Chapter 3 of ہبہ اور ہدیہ کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھجوروں اور چھوٹے کھیروں کی ایک طشتری دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیوریا سونے کے دو چلو بھر کر مجھے دیئے اور فرمایا: اس سے زینت حاصل کر۔ ایک روایت میں ہے: اس کو پہن۔
Takhreej
(۶۲۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی وابن عقیل۔ أخرجہ الترمذی فی ’’الشمائل‘‘: ۲۰۴، ۳۴۹، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴/ ۶۹۴ (انظر: ۲۷۰۲۳)
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی چیز ہبہ کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس کا بدلہ دیا اورفرمایا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو زیادہ دیا اور پھر پوچھا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو مزید کوئی چیز دی اور فرمایا: اب راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ہبہ قبول نہ کروں، مگر قریشی سے یا انصاری سے یا ثقفی سے۔
Takhreej
(۶۲۷۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن حبان: ۶۳۸۴، والطبرانی: ۱۰۸۹۷، والبزار: ۱۹۳۸ (انظر: ۲۶۸۷)
Explanation
فوائد:… حسب ِ استطاعت ہدیہ اور ہبہ کا بدلہ دینا چاہیے، اس بارے میں درج ذیل حدیث میں پورا ضابطہ بیان کیا گیا ہے۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اُعْطِیَ عَطَائً فَوَجَدَ فَلْیَجْزِ بِہٖ،فَاِنْلَّمْیَجِدْ فَلْیُثْنِ بِہٖ،فَمَنْاَثْنٰی بِہٖفَقَدْشَکَرَہٗوَمَنْکَتَمَہٗفَقَدْکَفَرَہٗ۔)) جسکوکوئی چیز دی جائے اور وہ بدلہ دینے کی طاقت رکھتا ہو تو وہ بدلہ دے، اگر اسے اتنی طاقت نہ ہو تو وہ اس کی تعریف کر دے، جس نے تعریف کی، اس نے شکر ادا کیا اور جس نے اس کو چھپایا، اس نے ناشکری کی۔ (ابوداود: ۴۸۱۳، ترمذی: ۲۰۳۴)
Takhreej
(۶۲۷۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، عمارہ بن زاذان یروی عن ثابت عن انس احادیث منکرۃ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۰۳۴ (انظر: ۱۳۳۱۵)