TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان

Chapter 28 of قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 28 of 30 · 8 Hadith
۔ (۱۳۱۶۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا بَہْزٌ وَ عَفَّانُ قَالَا ثَنَا ھَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَۃُ قَالَ عَفَّانُ: عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ: کُنْتُ اٰخِذًا بِیَدِ ابْنِ عُمَرَ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) اِذْ عَرَضَ لَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: کَیْفَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِی النَّجْوٰییَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُدْنِی الْمُوْمِنَ فَیَضَعُ عَلَیْہِ کَنَفَہُ وَیَسْتُرُہُ مِنَ النَّاسِ وَیُقَرِّرُہُ بِذُنُوْبِہٖوَیَقُوْلُ لَہُ: اَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا، اَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا، اَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا، حَتّٰی اِذَا قَرَّرَہُ بِذُنُوْبِہٖوَرَاٰی فِیْ نَفْسِہٖاَنَّہُقَدْھَلَکَقَالَ: فَاِنِّیْ قَدْ سَتَرْتُھَا عَلَیْکَ فِی الدُّنْیَا وَاِنِّیْ اَغْفِرُھَا لَکَ الْیَوْمَ ثُمَّ یُعْطٰی کِتَابَ حَسَنَاتِہٖ،وَاَمَّاالْکُفَّارُوَالْمُنَافِقُوْنَ {فَیَقُوْلُ الْاَشْہَادُ ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَبِّہِمْ اَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی الظَّالِمِیْنَ۔} [ھود: ۱۸] (مسند احمد: ۵۴۳۶)
صفوان بن محرز کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، اسی اثنا میں ایک آدمی نے ان کے سامنے آکر کہا: اللہ تعالیٰ کا قیامت والے دن اپنے بندے سے سرگوشی کرنا، اس بارے میں آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیا بیان کرتے ہوئے سنا؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب کرے گا، اس پر اپنا بازو رکھے گا اور اسے لوگوں سے اوجھل کر کے اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا اور کہے گا: کیا تجھے فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا تجھے فلاں گناہ کا بھی علم ہے؟ کیا تجھے فلاں گناہ کا بھی پتہ ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے تمام گناہوں کا اعتراف کرا لے گا اور اس آدمی کو دل سے یقین ہوجائے گا کہ وہ ہلاک ہونے والا ہے، پھراللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا اور آج میں ان تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں، اس کے بعد اسے نیکیوں کا اعمال نامہ تھما دیا جائے گا، رہا مسئلہ کافروں اور منافقوں کا تو ان کے بارے میں گواہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو دنیا میں اپنے ربّ پر جھو ٹ باندھتے رہے، خبردار ! ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۶۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۴۱، ۶۰۷۰، ومسلم: ۳۷۶۸(انظر: ۵۴۳۶)
13168
Sahih
۔ (۱۳۱۶۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُالْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ اَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ: بَیْنَمَا ابْنُ عُمَرَ یَطُوْفُ بِالْبَیْتِ اِذْ عَرَضَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ کَیْفَ سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: فِی النَّجْوٰی فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ ((وَاَمَّاالْکُفَّارُ وَالْمُنَافِقُوْنَ فَیُنَادِیْ بِہِمْ عَلٰی رُؤُوْسِ الْاَشْہَادِ ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَبِّہِمْ اَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی الظَّالِمِیْنَ۔)) قَالَ سَعِیْدٌ: وَقَالَ قَتَادَۃُ: فَلَمْ یَخْزَیَوْمَئِذٍ اَحَدٌ فَخَفِیَ خِزْیُہُ عَلٰی اَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ۔ (مسند احمد: ۵۸۲۵)
۔ (دوسری سند) صفوان بن محرز کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طواف کر رہے تھے کہ ایک آدمی نے ان کے سامنے آکر کہا: اے ابو عبدالرحمن ! آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان سرگوشی کے متعلق کیسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: پھر گزشتہ حدیث کی مانند ہی بیان کیا، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: رہا مسئلہ کافروں اور منافقوں کا تو تمام لوگوں کے سامنے ان کے بارے میں کہا جائے گا:یہی وہ لوگ ہیں، جنہوںنے اپنے ربّ پر جھوٹ باندھے ، خبردار! ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ قتادہ نے کہا: اس دن جس آدمی کی رسوائی ہو گئی، تو اس کی یہ رسوائی کسی سے بھی مخفی نہیں رہے گی۔
Takhreej
(۱۳۱۶۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13169
Sahih
۔ (۱۳۱۷۰)۔ وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَسْتَخْلِصُ رَجُلًا مِنْ اُمَّتِیْ عَلٰی رُؤُوْسِ الْخَلاَئِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِفَیَنْشُرُ عَلَیْہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ سِجِلَّا، کُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ یَقُوْلُ: اَتُنْکِرُ مِنْ ہٰذَا شَیْئًا، اَظَلَمَتْکَ کَتَبَتِیْ الْحَافِظُوْنَ؟ قَالَ: لَا، یَارَبِّ! فَیَقُوْلُ: اَلَکَ عُذْرٌ اَوْ حَسَنَۃٌ؟ فَیَبْہُتُ الرَّجُلُ، فَیَقُوْلُ: لَا، یَارَبِّ! فَیَقُوْلُ: بَلٰی اِنَّ لَکَ عِنْدَنَا حَسَنَۃً وَاحِدَۃً، لَاظُلْمَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ فَتُخْرَجُ لَہُ بِطَاقَۃٌ، فِیْہَا اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، فَیَقُوْلُ: اَحْضِرُوْہُ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! مَا ہٰذِہِ الْبِطَاقَۃُ مَعَ ہٰذِہِ السِّجِلَّاتِ! فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَاتُظْلَمُ، قَالَ: فَتُوْضَعُ السِّجِلاَّتُ فِیْ کَفَّۃٍ، قَالَ: فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَۃُ وَلَایَثْقُلُ شَیْئٌ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۶۹۹۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک آدمی کو لوگوں کے سامنے سے الگ کر ے گا اور ا س کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے رجسٹر پھیلا دئیے جائیں گے، ہر رجسٹر تاحدِّ نگاہ ہو گا، اللہ تعالیٰ اس بندے سے فرمائے گا :کیا تو ان گناہوں میں سے کسی گناہ کا انکار کرتا ہے؟ کیا میرے مقرر کر دہ لکھنے والے محافظ فرشتوں نے تجھ پر ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! نہیں، جی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر یا نیکی ہے؟ وہ آدمی حیران و پریشان ہو کر کہے گا: اے میرے ربّ ! نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے، آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا، اس کے سامنے ایک ٹکڑا لایا جائے گا، اس پر کلمہ شہادت اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ تحریر ہوگا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کو بھی سامنے لاؤ۔ وہ بندے کہے گا: اے میرے ربّ ! اتنے بڑے بڑے رجسٹروں کے مقابلے میں اس معمولی سے ٹکڑے کی کیا وقعت ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا: آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا، چنانچہ وہ تمام رجسٹر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دئیے جائیں گے اور وہ ہلکا ہونے کی وجہ سے اوپر اٹھ جائیں گا اور وہ ٹکڑا بھاری ہو جائے گا، اصل بات یہ ہے کہ مہربان اور نہایت رحم والے اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز وزنی نہیں ہو سکتی۔
Takhreej
(۱۳۱۷۰) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ الترمذی: ۲۶۳۹، وابن ماجہ: ۴۳۰۰(انظر: ۶۹۹۴)
13170
Sahih
۔ (۱۳۱۷۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَحَدَکُمْ لَیُسْاَلُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰییَکُوْنَ فِیْمَایُسْاَلُ عَنْہُ اَنْ یُّقَالَ مَا مَنَعَکَ اَنْ تُنْکِرَ الْمُنْکَرَ اِذَا رَاَیْتَہُ قَالَ: فَمَنْ لَقَّنَہُ اللّٰہُ حُجَّتَہُ قَالَ: رَبِّ رَجَوْتُکَ وَخِفْتُ النَّاسَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۳۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم میں سے ایک آدمی سے مختلف سوالات کیے جائیں گے، یہاں تک کہ اس پوچھ گچھ کے دوران اس سے یہ بھی پوچھا جائے گا: جب تو دنیا میں گناہ کو دیکھا تھا تو نے اس سے روکا کیوں نہیں تھا؟ تو جس بندے کو اللہ تعالیٰ جواب سمجھا دے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تیری رحمت کی امید تھی اور میں لوگوں سے ڈر گیا تھا۔
Takhreej
(۱۳۱۷۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الحمیدی: ۷۳۹، والبیھقی فی الشعب : ۷۵۷۵ ، وابویعلی: ۱۳۴۴(انظر: ۱۱۲۱۴)
13171
Sahih
۔ (۱۳۱۷۲)۔ وَعَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ وَعُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَدَّثَاہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ وَفَرَغَ اللّٰہُ مِنْ قَضَائِ الْخَلْقِ فَیَبْقٰی رَجُلَانِ فَیُوْمَرُ بِہِمَا اِلَی النَّارِ فَیَلْتَفِتُ اَحَدُھُمَا، فَیَقُوْلُ الْجَبَّارُ تَبَارَکَ اِسْمُہُ: رُدُّوْہُ، فَیَرُدُّوْہُ فَیَقُوْلُ لَہُ: لِمَ اِلْتَفَتَّ یَعْنِیْ فَیَقُوْلُ: قَدْکُنْتُ اَرْجُوْ اَنْ تُدْخِلَنِی الْجَنَّۃَ قَالَ: فَیُوْمَرُ بِہٖاِلَی الْجَنَّۃِ قَالَ: فَیَقُوْلُ: لَقَدْ اَعْطَانِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰی لَوْ اَنِّیْ اَطْعَمْتُ اَھْلَ الْجَنَّۃِ مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِمَّا عِنْدِیْ شَیْئًا۔)) وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا ذَکَرَہُیُرَی السُّرُوْرُ فِیْ وَجْہِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۴۶۴)
سیدنافضالہ بن عبید اور سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں سے فارغ ہو گا، تو اُدھر دو آدمی بچے ہوئے ہوں گے۔پھر ا نہیں جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا، ان میں سے ایک آدمی مڑ مڑ کر دیکھے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اسے واپس لاؤ، فرشتے اسے واپس لے آئیں گے،اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تو پیچھے مڑ مڑ کر کیوں دیکھ رہا تھا؟ وہ کہے گا: مجھے تو یہ امید تھی کہ تو مجھے جنت میں داخل کرے گا۔ پھر اسے جنت میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا، وہ جنت میں جا کر کہے گا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قدر نعمتیں دی ہیں کہ اگر میں تمام اہل ِ جنت کو بھی کھانا کھلاؤں تو میری نعمتوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب یہ واقعہ بیان فرماتے تو آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیتے۔
Takhreej
(۱۳۱۷۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف رشدین بن سعد (انظر: ۲۳۹۶۴)
13172
Zaeef
۔ (۱۳۱۷۳)۔ وَعَنِ الْمَعْرُوْرِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْتٰی بِالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ: اعْرِضُوْا عَلَیْہِ صِغَارَ ذُنُوْبِہٖ،قَالَ: فَتُعْرَضُعَلَیْہِ وَیُخْبَاُ عَنْہُ کِبَارُھَا، فَیُقَالُ: عَمِلْتَیَوْمَ کَذَا وَکَذَا کَذَا وَکَذَا، وَھُوَ مُقِرٌّ لَایُنْکِرُ، وَھُوَ مُشْفِقٌ مِنَ الْکِبَارِ فَیُقَالُ: اَعْطُوْہُ مَکَانَ کُلِّ سَیِّئَۃٍ حَسَنَۃً، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اِنَّ لِیْ ذُنُوْبًا مَا اَرَاھَا۔)) قَالَ: قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ: فَلَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَحِکَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۲۱)
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، کہا جائے گا کہ اس کے چھوٹے گناہ اس پر پیش کرو، پس اس کے صغیرہ گناہ اس پر پیش کیے جائیں گے اور بڑے بڑے گناہوں کو اس سے اوجھل رکھا جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا؟ وہ ان گناہوں کا اعتراف کرتا جائے گا اور انکار نہیں کرے گا، جبکہ وہ اپنے بڑے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہا جائے گا کہ اسے ہر گناہ کے عوض ایک ایک نیکی دے دو، تب وہ بولے گا اور کہے گا: میں نے تو ایسے گناہ بھی کیے تھے، جو یہاں مجھے نظر نہیں آ رہے۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حدیث بیان کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں بھی نمایاں ہوگئیں۔
Takhreej
(۱۳۱۷۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۰ (انظر: ۲۱۳۹۳)
13173
Sahih
۔ (۱۳۱۷۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَاَعْرِفُ آخِرَ اَھْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنَ النَّارِ وَ آخِرَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ دُخُوْلاً الْجَنَّۃَ، یُوْتٰی بِرَجُلٍ، فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہٖحَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ قَالَ: ((فَیُقَالُ لَہُ: فَاِنَّ لَکَ مَکَانَ کُلِّ سَیِّئَۃٍ حَسَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۲۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس آدمی کو جانتا ہوں جسے سب سے آخرمیں جہنم سے نکال کر سب سے آخر میں جنت میں داخل کیا جائے گا، ایک آدمی کو لایا جائے گا، … …، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھیں ظاہر ہونے لگیں یہاں تک پہلی حدیث کی طرح ہی ہے۔ اور یہ بات زیادہ ہے کہ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اسے کہا جائے گا: پس بیشک تیرے لیے ہر برائی کے بدلے نیکی ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13174
Sahih
۔ (۱۳۱۷۵)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ الْمُوْمِنَ حَسَنَۃًیُعْطٰی عَلَیْہَا فِی الدُّنْیَا وَیُثَابُ عَلَیْہَا فِی الْآخِرَۃِ، وَاَمَّا الْکَافِرُ فَیُعْطِیْہِ حَسَنَاتِہِ فِی الدُّنْیَا حَتّٰی اِذَا اَفْضٰی فِی الْآخِرَۃِ، لَمْ یَکُنْ لَہُ بِہَا حَسَنَۃٌیُعْطٰی بِہَا خَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۶۲)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی مومن پر ایک نیکی کے سلسلہ میں بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ مومن کو دنیا میں نیکی کا عوض بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میںثواب بھی دیا جاتا ہے، رہا مسئلہ کافر کا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی چکا دیتا ہے، جب وہ آخرت تک پہنچتا ہے تو کوئی نیکی نہیں ہوتی کہ اسے بدلہ دیا جائے۔
Takhreej
(۱۳۱۷۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۰۸ (انظر: ۱۲۲۳۷)
Explanation
فوائد:… (۱) اس فصل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر انتہائی مہربان ہے وہ اپنے بعض مومن بندوں پر تو اس قدر مہربان ہوگا کہ انہیں اپنے قریب کر کے سرگوشی کے انداز میں ان سے کلام کرے گا۔ اور یاد دلائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھا۔ میں آج تمہارے گناہوں کو معاف کر تا ہوں۔ اور اسے جنت میں بھیج دیا جائے گا۔ (۲) اس فصل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دورانِ طواف باتیں کرنا منع نہیں۔ حسب ضرورت کسی سے بات کی جاسکتی ہے۔ اور اہل علم سے مسائل بھی دریافت کیے جا سکتے ہیں۔ (۳) اس فصل سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور عقیدہ ٔ توحید کی عظمت بھی واضح ہوئی کہ ایک گناہ گار کے بڑے بڑے ننانوے دفتر گناہوں سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی ایک نیکی بھی ہوگی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت و رسالت کا اعتراف کیا ہوگا تو اسی کی برکت سے اس کی نجات ہوجائے گی۔ (۴) نیز معلوم ہوا کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھے اللہ تعالیٰ بھی اسے مایوس نہیں کرتا۔ (۵) نیز معلوم ہوا کہ جنت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اس دنیا میںانسان کے لیے اندازہ کرنا ناممکن ہے۔ سب سے آخر میں جنت میں جانے والا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر کہے گا کہ اگر میں تمام اہل ِ جنت کی دعوت کروں تب بھی یہ نعمتیں ختم نہیں ہوں گی۔ (۶) نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اہل توحید سے اس قدر خوش ہوگا کہ ان کے ہر ہر گناہ کے عوض انہیں نیکیاں دے گا۔ (۷) نیز معلوم ہوا کہ مومن کی ایک بھی نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔ اسے دنیا میں بھی اس کا اجر ملتا ہے۔ اور آخرت میں بھی ثواب ملے گا ۔ ان شاء اللہ۔ (۸) البتہ کفار کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ انہیں آخرت میں کوئی اچھا بدلہ نہیں ملے گا۔
13175
Sahih

Chapters

30
01
اس بارے میں سیدنا ابو رزین لقیط بن عامر بن منتفق عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی جامع حدیث
6 Hadith
02
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان
3 Hadith
03
لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
8 Hadith
04
حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
4 Hadith
05
قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
6 Hadith
06
جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
5 Hadith
07
قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا
7 Hadith
08
شفاعت کے منکرین کا رد
1 Hadith
09
حشر والوں کے لیے شفاعت عظمیٰ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاص ہونا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے پہلا سفارشی ہونا
1 Hadith
10
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث
1 Hadith
11
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
1 Hadith
12
بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
2 Hadith
13
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
1 Hadith
14
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
4 Hadith
15
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
3 Hadith
16
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
6 Hadith
17
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
5 Hadith
18
کوثر اور اس کی صفات کا بیان
4 Hadith
19
حوض کا سر چشمہ کوثر کی نہر ہو گی
1 Hadith
20
حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
3 Hadith
21
عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
5 Hadith
22
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
7 Hadith
23
حوضِ کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت اوراس حوض کی صفات کے ساتھ ساتھ اس پر آنے والے بعض لوگوں کی صفات کا بیان
4 Hadith
24
نامہ اعمال کی وصولی اور ترازو کا بیان
4 Hadith
25
محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
8 Hadith
26
قیامت کے دن زمین اور انسان کے اعضاء کی انسان کے خلاف شہادت
2 Hadith
27
قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
7 Hadith
28
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
8 Hadith
29
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
4 Hadith
30
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.