TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان

Chapter 29 of قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 29 of 30 · 4 Hadith
۔ (۱۳۱۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَجْمَعُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْاُمَمَ فِیْ صَعِیْدٍیَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَاِذَا بَدَا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَنْ یَصْدَعَ بَیْنَ خَلْقِہٖ،مَثَّلَلِکُلِّقَوْمٍمَاکُانُوْایَعْبُدُوْنَ، فَیَتَّبِعُوْنَہُمْ حَتّٰییُقَحِّمُوْنَہُمُ النَّارَ، ثُمَّ یَاْتِیْنَا رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ وَنَحْنُ عَلٰی مَکَانٍ رَفِیْعٍ فَیَقُوْلُ: مَنْ اَنْتُمْ؟ فَنَقُوْلُ: نَحْنُ الْمُسْلِمُوْنَ، فَیَقُوْلُ: مَا تَنْتَظِرُوْنَ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: فَیَقُوْلُ: وَھَلْ تَعْرِفُوْنَہُ اِنْ رَاَیْتُمُوْہُ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: نَعَمْ، فَیَقُوْلُ: کَیْفَ تَعْرِفُوْنَہُ وَلَمْ تَرَوْہُ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: نَعَمْ، اِنَّہُ لَاعِدْلَ لَہُ فَیَتَجَلّٰی لَنَا ضَاحِکًا، فَیَقُوْلُ: اَبْشِرُوْا اَیُّہَا الْمُسْلِمُوْنَ فَاِنَّہُ لَیْسَ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلَّا جَعَلْتُ مَکَانَہٗفِیْ النَّارِ یَہُوْدِیًّا اَوْ نَصْرَانِیًّا۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۸۸)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام امتوں کو ایک چٹیل میدان میںجمع کرے گا، جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوگا کہ وہ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلے کرے توہر قوم جس جس کی پوجا کیا کرتی تھی، اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس کی صورت پیش کرے گا، وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں چلے جائیں گے، جبکہ ہم ایک بلند جگہ پر ہوں گے، ہمارا ربّ ہمارے پاس آکر کہے گا: تم کون لوگ ہو؟ ہم عرض کریں گے: ہم مسلمان ہیں، وہ پوچھے گا: تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟ ہم کہیں گے: ہم اپنے ربّ کا انتظار کر رہے ہیں، وہ پوچھے گا: کیا تم اسے دیکھ کر پہنچان جاؤ گے؟ ہم کہیں گے: جی ہاں، وہ پوچھے گا: تم نے تو اسے دیکھا ہی نہیں، پس تم اسے کیسے پہچانو گے؟ ہم کہیں گے: بس ہم اسے پہچان لیں گے، کیونکہ وہ بے مثل ہیں، اس جیسا کوئی دوسرا ہے ہی نہیں۔ تب اللہ تعالیٰ مسکراتے ہوئے ان کے سامنے ظہور فرمائے گا اور کہے گا: مسلمانو! مبارک ہو، میںنے تمہارے ہر ہر فرد کے بدلے ایک یہودی یا عیسائی کو جہنم میں پہنچادیا ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۷۶) تخریج: قولہ: لَیْسَ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلَّا جَعَلْتُ مَکَانَہٗ فِیْ النَّارِ یَہُوْدِیًّا اَوْ نَصْرَانِیًّا صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، وجھالۃ عمارۃ القرشی، أخرجہ ابن خزیمۃ فی التوحید : ص ۲۳۶ ، والدارقطنی فی الصفات : ۳۴ (انظر: ۱۹۶۵۴)
13176
Zaeef
۔ (۱۳۱۷۷)۔ وَعَنْ عُمَارَۃَ الْقُرَشِیِّ قَالَ: وَفَدْنَا اِلٰی عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ وَفِیْنَا اَبُوْ بُرْدَۃَ فَقَضٰی حَاجَتَنَا فَلَمَّا خَرَجَ اَبُوْ بُرْدَۃَ رَجَعَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ: اَذَکَرَ الشَّیْخُ مَا رَدَّکَ؟ اَلَمْ اَقْضِ حَوَائِجَکَ؟ قَالَ: فَقَالَ اَبُوْ بُرْدَۃَ: اِلَّا حَدِیْثًا حَدَّثِنِیْہِ اَبِیْ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَجْمَعُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْاُمَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ قَالَ: فَقَالَ لِاَبِیْ بُرْدَۃَ: آللّٰہِ! لَسَمِعْتَ اَبَا مُوْسٰییُحَدِّثُ بِہٖعَنِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَاَنَا سَمِعْتُہُ مِنْ اَبِیْیُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۸۹)
عمارۃ قرشی کہتے ہیں: ہم ایک وفد کی صورت میں عمربن عبدالعزیز کی خدمت میں گئے، وفد میں سیدنا ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، عمربن عبدالعزیز نے ہمارا کام کر دیا، جب سیدنا ابوبردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں سے نکلے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے ان کو دیکھ کر کہا: بزرگ کو کیا یاد آگیا؟ کیا میں نے آپ لوگوں کا کام نہیں کر دیا؟ سیدناابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کام تو ہو گیا ہے، ایک حدیث رہ گئی ہے، جو میرے والد (سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) نے مجھے بیان کی تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن امتوں کو جمع کرے گا،… پھر گزشتہ حدیث کی مانند ذکر کیا۔ عمربن عبدالعزیز نے سیدنا ابوبردہ سے پوچھا: اللہ کی قسم! کیا واقعی تم نے سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں میں نے اپنے والد کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تھا۔
Takhreej
(۱۳۱۷۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
13177
Zaeef
۔ (۱۳۱۷۸)۔ وَعَنْ قَتَادَۃَ اَنَّ عَوْنًا وَسَعِیْدَا بْنَ اَبِیْ بُرْدَۃَ حَدَّثَا، اَنَّہُمَا شَہِدَا اَبَا بُرْدَۃَیُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَمُوْتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اِلَّا اَدْخَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَکَانَہُ النَّارَ یَہُوْدِیًّا اَوْنَصْرَانِیًّا۔)) قَالَ: فَاسْتَحْلَفَہُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِ بِاللّٰہِ الَّذِیْ لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: فَحَلَفَ لَہُ، قَالَ: فَلَمْ یُحَدِّثْنِیْ سَعِیْدٌ اَنَّہُ اسْتَحْلَفَہُ وَلَمْ یُنْکِرْ عَلٰی عَوْنٍ قَوْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۸۹)
عون اور سعید بن ابی بردہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ وہ دونوں موجود تھے اور سیدنا ابوبردہ عمربن عبدالعزیز کے سامنے اپنے والد کے حوالہ سے یہ حدیث بیان کررہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک یہودی یا عیسائی کو جہنم رسید کرے گا۔ عمربن عبدالعزیز نے ان سے تین بار اس اللہ کی قسم لی کہ جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کہ واقعی اس کے باپ نے اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث بیان کی ہے؟ انھوں نے جواباً قسم اٹھائی۔ سعید راوی نے قسم اٹھوانے والی بات بیان نہیں کی تھی، لیکن انھوں نے عون کی اس بات کا انکار بھی نہیں کیا تھا۔
Takhreej
(۱۳۱۷۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۶۷ (انظر: ۱۹۵۶۰)
13178
Sahih
۔ (۱۳۱۷۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ قاَلَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ لَمْ یَبْقَ مُؤْمِنٌ اِلَّا اُتِیَ بِیَھُوْدِیٍّ اَوْ نَصْرَانِیٍّ، حَتّٰییَدْفَعَہٗ اِلَیْہِیُقَالُ لَہٗ: ہٰذَافِدَاؤُکَ مِنَ النَّارِ۔)) قَالَ اَبُوْ بُرْدَۃَ: فَاسْتَحْلَفَنِیْ عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِ بِاللّٰہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَسَمِعْتَ اَبَا مُوْسٰییَذْکُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : قُلْتُ: نَعَمْ، فَسُرَّ بِذٰلِکَ عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۲۹)
سیدنا ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو ہر مومن کو ایک یہودی یا ایک عیسائی دے کر یہ کہا جائے گا کہ جہنم سے تمہاری نجات کے لیے یہ آدمی تمہارا فدیہ ہے۔ سیدنا ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: عمربن عبدالعزیز نے مجھ سے اللہ کے نام کا حلف اٹھوایا کہ کیا واقعی میں نے سیدنا ابو موسیٰ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ حدیث روایت کرتے سنا ہے، میں نے کہا جی ہاں، یہ سن کر عمربن عبدالعزیز خوش ہو گئے۔
Takhreej
(۱۳۱۷۹) تخریج: صحیح، أخرجہ ابوعوانۃ (انظر: ۱۹۶۰۰)
13179
Sahih

Chapters

30
01
اس بارے میں سیدنا ابو رزین لقیط بن عامر بن منتفق عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی جامع حدیث
6 Hadith
02
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان
3 Hadith
03
لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
8 Hadith
04
حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
4 Hadith
05
قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
6 Hadith
06
جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
5 Hadith
07
قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا
7 Hadith
08
شفاعت کے منکرین کا رد
1 Hadith
09
حشر والوں کے لیے شفاعت عظمیٰ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاص ہونا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے پہلا سفارشی ہونا
1 Hadith
10
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث
1 Hadith
11
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
1 Hadith
12
بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
2 Hadith
13
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
1 Hadith
14
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
4 Hadith
15
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
3 Hadith
16
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
6 Hadith
17
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
5 Hadith
18
کوثر اور اس کی صفات کا بیان
4 Hadith
19
حوض کا سر چشمہ کوثر کی نہر ہو گی
1 Hadith
20
حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
3 Hadith
21
عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
5 Hadith
22
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
7 Hadith
23
حوضِ کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت اوراس حوض کی صفات کے ساتھ ساتھ اس پر آنے والے بعض لوگوں کی صفات کا بیان
4 Hadith
24
نامہ اعمال کی وصولی اور ترازو کا بیان
4 Hadith
25
محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
8 Hadith
26
قیامت کے دن زمین اور انسان کے اعضاء کی انسان کے خلاف شہادت
2 Hadith
27
قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
7 Hadith
28
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
8 Hadith
29
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
4 Hadith
30
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.