TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ان افراد کا بیان جن پر حد واجب نہیں ہوتی، نیز شبہات کی بنا پر حدود نہ لگانے کا بیان

Chapter 3 of حدود کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 5 · 3 Hadith
۔ (۶۶۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ظَبْیَانَ الْجَنْبِیِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ اُتِیَ بِامْرَأَۃٍ قَدْ زَنَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِہَا فَذَھَبُوْا بِہَا لِیَرْجُمُوْھَا فَلَقِیَہُمْ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَا ھٰذِہِ؟ قَالُوْا: زَنَتْ فَأَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِہَا فَانْتَزَعَہَا عَلِیٌّ مِنْ أَیْدِیْہِمْ وَ رَدَّھُمْ، فَرَجَعُوْا إِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: مَا رَدَّکُمْ؟ فَقَالُوْا: رَدَّنَا عَلِیٌ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ ھٰذَا عَلِیٌّ اِلَّا لِشَیْئٍ قَدْ عَلِمَہُ، فَأَرْسَلَ إِلٰی عَلِیٍّ فَجَائَ وَھُوَ شِبْہُ الْمُغْضَبِ، فَقَالَ: مَا لَکَ رَدَدْتَ ھٰؤُلَائِ؟ قَالَ: اَمَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ، عَنِ النَّائِمِ حَتّٰییَسْتَیْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِیِّ حَتّٰییَکْبَرَ، وَعَنِ الْمُبْتَلٰی حَتّٰییَعْقِلَ؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَاِنَّ ھٰذِہٖمُبْتَلَاۃُ بَنِیْ فُلَانٍ فَلَعَلَّہُ أَتَاھَا وَھُوَ بِہَا، فَقَالَ: عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: وَأَنَا لَا أَدْرِیْ، فَلَمْیَرْجُمْہَا۔ (مسند احمد: ۱۳۲۸)
۔ ابو ظبیان جنبی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، پس انہوں نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، لوگ اسے رجم کرنے کے لیے لے گئے،جب ان کی سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوئی انھوں نے پوچھا:یہ کیا کرنے جارہے ہو؟ انہوں نے کہا: اس نے زنا کیا ہے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا ہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ عورت ان کے ہاتھوں سے چھڑائی اور لے جانے والوں کو واپس لوٹا دیا، جب وہ لوٹ کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیوں واپس آ گئے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں واپس بھیج دیا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: تو پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کسی سبب کے علم کی بنا پر ایسا کیا ہو گا۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا بھیجا، جب وہ آئے تو ایسے لگ رہا تھا کہ وہ غصے میں ہیں، انھوں نے کہا: اے علی! تمہیں کیا ہواہے کہ ان کو واپس لوٹا دیا ہے؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، (۱) سوئے ہوئے سے جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو جائے، (۲) بچے سے جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے اور (۳) پاگل سے جب تک وہ عقلمند نہ ہو جائے۔ ؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیوں نہیں ضرور سن رکھی ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:یہ بنی فلاں قبیلہ کی کم عقل خاتون ہے، ممکن ہے متعلقہ مرد نے اس سے اس وقت زنا کیا ہو جب یہ جنون کی حالت میں ہو، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے تو معلوم نہیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے رجم نہ کیا تھا۔
Takhreej
(۶۶۳۴) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۰۲(انظر: ۱۳۲۸)
Explanation
فوائد:… سونے والا، نابالغ بچہ اور پاگل مرفوع القلم ہیں، کسی شخص پر حد نافذ کرنے کی بنیادیقین پر رکھی جاتی ہے، اور اس حدیث میں مذکورہ خاتون کا معاملہ یقینی نہیں ہے، بلکہ اس کے اس جنون کا قوی شبہ ہے، جس کی بنا پر اس کو حد سے مستثنی کیا جائے گا اور خلیفۂ راشد نے ایسے ہی کیا۔
6634
Sahih
۔ (۶۶۳۵)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: خَرَجَتِ امْرَأَۃٌ اِلَی الصَّلَاۃِ فَلَقِیَہَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَہَا بِثِیَابِہِ فَقَضٰی حَاجَتَہُ مِنْہَا وَذَھَبَ، وَانْتَہٰی اِلَیْہَا رَجُلٌ فَقَالَتْ لَہُ: اِنَّ الرَّجُلَ فَعَلَ بِیْ کَذَا وَکَذَا، فَذَھَبَ الرَّجُلُ فِیْ طَلْبِہِ، فَجَائُ وْا بِالرَّجُلِ الَّذِیْ ذَھَبَ فِیْ طَلْبِ الرَّجُلِ الَّذِیْ وَقَعَ عَلَیْہَا، فَذَھَبُوْا بِہِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: ھُوَ ھٰذَا فَلَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ بِرَجْمِہِ، قَالَ الَّذِیْ وَقَعَ عَلَیْہَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَا ھُوَ، فَقَالَ لِمَرْأَۃٍ: ((اذْھَبِیْ فَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکِ۔)) وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا، فَقِیْلَ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا تَرْجُمُہُ؟ فَقَالَ: ((لَقَدْ تَابَ تَوْبَۃً لَوْ تَابَہَا أَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ لَقُبِلَ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۸۲)
۔ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نماز کی ادائیگی کے لئے گھر سے باہر نکلی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا، اس نے اپنے کپڑوں سے اس کو ڈھانپ لیا اور اپنی حاجت پوری کر لی اور فرار ہو گیا،اس عورت کے پاس ایک آدمی پہنچا، اس عورت نے اس سے کہا: فلاں آدمی نے مجھ سے برائی کی ہے، وہ آدمی اس کی تلاش میں گیا اورلوگ اس کو پکڑ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آئے، اس عورت نے بھی (غلطی سے) کہہ دیا کہ وہ یہی ہے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو وہ آدمی، جس نے واقعی اس عور ت سے برائی کی تھی، کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!اس سے برائی کرنے والا میں ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: تو چلی جا، اللہ تعالیٰ نے تجھے معاف کر دیا ہے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کے حق میں اچھے کلمات ارشاد فرمائے، آپ سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کو رجم کیوں نہیں کرتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اس کی توبہ کو مدینہ والوں پر تقسیم کیا جائے تو ان سے بھی قبول کرلی جائے۔
Takhreej
(۶۶۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، سماک بن حرب تفرد بہ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ، ثم انہ قد اضطرب فی متنہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۳۷۹، والترمذی: ۱۴۵۴ (انظر: ۲۷۲۴۰)
6635
Zaeef
۔ (۶۶۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: اسْتُکْرِھَتِ امْرَأَۃٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَرَأَ عَنْہَا الْحَدَّ وَأَقَامَہُ عَلَی الَّذِیْ أَصَابَہَا وَلَمْ یَذْکُرْ أَنَّہُ جَعَلَ لَھَا مَہْرًا۔ (مسند احمد: ۱۹۰۷۸)
۔ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں ایک عورت سے زنا بالجبر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے حد روک لی اور جس مرد نے یہ برائی کی تھی، اس پر حد قائم کی، راوی نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اس خاتون کے لیے مہر مقرر کیا تھا یا نہیں۔
Takhreej
(۶۶۳۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حجاج بن ارطاۃ ثم انہ لم یسمع من عبد الجبار۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۹۸، والترمذی: ۱۴۵۳(انظر: ۱۸۸۷۲)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ قانون شرعی ہے اور دوسری نصوص سے ثابت ہے کہ جس مرد و زن کو گناہ والے کسی کام پر مجبور کر دیا جائے، اس کو نہ اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ گنہگار ہو گا۔
6636
Zaeef