TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of mosques and places of prayer - کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں - Book 6 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 6 of Sahih Muslim, with 53 chapters and 409 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

409 Hadith · 53 Chapters
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: «كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا، وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ
Rafi' b. Khadij reported: We used to observe the evening prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and then one of us would go away and he could see the (distant) place where his arrow would fall.
ولید بن مسلم نے کہا : ہم سے اوزاعی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ابو نجاشی نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تو ہم میں سے کوئی شخص لوٹتا اور وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتا تھا ۔
1441
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ بِنَحْوِهِ
A hadith like this, i. e. We used to observe evening prayer.... so on and so forth, has been narrated by Rafi' b. Khadij by another chain of transmitters.
شعیب بن اسحاق دمشقی نے اوزاعی سے سابقہ سند کےساتھ رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےحدیث بیان کی ، کہا : ہم مغرب کی نماز ادا کر تے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) پچھلی حدیث کی طرح ہے ۔
1442
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ: «مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ»، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فِي النَّاسِ زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنَّ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلَاةِ، وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ،
A'isha. the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) deferred one night the 'Isya' prayer. And this is called 'Atama. And the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not come out till Umar b. Khattab told (him) that the women and children had gone to sleep. So the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came out towards them and said to the people of the mosque: None except you from the people of the earth waits for it (for the night prayer at this late hour), and it was before Islam had spread amongst people. And in the narration transmitted by Ibn Shihab the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) is reported to have said: It is not meant that you should compel the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) for prayer. And (this he said) when 'Umar b. Khattab called (the Holy Prophet) in a loud voice.
عمرو بن سوّاد عامری اور حرملہ بن یحییٰ دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے یونس نےخبر دی کہ انھیں ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز خوب اندھیرا ہونے تک مؤخر فرمائی اور اسی نماز کو عتمہ ( گہری تاریکی کے وقت کی نماز ) کہا جاتا تھا ۔ رسول اللہﷺ ( اس وقت تک ) گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ حضرت عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ( مسجد میں آنے والی ) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا : ’’اہل زمین میں سے تمھارے سوا اس نماز کا اور کوئی بھی انتظار نہیں کررہا ‘ ‘ اور یہ لوگوں میں ( مدینہ سے باہر ) اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے ۔ حرملہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھارے لیے مناسب نہ تھا کہ تم اللہ کے رسول ﷺ سے نماز کے لیے اصرار کرتے ۔ ‘ ‘ یہ تب ہوا جب عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بلند آواز سے پکارا ۔ ( انھوں نے غالباً یہ سمجھا کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں یا سو گئے ہیں
1443
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ، وَذُكِرَ لِي وَمَا بَعْدَهُ
A hadith like this has been narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters, but therein no mention has been made of the words of al-Zuhri: It was narrated to me, and that which followed.
عقیل نے ابن شہاب سے اسی سنج کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی لیکن اس میں زہر ی کا قول : وذکرلی ( مجھے بتایا گیا ) اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
1444
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالُوا جَمِيعًا: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ، وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، فَقَالَ: «إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي» وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: «لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي
A'isha reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one night delayed (observing the 'Isya' prayer) till a great part of the night was over and the people in the mosque had gone to sleep. He (the Holy Prophet) then came out and observed prayer and said: This is the proper time for it; were it not that I would impose a burden on my people (I would normally pray at this time). In the hadith transmitters by 'Abd al-Razzaq (the words are): Were it not that it would impose burden on my people.
محمد بن بکر ، حجاج بن محمد اور عبدالرزاق ۔ سب کے الفاظ باہم ملتے جلتے ہیں ۔ سب نے کہا : ابن جریج سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مجھے مغیرہ بن حکیم نے ام کلثوم بنت ابی بکر سے خبر دی کہ انھوں نے انھیں ( مغیرہ کو ) حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انھوں نے کہا : ایک رات نبی اکرم ﷺ ےعشاء کی نماز میں دیر کر دی یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے ، پھر آپ باہر تشریف لے گئے ، نماز پڑھائی اور فرمایا : ’’ اگر ( مجھے ) یہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں گا تو یہی اس کا ( بہترین ) وقت ہے ۔ ‘ ‘ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے : ’’ اگریہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے مشقت کا سبب بنے گا ۔ ‘ ‘
1445
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، أَوْ بَعْدَهُ، فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ، أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: «إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ»، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَصَلَّى
Abdullah b. Umar reported: We waited one night in expectation of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) for the last prayer of the night, and he came out to us when a third of the night had passed even after that. We do not know whether he had been occupied with family business or something else. When he came cut he said: You are waiting for prayer, for which the followers of no other religion wait. except you. Were it not a burden for my Ummah, I would have led them (in the 'Isya' prayer) at this hour. He then ordered the Mu'adhdbin (to call for prayer) and then stood up for prayer and observed prayer.
حکم نےنافع سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک رات ہم عشاء کی آخری نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے ، جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا یا اس کے ( بھی ) بعد آپ تشریف لائے ، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کو گھر والوں ( کے معاملے ) میں کسی چیز نے مشغول رکھا تھا یا کوئی اور بات بھی ، جب آپ باہر آئے تو فرمایا : ’’بلا شبہ تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہو جسکا تمھارے سوا کسی اور دین کے پیرو کار انتظار نہیں کر رہے ، اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے گراں ہو گا تو میں انھیں اسی گھڑی میں ( یہ ) نماز پڑھایا کرتا ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا ، اس نے اقامت کہی اور آب نے نماز پڑھائی ۔
1446
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً، فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ اللَّيْلَةَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ
Abdullah b. 'Umar reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was one night occupied (in some work) and he delayed it ('Isya' prayer) till we went to sleep in the mosque. We then woke up and again went to sleep and again woke up. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then came to us and said: None among the people of the earth except you waits for prayer in the night.
ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے نافع نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہم سے حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث بیان کی کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ ( کسی بنا پر ) اس ( عشاء کی نماز ) سے مشغول ہو گئے ، آپ نے اسے مؤخر کر دیا یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر سو گئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر آپ ( گھر سے ) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’آج رات تمھارے سوا اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو نماز کا انتظار کر رہا ہو ۔ ‘ ‘
1447
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، أَوْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: «إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا، وَنَامُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ»، قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى بِالْخِنْصِرِ
Thabit reported: They (the believers) asked Anas about the ring of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he said: One night the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) delayed (observing) the 'Isya' prayer up to the midnight or midnight was about to be over. He then came and said: (Other) people have offered prayers and slept, but you are constantly in prayer as long as you wait for prayer. Anas said: I perceive as if I am seeing the lustre of his silver ring, and lifted his, small left finger (in order to show how the Prophet had lifted it).
ثابت سے روایت ہےکہ انھوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے رسول اللہ ﷺ یک مہر ( یا انگوٹھی ) کے بارے میں پوچھا تو ( حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کی یا آدھی رات گزرنےکو تھی ، پھر آپ تشریف لائے اور فرمایا : ’’بلاشبہ ( دوسرے ) لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سوچکے ، اور تم ہو کہ نماز ہی میں ہو جب تک نماز کے انتظار میں بیٹھے ہو ۔ ‘ ‘ حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا : جیسے میں ( اب بھی ) آپ کی چاندی سے بنی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں اور انھوں نے بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھاتے ہوئے چھوٹی انگلی سے ( اشارہ کیاکہ انگوٹھی اس میں تھی ۔ )
1448
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
دَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «نَظَرْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً حَتَّى كَانَ قَرِيبٌ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ فِي يَدِهِ مِنْ فِضَّةٍ»
Anas b. Malik reported: We waited for the Messenger of Allah (may peace be upon hi n) one night, till it was about midnight. He (the Holy Prophet) came and observed prayer and then turned his face towards us, as it I was seeing the lustre of the silver ring on his finger.
ابوزید سعید بن ربیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قرہ بن خالد نے قتادہ سےحدیث سنائی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ہم نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کا انتظار کیا حتی کہ آدھی رات کے قریب ( کا وقت ) ہوگیا ، پھر آپ آئے اور نماز پڑھائی ۔ پھر آپ نے ہمارے طرف رخ فرمایا ، ایسا لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ، وہ آپ کے ہاتھ میں تھی ، چاندی کی بنی ہوئی تھی
1449
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ
This hadith has been narrated by Qurra with the same chain of transmitters, but therein he did not mention: He turned his face towards us.
عبیداللہ بن عبدالمجید حنفی نے قرہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی اور یہ بیان نہ کیا : ’’پھر آپ نے ہمار ی طرف رخ فرمایا ۔ ‘ ‘
1450
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
641) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ نُزُولًا فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فِي أَمْرِهِ، حَتَّى أَعْتَمَ بِالصَّلَاةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ: «عَلَى رِسْلِكُمْ، أُعْلِمُكُمْ وَأَبْشِرُوا أَنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللهِ عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ»، أَوْ قَالَ: «مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ» - لَا نَدْرِي أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ قَالَ -، قَالَ أَبُو مُوسَى: «فَرَجَعْنَا فَرِحِينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
Abu Musa reported: I and my companions who had sailed along with me in the boat landed with me in the valley of Buthan while the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was staying in Medina. A party of people amongst them went to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) every night at the time of the 'Isya' prayer turn by turn. Abu Musa said: (One night) we (I and my companions) went to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he was occupied in some matter till there was a delay in prayer so much so that it was the middle of the night. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then came out and led them (Musa's companions) in prayer. And when he had observed his prayer he said to the audience present: Take it easy, I am going to give you information and glad tidings that it is the blessing of Allah upon you for there is none among the people, except you, who prays at this hour (of the night), or he said: None except you observed prayer at this. (late) hour. He (i. e. the narrator) said: I am not sure which of these two sentences he actually uttered. Abu Musa, said: We came back happy for what we heard from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں اور میرے ( وہ ) ساتھ ۔ جو میرے ساتھ بڑی کشتی میں ( حبشہ سے واپس ) آئے تھے ۔ بطحان کے نشیبی میدان میں اترے ہوئے تھے ، رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تھے اور ہر رات ان میں سے ایک جماعت باری باری عشاء کی نمازمیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی ۔ ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے کہا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یوں اتفاق پیش آیا کہ آپ اپنے کسی معاملے میں ( اتنے ) مشغول ہو گئے کہ آپ نے نماز کو مؤخر کر دیا حتی کہ آدھی رات ہو گئی ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب آپ نے ناز مکمل کر لی تو ان لوگوں سے جو آپ کے سامنے حاضر تھے ، فرمایا : ’’ذرا ٹھہر و میں تمھیں بتاتا ہوں اور تم خوش ہو جاؤ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے کہ لوگوں میں اس وقت ، تمھارے سوا ، کوئی بھی نماز نہیں پڑھ رہا ۔ ‘ ‘ یا آپ نے فرمایا : ’’اس وقت تمھارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘ ہمیں یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے کون سا جملہ کہا تھا ۔ ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے بتایا : ہم رسول اللہ ﷺ کی بات سن کر خوش خوش واپس آئے ۔
1451
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ، الَّتِي يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةَ، إِمَامًا وَخِلْوًا؟ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَعْتَمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ، قَالَ: حَتَّى رَقَدَ نَاسٌ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ، قَالَ: «لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ»، قَالَ: فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً، كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ، ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ، ثُمَّ صَبَّهَا، يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ، حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ، ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ، لَا يُقَصِّرُ وَلَا يَبْطِشُ بِشَيْءٍ، إِلَّا كَذَلِكَ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَمْ ذُكِرَ لَكَ أَخَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ عَطَاءٌ: أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أُصَلِّيَهَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤَخَّرَةً كَمَا صَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ، فَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ذَلِكَ خِلْوًا أَوْ عَلَى النَّاسِ فِي الْجَمَاعَةِ، وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ، فَصَلِّهَا وَسَطًا، لَا مُعَجَّلَةً، وَلَا مُؤَخَّرَةً
Ibn Juraij reported: I said to Ata': Which time do you deem fit for me to say the 'Isya' prayer, -as an Imam or alone, -that time which is called by people 'Atama? He said: I heard Ibn 'Abbas saying: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one night delayed the 'Isya' prayer till the people went to sleep. They woke up and again went to sleep and again woke up. Then 'Umar b. Khattab stood up and said (loudly) Prayer. Ata' further reported that Ibn 'Abbas said: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came out, and as if I am still seeing him with water trickling from his head, and with his hand placed on one side of the head, and he said: Were it not hard for my Ummah, I would have ordered them to observe this prayer like this (i. e. at late hours). I inquired from 'Ata' how the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) placed his hand upon his head as Ibn Abbas had informed. So Ata' spread his fingers a little and then placed the ends of his fingers on the side of his head. He then moved them like this over his head till the thumb touched that part of the ear which is near the face and then it (went) to the earlock and the part of the heard. It (the bind) neither held nor caught anything but this is how (it moved oil). I said to Ata': Was it mentioned to you (by Ibn Abbas) how long did the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) delay it (the prayer) during that eight? He said: I do not know (I cannot give you the exact time). Ali' said: I love that I should say prayer, whether as an Imam or alone at delayed hours as the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that night, but if It is hard upon you in your individual capacity or upon people in the congregation and you are their Imam, then say prayer ('Isha') at the middle hours neither too early nor too late.
ابن جریج نے ہمیں خبر دی ، کہا : میں نے عطاء سے پوچھا : آپ کے نزدیک کون سی گھڑی زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اس میں عشاء کی نماز ، جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں ، امام کے ساتھ یا انفرادی طور پر پڑھوں ؟ انھوں نے جواب دیا : میں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کویہ فرماتے ہوئےسنا : ایک رات نبی ﷺ نے عشاء کی نماز میں دیر کر دی حتی کہ لوگ سوئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر سوئے اور بیدار ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے کہا : نماز ! عطاء نے کہا : ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا : تو نبی اکرمﷺ نکلے ، ایسا لگتا ہے کہ میں اب بھی آپ کو دیکھ رہا ہوں ، آپ کے سر مبارک سے قطرہ قطرہ پانی ٹپک رہا تھا اور ( بالوں میں سے پانی نکالنے کے لیے ) آپ نے اپنا ہاتھ سر کے آدھے حصے پر رکھا ہوا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امت کےلیے مشقت ہو گی تو میں انھیں حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اسی وقت پڑھا کریں ۔ ‘ ‘ ( ابن جریج نے ) کہا : میں نے عطاء سے اچھی طرح چوچھا کہ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انھیں کس طرح بتایا کہ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ کس انداز سے اپنے سر پر رکھا تھا ؟ تو عطاء نے میرے سامنے اپنی انگلیاں کسی قدر کھولیں ، پھر اپنی انگلیوں کے کنارے سر کی ایک جانب رکھے ، پھر ان کو دباتے ہوئے اسطرح ان کو سر پر پھیرا یہا ں تک کہ ان کا انگوٹھا کان کے اس کنارے کو چھونے لگا جو چہرے کے قریب ہوتا ہے ، پھر کنپٹی اور داڑھی کے کنارے کو ( چھوا ) بس اس طرح کیا نہ ( دباؤ میں ) کمی کی نہ کسی چیز کو پکڑا ( اور نچوڑا ۔ ) میں نے عطاء سے پوچھا : آب کو کیا بتایا گیا کہ اس رات نبی اکرم ﷺ نے کتنی تخیر کی ؟ انھوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں ۔ عطاء نے کہا : میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہےکہ میں امام ہوں یا اکیلا ، یہ نماز تاخیر سے پڑھوں ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے اس رات پڑھی تھی ۔ اگر یہ بات تمھارے لیے انفرادی طور پر با جماعت کی صورت میں لوگوں کےلیے جب تم ان کے امام ہو ، دشواری کا باعث ہو تو اس کو درمیان وقت میں پڑھو ، نہ جلد ی اور نہ مؤخر کرکے ۔
1452
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ»
Jabir b. Samura reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) postponed the last 'Isha' prayer.
ابواحوص نے سماک سے ، انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ، کہا : رسول اللہ ﷺ رات کی دوسری نماز تاخیر سے پڑھتے تھے
1453
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا، وَكَانَ يُخِفُّ الصَّلَاةَ» وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ يُخَفِّفُ
Jabir b. Samura reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to observe prayers like your prayers, but he would delay the prayer after nightfall to a little after the time you observed it, and he would shorten the prayer.
قتیبہ بن سعید اور ابو کامل جحدری نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نمازیں تمھاری طرح ( اوقات میں ) پڑھتے تھے ، البتہ عشاء مؤخر کرکے تمھاری نماز سے کچھ دیر بعد پڑھتے تھے اور نماز میں تخفیف کرتےتھے ۔ اور ابو کامل کی روایت میں ( یخف فی الصلاۃ کے بجائے ) ’’یخفف کے الفاظ ہیں ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے ۔ )
1454
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، أَلَا إِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَهُمْ يُعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ
Abdullah b. 'Umar reported: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Let the bedouin not gain upper hand over you in regard to the name of your prayer. See I (The night prayer should be called) 'Isya' (and the bedouins call it Atama (because) they milk their camels late.
زہیر نے کہا : ہم سے سفیان بن عینہ نے ابو لبید سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’تمھاری نماز کے نام پر تمھارے گنوار لوگ غالب نہ آجائیں ، خبردار !یہ عشاء ہے ، وہ اونٹنیوں کا دودھ دوہنے کی وجہ سے اندھیرا کر دیتے ہیں ( اور اندھیرے ( عتمہ ) کی بنا پر اس وقت پڑھی جانے والی نماز کو صلاۃ العتمہ ، یعنی اندھیرے کی نماز کہتےہیں
1455
Sahih
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللهِ الْعِشَاءُ، وَإِنَّهَا تُعْتِمُ بِحِلَابِ الْإِبِلِ
Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Let the bedouin not gain upper band over you In regard to the name of your prayer, i. e. night prayer, for it is mentioned 'Isya' in the Book of Allah (i. e. the Qur'an). (The bedouin call it 'Atama because) they make delay in milling their she-camels.
وکیع نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھاری صلاۃ عشاء کے نام پر بدوتم پر غالب نہ آجائیں کیونکہ اللہ کی کتاب میں ا س کا نام عشاء ہے : اور بدو اونٹنیوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر دیتے ہیں ۔ ‘ ‘
1456
Sahih
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يُصَلِّينَ الصُّبْحَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ لَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ»
A'isha reported: The believing women used to pray the morning prayer with the Messenger of Allah and then return wrapped in their mantles. No one could recognise them.
سفیان بین عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عروہ سےاور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ مومن عورتیں صبح کی نماز نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھتی تھیں ، پھر اپنی چادریں اوڑھے ہوئے واپس آتیں اور ( اندھیرے کی وجہ سے ) کوئی انھیں پہچان نہیں سکتا تھا ۔
1457
Sahih
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «لَقَدْ كَانَ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ يَشْهَدْنَ الْفَجْرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ، وَمَا يُعْرَفْنَ مِنْ تَغْلِيسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ
A'isha, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported: The believing women observed the morning prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) wrapped in their mantles. They then went back to their houses and were unrecognisable, because of the Messenger of Allah's ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) praying in the darkness before dawn.
یونس نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نےکہا : کچھ مومن عورتیں فجر کی نماز میں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوتی تھیں ، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو رسول اللہ ﷺ کے اندھیرے میں نماز پڑھنے کی بنا پر وپہچانی نہ جا سکتی تھیں
1458
Sahih
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ» وقَالَ الْأَنْصَارِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: مُتَلَفِّفَاتٍ
A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to observe the morning prayer, and the women would go back wrapped in their mantles being unrecognisable because of the darkness before dawn. (Ishaq b. Musa) al-Ansari (one of the transmitters in this chain of narration) narrated wrapped (only) in his narration. (No mention was made of mantles.)
نصر بن علی جہضمی اور اسحاق بن موسیٰ انصاری نے کہا : ہمیں معن نے مالک سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے عمرہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ایسا تھا کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھتے تو عورتیں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے گھروں کو لوٹتیں ، ( اور ) اندھیرےکی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں ۔ انصاری کی روایت میں ( متلفعات کے بجائے ) متلففات ( چادروں میں لپٹی ہوئی ) کے الفاظ ہیں ۔
1459
Sahih
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا، وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ، كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ، وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ كَانُوا - أَوْ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ
Muhammad b. 'Amr b. al-Hasan b. 'All reported: When Hajjaj came to Medina we asked Jabir b. Abdullah (about the timings of prayer as observed by the Holy Prophet). He said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to pray afternoon prayer in the midday heat; the afternoon prayer when the sun was bright; the evening prayer when the sun had completely set; and as for the night prayer, he sometimes delayed and sometimes (observed it) at earlier hours. When he found them (his Companions) assembled (at earlier hours) he (prayed) early. and when he saw them coming late, he delayed the (prayer). and the morning prayer the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed in the darkness before dawn.
محمد بن جعفر غندر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انھوں نے سعد بن ابراہیم سے اور انھوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی ( بن ابی طالب ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : جب حجاج مدینہ منورہ آیا ( اور تاخیر سے نمازیں پڑھنے لگا ) تو ہم نے ( نماز کےاوقات کے بارے میں ) جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا ، انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نما دوپہر کو ( زوال کے فورا بعد ) پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل صاف ( اور روشن ہوتا ) تھا اور مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی پڑھتے اور عشاء کی نماز کو کبھی مؤخر کرتے اور کبھی جلدی ادا کرتے ، جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے ارو جب انھیں دیکھتے کہ دیر کر دی ہے تو تاخیر کر دیتے ۔ اور صبح ( کی نماز ) یہ لوگ ۔ ۔ یا کہا : نبی ﷺ اندھیرے میں پڑھتے تھے ۔
1460
Sahih

Chapters

53
01
Chapter: The construction of the Masjid of the Prophet (saws)
مسجد نبوی کی تعمیر
15 Hadith
02
بیت ‌المقدس ‌كی ‌طرف ‌سے ‌خانہ ‌كعبہ ‌كی ‌طرف ‌قبلہ ‌كا ‌ہونا
5 Hadith
03
Chapter: The prohibition of building masajid over graves and placing images therein; and the prohibition of taking graves as masajid
قبروں پر مسجد بنانے، اس میں تصویریں رکھنے اور قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
8 Hadith
04
Chapter: The virtue of building masajid and encouragement to do so
مساجد کی تعمیر کی فضیلت اور اس کی تلقین
2 Hadith
05
Chapter: The recommendation to place the hands on the knees when bowing, and the abrogation of tatbiq
رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا افضل ہے، تطبیق (ہتھیلیوں کو جوڑ کر، انگلیوں کو پیوستہ کر کے، انہیں گھٹنوں کے درمیان رکھنا) منسوخ ہے
7 Hadith
06
Chapter: The permissibility of squatting on the heels
اقعاءکے طریقے سے ایڑیوں پربیٹھنے کاجواز
1 Hadith
07
Chapter: The prohibition of speaking during the prayer, and the abrogation of its former permissibility
نماز کے دوران میں بات چیت کی حرمت اور پہلے جواز کا منسوخ ہونا
10 Hadith
08
Chapter: The permissibility of cursing the Shaitan during prayer, and seeking refuge with Allah from him; and the permissibility of doing a few actions while in salat
نماز کے دوران میں شیطان پر لعنت بھیجنے ، اس سے پناہ مانگنے اور تھوڑے سے عمل کا جواز
3 Hadith
09
Chapter: The permissibility of carrying children during prayer, and their garments are regarded as being pure until it is realized that they are impure. Few actions will not invalidate the prayer, and the same applies if several such actions are done but are done separately
نماز میں بچوں کو اٹھانے کا جواز
4 Hadith
10
Chapter: The permissibility of taking one or two steps while praying, and that is not disliked if done for a reason. The permissibility of the Imam praying in a place that is higher than the people praying behind him, if that is done for a reason, such as teaching them how to offer prayers, and other than that.
نماز میں ایک دو قدم چلنے کا جواز
2 Hadith
11
Chapter: It is disliked to put the hands on the waist during the prayer
نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنا مکروہ ہے
1 Hadith
12
Chapter: It is disliked to smooth the pebbles or make the dirt level during salat
نماز میں (ایک سے زیادہ بار )کنکریاں صاف کرنا اور مٹی کو برابر کرنا مکروہ ہے
4 Hadith
13
Chapter: The prohibition of spitting in the masjid, during prayer and at other times. The prohibition of a praying person spitting in front of him or to his right
دوران نماز یا نماز کے علاوہ مسجد میں تھوک یا(یا گلے کی الائش ) پھنیکنا ممنوع ہے
13 Hadith
14
Chapter: The permissibility of offering salat while wearing shoes
جوتےپہن کر نماز پڑھنے کا جواز
2 Hadith
15
Chapter: It is disliked to offer salat in a garment with markings
نقش و نگار والے کپڑے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
3 Hadith
16
Chapter: It is disliked to offer salat in the presence of food that one wants to eat. It is disliked to offer salat while restraining the urge to relieve oneself, and so on
انسان جو کھانا فوراً تناول کرنا چاہتا ہے اس کی موجودگی میں اور فطری ضرورت روکتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ ہے
7 Hadith
17
Chapter: Prohibiting one who has eaten garlic, onions, or leeks, and other things that have an offensive odor from coming to the masjid, until that smell has gone away, and such a person should be expelled from the masjid
جس شخص نے لہسن ، پیاز ، گندنا یا ان جیسی کوئی نا گوار بو والی چیز کھائی ہو تو اس کے لیے بوختم ہونے تک مسجد میں جانے کی ممانعت اور اسے مسجد سے نکالنا
12 Hadith
18
Chapter: The prohibition of making lost property announcements in the masjid, and what should be said by one who hears a person making such an announcement
مسجد میں گم شدہ جانور کا اعلان کرنے کی ممانعت ، ایسا اعلان سننے والا کیا کہے ؟
5 Hadith
19
Chapter: As-Sahw (forgetfulness) in prayer and prostrating to compensate for it
نماز میں بھول جانے اور سجدہ سہو کا بیان
30 Hadith
20
Chapter: The prostration of recitation
سجدہ تلاوت کا بیان
12 Hadith
21
Chapter: The description of the sitting during the prayer, and how the hands are to be placed on the thighs
نماز میں بیٹھنے کا طریقہ اور دونوں ہاتھ رانوں پررکھنے کی کیفیت
6 Hadith
22
Chapter: The salam to exit the prayer when one has finished and how it is done
نماز ختم کے لیے اس سے فارغ ہوتے وقت سلام پھیرنے اور اس کی کیفیت
3 Hadith
23
Chapter: The remembrance after the prayer
نماز کے بعد ذکر کرنا.
4 Hadith
24
Chapter: It is recommended to seek refuge with Allah from the punishment of the grave, the punishment of hell, the trials of life and death, the tribulation of the Dajjal and from sin and debt between the tashah-hud and the taslim
تشہد اور سلام کے درمیان عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگنا مستحب ہے
3 Hadith
25
Chapter: From what refuge is to be sought when in salat
۔ نماز میں کن چیزوں سے پناہ مانگی جاتی ہے
13 Hadith
26
Chapter: It is recommended to recite statements of remembrance after the prayer, and how that is to be done
نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ
18 Hadith
27
Chapter: What is to be said between the opening takbir and the recitation of the Qur’an
تکبیر تحریمہ اور قراءات کے درمیان کیا کہا جائے
5 Hadith
28
Chapter: It is recommended to come to prayers in a tranquil and dignified manner, and it is forbidden to come in a hasty manner
نماز کے لیے وقار اور سکون کے ساتھ آنا مستحب ہے اور دوڑ کر آنا ممنوع ہے
6 Hadith
29
Chapter: When should the people stand up to pray?
لوگ نماز کے لیے کب کھڑے ہوں
6 Hadith
30
Chapter: The one who catches up with a rak`ah of the prayer, he has caught up with that prayer
جسے نماز کی ایک رکعت مل گئی ، اسے وہ نماز مل گئی
20 Hadith
31
Chapter: The recommendation to delay Zuhr (until it has cooled down) in severe heat for one who finds it too hot in route to join the congregation
سخت گرمی میں باجماعت نماز کے لیے جاتے وقت راستے میں شدید گرمی لگے تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنا مستحب ہے
7 Hadith
32
Chapter: It is recommended to pray Zuhr at the beginning of its time when there is no intense heat
گرمی میں شدت نہ ہو تو ظہر کو اول وقت میں جلد ی پڑھنا مستحب ہے
10 Hadith
33
Chapter: It is recommended to pray `Asr early
نماز عصر جلدی پڑھنا مستحب ہے
9 Hadith
34
Chapter: Stern warning against missing the `Asr prayer
نماز عصر چھوڑنے کے بارے میں سخت وعید
5 Hadith
35
Chapter: The evidence for those who say that “the middle prayer” is the `Asr prayer
ان کی دلیل جو کہتے ہیں الصلاۃ الوسطیٰ (درمیان کی نماز)عصر کی نماز ہے
10 Hadith
36
Chapter: The virtue of the Subh and the `Asr prayers, and of maintaining them
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان کی حفاظت
8 Hadith
37
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
17 Hadith
38
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
8 Hadith
39
Chapter: It is disliked to delay the prayers beyond their proper times, and what a person should do if the Imam delays the prayer
۔ نماز کو اس کے سب سے بہتر وقت سے مؤخر کرنا مکروہ ہے اور اگر امام نماز میں تاخیر کر دے تو مقتدی کو کیا کرنا چاہیے
7 Hadith
40
Chapter: The virtue of prayer in congregation, and clarifying the stern warning against staying away from it, and that it is fard kifayah
باجماعت نماز کی فضیلت ، اس سے پیچھے رہنے پروعید اور (وضاحت کہ )نماز باجماعت فرض کفایہ ہے
14 Hadith
41
Chapter: It is obligatory for the one who hears the call to prayer to come to the masjid
جو اذان سنے اس کے لیے مسجد میں آنا واجب ہے
1 Hadith
42
Chapter: Prayer in congregation is one of the sunnah of guidance
نماز کی باجماعت ادائگی ہدات کی پختہ راہوں میں سے (ایک راہ )ہے
2 Hadith
43
Chapter: The prohibition of leaving the masjid once the Mu’adhdhin has called the Adhan
جب مؤذن اذان کہہ دے تو اس کےبعد مسجد سے نکلنا ممنوع ہے
2 Hadith
44
Chapter: The virtue of praying `Isha and Subh in congregation
عشاء اور صبح کی نماز باجماعت ادا کرنے کی فضیلت
5 Hadith
45
Chapter: Concession allowing one to not attend the congregation if there is an excuse
عذر کی صورت میں نماز سے پیچھے رہ جانے (اکیلے پڑھ لینے )کی اجازت
3 Hadith
46
Chapter: It is permissible to offer voluntary prayers in congregation, and to pray on hasir (palm-fiber mats), khumrah (small mats), cloth, and other pure things
نفل نماز کی جماعت اور پاک چٹائی ، جائے نماز اور کپڑے وغیرہ پر نماز پڑھنا جائز ہے
7 Hadith
47
Chapter: The virtue of offering the obligatory prayers in congregation, the virtue of waiting for prayer and taking many steps towards the masjid, the virtue of walking to the masjid
فرض نماز باجماعت ادا کرنے اور نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت
7 Hadith
48
Chapter: The virtue of taking many steps to the masjid
مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت
8 Hadith
49
Chapter: Walking to prayer erases sins and raises one in status
مسجد میں نماز کے لیے چل کر آنے سے گناہ مٹائے جاتے ہیں اور اس سے درجات بلند کیے جاتے ہیں
5 Hadith
50
Chapter: The virtue of sitting in one’s prayer place after Subh, and the virtue of the masajid
صبح ( کی نماز) کے بعد اپنی نماز کی جگہ بیٹھے رہنے اور مساجد کی فضیلت
3 Hadith
51
Chapter: Who is more entitled to lead the prayer
امامت پر زیادہ حق کس کا ہے؟
11 Hadith
52
Chapter: It is recommended to say qunut in all prayers if a calamity befalls the Muslims – and refuge is sought from Allah (regarding that). It is recommended to say qunut in Subh at all times. And the clarification that it is to be said after raising the head from bowing in the final rak`ah, and it is recommended to say it out loud
جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہو تو تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھنا مستحب ہے
20 Hadith
53
Chapter: Making up a missed prayer. And it is recommended to hasten to make it up
فوت شدہ نماز کی قضا اور اس میں جلدی کرنا مستحب ہے
10 Hadith
No chapter matched that.