TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عمریٰ کی تفسیر کااور اس چیز کا بیان کہ کس کے حق میں اس کا فیصلہ ہو گا

Chapter 10 of ہبہ اور ہدیہ کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 10 · 5 Hadith
۔ (۶۳۰۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: اِنَّمَا الْعُمْرٰی الَّتِیْ اَجَازَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَقُوْلَ: ھِیَ لَکَ وَلِعَقِبِکَ، فَأَمَّا اِذَا قَالَ: فَھِیَ لَکَ، فَاِنَّمَا تَرْجِعُ اِلٰی صَاحِبِھَا۔ (مسند احمد: ۱۴۱۷۷)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: وہ عمریٰ جس کورسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نافذ قرار دیا تھا، اس کی صورتیہ ہے کہ دینے والا آدمی کہے: یہ چیز تیرے لیے اور تیرے ورثاء کے لئے ہے۔ جب وہ صرف اتنا کہے کہ یہ چیز تیرے لئے ہے، تو وہ چیز اصل مالک کی طرف لوٹ آئے گی۔
Takhreej
(۶۳۰۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۲۵ (انظر: ۱۴۱۳۱)
Explanation
فوائد:… کیا ورثاء کی قید لگانا عمرییا رقبی کے لیے ضروری ہے؟ جواب کے لیے اس باب کی آخری حدیث کے فوائد دیکھیں۔
6307
Sahih
۔ (۶۳۰۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ اَعْطٰی اُمَّہَ حَدِیْقَۃً مِنْ نَخْلٍ حَیَاتَہَا، فَمَاتَتْ فَجَائَ اِخْوَتُہُ فَقَالُوْا: نَحْنُ فِیْہِ شَرْعٌ سَوَائٌ، فَأَبٰی فَاخْتَصَمُوْا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَسَمَہَا بَیْنَہُمْ مِیْرَاثًا۔ (مسند احمد: ۱۴۲۴۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ ایک انصاری نے اپنی ماں کو اس کی زندگی بھر کے لیے کھجوروں کا ایک باغ دیا، جب اس کی ماں کی وفات ہوئی تو اس انصاری کے دوسرے بھائی آکر کہنے لگے کہ ہم سب اس باغ میں برابر کے شریک ہیں، لیکن اس نے انکار کر دیا، پس وہ جھگڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس باغ کو ان کے مابین بطورِ میراث تقسیم کر دیا۔
Takhreej
(۶۳۰۸) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۵۷ (انظر: ۱۴۱۹۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے مطابق صرف متعلقہ آدمی کی عمر کی قید لگانے سے عمری نافذ ہو جائے گا۔
6308
Sahih
۔ (۶۳۰۹)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَّارٍ أَنَّ أَمِیْرًا کَانَ بِالْمَدِیْنَۃِیُقَالُ لَہُ: طَارِقٌ، قَضٰی بِالْعُمْرٰی لِلْوَارِثِ عَلٰی قَوْلِ جَابِرِبْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۴۳)
۔ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مدینہ کے طارق نامی ایک امیر نے عمریٰ میں دی گئی چیز کا فیصلہ وارث کے حق میں کیا تھا، اس کا یہ فیصلہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کردہ حدیث کی روشنی میں تھا۔
Takhreej
(۶۳۰۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۲۵(انظر: ۱۵۰۷۷)
Explanation
فوائد:… یہ طارق بن عمرو مکی اموی تھا، جو عبد الملک بن مروان کی جانب سے مدینہ کا گورنر تھا۔
6309
Sahih
۔ (۶۳۱۰)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ الْعُمْرٰی (وَ فِیْ لَفْظٍ: قَضٰی بِالْعُمْرٰی) لِلْوَارِثِ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۱۹)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمریٰ میں دی گئی چیز کا فیصلہ وارث کے حق میں کیا۔
Takhreej
(۶۳۱۰) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۸۱، والنسائی: ۶/۲۷۱ (انظر: ۲۱۵۸۶)
6310
Sahih
۔ (۶۳۱۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَ مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ قَالَا: أَنْبَأَنَا جُرَیْجٌ، أَخْبَرَنِی ابْنُ شِہَابٍ الزُّھَرِیُّ عَنْ حَدَیْثِ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَنْصَارِیِّ أَخْبَرَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی أَیُّمَا رَجُلٍ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرٰی لَہُ وَ لِعَقِبِہِ، فَقَالَ: قَدْ أَعْطَیْتُکَہَا وَعَقِبَکَ مَا بَقِیَ مِنْکُمْ أَحَدٌ فَاِنَّمَا ھِیَ، قَالَ ابْنُ بَکْرٍ: لِمَنْ أُعْطَاھَا، وَقَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ: لِمَنْ أُعْطِیَہَا، وَ اَنَّھَا لَا تَرْجِعُ إِلٰی صَاحِبِہَا مِنْ أَجْلِ أَنَّہُ أَعْطَاھَا عَطَائً وَقَعَتْ فِیْہِ الْمَوَارِیْثُ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۶۴)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمریٰ کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: جو شخص کوئی چیز بطورِ عمری کسی دوسرے شخص کو اور اس کی نسل کو دیتے ہوئے کہے: میں نے یہ چیز تجھے اور تیری نسل کو دے دی ہے، جب تک تم میں سے کوئی باقی ہو، تو یہ چیز اسی کی ہو جائے گی، جس کو دی جائے گی اور یہ پہلے مالک کی طرف اس لیے نہیں لوٹے گی کہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے کہ جس میں میراث کے قوانین لاگو ہو چکے ہیں۔
Takhreej
(۶۳۱۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۲۵(انظر: ۱۵۲۹۰)
Explanation
فوائد:… عمری اوررقبی کے نفاذ کے لیے نسل کی قید لگانا ضروری نہیں ہے، یہ ایک زائد چیز ہے، جس سے مزید تاکید پیدا ہو جاتی ہے اور یہاں اتفاقی طور پر ذکر کی گئی ہے، وگرنہ صرف عمر کی قید لگانے سے عمری اور رقبی کے احکام نافذ ہو جائیں گے۔
6311
Sahih