TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جماع سے پہلے مہر کی کچھ ادائیگی کردینے اور اس کو چھوڑ دینے کا بیان اور اس شخص کی وعید کا بیان کہ جس نے بظاہر مہر کا تعین تو کیا، لیکن اس کا ارادہ ادائیگی کا نہ تھا

Chapter 4 of مہر کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 6 · 2 Hadith
۔ (۶۹۳۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابْنَتَہُ، فَقُلْتُ: مَا لِیْ مِنْ شَیْئٍ فَکَیْفَ؟ ثُمَّ ذَکَرْتُ صِلَتَہُ، وَعَائِدَتَہُ، فَخَطَبْتُہَا اِلَیْہِ، فَقَالَ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ شَیْئٍ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَأَیْنَ دِرْعُکَ الْحَطْمِیَّۃُ الَّتِیْ أَعْطَیْتُکَیَوْمَ کَذَا وَکَذَا؟)) قَالَ: ھِیَ عِنْدِیْ، قَالَ: ((فَأَعْطِہَا اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۰۳)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ارادہ کیا کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی کے بارے میں پیغام بھیجوں، لیکن پھر میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی مال نہیں ہے، سو میں کیا کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور بار بار ہمارے گھر آتے جاتے رہتے ہیں، پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ پیغام بھیج دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حطمی زرہ کہاں ہے، جو میں نے تجھے فلاں دن دی تھی؟ میں نے کہا: وہ میرے پاس ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہی فاطمہ کو دے دو۔
Takhreej
(۶۹۳۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ بنحوہ النسائی: ۶/ ۱۲۹(انظر: ۶۰۳)
Explanation
فوائد:… امام نسائی نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: ’’نِحْلَۃُ الْخَلْوَۃِ‘‘ (شب ِ زفاف کے موقع پر تحفہ دینے کا بیان)۔ امام نسائی کی تبویب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ زرہ کو مہر سے الگ سمجھ رہے ہیں اور اسے رخصتی اور خلوت کا خصوص تحفہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بہت سے اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ مہر ہی ہے، جو نکاح کی بجائے رخصتی کے موقع پر دیا گیا۔ واللہ اعلم حطمی زرہ کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ ’’حطم‘‘ کی طرف منسوب ہے، جس کا معنی توڑنا ہے، کیونکہیہ زرہ تلواروں کو توڑ دیتی تھی،یعنی جو تلوار اس پر لگتی، وہ ٹوٹ جاتی،یا (۲) یہ عبد القیس کے ایک قبیلے حطمہ بن محارب کی طرف منسوب ہے، کیونکہ وہ لوگیہ تلواریں بناتے تھے۔
6936
Sahih
۔ (۶۹۳۷)۔ عَنْ صُہَیْبِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّمَا رَجُلٍ أَصْدَقَ امْرَأَۃً صَدَاقًا، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ أَنَّہ لَا یُرِیْدُ أَدَائَہُ اِلَیْہَا، فَغَرَّھَا بِاللّٰہِ وَاسْتَحَلَّ فَرْجَہَا بِالْبَاطِلِ، لَقِیَ اللّٰہَ یَوْمَیَلْقَاہُ، وَھُوَ سَارِقٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۴۰)
۔ سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے عورت کے لیے حق مہر مقرر کیا اور اللہ تعالییہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا، اس طرح وہ اللہ کے نام پر عورت کو دھوکا دیتا ہے اور اس کی شرم گاہ کو باطل طریقے سے حلال کر لیتا ہے، یہ آدمی جس دن اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا، اس دن وہ چور شمار ہوگا۔
Takhreej
(۶۹۳۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ بنحوہ النسائی: ۶/ ۱۲۹(انظر: ۶۰۳)
Explanation
فوائد:… امام البانی نے ابن ماجہ کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ a نے فرمایا: ((أَیُّمَا رَجُلٍ یَدِینُ دَیْنًا وَہُوَ مُجْمِعٌ أَنْ لَا یُوَفِّیَہُ إِیَّاہُ لَقِیَ اللَّہَ سَارِقًا۔)) … ’’جس آدمی نے قرض لیا، جبکہ اس کا عزمیہ ہو کہ وہ اس کو ادا نہیں کرے گا تو وہ اللہ تعالی کو چور کی حیثیت سے ملے گا۔‘‘ مہر کے بغیر نکاح باطل ہوتا ہے، اس کی ادائیگی نہ کرنے کی نیت رکھنے والا آدمی بڑے خسارے میں ہو گا۔
6937
Zaeef