TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of mosques and places of prayer - کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں - Book 6 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 6 of Sahih Muslim, with 53 chapters and 409 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

409 Hadith · 53 Chapters
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
وَحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ، إِلَى الْمُغِيرَةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ
Warrad, the scribe of Mughira b. Shu'ba, reported: Mu'awiya wrote to Mughira (the contents) of the hadith as transmitted by Mansur and A'mash.
سفیان نے کہا : ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے کاتب ورّاد سے سنا ، وہ کہتے تھے : حضرت معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو ، تو انھوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے : لاإله إلا الله وحده لاشريك له ، له مالملك ولاه الحمد ، وهو علي كل شيء قدير ، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذالجد منك الجد ’’ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا اور یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے ، وہی شکرو ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے اللہ ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی ۔ ‘ ‘
1341
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، سَمِعَا وَرَّادًا، كَاتِبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يَقُولُ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ: اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
Warrad, the scribe of Mughira b. Shu'ba, reported: Mu'awiya wrote to Mughira: Write to me anything which you heard from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). So he (Mughira) wrote to him (Mu'awiya): I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) uttering (these words) at the completion of prayer: There is no god but Allah. He is alone and there is no partner with Him. Sovereignty belongs to Him and to Him is praise due and He is Potent over everything. O Allah! no one can withhold what Thou givest, or give what Thou withholdest, and riches cannot avail a wealthy person with Thee.
سفیان نے کہا : ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے کاتب ورّاد سے سنا ، وہ کہتے تھے : حضرت معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو ، تو انھوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے : لاإله إلا الله وحده لاشريك له ، له مالملك ولاه الحمد ، وهو علي كل شيء قدير ، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذالجد منك الجد ’’ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا اور یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے ، وہی شکرو ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے اللہ ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی ۔ ‘ ‘
1342
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» وَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ»
Abu Zubair reported: Ibn Zubair uttered at the end of every prayer after pronouncing salutation (these words): There is no god but Allah. He is alone. There is no partner with Him. Sovereignty belongs to Him and He is Potent over everything. There is no might or power except with Allah. There is no god but Allah and we do not worship but Him alone. To Him belong all bounties, to Him belongs all Grace, and to Him is worthy praise accorded. There is no god but Allah, to Whom we are sincere in devotion, even though the unbelievers should disapprove it. (The narrator said): He (the Holy Prophet) uttered it at the end of every (obligatory) prayer.
محمد کے والد عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے ابو زبیر سے حدیث سنائی ، کہا : ( عبداللہ ) زبیر رضی اللہ عنہما سلام پھیر کر ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے : ’’ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے اور وہی شکر و ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔ گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی سے ( ملتی ) ہے ، اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں ۔ ہم اس کےسوا کسی کی بندگی نہیں کرتے ، ہر طرح کی نعمت اور سارا فضل و کرم اسی کا ہے ، خوبصورت تعریف کا سزا وار بھی وہی ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں ، چاہے کافر اس کو ( کتنا ہی ) نا پسند کریں ۔ ‘ ‘ اور کہا کہ رسو ل اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے لا الہ الا اللہ والے یہ کلمات کہا کرتے تھے ۔
1343
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَوْلًى لَهُمْ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يُهَلِّلُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.
Abu Zubair reported: Abdullah b Zubair used to say La ilaha il-Allah at the end of every prayer like the hadith narrated by Ibn Numair and he reported it in the end, and then reported Ibn Zubair saying: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) uttered La ilaha il-Allah at the end of every prayer.
عبدہ بن سلیمان نے ہشام بن عروہ سے اور انھوں نے اپنے خاندان کے مولیٰ ابو زبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے پڑھتے تھے ( آگے ) ابن نمیر کی روایت کے مانند ہے اور انھوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا : پھر ابن زبیر کہتےکہ رسول اللہ ﷺہر نماز کے بعد ان ( کلمات ) کو بلند آواز سے کہتے تھے ۔
1344
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ أَوِ الصَّلَوَاتِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
Abu Zubair reported: I heard Abdullah b. Zubair addressing (people) on the pulpit and saying: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) pronounced salutation at the end of the prayer or prayers, and then he made a mention of the hadith as transmitted by Hisham b. 'Urwa.
ہشام کے بجائے ) حجاج بن ابی عثمان نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے ابو زبیر نے حدیث بیان کی کہا : میں نے عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ اس منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نماز یا نمازوں کے آخر میں سلام پھیرنے کے بعد کہا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ہشام بن عروہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
1345
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ يَقُولُ: فِي إِثْرِ الصَّلَاةِ إِذَا سَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَكَانَ يَذْكُرُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Abu Zubair al-Makki reported that he had heard 'Abdullah b. Zubair uttering (the words) like that of the hadith (narrated above) at the end of the prayer after pronouncing salutation. He at the conclusion also said that he was making a mention of that from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ ابو زبیر مکی نے انھیں حدیث سنائی کہ انھوں نے عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، جب وہ نماز کے بعد سلام پھیرتے تو کہتے ۔ ۔ ۔ ( بقیہ روایت ) ان دونوں ( ہشام اور حجاج ) کی ( مذکورہ بالا ) روایت کے مانند ہے ، اور آخر میں کہا : وہ اسے رسو ل اللہ ﷺ سے بیان کیا کرتے تھے
1346
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، كِلَاهُمَا عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ - أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، فَقَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالُوا: يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ، فَقَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ؟ وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ» قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولُ اللهِ قَالَ: «تُسَبِّحُونَ، وَتُكَبِّرُونَ، وَتَحْمَدُونَ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً» قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الْأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا، فَفَعَلُوا مِثْلَهُ، فَقَالَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ» وَزَادَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ سُمَيٌّ: فَحَدَّثْتُ بَعْضَ أَهْلِي هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: وَهِمْتَ، إِنَّمَا قَالَ «تُسَبِّحُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ» فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي صَالِحٍ فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، اللهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، حَتَّى تَبْلُغَ مِنْ جَمِيعِهِنَّ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ. قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ، فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abu Huraira reported: The poor amongst the emigrants came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: The possessors of great wealth have obtained the highest ranks and the lasting bliss. He (the Holy Prophet) said: How is that? They said: They pray as we pray, and they observe fast as we observe fast, and they give charity but we do not give charity, and they set slaves free but we do not set slaves free. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Shall I not teach you something by which you will catch upon those who have preceded you, and get ahead of those who come after you, only those who do as you do being more excellent than you? They said: Yes, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: Extol Allah, declare His Greatness, and Praise Him thirty-three times after every prayer. Abu Salih said: The poor amongst the emigrants returned to the Messenger of Allah (may peace upon him) saying: Our brethren, the possessors, of property have heard what we have done and they did the same. So the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: This is Allah's Grace which He gives to whom He wishes. Sumayy reported: I made a mention of this hadith to some members of my family (and one of them) said: You have forgotten; he (the Holy Prophet) had said (like this): Extol Allah thirty-three time, praise Allah thirty-three times and declare His Greatness thirty-three times. Ibn `Ajlan said: I made a mention of this hadith to Raja' b. Haiwa and he narrated to me a hadith like this from Abu Salih from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the authority of Abu Huraira.
عاصم بن نضر تیمی نے کہا : ہمین معتمر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمین عبیداللہ نے حدیث سنائی نیز ( ایک اور سند سے ) قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں لیث نے ابن عجلان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( عبیداللہ اور ابن عجلان ) نے سًمَیّ سے ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ۔ ۔ یہ قتیبہ کی روایت کردہ حدیث ہے ۔ کہ کچھ تنگدست مہاجر رسو ل اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی : بلند درجے اور دائمی نعمت تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے ! آپ نے پوچھا : ’’ وہ کیسے ؟ ‘ ‘ انھوں نے کہا : وہ اسی طرح نمازیں پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں ، وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہم صدقہ نہیں کر سکتے ، وہ ( بندھے ہوؤں اور غلاموں کو ) آزاد کرتے ہیں جبکہ ہم آزاد نہیں کر سکتے تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تو کیا پھر میں تمھیں اسی چیز نہ سکھاؤں جس سے تم ان لوگوں کو پالو گے جو تم سے سبقت لے گے ہیں اور اس کے ذریعے سے ان سے بھی سبقت لے جاؤ گے جو تم سے بعد ( آنے والے ) ہیں ؟ اور تم سے وہی افضل ہو گا جو تمھاری طرح عمل کرے گا ۔ ‘ ‘ انھوں نے کہا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! ( ضرور بتائیں ۔ ) آپ نے فرمایا : ’’تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح : تکبیر اور تحمید ( سبحان اللہ : اللہ اکبر ، اور الحمد اللہ ) کا ورد کیا کرو ‘ ‘ ابو صالح نےکہا : فقرائے مہاجرین دوبارہ رسو ل اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے : ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی جو ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں سن لیا ہے اور اسی طرح عمل کرنا شروع کر دیا ہے ( وہ بھی تسبیح ، تکبیر اور تحمید کرنے لگے ہیں ۔ ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرمادے ۔ ‘ ‘ قتیبہ کے علاوہ لیث سے ابن عجلان کے حوالے سے دیگر روایت کرنے والوں نے یہ اضافہ کیا کہ سمی نے کہا : میں نے یہ حدیث اپنے گھر کے ایک فرد کو سنائی تو انھوں نے کہا : تمھیں وہم ہوا ہے ، انھوں ( ابو صالح ) نے تو کہا تھا : ’’تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد اللہ کہو اور تینتیس بار اللہ اکبر کہو ۔ ‘ ‘ میں دوبارہ ابو صالح کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھیں یہ بتا یا تو انھوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا : اللہ اکبر ، سبحان اللہ اور الحمد اللہ ، اللہ اکبر ، سبحان اللہ اور الحمد اللہ ( اس طرح کہو ) کہ سب کی تعداد تینتیس ہو جائے ۔ ابن عجلان نے کہا : میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ کو سنائی تو انھوں نے مجھے ابو صالح کے واسطے سے ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ( روایت کرتے ہوئے ) اسی کی مانند حدیث سنائی ۔
1347
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّهُ أَدْرَجَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَوْلَ أَبِي صَالِحٍ، ثُمَّ رَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: يَقُولُ سُهَيْلٌ: إِحْدَى عَشْرَةَ، إِحْدَى عَشْرَةَ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ كُلِّهِ ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ
Abu Huraira narrated it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that they (the poor among the emigrants) said: Messenger of Allah, the possessors of great wealth have obtained the highest ranks and lasting bliss, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Qutaiba on the authority of Laith except that he inserted the words of Abu Salih in the narration of Abu Huraira that the poor of the emigrants came back, to the end of the hadith,, but this addition was made that Suhail said (that every part of the supplication, i. e. Glorification of Allah, His Praise and declaration of His Greatness) should be uttered eleven times making the total as thirty-three.
امیہ بسطام عیشی نے مجھے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں یزید بن زریع نےحدیث سنائی ، کہا ہمیں روح نے سہیل سے حدیث سنائی انھون نے اپنے والد ( ابو صالح سے ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھون نے رسو اللہ ﷺ سے روایت کی کہ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بلند مراتب اور دائمی نعمتیں تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے ۔ ۔ ۔ جس طرح لیث سےقتیبہ کی بیان کی ہوئی حدیث ہے ، مگر انھوں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی حدیث میں ابو صالح کا یہ قول داخل کر دیا ہے کہ پھر فقراء مہاجرین لوٹ کر آئے ، حدیث کے آخر تک ۔ اور حدیث میں اس بات کا اضافہ کیا : سہیل کہتے تھے : ( ہر کلمہ ) گیارہ گیارہ دفعہ اور یہ سب ملا کر تینتیس بار ۔ ( یہ سہیل کا اپنا فہم تھا ۔ )
1348
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ - أَوْ فَاعِلُهُنَّ - دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً
Ka'b b. 'Ujra reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There are certain ejaculations, the repeaters of which or the performers of which after every prescribed prayer will never be caused disappointment: Glory be to Allah thirty-three times. Praise be to Allah thirty-three times, and Allah is most Great thirty-four times.
مالک بن مغول نے ہمیں خبر دی ، کہا : میں نے حکم بن عتیبہ سے سنا ، وہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے حضرت کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ ( نماز کے یا ) ایک دوسرے کے پیچھے کہے جانے والے ایسے کلمات ہیں کہ ہرفرض نماز کے بعد انھیں کہنے والا ۔ ۔ یا ان کو ادا کرنے والا ۔ کبھی نامراد و ناکام نہیں رہتا ، تینتیس بار سبحان اللہ ، تینتیس بار الحمد اللہ اورچونتیس با ر اللہ اکبر ۔ ‘ ‘
1349
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ - أَوْ فَاعِلُهُنَّ - ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ»
Ka'b b. 'Ujra reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There are certain ejaculations, the repeaters of which or the performers of which at the end of every prayer will never be caused disappointment: Glory be to Allah thirty-three times, Praise be to Allah thirty-three times, and Allah is most Great thirty-four times.
حمزہ زیات نے ہمیں حکم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ ﷺسے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ ایک دوسرے کےبعد کہے جانے والے ( کچھ ) کلمات ہیں ، ان کو کہنے والا ۔ یا ادا کرنے والا ۔ نا کام یا نامراد نہیں رہتا ۔ ہر ( فرض ) نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ ، تینتیس مرتبہ الحمد اللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا ۔ ‘ ‘
1350
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
Same as Hadees 1350
عمرو بن قیس ملائی نے حکم سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی ۔
1351
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيِّ - قَالَ مُسْلِمٌ: أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَبَّحَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ: تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If anyone extols Allah after every prayer thirty-three times, and praises Allah thirty-three times, and declares His Greatness thirty-three times, ninety-nine times in all, and says to complete a hundred: There is no god but Allah, having no partner with Him, to Him belongs sovereignty and to Him is praise due, and He is Potent over everything, his sins will be forgiven even If these are as abundant as the foam of the sea.
خالد بن عبداللہ نے ہمیں سہیل سے خبر دی ، انھوں نے ابو عبید مذحجی سے روایت کی ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ نے کہا : ابو عبید سلیمان بن عبدالملک کے مولیٰ تھے ۔ انھوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی : ’’جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس دفعہ الحمد اللہ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہا ، یہ ننانوے ہو گے اور سو پورا کرنے کے لیے لا الہ الا اللہ وحد ہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولاہ الحمد ، وہو علی کل شیء قدیر ‘ ‘ کیا اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ ‘ ‘
1352
Sahih
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
This hadith has been narrated by Abu Huraira by another chain of transmitters.
اسماعیل بن زکریا نے سہیل سے ، انھوں نے ابو عبید سے ، انھوں نے عطاء سے اور انھوں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا ، آگے ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند روایت کی ۔
1353
Sahih
Chapter: What is to be said between the opening takbir and the recitation of the Qur’an
تکبیر تحریمہ اور قراءات کے درمیان کیا کہا جائے
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ أَقُولُ: اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ
Abu Huraira reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to observe, silence for a short while between the takbir (at the time of opening the prayer) and the recitation of the Qur'an. I said to him: Messenger of Allah, for whom I would give my father and mother in ransom, what do you recite during your period of silence between the takbir and the recitation? He said: I say (these words): O Allah, remove my sins from me as Thou hast removed the East from the West. O Allah purify me from sins as a white garment is purified from filth. O Allah! wash away my sins with snow, water, and ice.
جریر نےعمارہ بن قعقاع سے ، انھوں نے ابوزرعہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ جب ( آغاز ) نماز کے لیے تکبیر کہتے تو قراءات کرنے سے پہلے کچھ دیر سکوت فرماتے ، میں نےعرض کی : اے اللہ کے رسو ل ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! دیکھیے یہ جو تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کی خاموشی ہے ( اس کے دوران میں ) آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’میں کہتا ہوں : اللہم باعدبینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب اللہم نقنی من خطایای کما ینقی الثوب الابیض من الدنس ، اللم اغسلنی من خطایای بالثلج والماء والبرد’’ اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے ۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے پاک کر دے برف کے ساتھ ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ ۔ ‘ ‘
1354
Sahih
Chapter: What is to be said between the opening takbir and the recitation of the Qur’an
تکبیر تحریمہ اور قراءات کے درمیان کیا کہا جائے
دَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ
Same as Hadees 1354
ابن فضیل اور عبدالواحد بن یاد دونوں نے ، عمارہ بن قعقاع سے ، اسی سند کے ساتھ ، جریر کی حدیث کی طرح روایت کی
1355
Sahih
Chapter: What is to be said between the opening takbir and the recitation of the Qur’an
تکبیر تحریمہ اور قراءات کے درمیان کیا کہا جائے
قَالَ مُسْلِمٌ وَحُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ، وَيُونُسَ الْمُؤَدِّبِ، و غَيْرِهِمَا قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ بِـ ‏{‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏}‏ وَلَمْ يَسْكُتْ ‏.‏
Abu Huraira reported that when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up for the second rak'ah he opened it with the recitation of the praise of Allah, the Lord of universe (al-Fatiha), and he did not observe silence (before the recitation of al-Fatiha).
حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو ( الحمد اللہ رب العٰلمین ) سے قراءت کا آغاز کر دیتے ( کچھ دیر ) خاموشی اختیار نہ فرماتے ۔
1356
Sahih
Chapter: What is to be said between the opening takbir and the recitation of the Qur’an
تکبیر تحریمہ اور قراءات کے درمیان کیا کہا جائے
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، وَثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟» فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا» فَقَالَ رَجُلٌ: جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا، فَقَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا، أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا»
Anas reported: A man came panting and entered the row of worshippers and said: Praise be to Allah, much praised and blessed. When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) finished the prayer he said: Who amongst you uttered these words? The people remained silent. He (the Prophet again said) -: Who amongst you uttered these words? He said nothing wrong. Then a man said: I came and had a difficulty in breathing, so I uttered them. He replied: I saw twelve angels facing one another as to who will take them up (to Allah).
حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آیا اور صف میں شریک ہوا جبکہ اس کی سانس چڑھی ہوئی تھی ، اس نے کہا : الحمد اللہ حمد کثیر طیبا مبارکا فیہ ’’ تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے ، حمد بہت زیادہ ‘ پاک اور برکت والی حمد ۔ ‘ ‘ جب رسو ل اللہ ﷺ نےنماز پوری کرلی تو آپ نے پوچھا ’’تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون تھا ؟ ‘ ‘ سب لوگوں نے ہونٹ بند رکھے ۔ آپ نے دوبارہ پوچھا ’’تم میں یہ کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس نے کوئی ممنوع بات نہیں کہی ۔ ‘ ‘ تب ایک شخص نے کہا : میں اس حالت میں آیا کہ میری سانس پھولی ہوئی تھی تو میں نے اس عالم میں یہ کلمات کہے ۔ آپ نے فرمایا : میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا جو ( اس میں ) ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون اسے اوپر لے جاتا ہے ۔ ‘ ‘
1357
Sahih
Chapter: What is to be said between the opening takbir and the recitation of the Qur’an
تکبیر تحریمہ اور قراءات کے درمیان کیا کہا جائے
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنَ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟» قَالَ رَجُلٌ مَنِ الْقَوْمِ: أَنَا، يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «عَجِبْتُ لَهَا، فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ»
Ibn 'Umar reported: While we said prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), one among the people said: Allah is truly Great, praise be to Allah in abundance. Glory be to Allah in the morning and the evening. The Messenger of Allah (may peace be upon, him) said: Who uttered such and such a word? A person among the people said: It is I, Messenger of Allah (who have recited these words). He (the Holy Prophet) said: It (its utterance) surprised me, for the doors of heaven were opened for It. Ibn 'Umar said: I have not abandoned them (these words) since I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saying this.
حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھون نے کہا : ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ اکبر کبیرا ، والحمد للہ کثیرا ، وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا ’’اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا ، اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے بہت زیادہ اور تسبیح اللہ ہی کے لیے ہے ، صبح و شام ۔ ‘ ‘ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : ’’فلاں فلاں کلمہ کہنے والا کون ہے ؟ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کےرسول ! میں ہوں آپ نے فرمایا ’’مجھے ان پر بہت حیرت ہوئی ، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے ۔ ‘ ‘ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے جب سے آپ سے یہ بات سنی ، اس کےبعد سے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا ۔
1358
Sahih
Chapter: It is recommended to come to prayers in a tranquil and dignified manner, and it is forbidden to come in a hasty manner
نماز کے لیے وقار اور سکون کے ساتھ آنا مستحب ہے اور دوڑ کر آنا ممنوع ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا»
Abu Huraira reported: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saying: When the Iqama has been pronounced for prayer, do not go running to it, but go walking in tranquillity and pray what you are in time for, and complete what you have missed.
مختلف سندوں سے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ’’جب نمازکھڑی ہو جائے تو اس کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ ، ( بلکہ اس طرح ) چلتے ہوئے آؤ کہ تم پر سکون طاری ہو ۔ ( نماز کا ) جو حصہ پالو اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے پورا کر لو ۔ ‘ ‘
1359
Sahih
Chapter: It is recommended to come to prayers in a tranquil and dignified manner, and it is forbidden to come in a hasty manner
نماز کے لیے وقار اور سکون کے ساتھ آنا مستحب ہے اور دوڑ کر آنا ممنوع ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلَاةِ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلَاةِ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ»
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When the words of Iqama are pronounced, do not come to (prayer) running, but go with tranquillity, and pray what you are in time for, and complete (what you have missed) for when one of you is preparing for prayer he is in fact engaged in prayer.
سعید بن مسیب اور ابو سلمہ کے بجائے ) عبدالرحمان بن یعقوب نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کی تکبیر کہہ دی جائے تو تم اس کےلیے بھاگتے ہوئے مت آؤ ، اس طرح آؤ کہ تم پر سکون ہو ، ( نماز کا ) جتنا حصہ پالو ، پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے پورا کر لو کیونکہ جب کوئی شخص نماز کا ارادہ کرکے آتا ہےتو وہ نماز ( ہی ) میں ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
1360
Sahih

Chapters

53
01
Chapter: The construction of the Masjid of the Prophet (saws)
مسجد نبوی کی تعمیر
15 Hadith
02
بیت ‌المقدس ‌كی ‌طرف ‌سے ‌خانہ ‌كعبہ ‌كی ‌طرف ‌قبلہ ‌كا ‌ہونا
5 Hadith
03
Chapter: The prohibition of building masajid over graves and placing images therein; and the prohibition of taking graves as masajid
قبروں پر مسجد بنانے، اس میں تصویریں رکھنے اور قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
8 Hadith
04
Chapter: The virtue of building masajid and encouragement to do so
مساجد کی تعمیر کی فضیلت اور اس کی تلقین
2 Hadith
05
Chapter: The recommendation to place the hands on the knees when bowing, and the abrogation of tatbiq
رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا افضل ہے، تطبیق (ہتھیلیوں کو جوڑ کر، انگلیوں کو پیوستہ کر کے، انہیں گھٹنوں کے درمیان رکھنا) منسوخ ہے
7 Hadith
06
Chapter: The permissibility of squatting on the heels
اقعاءکے طریقے سے ایڑیوں پربیٹھنے کاجواز
1 Hadith
07
Chapter: The prohibition of speaking during the prayer, and the abrogation of its former permissibility
نماز کے دوران میں بات چیت کی حرمت اور پہلے جواز کا منسوخ ہونا
10 Hadith
08
Chapter: The permissibility of cursing the Shaitan during prayer, and seeking refuge with Allah from him; and the permissibility of doing a few actions while in salat
نماز کے دوران میں شیطان پر لعنت بھیجنے ، اس سے پناہ مانگنے اور تھوڑے سے عمل کا جواز
3 Hadith
09
Chapter: The permissibility of carrying children during prayer, and their garments are regarded as being pure until it is realized that they are impure. Few actions will not invalidate the prayer, and the same applies if several such actions are done but are done separately
نماز میں بچوں کو اٹھانے کا جواز
4 Hadith
10
Chapter: The permissibility of taking one or two steps while praying, and that is not disliked if done for a reason. The permissibility of the Imam praying in a place that is higher than the people praying behind him, if that is done for a reason, such as teaching them how to offer prayers, and other than that.
نماز میں ایک دو قدم چلنے کا جواز
2 Hadith
11
Chapter: It is disliked to put the hands on the waist during the prayer
نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنا مکروہ ہے
1 Hadith
12
Chapter: It is disliked to smooth the pebbles or make the dirt level during salat
نماز میں (ایک سے زیادہ بار )کنکریاں صاف کرنا اور مٹی کو برابر کرنا مکروہ ہے
4 Hadith
13
Chapter: The prohibition of spitting in the masjid, during prayer and at other times. The prohibition of a praying person spitting in front of him or to his right
دوران نماز یا نماز کے علاوہ مسجد میں تھوک یا(یا گلے کی الائش ) پھنیکنا ممنوع ہے
13 Hadith
14
Chapter: The permissibility of offering salat while wearing shoes
جوتےپہن کر نماز پڑھنے کا جواز
2 Hadith
15
Chapter: It is disliked to offer salat in a garment with markings
نقش و نگار والے کپڑے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
3 Hadith
16
Chapter: It is disliked to offer salat in the presence of food that one wants to eat. It is disliked to offer salat while restraining the urge to relieve oneself, and so on
انسان جو کھانا فوراً تناول کرنا چاہتا ہے اس کی موجودگی میں اور فطری ضرورت روکتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ ہے
7 Hadith
17
Chapter: Prohibiting one who has eaten garlic, onions, or leeks, and other things that have an offensive odor from coming to the masjid, until that smell has gone away, and such a person should be expelled from the masjid
جس شخص نے لہسن ، پیاز ، گندنا یا ان جیسی کوئی نا گوار بو والی چیز کھائی ہو تو اس کے لیے بوختم ہونے تک مسجد میں جانے کی ممانعت اور اسے مسجد سے نکالنا
12 Hadith
18
Chapter: The prohibition of making lost property announcements in the masjid, and what should be said by one who hears a person making such an announcement
مسجد میں گم شدہ جانور کا اعلان کرنے کی ممانعت ، ایسا اعلان سننے والا کیا کہے ؟
5 Hadith
19
Chapter: As-Sahw (forgetfulness) in prayer and prostrating to compensate for it
نماز میں بھول جانے اور سجدہ سہو کا بیان
30 Hadith
20
Chapter: The prostration of recitation
سجدہ تلاوت کا بیان
12 Hadith
21
Chapter: The description of the sitting during the prayer, and how the hands are to be placed on the thighs
نماز میں بیٹھنے کا طریقہ اور دونوں ہاتھ رانوں پررکھنے کی کیفیت
6 Hadith
22
Chapter: The salam to exit the prayer when one has finished and how it is done
نماز ختم کے لیے اس سے فارغ ہوتے وقت سلام پھیرنے اور اس کی کیفیت
3 Hadith
23
Chapter: The remembrance after the prayer
نماز کے بعد ذکر کرنا.
4 Hadith
24
Chapter: It is recommended to seek refuge with Allah from the punishment of the grave, the punishment of hell, the trials of life and death, the tribulation of the Dajjal and from sin and debt between the tashah-hud and the taslim
تشہد اور سلام کے درمیان عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگنا مستحب ہے
3 Hadith
25
Chapter: From what refuge is to be sought when in salat
۔ نماز میں کن چیزوں سے پناہ مانگی جاتی ہے
13 Hadith
26
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
18 Hadith
27
Chapter: What is to be said between the opening takbir and the recitation of the Qur’an
تکبیر تحریمہ اور قراءات کے درمیان کیا کہا جائے
5 Hadith
28
Chapter: It is recommended to come to prayers in a tranquil and dignified manner, and it is forbidden to come in a hasty manner
نماز کے لیے وقار اور سکون کے ساتھ آنا مستحب ہے اور دوڑ کر آنا ممنوع ہے
6 Hadith
29
Chapter: When should the people stand up to pray?
لوگ نماز کے لیے کب کھڑے ہوں
6 Hadith
30
Chapter: The one who catches up with a rak`ah of the prayer, he has caught up with that prayer
جسے نماز کی ایک رکعت مل گئی ، اسے وہ نماز مل گئی
20 Hadith
31
Chapter: The recommendation to delay Zuhr (until it has cooled down) in severe heat for one who finds it too hot in route to join the congregation
سخت گرمی میں باجماعت نماز کے لیے جاتے وقت راستے میں شدید گرمی لگے تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنا مستحب ہے
7 Hadith
32
Chapter: It is recommended to pray Zuhr at the beginning of its time when there is no intense heat
گرمی میں شدت نہ ہو تو ظہر کو اول وقت میں جلد ی پڑھنا مستحب ہے
10 Hadith
33
Chapter: It is recommended to pray `Asr early
نماز عصر جلدی پڑھنا مستحب ہے
9 Hadith
34
Chapter: Stern warning against missing the `Asr prayer
نماز عصر چھوڑنے کے بارے میں سخت وعید
5 Hadith
35
Chapter: The evidence for those who say that “the middle prayer” is the `Asr prayer
ان کی دلیل جو کہتے ہیں الصلاۃ الوسطیٰ (درمیان کی نماز)عصر کی نماز ہے
10 Hadith
36
Chapter: The virtue of the Subh and the `Asr prayers, and of maintaining them
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان کی حفاظت
8 Hadith
37
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
17 Hadith
38
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
8 Hadith
39
Chapter: It is disliked to delay the prayers beyond their proper times, and what a person should do if the Imam delays the prayer
۔ نماز کو اس کے سب سے بہتر وقت سے مؤخر کرنا مکروہ ہے اور اگر امام نماز میں تاخیر کر دے تو مقتدی کو کیا کرنا چاہیے
7 Hadith
40
Chapter: The virtue of prayer in congregation, and clarifying the stern warning against staying away from it, and that it is fard kifayah
باجماعت نماز کی فضیلت ، اس سے پیچھے رہنے پروعید اور (وضاحت کہ )نماز باجماعت فرض کفایہ ہے
14 Hadith
41
Chapter: It is obligatory for the one who hears the call to prayer to come to the masjid
جو اذان سنے اس کے لیے مسجد میں آنا واجب ہے
1 Hadith
42
Chapter: Prayer in congregation is one of the sunnah of guidance
نماز کی باجماعت ادائگی ہدات کی پختہ راہوں میں سے (ایک راہ )ہے
2 Hadith
43
Chapter: The prohibition of leaving the masjid once the Mu’adhdhin has called the Adhan
جب مؤذن اذان کہہ دے تو اس کےبعد مسجد سے نکلنا ممنوع ہے
2 Hadith
44
Chapter: The virtue of praying `Isha and Subh in congregation
عشاء اور صبح کی نماز باجماعت ادا کرنے کی فضیلت
5 Hadith
45
Chapter: Concession allowing one to not attend the congregation if there is an excuse
عذر کی صورت میں نماز سے پیچھے رہ جانے (اکیلے پڑھ لینے )کی اجازت
3 Hadith
46
Chapter: It is permissible to offer voluntary prayers in congregation, and to pray on hasir (palm-fiber mats), khumrah (small mats), cloth, and other pure things
نفل نماز کی جماعت اور پاک چٹائی ، جائے نماز اور کپڑے وغیرہ پر نماز پڑھنا جائز ہے
7 Hadith
47
Chapter: The virtue of offering the obligatory prayers in congregation, the virtue of waiting for prayer and taking many steps towards the masjid, the virtue of walking to the masjid
فرض نماز باجماعت ادا کرنے اور نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت
7 Hadith
48
Chapter: The virtue of taking many steps to the masjid
مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت
8 Hadith
49
Chapter: Walking to prayer erases sins and raises one in status
مسجد میں نماز کے لیے چل کر آنے سے گناہ مٹائے جاتے ہیں اور اس سے درجات بلند کیے جاتے ہیں
5 Hadith
50
Chapter: The virtue of sitting in one’s prayer place after Subh, and the virtue of the masajid
صبح ( کی نماز) کے بعد اپنی نماز کی جگہ بیٹھے رہنے اور مساجد کی فضیلت
3 Hadith
51
Chapter: Who is more entitled to lead the prayer
امامت پر زیادہ حق کس کا ہے؟
11 Hadith
52
Chapter: It is recommended to say qunut in all prayers if a calamity befalls the Muslims – and refuge is sought from Allah (regarding that). It is recommended to say qunut in Subh at all times. And the clarification that it is to be said after raising the head from bowing in the final rak`ah, and it is recommended to say it out loud
جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہو تو تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھنا مستحب ہے
20 Hadith
53
Chapter: Making up a missed prayer. And it is recommended to hasten to make it up
فوت شدہ نماز کی قضا اور اس میں جلدی کرنا مستحب ہے
10 Hadith
No chapter matched that.