TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کاہن کی شیرینی اور کاہنوں کی بعض باتوں کا بیان - کاہن کی شیرینی اور کاہنوں کی بعض باتوں کا بیان - جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 7 · 4 Hadith
۔ (۶۸۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَمَہْرِ الْبَغِیِّ وَحُلْوَانِ الْکَاھِنِ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۹۸)
۔ سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کے مہر اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایاہے۔
Takhreej
(۶۸۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۳۷، ۲۲۸۲، ومسلم: ۱۵۶۷ (انظر: ۱۷۰۷۰)
6818
Sahih
۔ (۶۸۱۹)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہُمْ خَرَجُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَنَزَلُوْا رُفَقَائَ، رُفْقَۃٌ مَعَ فُلَانٍ وَرُفْقَۃٌ مَعَ فُـلَان، فَنَزَلْتُ فِی رُفْقَۃِ اَبِیْ بَکْرٍ فَکَانَ مَعَنَا أَعْرَابِیٌّ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ، فَنَزَلْنَا بِأَھْلِ بَیْتٍ مِنَ الْأَعْرَابِ وَفِیْہِمُ امْرَأْۃُ حَامِلٌ، فَقَالَ لَھَا الْأَعْرَابِیُّ: أَ یَسُرُّکِ أَنْ تَلِدِی غُلَامًا، إِنْ أَعْطَیْتِنِیْ شَاۃً، فَوَلَدْتِ غُلَامًا، فَأَعْطَتْہُ شَاۃً وَسَجَعَ لَھَا أَسَاجِیْعَ، قَالَ: فَذَبَحَ الشَّاۃَ فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ یَأْکُلُوْنَ، قَالَ رَجُلٌ: أَ تَدْرُوْنَ مَاھٰذِہِ الشَّاۃُ؟ فَاَخْبَرَھُمْ، قَالَ: فرَاَیْتُ أَبَا بَکْرٍ مُتَبَرِّئًا مُسْتَنْبِلًا مُتَقَیِّئًا۔ (مسند احمد: ۱۱۵۰۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں روانہ ہوئے، لوگ ٹولیوں کی صورت میں بٹ گئے اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ٹولی میں تھا، ہمارے ساتھ ایک دیہاتی بھی تھا، ہم نے دیہاتیوں کے ایک گھر کے قریب پڑائو ڈالا، ان میں ایک عورت حاملہ تھی، دیہاتی نے اس عورت سے کہا: کیا تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تو لڑکا جنم دے، اگر تو مجھے ایک بکری دے گی تو تیرے گھر لڑکا پیدا ہو گا، پس اس عورت نے اسے بکری دے دی اور اس دیہاتی نے اس عورت کے لئے قافیہ بندی میں باتیں کی اور بکری ذبح کر دی، جب لوگ کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے تو ایک آدمی نے کہا: کیا تم جانتے ہو یہ بکری کیسی ہے ؟ پھر اس نے ان کو اس کی اصل حقیقت بتلائی، میں نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ اس کھانے سے بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے تکلف کے ساتھ قے کر رہے تھے۔
Takhreej
(۶۸۱۹) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۱۴۸۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو بکر صدیقb کو کھاتے وقت تو پتہ نہ چلا، لیکن جب ان کو معلوم ہوا تو انھوں نے چاہا کہ ان کے پیٹ میں اس حرام چیز کا کوئی جزو باقی نہ رہے، اس لیے تکلّف کے ساتھ قے کرنا شروع کر دی۔
6819
Sahih
۔ (۶۸۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَیْشًا أَتَوْا کَاھِنَۃً فَقَالُوْا لَھَا: اَخْبِرِیْنَا بِأَقْرَبِنَا شََبہًا بِصَاحِبِ ھٰذَا الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: اِنْ اَنْتُمْ جَرَرْتُمْ کِسَائً عَلٰی ھٰذِہِ السَّہْلَۃِ ثُمَّ مَشَیْتُمْ عَلَیْہَا أَنْبَأْتُکُمْ فَجَرُّوْا ثُمَّ مَشَی النَّاسُ عَلَیْہَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَتْ: ھٰذَا أَقْرَبُکُمْ شَبَہًا بِہِ، فَمَکَثُوْا بَعْدَ ذَالِکَ عِشْرِیْنَ سَنَۃً اَوْ قَرِیْبًا مِنْ عِشْرِیْنَ سَنَۃً اَوْ مَاشَائَ اللّٰہُ ثُمَّ بُعِثَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۰۷۲)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ قریشی ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہا: ہمیںیہ بتا دے کہ ہم میں سے اس مقام نبوت کے زیادہ لائق اور حقدار کون ہے؟ اس نے کہا: اگر تم اس نرم زمین پر چادرتان کر اس کے اوپر چلو گے تو میں تمہیں بتائوں گی، انہوں نے چادر تان لی، پھر لوگ اس پر چلے اوراس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آثار و نشانات دیکھے اور کہا:یہ تم میں سب سے زیادہ مقام نبوت کے لائق ہے،ابھی تک اس واقعہ کو بیس سال یا اس کے قریب قریب ہی گزرے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کر دیا گیا۔
Takhreej
(۶۸۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، فان روایۃ سماک عن عکرمۃ فیھا اضطراب، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۵۰(انظر: ۳۰۷۲)
6820
Zaeef
۔ (۶۸۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ الظَّفَرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَخْرُجُ مِنَ الْکَاھِنِیْنَ رَجُلٌ یَدْرُسُ الْقُرْآنَ دِرَاسَۃً لَایَدْرُسُہَا أَحَدٌ یََکُوْنُ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۷۷)
۔ سیدنا ابو بردہ ظفری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاہنوں میں سے ایک آدمی ظاہر ہوگا، وہ قرآن مجید کو اس انداز میں پڑھے گا کہ اس کے بعد اس جیسا اور کوئی نہیں پڑھے گا۔
Takhreej
(۶۸۲۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن معتب و أبیہ، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۷۹۴، والبیھقی فی ’’دلائل النبوۃ‘‘: ۶/ ۴۹۸ (انظر: ۲۳۸۸۰)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ کہانت کی کمائی حرام ہے، اس کے حرام ہونے پر اہل علم کا اتفاق و اجماع ہے۔
6821
Zaeef