TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان

Chapter 4 of حدود کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 5 · 4 Hadith
۔ (۶۶۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ مَاجِدٍ قَالَ: أَتٰی رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُوْدٍ بِاِبْنِ أَخٍ لَہُ فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَا ابْنَ أَخِیْ وَقَدْ شَرِبَ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ کَانَ فِی الْاِسْلَامِ، امْرَأَۃٌ سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ یَدُھَا فَتَغَیَّرَ لِذَالِکَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَغَیُّرًا شَدِیْدًا ثُمَّ قَالَ: {وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا أَلَا تُحِبُّوْنَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ}۔ (النور: ۲۲) (مسند احمد: ۳۷۱۱)
۔ ابو ماجد کہتے ہیں:ایک آدمی اپنے بھتیجے کو لے کر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: یہ میرا بھتیجا ہے، اس نے شراب پی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ اسلام میں سب سے پہلی حد اس عورت پر لگائی گئی تھی جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا، اس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
Takhreej
(۶۶۳۷) تخریج: اسنادہ مسلسل بالضعفائ، یزید بن ہارون سمع من المسعودی بعد الاختلاط، ویحیی بن الحارث ضعیف، وابو ماجد الحنفی مجھول، وقال البخاری والنسائی: منکر الحدیث۔ أخرجہ ابویعلی: ۵۱۵۵ (انظر: ۳۷۱۱)
6637
Zaeef
۔ (۶۶۳۸) وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: کُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: اِنِّیْ لَأَذْکُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَہُ، أُتِیَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِقَطْعِہِ وَکَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَأَنَّکَ کَرِھْتَ قَطْعَہُ؟ قَالَ: ((وَمَا یَمْنَعُنِیْ، لَا تَکُوْنُوْا عَوْنًا لِلشَّیْطَانِ عَلٰی أَخِیْکِمْ، إِنَّہُ یَنْبَغِیْ لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَہٰی إِلَیْہِ حَدٌّ أَنْ یُقِیْمَہُ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ عَفْوٌ یُحِبُّ الْعَفْوَ {وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا أَلَا تُحِبُّوْنَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ})) (مسند احمد: ۴۱۶۸)
۔ ابو ماجدسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: مجھے وہ پہلا آدمییاد ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس کا ہاتھ کاٹا تھا، ایک چور کو لایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، لیکن اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرئہ متغیر تھا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے ہاتھ کے کٹنے کو ناپسند کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھلا کون سے مجھے اس سے روک سکتی ہے، تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، امام کے لئے یہی زیب دیتا ہے کہ جب اس تک حد کا معاملہ پہنچے تو وہ اسے قائم کر دے، بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند کرتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا بہت مہربان ہے۔
Takhreej
(۶۶۳۸) تخریج: حسن بشواہدہ۔ أخرجہ الحاکم: ۴/ ۳۸۲(انظر: ۴۱۶۸)
6638
Sahih
۔ (۶۶۳۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) فَذَکَرَ مَعْنَاہُ وَقَالَ: کَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذُرَّ عَلَیْہِ رَمَادٌ۔ (مسند احمد: ۴۱۶۹)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ایسے لگ رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا ہے اور آپ کے چہرے پر راکھ ڈال دی گئی ہے۔
Takhreej
(۶۶۳۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں ایک دو باتیں وضاحت طلب، دوسری حدیث کا مفہوم تو عیاں ہے۔ ۱۔ بات یہ ہے کہ اس میں ایک روایت میں آتا ہے کہ آدمی نے سب سے پہلے چوری کی اور اس پر حد لگائی گئی جبکہ دوسری روایت میں آتا ہے وہ جس پر چوری کی سب سے پہلے حد لگائی گئی وہ عورت تھی تو ان میں مطابقت اس طرح ہے کہ عورتوں میں اسلام میں سب سے پہلے چوری میں جسے حد لگائی گئی وہ عورت تھی جس کا ذکر ہوا ہے اور جس میںیہ آیا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جو چوری کی حد لگائی گئی وہ مرد تھا تو یہ مردوں کے اعتبار سے سب سے پہلے تھا۔ ۲۔ بظاہر اس حدیث سے احساس ابھرتا ہے کہ حد قائم کرنا کوئی اچھا کام نہیں اور اس پر نبی کریمaنے ایسے انداز میں غصے کا اظہار فرمایا کہ یوں لگ رہا ہے کہ حد لگانے سے درگزر سے کام لینا چاہیے، حالانکہ ہرگز ایسا نہیں۔ آپa نے آیت ِ مبارکہ اس لئے تلاوت فرمائی تھی کہ امام وقت کی عدالت تک پہنچنے سے پہلے پہلے معاف کر کے پردہ پوشی کی جائے اس کے خلاف فوراً عدالت میں معاملہ لانے کو نبی کریمa نے ناپسند کیا ہے مگر جب معاملہ حد امام وقت کی عدالت میں پیش ہو جائے تو پھر تو حد قائم کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ضرور بھر ضرور قائم ہوگی۔ حدیث نمبر (۶۶۲۷)میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ حاکم کی عدالت میں پہنچنے سے پہلے حد کو معاف کرنا یا کروا لینا درست ہے، تاہم شریعت نے جس چیز کو مستثنی قرار دیا ہے، اس میں حاکم کے پاس لانے کے بعد بھی معافی ہو سکتی ہے، جیسے مقتول کے ورثائ، قاتل کو بعد میں بھی معاف کر سکتے ہیں۔
6639
Sahih
۔ (۶۶۴۰)۔ عَنْ دُخَیْنٍ کَاتِبِ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِعُقْبَۃَ: اِنَّ لَنَا جِیْرَانًایَشْرَبُوْنَ الْخَمْرَ وَأَنَا دَاعٍ لَھُمُ الشُّرَطَ فَیَأْخُذُوْھُ، فَقَالَ: لَاتَفْعَلْ وَلٰکِنْ عِظْہُمْ وَتَہَدَّدْھُمْ قَالَ: فَفَعَلَ فَلَمْ یَنْتَہُوْا، قَالَ: فَجَائَ ہُ دُخَیْنٌ فَقَالَ: إِنِّیْ نَہَیْتُہُمْ فَلَمْ یَنْتَہُوْا وَأَنَا دَاعٍ لَھُمُ الشُّرَطَ، فَقَالَ عُقْبَۃُ: وَیْحَکَ لَا تَفْعَلْ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَتَرَ عَوْرَۃَ مُؤْمِنٍ فَکَأَنَّمَا اسْتَحْیَا مَوْؤُوْدَۃً مِنْ قَبْرِھَا۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((کَانَ کَمَنْ أَحْیَا مَوْؤُوْدَۃً مِنْ قَبْرِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۳۰)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے منشی دُخَین سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نے عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:ہمارے کچھ پڑوسی ہیں،وہ شراب نوشی کرتے ہیں، میں پولیس کو اطلاع کرنے والا ہوں تاکہ وہ انہیں گرفتار کر لے۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ایسا نہ کرو، انہیں نصیحت کرو اور ڈانٹ ڈپٹ کرو، اس نے ایسے ہی کیا مگر وہ باز نہ آئے، چنانچہ دخین دوبارہ آ گیا اور کہا: میں نے انہیں روکا تو ہے، مگر وہ باز نہیں آتے، اب تو میں پولیس کو ضرور بلائوں گا، سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: او تیرے لیے ہلاکت ہو، اس طرح نہ کر، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مؤمن کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے، وہ گویا کہ قبر میں زندہ درگور بچی کو زندہ کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس شخص کی مانند ہے، جوقبر میں زندہ درگور کی گئی بچی کو زندہ کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۶۴۰) اسنادہ ضعیف لاضطراب فی اسنادہ، ولجھالۃ ابی الھیثم۔ أخرجہ ابوداود: ۴۸۹۲ (انظر: ۱۷۳۹۵)
6640
Zaeef