TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اسلام سے مرتد ہونے والے کی حد اور زنادقہ کا بیان

Chapter 5 of حدود کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 5 · 3 Hadith
۔ (۶۶۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ قَالَ: قَدِمَ عَلٰی اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِالْیَمَنِ فَاِذَا رَجُلٌ عِنْدَہُ قَالَ: مَا ھٰذَا؟ قَالُوْا: رَجُلٌ کَانَ یَہُوْدِیًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَہَوَّدَ وَنَحْنُ نُرِیْدُ عَلی الْإِسْلَامِ مُنْذُ قَالَ أَحْسَبُہُ شَہْرَیْنِ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَا أَقْعُدُ حَتّٰی تَضْرِبُوْا عُنُقَہُ، فَضُرِبَتْ عُنُقُہُ، فَقَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّ ((مَنْ رَجَعَ عَنْ دِیْنِہِ فَاقْتُلُوْہُ۔)) أَوْ قَالَ: ((مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہُ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۶۵)
۔ سیدنا ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن میں تھے اور سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس آئے، ان کے پاس ایک آدمی تھا، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ آدمییہودی تھا، پھر مسلمان ہوا اور اب پھر یہودی ہو گیا ہے، دو ماہ ہو گئے ہیں کہ ہم اس سے اسلام پر کار بند رہنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا: اللہ کی قسم! جب تک تم اس کی گردن نہیں اڑائو گے، میں نہیں بیٹھوں گا،پس اس کو قتل کر دیا گیا، پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ جو شخص اپنے دین کو ترک کر دے یا اپنے دین کو بدل ڈالے، اس کو قتل کر دو۔
Takhreej
(۶۶۴۱) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۲۲۰۱۶)
6641
Sahih
۔ (۶۶۴۲)۔ عَنْ عِکْرَمَۃَ أَنَّ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أُتِیَ بِقَوْمٍ مِنْ ھٰؤُلَائِ الزَّنَادِقَۃِ وَمَعَہُمْ کُتُبٌ، فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ ثُمَّ أَحْرَقَہُمْ وَکُتُبَہُمْ، قَالَ عِکْرِمَۃُ: فَبَلَغَ ذَالِکَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: لَوْ کُنْتُ اَنَا لَمْ أُحْرِقْہُمْ لِنَہْیِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَقَتَلْتُہُمْ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہُ فَاقْتُلُوْہُ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُعَّذِبُوْا بِعَذَابِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۱)
۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس زندیق لوگوں کو لایا گیا، ان کے پاس ان کی کتابیں بھی تھیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پہلے آگ جلانے کا حکم دیا، پس آگ بھڑ کائی گئی، پھر انھوں نے انہیں اور ان کی کتابوں کو جلا دیا، جب سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: اگر میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جلانے سے منع فرمایا ہے، البتہ میں ان کو قتل کر دیتا، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنا دین تبدیل کرے اسے قتل کر دو۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دیا کرو۔
Takhreej
(۶۶۴۱) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۲۲۰۱۶)
Explanation
فوائد:… زندیق اس کو کہتے ہیں جو بظاہر اسلام کا اظہار کرے، مگر باطن میں کفر رکھے اور احکام شریعت کو باطل تصور کرے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کا کفر کرنے والے اور اسلام سے مرتد ہونے والے ہوتے ہیں۔ سیدنا علیb کے پاس جن زنادقہ کو لایا گیا،یہ دراصل عبد اللہ بن سبا کے پیروکار تھے اور یہ ابن سبا یہودی تھا اور اس نے امت ِ محمدیہ میں فتنہ برپا کرنے کے لیے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا تھا، اسی نے سیدنا عثمان b کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا، پھر وہ کچھ ہوا، جو ہوا، پھر اس نے اپنے خبیث نفس کو شیعہ لوگوں میں لا کھڑا کیا اور جاہلوں کی ایک جماعت سے یہ نعرہ لگانے میں کامیاب ہو گیا کہ سیدنا علیb ہی معبود ہیں۔ (تلخیص از الملل والنحل)
6642
Sahih
۔ (۶۶۴۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَرَّقَ نَاسًا اِرْتَدُّوْا عَنِ الْاِسْلَامِ فَبَلَغَ ذَالِکَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: لَمْ أَکُنْ لِأُحَرِّقَہُمْ بِالنَّارِ وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُعَذِّبُوْا بِعَذَابِ اللّٰہِ)) وَکُنْتُ قَاتِلَھُمْ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہُ فَاقْتُلُوْہُ)) فَبَلَغَ ذَالِکَ عَلِیًّا کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہُ فَقَالَ: وَیْحَ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسلام سے مرتد ہونے والے چند لوگوں کو آگ میں جلا دیا، جب سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دیاکرو۔ میں نے ان کو قتل کرنا تھا، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ اپنا دین بدل دے، اسے قتل کر دو۔ جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: ابن عباس کے لیے افسوس۔
Takhreej
(۶۶۴۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اسلام کو اپنانے کے بعد اس سے مرتدّ ہو جانے والی کی سزا قتل ہے۔ ’’وَیْحٌ‘‘ لفظ کسی پر افسوس کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بعض دفعہ تعریف اور تعجب کے لیے بھی آتا ہے۔ پہلا معنی اگر مراد ہو تو مفہوم ہوگا: افسوس، اس نے وقت سے پہلے کیوں نہ بتایا تاکہ حدیث کی مخالفت نہ ہوتی۔ اگر دوسرا معنی ہو تو پھر مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ابن عباس کی بات کو پسند کیا اور تعجب کا اظہار کیا۔ (بلوغ الامانی) (عبداللہ رفیق)
6643
Sahih