TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

یتیم کے بارے میں وصیت کرنے والے کا بیان - یتیم کے بارے میں وصیت کرنے والے کا بیان - وصیتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of وصیتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 4 · 3 Hadith
۔ (۶۳۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا ذَرٍّ! لَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْمٍ وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلٰی اثْنَیْنِ)) (مسند احمد: ۲۱۸۹۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! توہرگز یتیم کے مال کی سرپرستی قبول نہ کرنا اور نہ ہی دو شخصوں کے درمیان قاضی بننا۔
Takhreej
(۶۳۳۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۲۶(انظر: ۲۱۵۶۳)
Explanation
فوائد:… یتیم کی کفالت اور قضا کا شعبہ بہترین اعمال ہیں،لیکن ان کے کمال زہد و تقوی اور عدل و انصاف کی ضرورت ہے، ان بڑی ذمہ داریوں کو سامنے رکھ کر آپ a نے سیدنا ابو ذر b کو ان اعمال سے دور رہنے کا مشورہ دیا، اس چیز کا بڑا امکان ہوتا ہے کہ فیصلہ کرتے وقت قاضی کا رجحان کسی ایک فریق کی طرف ہو جائے اور یتیم کی کفالت کرتے کرتے اس کا مال استعمال کر لیا جائے۔
6334
Sahih
۔ (۶۳۳۵)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: لَیْسَ لِیْ مَالٌ وَلِیْیَتِیْمٌ؟ فَقَالَ: ((کُلْ مِنْ مَالِ یَتِیْمِکَ غَیْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَذِّرٍ وَلا مُتَأَثِّلٍ مَالًا وَمِنْ غَیْرِ أَنْ تَقِیَ مَالَکَ۔)) أَوْ قَالَ: ((تَفْدِیَ مَالَکَ بِمَالِہِ۔)) شَکَّ حُسَیْنٌ۔ (مسند احمد: ۷۰۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: میرے پاس کوئی مال نہیں ہے، البتہ ایکیتیم میری سرپرستی میں ہے تو کیا میں اس کا مال لے سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ نے فرمایا: اپنے یتیم کے مال سے کھاسکتے ہو، لیکن نہ اس میں اسراف ہو، نہ فضول خرچی، نہ مال کو جمع کرنے والے ہو اور اپنے مال کو بچانے والے ہو۔ یا فرمایا: نہ اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچانے والے ہو۔
Takhreej
(۶۳۳۵) اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۷۲، والنسائی: ۶/ ۲۵۶، وابن ماجہ: ۲۷۱۸(انظر: ۷۰۲۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سرپرست اپنے یتیم کے مال کے اضافے اور اصلاح کے لیے جو محنت کر رہا ہو، وہ اس مال سے اس کا عوض لے سکتا ہے، لیکنیہ اجرت معروف طریقے کے مطابق ہونی چاہیے، بہتر یہ ہے کہ ایسا سرپرست معاشرے یا خاندان کے عدل و انصاف اور فہم و فراست والے دو افراد سے اپنی اجرت کا تعین کروا لے، تاکہ اس کا نفس مختلف حیل و حجت کرنے سے محفوظ ہو جائے، باقی ہدایات حدیث میں ہی بیان کر دی گئی ہیں۔
6335
Sahih
۔ (۶۳۳۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیِْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ أَحْسَنُ} عَزَلُوْا اَمْوَالَ الْیَتَامٰی حَتّٰی جَعَلَ الطَّعَامُ یَفْسُدُ وَاللَّحْمُ یُنْتِنُ فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَتْ: {وَإِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ} قَالَ: فَخَالَطُوْھُمْ۔ (مسند احمد: ۳۰۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جائو مگر اچھے طریقے کے ساتھ۔ تو لوگوں نے یتیموں کے مال اپنے مالوں سے علیحدہ کر دئیے، (لیکن اس وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو گئی کہ) یتیم کا کھانا خراب ہو جاتا اور گوشت میں بدبو پیداہوجاتی اور اس طرح اس کا مال ضائع ہو جاتا، پس جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کی گئی تو یہ حکم نازل ہوا کہ اگر تم ان یتیموں کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں اور اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والے میں سے فساد کرنے والے کو جانتا ہے۔
Takhreej
(۶۳۳۶) اسنادہ ضعیف، عطاء بن السائب کان قد اختلط۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۷۱(انظر: ۳۰۰۰)
Explanation
فوائد:… حافظ ابن کثیر نے کہا: مجاہد، عطائ، شعبی، ابن ابی لیلی، قتادہ اور کئی سلف و خلف نے ان دو آیتوں کا یہی شان نزول بیان کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: ۱/ ۳۷۵) حدیث میں مذکورہ پہلی آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری قرار پائے، تو اس کی ہر طرح خیر خواہی کرنا تمہارا فرض ہے، اس کو وراثت سے جو مال ملا ہے، اس وقت تک پورے خلوص سے اس کی حفاظت کی جائے، جب تک وہ بلوغت اور شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے، یہ نہ ہو کہ کفالت کے نام پر اس کی عمرِ شعور سے پہلے ہی اس کے مال یا جائیداد کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ جب صحابہ کرام نے یہ ہدایات سنیں تو انھوں نے اپنے آپ کو ہر قسم کی وعید اور تہمت سے بچانے کے لیےیتیم کا مال و متاع ہی سرے سے الگ الگ کر دیا، لیکن اس سے یتیم کے مال کا نقصان ہونے لگ گیا، پھر اللہ تعالی نے دوسری آیت نازل کر کے وضاحت کی کہ بغرض اصلاح و بہتری ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔
6336
Zaeef