TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کافروں کے ہدیے قبول کرنا

Chapter 4 of ہبہ اور ہدیہ کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 10 · 3 Hadith
۔ (۶۲۷۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ مَلِکَ الرُّومِ أَہْدٰی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسْتَقَۃً مِنْ سُنْدُسٍ فَلَبِسَہَا وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰییَدَیْہَا تَذَبْذَبَانِ مِنْ طُولِہِمَا فَجَعَلَ الْقَوْمُ یَقُولُونَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أُنْزِلَتْ عَلَیْکَ ہٰذِہِ مِنَ السَّمَائِ؟ فَقَالَ: ((وَمَا یُعْجِبُکُمْ مِنْہَا فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! إِنَّ مَنْدِیلًا مِنْ مَنَادِیلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنْہَا۔)) ثُمَّ بَعَثَ بِہَا إِلَی جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ فَلَبِسَہَا فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّی لَمْ أُعْطِکَہَا لِتَلْبَسَہَا۔)) قَالَ: فَمَا أَصْنَعُ بِہَا؟ قَالَ: ((أَرْسِلْ بِہَا إِلَی أَخِیکَ النَّجَاشِیِّ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۳۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ذو یزن بادشاہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحفے میں ایک ایسی پوشاک پیش کی، جو اس نے تینتیس (۳۳) اونٹوں (یا اونٹوں) کے عوض لی تھی۔
Takhreej
(۶۲۷۶) تخریج: اسنادہ ضعیف ومتنہ منکر تفرد بھذہ السیاقۃ علی بن زید بن جدعان (انظر: ۱۳۴۰۰)
6276
Zaeef
۔ (۶۲۷۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَھْدٰی کِسْرٰی لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَبِلَ مِنْہُ وَاَھْدٰی لَہٗقَیْصَرُ فَقَبِلَ مِنْہُ، وَاَھْدَتْ لَہُ الْمُلُوْکُ فَقَبِلَ مِنْھُمْ۔ (مسند احمد: ۷۴۷)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کہ کسری نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہدیہ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے قبول کیا، قیصر نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحفہ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے قبول کیا اور دوسرے بادشاہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحفے دیئے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبول فرمائے۔
Takhreej
(۶۲۷۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ثویر بن ابی فاختہ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۵۷۶(انظر: ۷۴۷)
Explanation
فوائد:… آپa نے تالیف قلبی کے لیے مشرکوں سے تحفے قبول کیے ہیں۔
6277
Zaeef
۔ (۶۲۷۸)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: قَدِمَتْ قُتَیْلَۃُ ابْنَۃُ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِی مَالِکِ بْنِ حَسَلٍ عَلَی ابْنَتِہَا أَسْمَاء َ ابْنَۃِ أَبِی بَکْرٍ بِہَدَایَا ضِبَابٍ وَأَقِطٍ وَسَمْنٍ وَہِیَ مُشْرِکَۃٌ فَأَبَتْ أَسْمَائُ أَنْ تَقْبَلَ ہَدِیَّتَہَا وَتُدْخِلَہَا بَیْتَہَا فَسَأَلَتْ عَائِشَۃُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ} إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ فَأَمَرَہَا أَنْ تَقْبَلَ ہَدِیَّتَہَا وَأَنْ تُدْخِلَہَا بَیْتَہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۲۱۰)
۔ عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں: قتیلہ بنت عبد العزی ضب، پنیر اور گھی کے ہدیے لے کر اپنی بیٹی سیدہ اسماء بنت ِ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئی ، جبکہ وہ مشرک خاتون تھی، سو سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کے تحائف قبول کرنے سے اور اس کو اپنے گھر داخل کرنے سے انکار کر دیا، جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: {لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْآ اِلَیْھِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ۔}… جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ اچھا برتاؤ کرنے سے اللہ تعالی تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالی تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ ممتحنۃ: ۸) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ اسماء کو حکم دیا کہ وہ اپنی ماں کے تحفے قبول کرے اور اس کو اپنے گھر میں داخل کرے۔
Takhreej
(۶۲۷۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف مصعب بن ثابت۔ أخرجہ ابوداود الطیالسی: ۱۶۳۹، والحاکم: ۲/ ۴۸۵ (انظر: ۱۶۱۱۱)
Explanation
فوائد:… اس باب کی مذکورہ روایات تو ضعیف ہیں، لیکن آپ a نے بعض مواقع پر غیر مسلموں سے تحفے قبول کیے ہیں، مثلا آپ a نے کسری (ایران کے بادشاہ)، قیصر (روم کے بادشاہ) اور مختلف بادشاہوں کے تحائف قبول کئے۔ (ترمذی) دومۃ الجندل کے سردار نے آپ a کو ایک ریشمی جبہ بطور ہدیہ پیش کیا۔ (بخاری) یہودی عورت نے آپa کو زہر آلود بکری کا ہدیہ دیا، جو آپ a نے قبول کیا تھا۔ (بخاری، مسلم) اگلے باب کے آخر میں اس مسئلے کا حل دیکھیں۔
6278
Zaeef