سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو اٹھتے تھے، ایک روایت میں ہے: جب تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو اپنے منہ کو مسواک کے ذریعے صاف کرتے۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو یہ دعا کرتے: اَللّٰہُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا… اے اللہ! نفع مند بارش نازل فرما۔ شریح کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر میں داخل ہوتے تو کسی چیز سے ابتدا کرتے تھے، انھوں نے کہا: مسواک سے۔
Takhreej
(۵۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ النسائی: ۳/ ۱۶۴، وأخرجہ مسلم: ۲۵۳ دون القسم الاول (انظر: ۲۴۱۴۴)
Explanation
فوائد:… نیند، گفتگو اور کچھ دیر گزر جانے سے معدہ کے بخارات کی وجہ سے منہ میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے، اس لیے ایسے اوقات میں مسواک کی جاتی ہے۔
سیدنا عامر بن ربیعہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اَن گنت اور بے شمار دفعہ روزے کی حالت میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا۔
فوائد:… امام شافعی نے روزے دار کے لیے دن کے شروع میں اور آخر میں مسواک کرنے کو جائز قرار دیا ہے، جبکہ امام احمد نے دن کے آخری حصے میں مسواک کرنے کو ناپسند کیا ہے، جبکہ ناپسند کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، دونوں کی ایک قسم کی ضرورت تھی، جب ان میں سے ایک آدمی نے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے منہ سے بدبو محسوس کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم مسواک نہیں کرتے؟ اس نے کہا: جی میں ضرور کرتا ہوں، اصل بات یہ ہے کہ میں نے تین دنوں سے کھانا نہیں کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم، پس اس نے اس کو جگہ دی اور اس کی ضرورت پوری کی۔
فوائد:… مسواک کے عام دلائل روزے دار کو بھی شامل ہیں، جبکہ خاص دلائل بھی موجود ہیں، نیز کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے، جس میں روزے دار کو مسواک کرنے سے منع کیا گیا ہو، علاوہ ازیں اگر روزے دار کے لیے وضو میں کلی کرنا درست ہے، جس میں سارے منہ میں پانی کو حرکت دے کر گھمایا جاتا ہے تو مسواک بھی درست ہونا چاہیے۔ ذہن نشین رہے کے روزے دار کہ منہ کی بو، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی پاکیزہ ہے ، کا تعلق روزے دار کے معدے سے ہے، نہ کہ منہ سے، اس لیے مسواک سے وہ بو متأثر نہیں ہوتی۔