۔ (۶۳۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((یَا أَبَا ذَرٍّ! لَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْمٍ وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلٰی اثْنَیْنِ)) (مسند احمد: ۲۱۸۹۶)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! توہرگز یتیم کے مال کی سرپرستی قبول نہ کرنا اور نہ ہی دو شخصوں کے درمیان قاضی بننا۔
Takhreej
(۶۳۳۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۲۶(انظر: ۲۱۵۶۳)
Explanation
فوائد:… یتیم کی کفالت اور قضا کا شعبہ بہترین اعمال ہیں،لیکن ان کے کمال زہد و تقوی اور عدل و انصاف کی ضرورت ہے، ان بڑی ذمہ داریوں کو سامنے رکھ کر آپ a نے سیدنا ابو ذر b کو ان اعمال سے دور رہنے کا مشورہ دیا، اس چیز کا بڑا امکان ہوتا ہے کہ فیصلہ کرتے وقت قاضی کا رجحان کسی ایک فریق کی طرف ہو جائے اور یتیم کی کفالت کرتے کرتے اس کا مال استعمال کر لیا جائے۔
6334
Sahih