TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حدود کے مسائل - حدود کے مسائل - Book 110 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 110 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 23 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

23 Hadith · 5 Chapters
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۶۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَدٌّ یُعْمَلُ (وَفِیْ لَفْظٍ: یُقَامُ) فِی الْاَرْضِ خَیْرٌ لِأَھْلِ الْاَرْضِ مِنْ أَنْ یُمْطَرُوْا ثَلَاثِیْنَ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((أَوْ أَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا۔))۔ (مسند احمد: ۹۲۱۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک حد جس کو زمین میں نافذ کر دیا جائے، وہ اہلِ زمین کے لئے تیس روز کی بارش سے بہتر ہے۔ ایک روایت میں چالیس روز کی بارش کا ذکر ہے۔
Takhreej
(۶۶۲۱) صحیح، قالہ الالبانی فی صحیحتہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۳۸، والنسائی: ۸/ ۷۵ (انظر: ۹۲۲۶)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالی نے مسلمانوںکی جانوں کی حفاظت کے لیے قتل کی حد، ان کے مالوں کی حفاظت کے لیے چوری کی حدّ اور ان کی عزتوں کی حفاظت کے لیے زنا اور تہمت کی حدّ کو مشروع قرار دیا ہے۔ بارش کے فوائد اپنی جگہ پر مسلّم ہیں، بلکہ نظام زندگی کے قیام کے لیے ضروری ہے، لیکن بارش جس رزق کا سبب بنے گی، اگر وہی چوروں اور ڈاکوؤں کے ہتھے لگتا رہے تو سب کچھ رائیگاں ہوتا رہے گا۔ اگر ایک دفعہ خاندان کی عزت لٹ جائے تو مال ودولت کی ریل پیل کے باوجود نظریں جھکا کر اور گردنیں خم زدہ کر کے زندگیاں گزارنی پڑتی ہیں، اگر کسی قبیلے کا ایک فرد قتل کر دیا جائے تو جہاں صدیوں کے لیے قاتل و مقتول کے خاندانوں کا سکون غارت ہوتا ہے، وہاں سینکڑوں افرا د کو قتل و غارت گری کے بازار میں جھکنا پڑتا ہے۔ ان سب امور کا حل یہی ہے کہ اگر کسی کاجرم حدّ کے قابل ہے تو نرم دلی اور بزدلی کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے اسے نافذ کر دیا جائے۔
6621
Sahih
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۶۲۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُوْنَ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللّٰہَ فِیْ أَمْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۵۳۸۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے نفاذ میں رکاوٹ بنی، اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔
Takhreej
(۶۶۲۲) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الحاکم: ۲/ ۲۷، والبیھقی فی ’’السنن‘‘: ۶/ ۸۲ (انظر: ۵۳۸۵)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالی کی حدود کے سامنے آڑے آنا، یہ نہ صرف اللہ تعالی کی حکم عدولی ہے، بلکہ یہ جرم امتوں کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔
6622
Sahih
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۶۲۳)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَتِ امْرَأَۃٌ مَخْزُوْمِیَّۃٌ تَسْتَعِیْرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُہُ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَطْعِ یَدِھَا، فَأَتٰی أَھْلُہَا أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ فَکَلَّمُوْہُ فَکَلَّمَ أُسَامَۃُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہَا، فقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أُسَامَۃُ! لا أَرَاکَ تُکَلِّمُنِیْ فِیْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) ثُمَّ قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیْبًا فَقَالَ: ((إِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِأَنَّہُ إِذَا سَرَقَ فِیْہِمُ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْہُ وَإِذَا سَرَقَ فِیْہِمُ الضَّعِیْفُ قَطَعُوْہُ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَوْ کَانَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ یَدَھَا۔)) فَقَطَعَ یَدَ الْمَخْزُوْمِیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۱۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ مخزوم قبیلہ کی ایک خاتون سامان ادھار لیتی اور پھر انکار کر دیتی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا، اس کے گھر والے سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور اس خاتون کے حق میں سفارش کرنے کی درخواست کی، جب سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہسفارش کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں مخاطب ہو کر فرمایا: اے اسامہ! تیرے بارے میں میرایہ خیال تو نہیں تھا کہ تو اللہ تعالی کی حدوں میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کرے گا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم سے پہلے والے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہو گئے کہ جب ان میں کوئی بڑا چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب ان میں کوئی کمزور چوری کرتا تو اس کے ہاتھ کاٹ دیتے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد نے یہ جرم کیا ہوتا تو میں ان کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مخزومی عورت کا ہاتھ کٹوا دیا۔
Takhreej
(۶۶۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۷۵، ۶۷۸۸، ومسلم: ۱۶۸۸(انظر: ۲۵۲۹۷)
6623
Sahih
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۶۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَتْ مَخْزُوْمِیَّۃٌ تَسْتَعِیْرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُہُ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَطْعِیَدِھَا۔ (مسند احمد: ۶۳۸۳)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مخزوم قبیلے کی عورت سامان ادھار لیتی تھی اور پھر انکار کر دیتی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۶۶۲۴) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۸/۷۱ (انظر: ۶۳۸۳)
Explanation
فوائد:… بظاہر اس حدیث ِ مبارکہ سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ عاریۃً لی ہوئی چیز کا انکار کر دینے کی وجہ سے اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا، لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ ایسے انکار کی وجہ سے تو ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا ، جبکہ بعض احادیث ِ صحیحہ میں اس امر کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ اس عورت نے چوری کی تھی، اس لیے آپa نے اس چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹا تھا، اس حدیث کو اختصار پر محمول کیا جائے گا۔ مطلبیہ ہے کہ اس عورت کے اندر دو برائیاں تھیں اس نے چوری کی تھی اور عاریۃً سامان لے کر وہ انکار بھی کر دیا کرتی ہے اس کا ہاتھ پہلے جرم کی وجہ سے کاٹا گیا۔ (عبداللہ رفیق)
6624
Sahih
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۶۲۵)۔ عَنْ جَابِرٍ اَنَّ امْرَأَۃً مِنْ بَنِیْ مَخْزُوْمٍ سَرَقَتْ فَعَاذَتْ بِاُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ حِبِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُتِیَ بِہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَوْ کَانَتْ فَاطِمَۃُ لَقَطَعْتُ یَدَھَا۔)) فَقَطَعَہَا۔ (مسند احمد: ۱۵۲۱۶)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی اور سفارش کیلئے سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پناہ حاصل کی،یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے محبوب تھے، پھر اس خاتون کو لایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کاہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ پھر مخزومی خاتون کا ہاتھ کاٹ دیا۔
Takhreej
(۶۶۲۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۸۹، وفیہ انھا عاذت بام سلمۃ زوج النبیV۔ (انظر: ۱۵۱۴۹)
6625
Sahih
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۶۲۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِہِ فَقُطِعَ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا کُنَّا نَرٰی أَنْ یَبْلُغَ مِنْہُ ھٰذَا؟ قَالَ: ((لَوْ کَانَتْ فَاطِمَۃُ لَقَطَعْتُہَا۔)) ثُمَّ قَالَ سُفْیَانُ: لَا أَدْرِیْ کَیْفَ ھُوَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، لوگوں نے کہا: ہمیں معلوم نہ تھا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی اس مقام پر ہوتی تو میں ان کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: مجھے چرائی گئی چیز کی کیفیت معلوم نہیں ہو سکی۔
Takhreej
(۶۶۲۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرج البخاری نحوہ: ۳۷۳۳، وفیہ انھا سرقت (انظر: ۲۴۱۳۸)
6626
Sahih
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۶۲۷)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ اُمَیَّۃَ قَالَ: بَیْنَمَا اَنَا رَاقِدٌ اِذْ جَائَ السَّارِقُ فَأَخَذَ ثَوْبِیْ مِنْ تَحْتِ رَأْسِیْ فَأَدْرَکْتُہُ فَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اِنَّ ھٰذَا سَرَقَ ثَوْبِیْ فَأَمَرَ بِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُقْطَعَ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَیْسَ ھٰذَا أَرَدْتُ، ھُوَ عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ، قَالَ: ((فَہَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِیَنِی بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۸۹)
۔ سیدنا صفوان بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا، چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑا چرا لیا، میں نے اسے پکڑ لیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا اور کہا: اس نے میرا کپڑا چوری کر لیا ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ یہ تو نہیں تھا، میںیہ کپڑا اس پر صدقہ کرتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لانے سے پہلے اس طرح کیوں نہیں کیا۔
Takhreej
(۶۶۲۷) حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۳۹۴، والنسائی: ۸/ ۶۸ (انظر: ۲۷۶۳۷)
6627
Sahih
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۶۲۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنْتُ نَائِمًا فِی الْمَسْجِدِ عَلٰی خَمِیْصَۃٍ لِیْ فَسُرِقَتْ فَأَخَذْنَا السَّارِقَ فَرَفَعْنَاہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَ بِقَطْعِہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ فِی خَمِیْصَۃٍ ثَمَنُہَا ثَلَاثُوْنَ دِرْھَمًا، اَنَا أَھَبُہَا لَہُ أَوْ أَبِیْعُہَا لَہُ قَالَ: ((فَہَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِیَنِی بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۸۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا صفوان بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں مسجد میں اپنی چادر پر سویا ہوا تھا،کسی نے اس کو چوری کر لیا اور ہم نے چور پکڑ لیا اور اس کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس چادر کے عوض اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، جس کی قیمت صرف تیس درہم ہے؟ میںیہ چادر اس آدمی کو ہبہ کرتا ہوں یا بیچ دیتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لانے سے پہلے اس طرح کیوں نہیں کیا۔
Takhreej
(۶۶۲۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ حاکم تک معاملہ پہنچنے سے پہلے رعایا کو حدود والے معاملات کو معاف کردینے کا حق حاصل ہے، لیکن اگر حد والا معاملہ حاکم کے پاس پہنچ گیا تو اس کو معاف کرنے کا حق نہیں ہو گا، اگرچہ حقدار معافی کا اعلان کرتا پھرے۔ جب ایک آدمی کسی مسلمان کو قتل کر دیتا ہے تو اس سے ایک جان تو ضائع ہو ہی جاتا ہے، جب لواحقین کو قصاص لینے کا حق دیا جاتا ہے اور وہ یہ حق استعمال کرتے ہیں تو اس سے دوسری جان بھی ضائع ہو جاتی ہے، لیکن اللہ تعالی اس ضیاع کے بارے میں فرماتے ہیں: {وَلَکُمْ فِی الْقَصَاصِ حَیٰوۃٌیٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔}… ’’عقلمندو! قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے اس کے باعث تم (ناحق قتل سے) رکو گے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۷۹) جب قاتل کو یہ خوف ہو گا کہ میں بھی قصاص میں قتل کر دیا جاؤں گا تو پھر اسے کسی کو قتل کرنے کی جرأت نہیں ہو گی اور جس معاشرے میںیہ قانون قصاص نافذ ہو جاتا ہے، وہاں یہ خوف معاشرے کو قتل و خرنریزی سے محفوظ رکھتا ہے، جس سے معاشرے میں نہایت امن اور سکون رہتا ہے، عرب کے جس معاشرے میں نبی کریمa نے اپنی تہذیب کو جنم دیا تھا، وہ معاشرہ قتل و خونریزی میں اپنی مثال آپ تھا، جب ایک لڑائی چھڑ جاتی تو وہ سینکڑوں برسوں تک ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھی، لیکن نبی کریمa کی قائم کردہ مدینہ منورہ دس سالہ تہذیب میں کتنے قتل ہوئے اور پھر ان کی وجہ سے کتنا شرّ پھیلا؟ موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ دراصل اسلامی حددود امن کی ضامن ہیں اور قابل رشک معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر اور حیات بخش ہیں، ان کا مقصود یہ نہیں کہ ظالم کو تکلیف پہنچائی جائے، بلکہ ان کی غرض و غایتیہ ہے کہ معاشرے کو پر سکون اور باامن بنایا جائے اور ایک شخص کو سزا دے کر سب افراد کو سمجھا دیا جائے کہ خبردار کوئی دوسرے کی عزت و عظمت، مال و دولت اور جان کو متأثر نہ کرے، وگرنہ اس کا بھییہی حشر ہو گا، اس طرح قصاص اور حدود کا نفاذ امن و سلامتی کا پیغام ہے۔
6628
Sahih
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۶۲۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَقِیْلُوْا ذَوِی الْھَیْئَاتِ عَثَرَاتِہِمْ اِلَّا الْحُدُوْدَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۸۸)
۔ حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صاحبِ حیثیت لوگوں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو، مگریہ کہ وہ حدود ہوں۔
Takhreej
(۶۶۲۹) تخریج: حدیث جیّد بطرقہ و شواھدہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۳۷۵ (انظر: ۲۵۴۷۴)
Explanation
فوائد:… دنیا کا ہر وہ معاشرہ جس کو تہذیب و شائستگی سے ادنی سا تعلق بھی رہا ہو، اپنے اندر موجود باوقار، شریف النفس اور رذائل سے دور رہنے والے افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور فرو گذاشتوں کو نظر انداز کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیونکہ شریعت کا مقصد تربیت کرنا ہے، تربیت کے لیے ضروری نہیں کہ زجر و توبیخ سے ہی کام لیا جائے یا تعزیر ہی لگائی جائے، کیونکہ بعض صاحب ِ حیثیت لوگوں کو شرم دلانے کے لیے اور آئندہ ایسے جرائم سے محفوظ کرنے کے لیےیہی کافی ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان کا پول کھل جائے، جبکہ عام لوگوں کو سمجھانے کے لیےیہ کلیہ کافی نہیں ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں اسی اخلاقی خوبی کو سراہنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ہاں اگر جرم کی نوعیت حدود اللہ کی پامالی تک جا پہنچتی ہے تو پھر قانون مساوات سب کے لیے ہے۔
6629
Sahih
اس چیز کا بیان کہ حدود میں فدیہ قبول نہ کرنے کا عمل گناہوں کا کفارہ بنتا ہے
۔ (۶۶۳۰)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ رُکَانَۃَ أَنَّ خَالَتَہُ أُخْتَ مَسْعُوْدِ بْنِ الْعَجْمَائِ حَدَّثَتْہُ أَنَّ أَبَاھَا قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَخْزُوْمِیَّۃِ الَّتِیْ سَرَقَتْ قَطِیْفَۃً: نَفْدِیْہَایَعْنِی بِأَرْبَعِیْنَ أُوْقِیَّۃً، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَأَنْ تُطَہَّرَ خَیْرٌ لَھَا۔)) فَأَمَرَ بِہَا فَقُطِعَتْ یَدُھَا وَھِیَ مِنْ بَنِیْ عَبْدِ الْأَسَدِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۷۵)
۔ محمد بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ان کی خالہ کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: چادر چوری کرنے والی مخزوم قبیلے کی عورت کے بارے میں میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: میں اس کے فدیہ کے طور پر چالیس اوقیہ دیتا ہوں، اس کے عوض اسے چھوڑ دیاجائے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اس کو پاک کر دیا جائے تو یہی اس کے لئے بہتر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اوراس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا،یہ عورت بنو عبد الاسد سے تھی۔
Takhreej
(۶۶۳۰) اسنادہ ضعیف، ابن اسحاق مدلس وقد عنعن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۴۸(انظر: ۲۳۴۷۹)
Explanation
فوائد:… پچھلے باب کے مضمون سے ثابت ہوا کہ جب کوئی معاملہ حاکم کی عدالت میں پہنچ جائے تو حد کے نفاذ سے بچنے کے لیے سفارش کرنا کروانا اور فدیے اور رشوتیں دینا حرام ہیں۔
6630
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ حدود میں فدیہ قبول نہ کرنے کا عمل گناہوں کا کفارہ بنتا ہے
۔ (۶۶۳۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَۃً سَرَقَتْ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ بِہَا الَّذِیْنَ سَرَقَتْہُمْ فَقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ھٰذِہِ الْمَرْأَۃَ سَرَقَتْنَا، قَالَ قَوْمُہَا: فَنَحْنُ نَفْدِیْہَا بِخَمْسِ مِائَۃِ دِیْنَارٍ، قَالَ: ((اقْطَعُوْا یَدَھَا۔)) قَالَ: فَقُطِعَتْ یَدُھَا الْیُمْنٰی، فَقَالَتِ الْمَرْأَۃُ: ھَلْ لِیْ مِنْ تَوْبَۃٍ،یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((نَعَمْ، اَنْتِ الْیَوْمِ مِنْ خَطِیْئَتِکِ کَیَوْمِ وَلَدَتْکِ أُمُّکِ۔)) فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ سُوْرَۃِ الْمَائِدَۃِ: {فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہِ وَأَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوْبُ عَلَیْہِ} اِلَخِ الْاَیَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۶۵۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں چوری کی، جن لوگوں کی چوری کی گئی تھی، وہ اس کو لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گئے اور کہا : اے اللہ کے رسول! اس عورت نے ہماری چوری کی ہے۔ اس عورت کے خاندان والے کہنے لگے: ہم اس چوری کے عوض پانچ سو دینار دیتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو سو اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا، وہ عورت کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ! کیا میرے لئے توبہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بلکہ تو تو آج اپنی غلطی سے اس طرح صاف ہو گئی ہے، جس طرح تیری ماں نے آج تجھے جنم دیا ہو۔ پس اللہ تعالی نے سورۂ مائدہ کییہ آیت اتاری: جس نے ظلم کے بعد توبہ کی اور اپنی اصلاح کی، پس بیشک اللہ تعالیٰ اس پر رجوع کرتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا بہت مہربان ہے۔
Takhreej
(۶۶۳۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ وحُیَیِّ بن عبد اللہ المعافری۔ أخرجہ الطبری فی ’’تفسیرہ‘‘ المائدۃ۳۹ (انظر: ۶۶۵۷)
6631
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ حدود میں فدیہ قبول نہ کرنے کا عمل گناہوں کا کفارہ بنتا ہے
۔ (۶۶۳۲)۔ عَنِ ابْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِیْمَ عَلَیْہِ حَدُّ ذَالِکَ الذَّنْبِ فَہُوَ کَفَّارَتُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۲۰)
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا اور پھر اس پر اس گناہ کی حدّ نافذ کر دی گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ثابت ہو گی۔
Takhreej
(۶۶۳۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ فی ’’مسندہ‘‘: ۴۷۸۰، وابو یعلی: ۴۷۸۱، والطبرانی: ۳۷۲۸، والبیھقی: ۸/ ۳۲۸ (انظر: ۲۱۸۷۶)
Explanation
فوائد: … کوئی کسی حد کے قابل گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور حد اس پر قائم کر دی جائے تو یہ حد اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی۔
6632
Sahih
اس چیز کا بیان کہ حدود میں فدیہ قبول نہ کرنے کا عمل گناہوں کا کفارہ بنتا ہے
۔ (۶۶۳۳)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَذْنَبَ فِی الدُّنْیَا ذَنْبًا فَعُوْقِبَ بِہِ فَاللّٰہُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ یُثْنِیَ عُقُوْبَتَہُ عَلٰی عَبْدِہِ، وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِی الدُّنْیَا فَسَتَرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَفَا عَنْہُ فَاللّٰہُ أَکْرَمُ مِنْ أَنْ یَعُوْدَ فِیْ شَیْئٍ قَدْ عَفَا عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۷۷۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور پھر اسے یہیں اس کی سزا دی گئی تو اللہ تعالی اس سے زیادہ انصاف والا ہے کہ وہ ایسے بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی اور اس کو معاف کر دیا تو وہ اس سے زیادہ فضل و کرم والا ہے کہ وہ اس گناہ پر گرفت کرے، جس کو وہ معاف کر چکا ہو۔
Takhreej
(۶۶۳۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الترمذی: ۲۶۲۶، وابن ماجہ: ۲۶۰۴(انظر: ۷۷۵)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حد سے متعلقہ جرم معاف ہو جاتا ہے، آپ a نے عملاً حدود کے نفاذ کے بعض مواقع پر بھی بخشش کی نویدیں سنائی ہیں۔ اور کوئی مجرم حد سے بچ جاتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے سپرد ہے، اگر اس نے چاہا تو اس کو معاف کر دے گا اور چاہا تو عذاب دے گا، آخری حدیث میں دنیا میں گناہ کی پردہ پوشی کا اللہ تعالی کا جو قانون بیان کیا گیا ہے، یہ قانون ہر جرم کے بارے میں علی الاطلاق نہیں ہے کہ دنیا میں جس مجرم کی پردہ پوشی کی گئی، اس کو آخرت میں بخش دیا جائے، بلکہ اس خاص آدمی کے حق میں کہ جس کی اللہ تعالی نے دنیا میں پردہ پوشی کی اور اس کو بخش بھی دیا تو قیامت کے دن اس کے اس جرم کی سزا نہیں دی جائے گی۔ دوسری کئی نصوص سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر کسی مجرم کے گناہ پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہیہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ شخص یہسمجھے کہ اس کا گناہ تو معاف کیا جا چکا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالی اس کو بخش دے اور اس چیز کا امکان بھی ہے کہ اس سے اس کے گناہ کا انتقام لیا جائے، مؤخر الذکر بات مؤمن کو ستاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ نیکیاں کرنے اور توبہ تائب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
6633
Sahih
ان افراد کا بیان جن پر حد واجب نہیں ہوتی، نیز شبہات کی بنا پر حدود نہ لگانے کا بیان
۔ (۶۶۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ظَبْیَانَ الْجَنْبِیِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ اُتِیَ بِامْرَأَۃٍ قَدْ زَنَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِہَا فَذَھَبُوْا بِہَا لِیَرْجُمُوْھَا فَلَقِیَہُمْ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَا ھٰذِہِ؟ قَالُوْا: زَنَتْ فَأَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِہَا فَانْتَزَعَہَا عَلِیٌّ مِنْ أَیْدِیْہِمْ وَ رَدَّھُمْ، فَرَجَعُوْا إِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: مَا رَدَّکُمْ؟ فَقَالُوْا: رَدَّنَا عَلِیٌ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ ھٰذَا عَلِیٌّ اِلَّا لِشَیْئٍ قَدْ عَلِمَہُ، فَأَرْسَلَ إِلٰی عَلِیٍّ فَجَائَ وَھُوَ شِبْہُ الْمُغْضَبِ، فَقَالَ: مَا لَکَ رَدَدْتَ ھٰؤُلَائِ؟ قَالَ: اَمَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ، عَنِ النَّائِمِ حَتّٰییَسْتَیْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِیِّ حَتّٰییَکْبَرَ، وَعَنِ الْمُبْتَلٰی حَتّٰییَعْقِلَ؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَاِنَّ ھٰذِہٖمُبْتَلَاۃُ بَنِیْ فُلَانٍ فَلَعَلَّہُ أَتَاھَا وَھُوَ بِہَا، فَقَالَ: عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: وَأَنَا لَا أَدْرِیْ، فَلَمْیَرْجُمْہَا۔ (مسند احمد: ۱۳۲۸)
۔ ابو ظبیان جنبی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، پس انہوں نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، لوگ اسے رجم کرنے کے لیے لے گئے،جب ان کی سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوئی انھوں نے پوچھا:یہ کیا کرنے جارہے ہو؟ انہوں نے کہا: اس نے زنا کیا ہے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا ہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ عورت ان کے ہاتھوں سے چھڑائی اور لے جانے والوں کو واپس لوٹا دیا، جب وہ لوٹ کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیوں واپس آ گئے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں واپس بھیج دیا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: تو پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کسی سبب کے علم کی بنا پر ایسا کیا ہو گا۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا بھیجا، جب وہ آئے تو ایسے لگ رہا تھا کہ وہ غصے میں ہیں، انھوں نے کہا: اے علی! تمہیں کیا ہواہے کہ ان کو واپس لوٹا دیا ہے؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، (۱) سوئے ہوئے سے جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو جائے، (۲) بچے سے جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے اور (۳) پاگل سے جب تک وہ عقلمند نہ ہو جائے۔ ؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیوں نہیں ضرور سن رکھی ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:یہ بنی فلاں قبیلہ کی کم عقل خاتون ہے، ممکن ہے متعلقہ مرد نے اس سے اس وقت زنا کیا ہو جب یہ جنون کی حالت میں ہو، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے تو معلوم نہیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے رجم نہ کیا تھا۔
Takhreej
(۶۶۳۴) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۰۲(انظر: ۱۳۲۸)
Explanation
فوائد:… سونے والا، نابالغ بچہ اور پاگل مرفوع القلم ہیں، کسی شخص پر حد نافذ کرنے کی بنیادیقین پر رکھی جاتی ہے، اور اس حدیث میں مذکورہ خاتون کا معاملہ یقینی نہیں ہے، بلکہ اس کے اس جنون کا قوی شبہ ہے، جس کی بنا پر اس کو حد سے مستثنی کیا جائے گا اور خلیفۂ راشد نے ایسے ہی کیا۔
6634
Sahih
ان افراد کا بیان جن پر حد واجب نہیں ہوتی، نیز شبہات کی بنا پر حدود نہ لگانے کا بیان
۔ (۶۶۳۵)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: خَرَجَتِ امْرَأَۃٌ اِلَی الصَّلَاۃِ فَلَقِیَہَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَہَا بِثِیَابِہِ فَقَضٰی حَاجَتَہُ مِنْہَا وَذَھَبَ، وَانْتَہٰی اِلَیْہَا رَجُلٌ فَقَالَتْ لَہُ: اِنَّ الرَّجُلَ فَعَلَ بِیْ کَذَا وَکَذَا، فَذَھَبَ الرَّجُلُ فِیْ طَلْبِہِ، فَجَائُ وْا بِالرَّجُلِ الَّذِیْ ذَھَبَ فِیْ طَلْبِ الرَّجُلِ الَّذِیْ وَقَعَ عَلَیْہَا، فَذَھَبُوْا بِہِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: ھُوَ ھٰذَا فَلَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ بِرَجْمِہِ، قَالَ الَّذِیْ وَقَعَ عَلَیْہَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَا ھُوَ، فَقَالَ لِمَرْأَۃٍ: ((اذْھَبِیْ فَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکِ۔)) وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا، فَقِیْلَ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا تَرْجُمُہُ؟ فَقَالَ: ((لَقَدْ تَابَ تَوْبَۃً لَوْ تَابَہَا أَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ لَقُبِلَ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۸۲)
۔ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نماز کی ادائیگی کے لئے گھر سے باہر نکلی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا، اس نے اپنے کپڑوں سے اس کو ڈھانپ لیا اور اپنی حاجت پوری کر لی اور فرار ہو گیا،اس عورت کے پاس ایک آدمی پہنچا، اس عورت نے اس سے کہا: فلاں آدمی نے مجھ سے برائی کی ہے، وہ آدمی اس کی تلاش میں گیا اورلوگ اس کو پکڑ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آئے، اس عورت نے بھی (غلطی سے) کہہ دیا کہ وہ یہی ہے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو وہ آدمی، جس نے واقعی اس عور ت سے برائی کی تھی، کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!اس سے برائی کرنے والا میں ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: تو چلی جا، اللہ تعالیٰ نے تجھے معاف کر دیا ہے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کے حق میں اچھے کلمات ارشاد فرمائے، آپ سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کو رجم کیوں نہیں کرتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اس کی توبہ کو مدینہ والوں پر تقسیم کیا جائے تو ان سے بھی قبول کرلی جائے۔
Takhreej
(۶۶۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، سماک بن حرب تفرد بہ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ، ثم انہ قد اضطرب فی متنہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۳۷۹، والترمذی: ۱۴۵۴ (انظر: ۲۷۲۴۰)
6635
Zaeef
ان افراد کا بیان جن پر حد واجب نہیں ہوتی، نیز شبہات کی بنا پر حدود نہ لگانے کا بیان
۔ (۶۶۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: اسْتُکْرِھَتِ امْرَأَۃٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَرَأَ عَنْہَا الْحَدَّ وَأَقَامَہُ عَلَی الَّذِیْ أَصَابَہَا وَلَمْ یَذْکُرْ أَنَّہُ جَعَلَ لَھَا مَہْرًا۔ (مسند احمد: ۱۹۰۷۸)
۔ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں ایک عورت سے زنا بالجبر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے حد روک لی اور جس مرد نے یہ برائی کی تھی، اس پر حد قائم کی، راوی نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اس خاتون کے لیے مہر مقرر کیا تھا یا نہیں۔
Takhreej
(۶۶۳۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حجاج بن ارطاۃ ثم انہ لم یسمع من عبد الجبار۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۹۸، والترمذی: ۱۴۵۳(انظر: ۱۸۸۷۲)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ قانون شرعی ہے اور دوسری نصوص سے ثابت ہے کہ جس مرد و زن کو گناہ والے کسی کام پر مجبور کر دیا جائے، اس کو نہ اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ گنہگار ہو گا۔
6636
Zaeef
حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۶۶۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ مَاجِدٍ قَالَ: أَتٰی رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُوْدٍ بِاِبْنِ أَخٍ لَہُ فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَا ابْنَ أَخِیْ وَقَدْ شَرِبَ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ کَانَ فِی الْاِسْلَامِ، امْرَأَۃٌ سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ یَدُھَا فَتَغَیَّرَ لِذَالِکَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَغَیُّرًا شَدِیْدًا ثُمَّ قَالَ: {وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا أَلَا تُحِبُّوْنَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ}۔ (النور: ۲۲) (مسند احمد: ۳۷۱۱)
۔ ابو ماجد کہتے ہیں:ایک آدمی اپنے بھتیجے کو لے کر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: یہ میرا بھتیجا ہے، اس نے شراب پی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ اسلام میں سب سے پہلی حد اس عورت پر لگائی گئی تھی جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا، اس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
Takhreej
(۶۶۳۷) تخریج: اسنادہ مسلسل بالضعفائ، یزید بن ہارون سمع من المسعودی بعد الاختلاط، ویحیی بن الحارث ضعیف، وابو ماجد الحنفی مجھول، وقال البخاری والنسائی: منکر الحدیث۔ أخرجہ ابویعلی: ۵۱۵۵ (انظر: ۳۷۱۱)
6637
Zaeef
حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۶۶۳۸) وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: کُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: اِنِّیْ لَأَذْکُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَہُ، أُتِیَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِقَطْعِہِ وَکَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَأَنَّکَ کَرِھْتَ قَطْعَہُ؟ قَالَ: ((وَمَا یَمْنَعُنِیْ، لَا تَکُوْنُوْا عَوْنًا لِلشَّیْطَانِ عَلٰی أَخِیْکِمْ، إِنَّہُ یَنْبَغِیْ لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَہٰی إِلَیْہِ حَدٌّ أَنْ یُقِیْمَہُ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ عَفْوٌ یُحِبُّ الْعَفْوَ {وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا أَلَا تُحِبُّوْنَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ})) (مسند احمد: ۴۱۶۸)
۔ ابو ماجدسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: مجھے وہ پہلا آدمییاد ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس کا ہاتھ کاٹا تھا، ایک چور کو لایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، لیکن اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرئہ متغیر تھا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے ہاتھ کے کٹنے کو ناپسند کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھلا کون سے مجھے اس سے روک سکتی ہے، تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، امام کے لئے یہی زیب دیتا ہے کہ جب اس تک حد کا معاملہ پہنچے تو وہ اسے قائم کر دے، بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند کرتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا بہت مہربان ہے۔
Takhreej
(۶۶۳۸) تخریج: حسن بشواہدہ۔ أخرجہ الحاکم: ۴/ ۳۸۲(انظر: ۴۱۶۸)
6638
Sahih
حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۶۶۳۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) فَذَکَرَ مَعْنَاہُ وَقَالَ: کَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذُرَّ عَلَیْہِ رَمَادٌ۔ (مسند احمد: ۴۱۶۹)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ایسے لگ رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا ہے اور آپ کے چہرے پر راکھ ڈال دی گئی ہے۔
Takhreej
(۶۶۳۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں ایک دو باتیں وضاحت طلب، دوسری حدیث کا مفہوم تو عیاں ہے۔ ۱۔ بات یہ ہے کہ اس میں ایک روایت میں آتا ہے کہ آدمی نے سب سے پہلے چوری کی اور اس پر حد لگائی گئی جبکہ دوسری روایت میں آتا ہے وہ جس پر چوری کی سب سے پہلے حد لگائی گئی وہ عورت تھی تو ان میں مطابقت اس طرح ہے کہ عورتوں میں اسلام میں سب سے پہلے چوری میں جسے حد لگائی گئی وہ عورت تھی جس کا ذکر ہوا ہے اور جس میںیہ آیا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جو چوری کی حد لگائی گئی وہ مرد تھا تو یہ مردوں کے اعتبار سے سب سے پہلے تھا۔ ۲۔ بظاہر اس حدیث سے احساس ابھرتا ہے کہ حد قائم کرنا کوئی اچھا کام نہیں اور اس پر نبی کریمaنے ایسے انداز میں غصے کا اظہار فرمایا کہ یوں لگ رہا ہے کہ حد لگانے سے درگزر سے کام لینا چاہیے، حالانکہ ہرگز ایسا نہیں۔ آپa نے آیت ِ مبارکہ اس لئے تلاوت فرمائی تھی کہ امام وقت کی عدالت تک پہنچنے سے پہلے پہلے معاف کر کے پردہ پوشی کی جائے اس کے خلاف فوراً عدالت میں معاملہ لانے کو نبی کریمa نے ناپسند کیا ہے مگر جب معاملہ حد امام وقت کی عدالت میں پیش ہو جائے تو پھر تو حد قائم کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ضرور بھر ضرور قائم ہوگی۔ حدیث نمبر (۶۶۲۷)میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ حاکم کی عدالت میں پہنچنے سے پہلے حد کو معاف کرنا یا کروا لینا درست ہے، تاہم شریعت نے جس چیز کو مستثنی قرار دیا ہے، اس میں حاکم کے پاس لانے کے بعد بھی معافی ہو سکتی ہے، جیسے مقتول کے ورثائ، قاتل کو بعد میں بھی معاف کر سکتے ہیں۔
6639
Sahih
حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۶۶۴۰)۔ عَنْ دُخَیْنٍ کَاتِبِ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِعُقْبَۃَ: اِنَّ لَنَا جِیْرَانًایَشْرَبُوْنَ الْخَمْرَ وَأَنَا دَاعٍ لَھُمُ الشُّرَطَ فَیَأْخُذُوْھُ، فَقَالَ: لَاتَفْعَلْ وَلٰکِنْ عِظْہُمْ وَتَہَدَّدْھُمْ قَالَ: فَفَعَلَ فَلَمْ یَنْتَہُوْا، قَالَ: فَجَائَ ہُ دُخَیْنٌ فَقَالَ: إِنِّیْ نَہَیْتُہُمْ فَلَمْ یَنْتَہُوْا وَأَنَا دَاعٍ لَھُمُ الشُّرَطَ، فَقَالَ عُقْبَۃُ: وَیْحَکَ لَا تَفْعَلْ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَتَرَ عَوْرَۃَ مُؤْمِنٍ فَکَأَنَّمَا اسْتَحْیَا مَوْؤُوْدَۃً مِنْ قَبْرِھَا۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((کَانَ کَمَنْ أَحْیَا مَوْؤُوْدَۃً مِنْ قَبْرِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۳۰)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے منشی دُخَین سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نے عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:ہمارے کچھ پڑوسی ہیں،وہ شراب نوشی کرتے ہیں، میں پولیس کو اطلاع کرنے والا ہوں تاکہ وہ انہیں گرفتار کر لے۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ایسا نہ کرو، انہیں نصیحت کرو اور ڈانٹ ڈپٹ کرو، اس نے ایسے ہی کیا مگر وہ باز نہ آئے، چنانچہ دخین دوبارہ آ گیا اور کہا: میں نے انہیں روکا تو ہے، مگر وہ باز نہیں آتے، اب تو میں پولیس کو ضرور بلائوں گا، سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: او تیرے لیے ہلاکت ہو، اس طرح نہ کر، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مؤمن کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے، وہ گویا کہ قبر میں زندہ درگور بچی کو زندہ کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس شخص کی مانند ہے، جوقبر میں زندہ درگور کی گئی بچی کو زندہ کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۶۴۰) اسنادہ ضعیف لاضطراب فی اسنادہ، ولجھالۃ ابی الھیثم۔ أخرجہ ابوداود: ۴۸۹۲ (انظر: ۱۷۳۹۵)
6640
Zaeef