں شہید ہوئے )
Sahih Muslim
7022
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَايْمُ اللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَأَبَنُوهُمْ بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَلَا دَخَلَ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ وَلَا غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ وَلَقَدْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي فَسَأَلَ جَارِيَتِي فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقُدُ حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْكُلَ عَجِينَهَا أَوْ قَالَتْ خَمِيرَهَا شَكَّ هِشَامٌ فَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقَالَ اصْدُقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ وَقَدْ بَلَغَ الْأَمْرُ ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ عَنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِيهِ أَيْضًا مِنْ الزِّيَادَةِ وَكَانَ الَّذِينَ تَكَلَّمُوا بِهِ مِسْطَحٌ وَحَمْنَةُ وَحَسَّانُ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ فَهُوَ الَّذِي كَانَ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ وَحَمْنَةُ
A'Isha reported: When I came under discussion what the people had to say about me, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up for delivering an address and he recited tashahhud (I bear witness to the fact that iheie is no god but Allah) and praised Allah, lauded Him what He rightly deserves and then said: Coming to the point. Give me an advice about them who have brought false charge about my family. By Allah, I know no evil in the members of my family and the person in connection with whom the false charge is being levelled, I know no evil in him too. And he never entered my house but in my presence and when I was away on a journey, he remained with me even in that. The rest of the hadith is the same but with this change that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to my house and asked my maidservant and she said: By Allah, I know no fault in her but this that she sleeps, and goat comes and eats the kneaded flour. Some of the Companions (of the Holy Prophet) scolded her and said: State the fact before Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and they even made a pointed reference (to this incident). She said: gallowed be Allah. By Allah, I know about her as does the jeweller know about the pure piece of gold. And when this news reached the person in connection with whom the allegation was made he said: Hallowed be Allah. By Allah, I have never unveiled any woman. 'A'isha said: He fell as a martyr in the cause of Allah, and there is this addition in this hadith that the people who had brought false allegation amongst them were Mistah and Hamna and Hassan. And so far as the hypocrite 'Abdullah b. Ubayy is concerned, he was one who tried his best to gather the false news and then gave them the wind. And he was in fact a fabricator and there was Hamna, daughter of Jahsh with him.
ابو اسامہ نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب میرے معاملے میں وہ باتیں کہی گئیں جو کہی گئیں اور مجھے اس معاملے کا علم نہ تھا ، ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ شہادتین پڑھیں ، اللہ کی حمد و ژنا کی جو اس کے شایان شان ہے ، پھر فرمایا : "" اس ( حمد و ثنا ) کے بعد! مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری اہلیہ پر بہتان لگایا اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میری اہلیہ کے خلاف کبھی کوئی برائی میرے علم میں نہیں آئی ۔ وہ ( صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ ) جس کے بارے میں انہوں نے تہمت لگائی ہے ، اللہ کی قسم! مجھے اس کے بارے میں کسی برائی کا علم نہیں ، وہ کبھی میرے گھر نہیں آیا مگر اس وقت جب میں موجود تھا اور میں کبھی سفر کی وجہ سے ( مدینہ سے ) غیر حاضر نہیں رہا مگر وہ بھی ( اس سفر میں ) میرے ساتھ ( مدینہ س ) غیر حاضر تھا ۔ "" اور پورے واقعے سمیت حدیث بیان کی اور اس میں یہ ( بھی ) ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری خادمہ سے پوچھا ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم! میں ان میں کوئی ایک عیب بھی نہیں جانتی ، اس کے سوا کہ وہ سو جایا کرتی تھیں اور بکری اندر آتی اور ان کا آٹا یا کہا : ان کا خمیر ( جو آٹے میں ملایا جاتا ہے ) کھا جاتی ۔ ہشام کو شک ہوا ہے ۔ ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ساتھی نے جھڑکیاں دیں اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بالکل سچ بتاؤ ، حتی کہ اس معاملے میں ان لوگوں نے اسے تحقیر آمیز باتیں کہیں تو اس نے جواب میں کہا : سبحان اللہ! اللہ کی قسم! میں ان کے بارے میں بالکل اسی طرح جانتی ہوں جس طرح سنار خالص سونے کو جانتا ہے ۔ ( ان میں ذرہ برابر کھوٹ نہیں ، وہ خالص سونا ہیں ۔ ) اور یہ معاملہ اس شخص تک پہنچا جس کے بارے میں یہ بات کہی گئی تو اس نے کہا : سبحان اللہ! اللہ کی قسم! میں نے آج تک کسی عورت کی خلوت گاہ کا پردہ بھی نہیں اٹھایا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : وہ اللہ عزوجل کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو گیا ۔ اور اس حدیث میں مزید یہ بات بھی ہے کہ جن لوگوں نے ( بہتان پر مبنی ) باتیں کی تھیں ان میں مسطح ، حمنہ اور حسان ( بن ثابت ) رضی اللہ عنہم تھے ۔ اور منافق عبداللہ بن ابی وہ شخص تھا جو ( سیدھے سادھے واقعے کے اندر سے ) جھوٹے الزام نکالتا تھا اور ( بہتان کی جھوٹی کہانی کی صورت میں ) انہیں یکجا کرتا تھا ۔ اسی نے اس بہتان تراشی میں سب سے بڑا کردار سنبھالا اور ( اس کے بعد ) حمنہ رضی اللہ عنہا تھی ۔
Sunnan Abu Dawood
317
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَأُنَاسًا مَعَهُ فِي طَلَبِ قِلَادَةٍ أَضَلَّتْهَا عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأُنْزِلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ:‏‏‏‏ يَرْحَمُكِ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَلَكِ فِيهِ فَرَجًا.
Narrated Aishah, Ummul Muminin: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم sent Usayd ibn Hudayr and some people with him to search the necklace lost by Aishah. The time of prayer came and they prayed without ablution. When they returned to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and related the fact to him, the verse concerning tayammum was revealed. Ibn Nufayl added: Usayd said to her: May Allah have mercy upon you! Never has there been an occasion when you were beset with an unpleasant matter but Allah made the Muslims and you come out of that.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ کچھ لوگوں کو وہ ہار ڈھونڈنے کے لیے بھیجا جسے عائشہ نے کھو دیا تھا، وہاں نماز کا وقت ہو گیا تو لوگوں نے بغیر وضو نماز پڑھ لی، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت اتاری گئی۔ ابن نفیل نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! آپ کو جب بھی کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اور آپ کے لیے اس میں ضرور کشادگی پیدا کر دی ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
2521
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَزَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ قَدْ كَاتَبَهَا أَهْلُهَا عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ لَهَا:‏‏‏‏ إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْوَلَاءُ لِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَتْ أَهْلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ الْوَلَاءَ لَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ افْعَلِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ .
It was narrated from Hisham bin 'Urwah, from his father, about 'Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) - : that Barirah came to her when she was came to her when she was Muktabah, and her masters had written a contract of manumission for nine Uqiyyah. She (`Aishah) said: “If your masters wish I will pay them that in one sum, and the right of inheritance will belong to me.” He said: “So she went to her masters and told them about that, but they insisted that the right of inheritance should belong to them. `Aishah mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said: 'Do it.' Then the Prophet (ﷺ) stood up and addressed the people. He praised and glorified Allah (SWT), then he said: 'What is the matter with some people who stipulated conditions that are not in the Book of Allah (SWT)? Every conditions that is not in the Book of Allah (SWT) is invalid, even if there are one hundred conditions. The Book of Allah(SWT) is more deserving of being followed and the conditions of Allah (SWT) are more binding. And the Wala belongs to the one who manumits (the slave).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں جو مکاتب ( لونڈی ) تھیں، ان کے مالکوں نے نو اوقیہ پر ان سے مکاتبت کی تھی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہارا بدل مکاتبت میں ایک ہی بار ادا کروں، مگر تمہاری ولاء ( میراث ) میری ہو گی، چنانچہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس آئیں، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ ( پیش کش ) اس شرط پر منظور کر لی کہ ولاء ( میراث ) کا حق خود ان کو ملے گا، اس کا تذکرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا کام کر ڈالو ، اور پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں میں خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: آخر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں، اور ہر وہ شرط جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہ ہو باطل ہے، اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں، اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حقدار اور اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ قوی ہے، ولاء اسی کا حق ہے جو ( مکاتب کی طرف سے مال ادا کر کے ) اسے آزاد کرے ۔
Jam e Tirmazi
439
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ:‏‏‏‏ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ‏‏‏‏‏‏يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Sa'eed bin Abi Sa'eed Al-Maqburi narrated that: Sa'eed bin Abi Sa'eed Al-Maqburi narrated that Abu Salamah informed him that he had asked Aishah: How was the Salat of Allah's Messenger (A) [at night] during Ramadan? She said: Allah's Messenger (S) would pray - neither in Ramadan nor in any other month - more than eleven Rak'ah. He would pray four, and do not ask about their excellence or length, then he would pray four, and do not ask about their excellence or length, then he would pray three. Aishah said: I asked: 'O Messenger of Allah! Do you sleep before having performed Witr? He said: 'O Aishah! Indeed my eyes sleep but my heart does not sleep.'
ابوسلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کیسی ہوتی تھی؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد رمضان میں اور غیر رمضان گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۱؎، آپ ( دو دو کر کے ) چار رکعتیں اس حسن خوبی سے ادا فرماتے کہ ان کے حسن اور طوالت کو نہ پوچھو، پھر مزید چار رکعتیں ( دو، دو کر کے ) پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کو بھی نہ پوچھو ۲؎، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ فرمایا: ”عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں، دل نہیں سوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎۔
Jam e Tirmazi
1150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ:‏‏‏‏ الصَّحِيحُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ دِينَارٍ وَزَادَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هُوَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ َلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ. (حديث موقوف) وَقَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ أُنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ، ‏‏‏‏‏‏فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ خَمْسٌ، ‏‏‏‏‏‏وَصَارَ إِلَى خَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا كَانَتْ عَائِشَةُ تُفْتِي، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ، ‏‏‏‏‏‏إِلَى قَوْلِ عَائِشَةَ فِي خَمْسِ رَضَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ وَجَبُنَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَقُولَ فِيهِ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ يُحَرِّمُ قَلِيلُ الرَّضَاعِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَثِيرُهُ إِذَا وَصَلَ إِلَى الْجَوْفِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَوَكِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدِ اسْتَقْضَاهُ عَلَى الطَّائِفِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَدْرَكْتُ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abdullah bin Az-Zubair narrated from Aishah from the Prophet who said: “One sip or two sips do not make a prohibition.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار یا دو بار چھاتی سے دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام فضل، ابوہریرہ، زبیر بن عوام اور ابن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کو دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ایک یا دو بار دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی“۔ اور محمد بن دینار نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس میں محمد بن دینار بصریٰ نے زبیر کے واسطے کا اضافہ کیا ہے۔ لیکن یہ غیر محفوظ ہے، ۳- محدثین کے نزدیک صحیح ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے جسے انہوں نے بطریق: «عبد الله بن الزبير عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح ابن زبیر کی روایت ہے جسے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے اور محمد بن دینار کی روایت جس میں: زبیر کے واسطے کا اضافہ ہے وہ دراصل ہشام بن عروہ سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے زبیر سے روایت کی ہے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ۶- عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قرآن میں ( پہلے ) دس رضعات والی آیت نازل کی گئی پھر اس میں سے پانچ منسوخ کر دی گئیں تو پانچ رضاعتیں باقی رہ گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو معاملہ انہیں پانچ پر قائم رہا ۲؎، ۷- اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دوسری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اسی کا فتویٰ دیتی تھیں، اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ ۸- امام احمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ”ایک بار یا دو بار کے چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی“ کے قائل ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی عائشہ رضی الله عنہا کے پانچ رضعات والے قول کی طرف جائے تو یہ قوی مذہب ہے۔ لیکن انہیں اس کا فتویٰ دینے کی ہمت نہیں ہوئی، ۹- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ جب پیٹ تک پہنچ جائے تو اس سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ یہی سفیان ثوری، مالک بن انس، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، وکیع اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1192
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّاسُ وَالرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ مَا شَاءَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يُطَلِّقَهَا وَهِيَ امْرَأَتُهُ إِذَا ارْتَجَعَهَا وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ طَلَّقَهَا مِائَةَ مَرَّةٍ أَوْ أَكْثَرَ حَتَّى قَالَ رَجُلٌ لِامْرَأَتِهِ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا أُطَلِّقُكِ فَتَبِينِي مِنِّي وَلَا آوِيكِ أَبَدًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَكَيْفَ ذَاكَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُطَلِّقُكِ فَكُلَّمَا هَمَّتْ عِدَّتُكِ أَنْ تَنْقَضِيَ رَاجَعْتُكِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبَتِ الْمَرْأَةُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتَتْ عَائِشَةُ حَتَّى جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ:‏‏‏‏ الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَاسْتَأْنَفَ النَّاسُ الطَّلَاقَ مُسْتَقْبَلًا مَنْ كَانَ طَلَّقَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَمْ يَكُنْ طَلَّقَ.
Hisham bin Urwah narrated from his father, from Aishah that she said: The people were such that a man would divorce his wife when he wanted to divorce her, and she remained his wife when he wanted to take her back while she was in her Iddah, and he could divorce a hundred times, or even more, such that a man could say to his wife: 'By Allah! I will neither divorce you irrevocably, nor give you residence ever!' She would say: 'And how is that?' He would say: 'I will divorce you, and whenever your Iddah is just about to end I will take you back. So a woman went to Aishah to inform her about that, and Aishah was silent until the Prophet came. So she told him and the Prophet was silent, until the Qur'an was revealed: Divorce is two times, after that, retain her on reasonable terms or release her with kindness.' So Aishah said: So the people could carry on with divorce in the future, (knowing) who was divorced, and who was not divorced.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنی بیوی کو جتنی طلاقیں دینی چاہتا دے دینا رجوع کر لینے کی صورت میں وہ اس کی بیوی بنی رہتی، اگرچہ اس نے سویا اس سے زائد بار اسے طلاق دی ہو، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہ طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو جائے اور نہ تجھے کبھی پناہ ہی دوں گا۔ اس نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس نے کہا: میں تجھے طلاق دوں گا پھر جب عدت پوری ہونے کو ہو گی تو رجعت کر لوں گا۔ اس عورت نے عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو عائشہ رضی الله عنہا خاموش رہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو عائشہ رضی الله عنہا نے آپ کو اس کی خبر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش رہے یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا «الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان» ”طلاق ( رجعی ) دو ہیں، پھر یا تو معروف اور بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا بھلائی سے رخصت کر دینا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۹ ) ۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: تو لوگوں نے طلاق کو آئندہ نئے سرے سے شمار کرنا شروع کیا، جس نے طلاق دے رکھی تھی اس نے بھی، اور جس نے نہیں دی تھی اس نے بھی۔